تقریر شروع کرنے کے انداز

آغازکی اہمیت 
تقریر کا آغاز آپ کا سامعین سے تعارف ہوتا ہے، ایک اچھا مقرر آغاز کے چند لمحوں میں ہی اپنے ہونے کا پتا دے دیتا ہے، سامعین جو پچھلے مقرر کے سحر سے نکل کر عام دنیا میں آچکے ہوتے ہیں اور اپنی توجہ عمومی طور پر سٹیج سے ہٹا چکے ہوتے ہیں۔ آپ کا ابتدائیہ سامعین سے توجہ لینے کا آغاز ہوتا ہے۔ اور ان ابتدائی پانچ دس سیکنڈز میں لوگ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ اس مقرر کو کتنا سنا جائے گا۔ 

تقریر شروع کرنے کے انداز


تقریر کے آغاز کے بہت سے طریقے مروجہ  ہیں ۔ان سبھی طریقوں میں سب سے پہلا کام اپنے موضوع کا تعارف کرانا ہوتاہے۔آپ جس طریقے سے بھی چاہیں موضوع گفتگو کو متعارف کروائیں کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں ؟ آپ موضوع کی کس جہت پر بات کرنا چاہتے ہیں۔یہ تعارف کسی بھی طریقے سے ہو سکتا ہے۔مثلاً 

جناب صدر اور معزز سامعین

آج کی تقریب کا موضوع سخن ہے ’’آزادی‘‘!آزادی وہ اجالا ہے ۔۔۔۔۔ انسانی لہو کو  منعکس کرتا ہے۔آزادی وہ گیت ہے جو رگِ جاں سے سر چاہتا ہے وغیرہ۔
یعنی آپ موضوع بتا کر فوراً اس کو بیان کرنے لگیں۔ کسی قسم کی تمہید کو خاطر میں لائے بغیر 


دوسرا طریقہ بیانیہ ہے، جس میں آپ موضوع پر آنے سے پہلے کچھ تمہیدی کلمات کہتے ہیں جیسے 

صدر واجب الاحترام و حاضرین عالی مقا م!
آج کی اس تقریب میں میری سوچ کے اجالے جس موضوع کے حوالے سے اپنی تابانیاں بکھیرنے کے لیے بیتاب ہیں وہ ہے۔۔۔۔۔۔آزادی ۔۔۔۔آزادی ۔۔کسی قوم کی تاریخ کا سنگ میل ہوا کرتی ہے۔ ایک ایسی سوچ جو ممولے کو شاہباز سے لڑاتی ہے۔ایک ایسا جذبہ جو انسانی کھوپڑیوں کے کوہ ہمالیا ؤ ں کی پرواہ لیے بغیر جان و دل ہتھیلی پہ لا رکھتا ہے۔ایک ایسی امنگ جو ذوق یقیں میں وہ پختگی پیدا کرے کہ غلامی کی زنجیریں خود بخود ٹوٹنے لگیں۔جی ہاں وہی ہے آزادی۔

اسی موضوع کو کچھ یوں بھی آغاز کیا جا سکتا ہے۔ 
جناب صدر آج کا موضوع ہے آزادی میں بھی بساط بھر اس موضوع کے احاطے کی کوشش کروں گا۔گو کہ اس موضوع پر بات کرتے میری زبان لڑکھڑاتی ہے کہ شائد کسی موڑ پرر دل میرے جذبات کے ساتھ چل نہ پائے ۔ یہ وہ موضوع ہے جسے بخت آورانگریزی بندوق کی گولی کھانے کے بعد اپنے لہو سے تحریر کرتی 
ہے۔۔۔۔


تیسرا طریقہ کسی شعر سے آغاز کرنے کا ہے جیسے 
خون دل دے کے نکھاریں گے رخ برگ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے
جناب صدر و معزز سامعین آج میں آزادی کے موضوع پر کچھ کہنے کی جسارت کروں گاآزادی وہ گلاب ہے جو لہو کی وادیوں میں اگتا ہے۔آزادی وہ لیلی ہے جس کے لیے مجنوں دیوانہ وار ظلم کی دیوارں سے ٹکرا جاتے ہیں۔یعنی آپ بات کا آغاز کسی موثر شعر سے کریں اور اپنے موضوع کی نقاب کشائی بھی ساتھ ہی کردیں۔
موضوع کے تعارف میں یہ بات یاد رکھی جانی چاہیے کہ یہی تعارف آپ کی گفتگو کے اصل رنگ کی وضاحت کرتا ہے آغاز دراصل آپ کے مطمع نظر کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے۔اگر آپ اپنی گفتگو کو سنجیدہ اور بھر پور رکھنا چاہتے ہیں تو نہائت مدللانہ انداز میں بات شروع کریں۔گفتگو کے آغاز میں شعر لگانے سے پہلے سوچ لیں کہ آپ کے شعر میں اتنی جان ہو کہ وہ سامعین پر گرفت رکھتا ہو۔ اگر آپ کے خیال میں آپ شعر پڑھنے کے بعد اس کو اپنی گفتگو سے مطابق نہیں کر پائیں گے تو شعر سے آغاز نہ کریں بلکہ اپنی بات کو کسی بھی سادہ سے انداز میں شروع کر دیں ۔آپ کا ابتدائیہ سننے والوں کی ایک سمت متعین کرتا ہے کہ ساری گفتگو فلاں جہت میں ہو گی جیسے
اگر آزادی ہی کے موضوع کو کوئی مقرر اس شعر سے شروع کرے
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتطار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہا مل جائے گی کہیں نہ کہیں
تو بڑی آسانی سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ بولنے والا آزادی کے حوالے سے تنقیدی پہلو ؤ ں کو اجاگر کرے گا۔اور جس کاافتتاحیہ خون دل سے رنگا ہوا ہووہ یقیناً ناموس وطن کے لیے قربانیوں کی راہ و رسم کو اجاگر کرے گا۔
افتتاحیہ ہی کسی مقرر کا کمال ہوتا ہے، وہ کس انداز سے موضوع کی نقاب کشائی کرتا ہے۔ سامعین کی سماعتوں کو گرفت میں لینا اور ان پر سحر طاری کردینا یہیں سے آغاز ہوتا ہے۔