کیا خدا روٹھ گیا ان گلیوں سے


 ان گلیوں سے جہاں اب گھاس کا ایک تنکا تک نہیں، بس اینٹوں اور پتھروں کے مکان ہیں، ۔۔۔کچے صحن پر

بھی مرمر نے قبضہ کر لیا۔۔۔۔گل دوپہری کے گلابی پھولوں سے لدے دو چار گملے جو ہر آنگن کی شان ہوا کرتے تھے اب کہیں نظر نہیں آتے۔۔۔کسی اور سے کیا گلہ کیجئے۔۔۔یہ جو میرا مکان ہے گلی نمبر چھ حیات آباد میں اس کے صحن میں ایک کیاری ہوا کرتی تھی۔۔۔جس میں لہسن، دھنیا، پودنیہ تو ہوتا ہی تھا۔۔۔ہم بنینگن اور گوبھی کے بھی کچھ پودے لگا دیا کرتے تھے۔۔۔۔ایک فالسہ اور ایک میٹھے اناروں کا پودہ کیاری کے دونوں کونوں پر براجمان تھے۔۔۔ٌپھر ہم نے سرکنڈوں کی چھت سے بنا کچن گرایا اور گھر کا سارا صحن ہی پختہ کردیا۔۔۔کیاری، پھلواری، پھل سبزیاں سب کچھ اس پکے فرش میں دفن ہو کر رہ گیا۔۔۔اب کتنے لوگ جانتے ہیں کہ ایک گلی پیچھے کونے پر ایک آموں کا باغ ہوا کرتا تھا۔۔۔جس کی کچے آم ہم چرایا کرتے تھے۔۔۔اور ٹھیک جس جگہ ہمارا گھر ہے یہاں بھی آموں کے پیڑ ہوا کرتے تھے۔۔۔۔اگر آپ محلے کی دس گلیاں گذر جائیں یہاں پر سبزیوں کے کھیت ہوا کرتے تھے۔۔۔پھر آبادی کے عفریت نے ان سب کھیتوں کو نگل لیا۔۔۔مگر یہ کیا کہ اب ان پتھریلی گلیوں میں کسی پودے کا نشان تک باقی نہیں۔۔۔
گھاس کا ایک تنکا تک نہیں ہے۔۔۔کسی دیوار کے پیچھے سے جھانکتا ہوا کوئی آموں کا پیڑ باقی نہیں ہے۔۔۔۔اور تو اور گل دوپہری کا ایک آدھ گملا بھی نظر نہیں آتا۔۔۔