سیلف میڈ لوگوں کا المیہ

روشنی مِزاجوں کا کیا عجب مقدر ھے
زندگِی کے رستوں میں بِچھنے والے کانٹوں کو
راہ سے ہٹانے میں
ایک ایک تِنکے سے آشیاں بنانے میں
خوشبُوئیں پکڑنے میں، گلستاں سجانے میں
عمر کاٹ دیتے ہیں
عمر کاٹ دیتے ہیں
اور اپنے حصے کے پھول بانٹ دیتے ہیں
کیسی کیسی خواہش کا قتل کرتے جاتے ہیں
درگذر کے گلشن میں ابر بن کے رہتے ہیں
صبر کے سمندر میں کشتیاں چلآتے ہیں
یہ نہیں انکو اِس روز و شب کی کاوش کا
کچھ صِلہ نہیں ملتا!!
مرنے والی آسوں کا خوں بہا نہیں ملتا
زندگی کے دامن میں جسِقدر بھی خوشیاں ہیں
سب ہی ہاتھ آتی ہیں
سب ہی مِل بھی جاتی ہیں
وقت پر نہیں مِلتیں! وقت پر نہیں آتیں
یعنی اُنکو مِحنت کا اجر مِل تو جاتا ہے
لیکن اِس طرح جیسے
قرض کی رقم کوئی قِسط قِسط ھو جائے!
اصل جو عبارت ھو پسِ ناوشت ھو جائے
فصلِ گلُ کے آخِر میں پھول اُن کے کھِلتے ہیں
اُن کے صِحن میں سُورج دیر سے نِکلتے ہیں
امجد اسلام امجد