بھنگ کے پودے، چرس سے پہلے

اس مضمون کو پڑھ کر آپ مجھے مذہب بیزار یا پاگل سمجھنا شروع کردیں تو آپ اسے کسی دیوانے کی بڑبڑاہٹ سمجھ کر معاف کردیجئے گا جو اپنے وطن کی ترقی کے خوابوں میں کھو کر دماغ کھو بیٹھا ہے۔

پچھلے دنوں ایمسٹرڈم جانے کا اتفاق ہوا، وہاں پر بھنگ کے پودے پر ہونے والا کام اور تحقیق دیکھ کر اس پودے کے جادوئی اثرات کا قائل ہو گیا، وہاں دکانوں پر اس سے بنی ہوئی مصنوعات دیکھ کر میں دنگ رہ گیا کہ یار لوگوں نے اس پودے سے کیا کیا کچھ بنا چھوڑا ہے۔

آئس کریم
لولی پاپ
چاکلیٹ مکس
انرجی ڈرنک
چائے
بسکٹ
کیک
اور کھانے والی دیگر درجنوں اشئیا جن میں اس کو شامل کر کے کھانے کی تاثیر بڑھائی گئی تھی، یہاں پر کئی ایک کیفے اپنے مینو میں  بھرے ہوئے سیگریٹ بھی دیتے ہیں، کچھ دکانوں پر بھنگ کے ہرے بھرے پودے، اس کے بیج اور گھریلو سطح پر اس کو اگانے کی پوری تربیت فراہم کرنے کا سامان بھی موجود تھا۔

پچھلے دنوں زراعت میں نوکری کی تلاش کر رہا تھا تو یہاں ڈنمارک میں ایک بھنگ فارم پر کام کرنے والے ملازم کا اشتہار دیا ہوا تھا، ابھی کچھ دن پہلے الجزیرہ پلس کی ایک ویڈیو نظر سے گذری تو پتہ چلا کہ امریکہ میں بھی لوگوں کو روزگار مہیا کرنے کے لئے اس پودے کے کرشموں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

https://www.facebook.com/ajplusenglish/videos/1575741955873827/


آپ سے بہت سے لوگ شاید نہ جانتے ہوں کہ پاکستان میں یہ فصل جسے عرف عام میں ویڈ بھی کہا جاتا ہے سچ میں ایک ویڈ یعنی جڑی بوٹی کی طرح اگتی ہے، یعنی اس پودے سے ہمارے پہاڑی علاقوں کے دامن اٹے پڑے ہیں، اور دنیا کے مہنگے نشوں میں سے ایک نشہ چرس بھی ہے لیکن پاکستان میں اس کو غریب آدمی کا نشہ سمجھا جاتا ہے۔ اور ہر کس و ناکس کی پہنچ میں ہے کہ وہ بھی دو جوڑے افورڈ کر سکتا ہے۔

میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ مملکت پاکستان اصلی چرس کی سپلائی شروع کردے، لیکن اگر اس کی پراڈکٹ ڈویلپمنٹ پر کام کیا جائے تو ملک کے لئے قیمتی زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔

لیکن ایسا کوئی بھی کاروبار کرنا شرعی حوالے سے کیسا ہو گا مجھے اس پر شک ہے، میرے خیال میں یہ نامناسب کاموں میں شمار ہو گا، لیکن کبھی کبھی سوچتا ہوں جب ہم باہر کے ملکوں سے امداد مانگتے ہیں تو وہ کون سا حلال کے پیسوں سے ہماری مدد کرتے ہیں؟ جیسے پاکستان میں کچھ خاص اقلیتوں کو شراب کے پرمٹ دئیے گئے ہیں ایسے ہی کچھ اقلیتوں کو اس کی پراڈکٹ ڈویلپمنٹ کا کام بھی دیا جا سکتا ہے، اور ہو سکتا ہے پراڈکٹ ڈویلپمنٹ، اور ادویات کے بننے کے بعد اس پر شرعی نقطہ نظر سے بھی کوئی گنجائش نکلتی ہو؟


ظالم لوگ

گروہوں، قبیلوں، ذاتوں، فرقوں میں بٹے ہوئے ہم دھرتی کے ظالم ترین لوگ ہیں شاید جن کی نظر میں کوئی بھی متفقہ معتبر نہیں، ہمارے لئے محترم ہمارے نشان اور ٹھپوں والے لوگ ہیں اور باقی کے سب کیڑے مکوڑے، کم ذات اور کمینے۔ ارے لوگو کیا ہو گیا ہے تم کو، ہر بات میں سازش کیوں ڈھونڈنے بیٹھے ہو، ہر کسی کو پیلی آنکھوں سے کیوں دیکھتے ہو؟ ہر کوئی تہماری نظر میں برا کیوں ہے؟ خود کو کب سے اتنا مستند سمجھ لیا کہ اپنی رائے سے متصادم کسی رائے کو سننا ہی نہیں چاہتے، اپنے نظریے کے علاوہ کچھ سننا بھی گوارہ نہیں۔ ہر کسی کے بارے بات کرتے ہوئے لفظ یوں چباتے ہو کہ معنی کو پسینہ آ جائے، اور گفتار کا غازی وہی ٹھہرے جو اس سے بہتر منہ توڑ فقرہ اختراع کرے۔
کچھ ہوش کے ناخن لو اہل وطن، ان نوکیلے ناخنوں سے ایک دوسرے کے چہروں پر خراشیں ڈالتے ڈالتے تم نے اپنا کیا حال کر لیا ہے، آج وطن عزیز میں کسی شعبہ کی بات کر لی جائے ہر عہدہ تمسخر کا نشانہ بنا ہوا ہے،

، صحافی لفافہ ، جج بکاو، آفیسر راشی، ملا بے ایمان، سائنسدان کافر،سیاستدان نااہل، استاد بے ادب، شاگرد بھگوڑا، عوام تماش بین، راہگیر نوسرباز، ہمسائے بے شرم، معاشرہ بے رحم۔۔۔۔۔۔اور کل کسی نے لکھا کہ فکری کھسرے۔۔۔۔۔۔اللہ والو کس راہ چل پڑے ہو؟  اچھا استاد کدھر گیا جس کے جوتوں کو سیدھا کرنے والے مقدر کے سکندر ٹھہرتے تھے، لکھنے والے کا منہ بند کرنے کے لئے پھانسی گھاٹ سجائے جاتے تھے، اور لوگ دوسروں کے احترام میں اپنی نماز کی ترتیب بدل دیتے تھے۔

ایک مسلسل تکلیف ہے ہے مجھ ایسے بنا قبیلے والے ایک شخص کو، میں کسی پارٹی میں ہوتا تو میری بے سروپا بات پر بھی دف بجائے جاتے، اور اب شور میں اپنی بات کسی تک پہنچانا کتنا مشکل ہو گیا ہے، سب سے پہلے لوگ رابطہ تلاش کرتے ہیں کہ جو بات میں کررہا ہوں اس کا مخرج کون سا قبیلہ ہے، اگر اس کا تعلق ان کے اپنے گروہ سے ہے تو واہ واہ وگرنہ اس سچ کی گواہی کون بنے۔

ہر کسی موت پر مسلمان اور کافر کے فتوے کیوں بٹنے لگ جاتے ہیں، میری پسند کے سب لوگ مسلمان اور میرے سب مخالف کافر ، مردود، خدا بھی میرا اور اس کے سبھی فیصلے بھی میرے حق میں، ایسا بے دریغ مذہب کا استعمال تو کبھی نہیں دیکھا ہے، اور ظلم کی حد تو یہ کہ فتوے بانٹنے والے ایسے ہیں جن کو کوئی چیز بھی سلامتی بانٹنے والے اسلام سے نہیں ملتی،

باتوں کا شور اسقدر بڑھ گیا ہے کہ لوگ کردار بھول چکے ہیں، وہ سچا مسلمان ہے کہاں جس کی ہیبت سے پہاڑ رائی ہوا کرتے تھے، جس کا قول صادق تھا، جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ تھے، لیکن اب گلے کے زور پر پرکھ لیجئے تو سب مسلمان ہیں اور کردار کے کھوٹے اور قول کے جھوٹے لوگوں سے دنیا بھری پڑی ہے۔

حد تو یہ ہے لوگ اس بات پر بھی ناراض ہوئے جاتے ہیں کہ ہم ایسے لکھنے والوں کے قلم ان کی خواہشوں کی ترجمانی کیوں نہیں کرتے، اگر ایسا کچھ سرزد ہو جائے تو ان کی سوچ سے مطابق نہیں رکھتا تو ہمارا لکھا ہوا سطحی اور بے معنی،

اور انتقام لینے کی عادت ایسی در آئی ہے کہ دشمن کا کلیجہ چبائے بغیر چین نہیں پڑتا، یہاں یہ سروکار نہیں کہ خود کس مشکل میں گرفتار ہوں گے، بس یہی سوچ یہ ہے دوسرے کو تکلیف پہنچائی جائے،

اور ہر شخص جو ہمارے قبیلے سے باہر ہے گٹھ مٹھیا اور منحنی ہے، اس کا دنیا سے گذر جانا مر جانا ہے، اور ہاں اس مرجانے کے بعد اس کو جنت ملے گی یا عذاب کا حق دار ٹھہرے گا یہ فیصلہ بھی ہم کریں گے، ایدھی کی موت پر بھی فتوے بٹنے لگے تھے، اس کی آخرت کا فیصلہ کئی لوگ خود سے کئے بیٹھے تھے، ایسے ہی ڈاکٹر رتھ کی موت پر اشکبار پاکستانیوں کو کئی لوگ بتانے آئے تھے کہ تمہارے مذہب پر نہ مرنے والا تمہاری دعا کا بھی حق دار نہیں، ابھی کل ہی سٹیفن ہاکنگ کی موت پر بھی اسی طرح کی عجیب و غریب باتیں فضا کا حصہ ہیں۔ اگر ہم کچھ دیر کو خاموشی اختیار کریں اور اپنے مخالفین کی موت پر احترام اور رواداری کو شیوہ کریں تو کیا امر مانع ہے؟

ہمیں ایک بات شدت سے سمجھنا ہے کہ ہمارے عقیدے کے علاوہ بھی کوئی عقیدہ دنیا میں ہو سکتا ہے،ہمارے سوچ سے الگ سوچ والے لوگ بھی دنیا میں بستے ہیں، اور ہر چیز کو طے کرنے کا پیمانہ ایک نہیں ہو سکتا، ہاں دین کی اہمیت سے انکار کس کو ہے لیکن دین کی اساس کو سمجھے بنا ہی دنیا کی سائنس کو کیونکر سمجھا جا سکتا ہے۔

کسی کی سائنسی عظمت کو ، کسی کی فکری محنت کو، کسی خیال رعنا کو، روایت سے ہٹی ہوئی سوچ کو ، سمجھنے کے لئے اپنی سوچ  میں وسعت اور فکر میں محنت کی ضرورت ہے، جس نے خود سے کسی ایجاد کی دریافت کا سامان نہیں کیا، وہ اس ریاضت سے بے خبر ہے جو ایک نیا جہان بنانے کے لئے درکار ہوا کرتی ہے۔ ایدھی پر تنقید کرنے کے لئے ایدھی کی محنت کے برابر کام کیجئے پھر کہیے ہاں اس کا کام کم تھا، اپنی زندگی کا سکھ آرام تج کر لوگوں کے نام اپنی سانس سانس کر کے کہیے ہاں میری قربانی فلاں کی محنت سے زیادہ ہے؟ ہر کسی کی عظمت کو یک جنبش قلم رد کر دینے سے، کسی کی عمر بھر کی ریاضت سے ایک لمحے میں انکاری ہو جانے سے بھلا کس کے قد کاٹھ میں کمی آتی ہے؟

اے کاش ہم اپنے مخالف کی عظمت کو تسلیم کرنے کی خو اپنا لیں تو شاید اپنی سمت بھی طے ہو پائے، شاید ہم خود بھی کوشش کرنے والے بن جائیں۔ کسی خود سے برتر کی عظمت مان کر دیکھئے آپ خود کو کتنا بڑا محسوس کریں گے۔ ہم سب کچھ نہیں جانتے ابھی ہمیں بہت کچھ جاننا ہے، ۔



ہمارے ہاں لوگ مر کر ہی معتبر کیوں ٹھہرتے ہیں؟

ابھی فیس بک کی ساری دیوار سوگوار ہوئی پڑی ہے ، عاصمہ جہانگیر  آہ عاصمہ جہانگیر بھی چلی گئیں، کسی نے کہا کہ مظلوم کی آواز رخصت ہوئی، کسی نے کہا کہ آمریت کے خلاف ایک آواز خاموش ہو گئی، کسی نے کہا کہ جدو جہد کا ایک باب تھا بند ہوا، کسی نے کہا کہ اکثریت مردوں سے زیادہ مرد تھی وہ عورت۔۔۔۔۔اب احباب کیا کیا نہ کہیں گے، اور حد تو یہ ہے کہ کچھ روز پہلے ہی اس کی ذات ہر طرح کے حملوں کی زد میں تھی۔ مجھے یاد ہے کہ بہت سال پہلے مختاراں مائی کے قصے میں ہم پہلی بار عاصمہ جہانگیر سے روشناس ہوئے تھے، اس نے روایت پسندی کے خلاف ایک آواز بلند کی اور ہم ابھی یونیورسٹی کے پہلے پہلے سال میں تھے، ایک عورت کا مردانہ وار بولنا ہمیں کہاں اچھا لگ سکتا ہے، ہمیں اسی دن سے یہ خاتون ناپسند ہو گئی تھی، پھر ہم اس کو اسی نظر سے دیکھتے آئے، ۔۔۔۔۔۔لیکن آہستہ آہستہ ہم نے لوگوں کو روایت سے ہٹ کر جاننا سیکھا، یہ سیکھا کہ ہماری سوچ سے ہٹ کر بھی کسی کی سوچ ہو سکتی ہے، ہماری جذباتی زندگی سے ہٹ کر بھی کسی کے جذبات ہو سکتے ہیں، سچ وہی نہیں جو ہم سمجھتے ہیں، سچ اس کے علاوہ بھی ہو سکتا ہے۔ آہستہ آہستہ میں نے اس بات کو برداشت کرنا سیکھا، سچ کہیے تو فوج کے خلاف عاصمہ جہانگیر جس طرح بات کرتی آئی ہیں مجھے ان کا انداز کبھی بھی پسند نہیں آیا۔
 خاموش لوگوں کا یہ المیہ ہے کہ انہیں ہر اونچی آواز اور زیادہ بولنے والا پسند نہیں آتا، اس گونگی سوسائٹی میں کتنے تھے جو عاصمہ جہانگیر کو پسند کرتے تھے، جیتے جی اس کی خامیوں کو شہتیر بنائے رکھا، اور آج وہ گذر گئی تو اس کی ہر خوبی نگاہ میں ہے۔۔۔۔اللہ تعالی مرحومہ کے ساتھ رحم کا معاملہ فرمائے، لیکن احباب سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ زندہ لوگوں کی قدر کرنا سیکھیں، ہمارے ہاں لوگ مر کر ہی معتبر کیوں ٹھہرتے ہیں، زندہ لوگوں کی یہاں قدر کیوں نہیں کی جاتی، ان کی خوبیوں پر روشنی کیوں نہیں ڈالی جاتی۔۔۔۔
احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا کہ
عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ

کاش کہ ہم لوگوں کی زندگیوں میں بھی ان سے رحم کا معاملہ کرنا سیکھ جائیں۔ اور ان کو زندگی میں بھی عزت و اعزاز سے نوازنا سیکھ جائیں۔ 

کیا وہ سردیوں کی دھوپ تھی؟

وہ گرمیوں کی چھاوں تھی
وہ سردیوں کی دھوپ تھی

احمد فراز کی ایک نظم کے مصرعے کسی سانولی سلونی حسینہ کی یاد میں ہیں، جن کی یاد انہیں ہر دم نہیں کبھی کبھار آیا کرتی ہے ، ہماری دیسی شاعری میں سردیوں کی دھوپ اپنے اندر ایسی گرمی رکھتی ہے کہ آدمی کو موسم سرما بھی لطف دینے لگتا ہے۔۔۔۔لیکن ہمارے ہاں آجکل سکینڈے نیویا میں جیس سردی پڑ رہی ہے وہ دیکھنے میں بہت پرلطف دکھائی دیتی ہے، کھڑکی سے دیکھیں تو لگتا ہے کہ کیا مزیدار دھوپ نکلی ہوئی ہے، لیکن باہر دھوپ میں نکلو تو عملی طور پر قلفی جم جائے، کل شام باہر نکلا تو مائنس چھ تک درجہ حرارت تھا، لیکن دھوپ کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ باہر نکلوں تو جسم کو دیسی سردیوں کی دھوپ کا سا مزہ آئے گا۔
کچھ دن پہلے ایک دوست کہہ رہے تھے کہ ہمارے ادب میں دوزخ کا تصور ایک ایسی جگہ کا جو بہت گرم ہے، جو آگ سے بھری ہوئی ہے جبکہ یورپ کے ادب میں دوزخ کا تصور ایک ایسی جگہ کا بھی ہے جو بہت زیادہ سرد ہے۔

کیا فیس بک آپ کو بھی استعمال کر رہی ہے؟

فیس بک کی پہنچ مر چکی، آپ ہزاروں دوست رکھتے ہیں، لیکن آپ کی بات درجنوں تک پہنچ رہی ہے، میری ایک تصویر جس کو سب سے زیادہ لائک ملے ہوں گے وہ نو سو کے قریب ہوں گے، پانچ ہزار دوستوں میں نو سو لائک کچھ اتنے زیادہ بھی نہیں ہوتے لیکن فیس بک نے اپنی ریچ اس سے بھی بہت کم کردی ہے، میں نے پچھلے دنوں پروفائل پکچر بدلنے کے کچھ تجربات کئے، اڑھائی سو سے تین سو پروفائل پکچر لائک، پچاس ساٹھ پوسٹ لائک، پچاس ساٹھ تبصرے اور بس۔

ایک عام فیس بک استعمال کرنے والا شاید اس بات کو سمجھ ہی نہیں پاتا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، فیس بک آئے دن اپنا الگردھم بدلتی رہتی ہے۔ جیسے آجکل اگر آپ اپنی پوسٹ میں کوئی لنک یا ویڈیو پوسٹ کردیں گے تو وہ پوسٹ زیادہ لوگون تک پہنچے گی ہی نہیں۔

اگر آپ نے زیادہ لوگ ایڈ کرنے کے لئے فیس بک کا ذاتی یا کاروباری صفحہ بنا رکھا تھا تو اس کی ریچ تو اور بھی کم کردی گئی ہے۔ میرے بلاگ کے صفحے پر چوالیس ہزار لوگ ہیں لیکن یہاں پر ایک تصویر کبھی سو لائک تک بھی نہیں جاتی، تبصرے دس سے نہیں بڑھتے۔ یعنی کبھی کبھی تو گلہ ہونے لگتا ہے کہ اتنے لوگوں کا پیچ ہے تو اور کوئی بھی آپ کی پوسٹ کر رسپونڈ نہیں کر رہا۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم فیس بک استعمال نہیں کر رہے، فیس بک ہمیں استعمال کر رہی ہے۔ 

بی زیڈ یو متاثرہ طالبہ کی ایف آئی آر جو ہر لڑکی کو پڑھنا چاہیے

بہاوالدین زکریا یونیورسٹی میں طالبات اور پروفیسر کی غیر اخلاقی ویڈیو کی باز گشت اخبارات میں سنائی دی گئی، جو ہوا اچھا نہیں ہوا، پاکستان کے اعلی تعلیم بانٹنے والے اداروں میں تعلیم بانٹنے والوں کا اس مقام تک چلے آنا ایک مرض کی نشاندہی ہے، جس پر ہم بات بھی نہیں کرنا چاہتے۔
اس سارے معاملے سے ہٹ کر جو ایف آئی آر طالبہ کی طرف سے درج کروائی گئی ہے۔ وہ ہر طالبہ کو ایک دفعہ ضرور پڑھنی چاہیے۔ 

کہ محبت کے جھانسے میں اس سے بھول ہو گئی، ہوش نہ رہا، حدیں سب ٹوٹ گئیں اور ظالم عاشق نے ویڈیو تک بنا لی، اور بعد میں سارا سال اس ویڈیو کی بنا کر بلیک میل کرتا رہا ، پھر اس نے یہیں پر بس نہیں کیا، اور اس عیاشی میں دوستوں کو بھی شامل کر لیا، لنگر کھلا دیکھ کر پروفیسر صاحب کا بھی جی للچایا اور بس۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اور نہ ہی آخری ، خدا کے لئے اپنی بچیوں سے بات چیت کرنا سیکھیں، وہ ایک غلطی کرتی ہیں اور پھر غلطی در غلطی کرتی چلی جاتی ہیں۔ ان کو یہ حوصلہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ پہلی غلطی کے بعد کسی اپنے کو اعتماد میں لے سکیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے، محبت اور جسمانی خواہشات اپنا وجود رکھتی ہیں، کسی پر اتنا اعتبار آ جاتا ہے کہ آدمی اپنا سب کچھ اس کو سونپ دیتا ہے، لیکن وہی شخص بے شرم اور کاروباری نکلے تو اس بے غیرت سے خوف کیسا۔ اپنی محبت کو کون رسوا کرتا ہے۔ اس لئے محبت تو اب رہی نہیں۔ تو پھر خوف سے دائرے سے باہر آ کر کسی کو اعتماد میں لیں۔ اور اس شخص سے پیچھا چھڑوائیں جو کبھی بھی آپ سے مخلص نہیں رہا۔

آج کے اس دور میں جہاں ہر موبائل کیمرے سے لیس ہے، اپنے بے تکلف لمحات کی کسی کو بھی ویڈیو بنانے نہ دیں، سب سے بڑی خرابی لڑکیاں لڑکیوں سے کرتی ہیں، سہیلی کے کسی بے تکلف لمحے کی ویڈیو بنائی اور بعد میں کسی ناراضی پر کسی جاننے والے کے حوالے کردی۔

یہ خط ایک آنکھیں کھولنے والا صحیفہ سمجھ لیجئے، لڑکے کے ساتھ چھ لوگوں نے زیادتی کی، تحریر میں لڑکی کی جگہ اپنا نام رکھ کر ضرور پڑھئیے۔ اور خدا کے لئے محبت کی ضرورت کو اتنا بازاری مت کر دیجئے کہ ہر دکاندار مول لگاتا پھرے۔

انتقام کی آگ

ابھی ایک میگزین میں پڑھ رہا تھا کہ ویٹنری اسسٹنٹ نے اپنے آفیسر کو اس لئے قتل کر ڈالا کہ اس نے اس کے خلاف کچھ رپورٹ کیا تھا، جس کے نتیجے میں ماتحت کا تبادلہ کر دیا گیا تھا۔ یہ خبر ایک عام سے اخبار کی خبر ہے مین سٹریم میڈیا میں اس کو اتنی کوریج نہیں ملی کہ لوگ اس مظلوم کی حمایت کے لئے اکٹھے ہوتے۔ مقتول کی عمر تصویر دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے ابھی اسے نئ نئی نوکری میں ملک کو سنوارنے اور پرانے نظام کو تبدیل کر دینے کی خواہشیں بدرجہ اتم موجود ہوں گی، اور وہ ابھی نمک کی کان میں نمک نہیں ہوا ہو گا۔
کسی کو معمولی رنجش پر پھڑکا دینا لوگوں کے لئے ایک معمولی کام ہے، پچھلے دنوں اخبار کے ایک تراشے پر لکھا ہوا تھا کہ مشہور شاعر محسن نقوی کے قاتل نے انکشاف کیا تھا اس نے یہ کام فقط تین ہزار روپے کے عوض کیا تھا۔ شاید پندرہ بیس سال پہلے کے تین ہزار آج کے پچاس ہزار کے برابر ہوں، لیکن اپنے انتقام کی آگ میں اس قدر اندھا ہو جانا اور اخلاقیات، اور انسانیت کو بالائے طاق رکھ دینا ہمارے دیسی معاشرے کا وطیرہ ہے۔

لیکن ایسے ظالم معاشرے کو کون سمجھائے، ہاں مذہب سے لگاو میں وہ طاقت ہے کہ جو انسان کو سمجھاتی ہے کہ بہترین وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ ہیں، ہاں تعلیم میں وہ طاقت ہے جو انسان کو یہ شعور بخشے کہ اس کے انتقام کی حد کہاں تک ہے۔ اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم اپنے مخالفین کے لئے خود ہی سزا تجویز کرتے پھریں۔

لیکن کیا ہمارے ہاں مذہب ناکام ہو گیا ہے یا تعلیم بے سود ہو چکی کہ ہم زمانہ جاہلیت کے انتقام کی کہانیاں دہرانے لگے ہیں، جس میں اپنے دشمن کا کلیجہ چبائے بغیر سکون نہیں ملتا۔ خدا تعالی ہمارے حال پر رحم فرمائے۔ اور ہمیں یہ شعور دے کہ معاف کردینے والا ہی افضل ہے۔
https://ramzanrafique.com/politics/vet-officer-killed/

سنئیر دانشور کا دیسی تصور

اب جیسے ڈاکٹر شاہد مسعود پر آن پڑی ہے، اہل سیاسیت اور صحافت اس کے درپے ہیں، کہ اس نے قوم کو ہیجان بیچا، ایسے ہی بات چل نکلی ہے ، آپ پچھلے ایک عشرے میں شہرت پانے والی اینکرز، اور تجزیہ کاروں کے نام لیں، ان میں سے کتنے ہیں جن کے تجزیات پر مغز ہیں۔
کچھ ضدی بچوں کی طرح ایک ہی بات دہرا دہرا کر اپنی گفتگو میں وزن پیدا کرتے ہیں، اور کوئی گلے کے بل چیخ چیخ کر، کسی کو اپنی چڑیا کی پرواز کا زعم ہے اور کسی کے مخبر کی ایوان بالا کے بیڈ رومز تک پہنچ ہے۔

ویسے ہمارے دیسی حساب سے اچھا تجزیہ کار ، کالم نگار اور دانشور کون ہوتا ہے، میرے خیال میں جس کی اردو زبان کچھ بہتر ہے وہی کچھ دنوں بعد خود ہی سنئیر تجزیہ کار بن جاتا ہے، دو چار مضامین ادھر ادھر سے پڑھے اور تجزیہ کار ہو گئے، دنیا بدلتی جا رہی ہے، کبھی آپ نے سوچا کہ کالم نگاری کی جگہ بلاگنگ کیوں آتی چلی جا رہی ہے، کیونکہ ہر ابھرتے ہوئے مسئلے پر اپنے سنہری خیالات پیش کرنے کا دور اب ختم ہو چکا، لوگ ہر شعبہ میں ان کے ماہرین سے جاننا چاہتے ہیں کہ وہ اس بارے میں کیا کہتے ہیں، پاکستان میں پچھلے چند برسوں میں دفاعی تجزیہ کاروں کا اضافہ ہوا، اہستہ آہستہ سپشلسٹ لوگوں کو سامنے لانے کا رجحان پروان چڑھا ہے، لیکن پھر بھی ابھی تک چند لوگ اچھے تجزیہ کار صرف اس لئے ہی ہیں کہ ان کی تحریر بہت خوبصورت ہے۔

میرے ذاتی خیال میں تحریر کی خوبصورتی اور بیان کی ندرت کا تجزئیے سے بہت زیادہ تعلق نہیں ہے، اچھا تجزیہ شواہد اور معلومات پر مبنی ہوتا ہے، نا کہ اچھے الفاظ اور تشبیہات پر۔۔۔ابھی تک ہمارے لوگ لفظوں کی چھن چھن  پر کان زیادہ دھرتے ہیں اس لئے مارکیٹ میں کہانیاں بیچنے والوں کی بکری زیادہ ہوتی ہے اور بعد میں جب کوئی پوچھتا ہے کہ بھائی یہ کہانی کہاں سے آئی تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارا کام ہے خبر دینا اور تحقیق کا کام دوسروں کا ہے۔۔

کہانیاں سناتے سناتے بہت سے لوگ سنئیر تجزیہ کار، دانشور اور قلم کار ہو گئے، اب اگر لوگوں نے ڈاکٹر شاہد مسعود کے پاوں تلے سے زمین کھنچی ہے تو ضروری ہے باقی کہانیاں کہنے والے انشا پردازوں کی گل افشانیوں پر بھی نظر کی جائے۔ 

امیر جماعت اسلامی کے ساتھ ایک تصویر

بہت سال پہلے قاضی حسین احمد سے ملنے کا موقع ملا تھا، وہ  کسان سپلائیز سروسز  کے دفتر تشریف لائے تھے، مجھے ان کو سٹیج پر بلانے، کچھ بات کرنے اور سننے کا موقع ملا ، ایسے لوگوں سے پہلی ملاقات بھی پہلی نہیں ہوتی، جن کے بارے آپ روز ہی سنتے ہوں ایک دن سامنے چلے آئیں تو بس پرانی ملاقاتوں کا تسلسل لگتا ہے، بس ایسا ہی لگا جیسے اس شخص کو ہم برسوں سے جانتے ہوں، بڑے شفیق اور مہربان شخص لگے، چہرے پر ایک خاص قسم کی مسکراہٹ جیسی پر خلوص لوگوں کے چہروں پر ہوا کرتی ہے،

کل زندگی نے موقع دیا تو نئے امیر جماعت اسلامی سراج االحق صاحب کو بھی قریب سے دیکھنے، سننے ، اور ہاتھ ملانے کا موقع ملا، انہوں نے جماعت کے حوالے سے بہت سے خوبصورت باتیں سامعین کے سامنے رکھیں،  گرین اور کلین پاکستان کا تصور، اسلامی تصور سے مزین چمکدار پاکستان، ان کی باتوں میں مجھے خلوص نظر آیا، ان کی شخصیت میں عاجزی نظر آئی، ان کے لہجے کی صداقت محسوس کی جا سکتی تھی، وہ ایک گھنٹے کے قریب اپنے زندگی کے واقعات، جماعت سے وابستگی، اور پاکستان کے حوالے سے اپنے خوابوں کا تذکرہ کرتے رہے، ایک واقعہ انہوں نے اپنے اور قاضی صاحب کے چائنہ ٹور کا سنایا، کہنے لگے کہ ہم چاینہ کی ایک بڑی پارٹی کے مرکزی دفتر میں بلائے گئے، وہاں پر قاضی صاحب نے بتایا کہ قرآن کریم میں معاشی نظام، معاشرتی نظام، تعلیمی نظام، کا پورا ڈھانچہ ملتا ہے، اس پر کسی نے سوال پوچھا کہ کیا پاکستان  کا معاشرتی نظام قرآن کے مطابق ہے، یا معاشی نظام، یا تعلیمی نظام تو ہمارے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا، تو انہوں نے کہا جس پھل کو آپ خود نہیں کھاتے تو ہمیں کیوں بیچنے کی کوشش کرتے ہیں، اس واقعہ سے ان کی مراد یہ کہنا تھا کہ ہمارا پہلا فوکس یہ ہے ہم پاکستان کو ایک مثالی معاشرہ بنائیں، جہاں ہم قرآنی نظام کو دنیا کے سامنے رکھ سکیں۔
اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ جب وہ پہلی بار منسٹر بنے تو انہیں اپنی تقریب حلف وفا داری میں کسی کو ساتھ لانے کے لئے چار مہمان لانے کی اجازت دی گئی تو وہ جماعت کے دفتر میں موجود مالی، کچن والا، اور چوکیدار کو ساتھ لے گئے، گورنر ہاوس کے پروٹوکول آفیسر کو یہ دھوکا لگا کہ یہ شخص غلطی سے یہاں چلا آیا ہے۔

محترم سراج الحق صاحب کی سادگی، عاجزی کے درجنوں لوگ گواہ ہیں، وہ حقیقت میں جماعت اسلامی کا سچا چہرہ ہیں، لیکن کیا ہماری عوام سچ میں نا بیناہے جن کو جماعت اسلامی کی خوبیاں نظر نہیں آتی، یہ حقیقت ہے امیر جماعت اسلامی کی شخصیت متاثر کن ہے، لیکن شہباز شریف کی طاقت، عمران خان کی مقبولیت، پیپلز پارٹی کے روایتی ووٹ بنک کے سامنے جماعت اسلامی کبھی کامیاب ہو پائے گی؟
بظاہر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا، کیونکہ اہل جماعت سے اچھے طریقے سے ملتے ہیں، لیکن ووٹ نہیں دیتے، یہ ووٹ اسی کو دینا پسند کرتے ہیں جو موجودہ نظام سے ان سے بہتر بسر کر رہا ہوتا ہے۔

لیجئے ایمسٹرڈم کی سیر کیجئے

میں نے اب تک تین بار ایمسٹرڈیم دیکھا ہے، دو دفعہ دوستوں کے ساتھ اور ایک دفعہ اکیلے، ایمسٹرڈیم کے رنگوں میں کچھ ایسا ہے جو آدمی کو بیزار نہیں ہونے دیتا، پہلی بار دیکھا تو پہلی نظر میں ہی اچھا لگا، اس وقت ہم ایک بس کے ذریعے پیرس سے ایمسٹرڈم آئے تھے، بس میں گذرے یہ چند گھنٹے مجھے ایک ڈچ خاتون کے ساتھ بٹھنے اور بات کرنے کا اتفاق ہوا ، اس ملاقات میں ہی ایمسٹرڈم کے خوبصورت ہونے کا یقین سا ہو گیا تھا، اگلی دفعہ میرے منہ سے ایمسٹرڈیم کی خوبصورتیوں کا تذکرہ سن کر ایک دوست نے مجھے اپنے آنکھوں سے اس شہر کو دکھانے کی درخواست کی تو انکار نہ کرسکا، اور ہم بذریعہ کار کوپن ہیگن سے ایمسٹرڈم کی طرف چل نکلے، راستے میں جرمنی کے ایک شہر کیل میں رات گذاری اور اگلی رات ایمسٹرڈم جا پہنچے، ایمسٹرڈم پہلے سے بھی خوبصورت لگا، مجھے لگا کہ کوئی یار مہرباں ساتھ ہوتو شہر کے رنگوں کی آسودگی میں اضافہ ہو جاتا ہے، اس دفعہ ایمسٹرڈم مجھے پہلے سے بھی تروتازہ اور جوان لگا، مجھے لگتا ہے کہ شہر بوڑھے نہیں ہوتے شاید جوان ہوتے چلے جاتے ہیں، نئی نسلوں کی آمد سے ان میں نئے رنگوں کا اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور وقت گذرنے کے باوجود بھی ان کے پرانے ہونے کا احساس نہیں دیتا اور ان کا یہ نیا پن ان کو مزید نکھارتا چلا جاتا ہے، ایمسٹرڈیم کی نہریں، پل، عمارتیں، گلیاں، سارا سال دنیا بھر سے لوگوں کو دعوت نطارہ دیتی ہیں۔ ان گلیوں کی یہ صدا ان سنی نہیں جاتی، سنٹرل اسٹیشن کے سامنے قائمہ زوایہ بناتی ہوئی سٹرک انسانی سروں کی لہلاتی فصل بنی رہتی ہے، یہاں لوگ یوں لپکے آتے ہیں کہ جیسے کوئی میلا لگا ہوا ہو۔ ایمسٹرڈم کا تیسرا ٹور دراصل کوکن ہاف گارڈن دیکھنے کے بہانے تھا لیکن اس دفعہ احساس ہوا کہ ایمسٹرڈم تو ہے ہی اکیلے گھومنے والا شہر۔۔۔جیسے کچھ راز انسان پر صرف تنہائی میں ہی کھلتے ہیں اور اپنے سامنے بھی ظاہر تنہائی ہی میں ہوتا ہے بس ایسے ہی ایمسٹرڈیم کی تنہائی بھی کسی حسینہ سے خفیہ ملاقات سے کم نہیں۔


ایمسٹرڈم داخل ہوں تو ایک فلمی قسم کے یورپ میں داخل ہو جاتے ہیں، سٹرکوں پر گھنٹیاں بجاتی ہوئی ٹرامیں، فٹ پاتھ کے کنارے میوزک بجانے والے فری لانسر، نہر کی سیر کرواتی کشتیوں، گھوڑوں پر گشت کرتی ہوئی پولیس، بازار حسن کی کھڑکیوں میں سجی بنی طوائفیں، دکانوں پر بکتی ہوئی چرس کی مصنوعات، نشہ مہیا کرنے والے کیفے، فر فر انگلش بولتی ہوئ ڈچ حسنائیں، وائی فائی سے لیس ٹرنیں، اور سب سے بڑھ کر سیاحوں کی ریل پیل۔

ایمسٹرڈم کی پہلی عمارت جو اس کی خوبصورتی کا احساس دلاتی ہے وہ اس کا سنٹرل سٹیشن ہے، یہاں سے روزانہ ڈیڑھ لاکھ لوگ سفر کرتے ہیں۔ یہاں بھی میں نے تین دنوں کے ایک ان لمٹیڈ سفری پاس لیا، جس کی قیمت غالبا بارہ یورو کے قریب تھی، اس پاس کا فائدہ یہ ہے آپ جتنا مرضی سفر کریں، ٹرین، میٹرو، ٹرام ، جس میں چاہیں بیٹھیں اور ایمسٹرڈم شہر کی حد میں جہاں چاہے اتر جائیں۔ لیکن اس پاس کی ٹائمنگ کے حوالے سے ایک چیز بڑی عجیب سی ہے، عمومی طور پر کئی ملکوں میں اس طرز کے سفری پاس خریدیں تو چوبیس گھنٹوں کے حساب سے قیمت لیتے ہیں ، جیسے ایک دن کا پاس شام پانچ بجے لیا تو اگلے دن شام پانچ بجے تک چلے گا ، لیکن ایمسٹرڈم میں تاریخ کے حساب سے سفری کارڈ ایشو ہوتے ہیں، یعنی رات گیارہ بجے پاس لیا تو بارہ بجے تاریخ بدلتے ہی آپ کا ایک دن گذر گیا۔

ایمسٹرڈم کو دیکھنے کے کئی طریقے ہیں، پیدل چل کر یہ بھی ہم خوب چلے، کشتی کے ذریعے یہ بھی ہم نے کر دیکھا، لوکل ٹرانسپورٹ کے ذریعے اس کے بھی ہم نے خوب پیسے پورے کئے،یعنی ایک ٹرام یا بس سے اترے تو دوسری میں جا بیٹھے۔  ایمسٹردم ہر طرح سے خوبصورت ہے۔ سنٹرل اسٹیشن کے مرکزی دروازے سے باہر آئیں اور سیدھی سٹرک پر چلتے جائیں، یہاں آپ کر شہر کے مختلف حصوں میں جانے والی ٹرامیں اور بسیں ملیں گی، چند قدم بڑھائیں تو دائیں ہاتھ شہر کی سیر کروانے والی کشتیاں ملیں گی۔ تھوڑا سا آگے بڑھیں تو وہی سڑک آغاز ہو جائے گی جس پر ہر موسم میں سیاحوں کا رش لگا رہتا ہے، اسی سڑک پر فرنچ فرائیر کی ایک دکان ہے جہاں لوگ لائینیں بنا کر آلو کی چپس خریدتے ہیں، اور مجھے اس آلو کی کوالٹی اور تازگی اور ان کی مہیا کردہ سوس واقعتا ورلڈ کلاس قسم کی چیز لگتی ہے، اس سال کے ٹور میں ، میں نے ابزرو کیا ہے کہ اسی طرز کی فرنچ فرائز کی دکانیں اب کافی جگہوں پر کھل گئی ہیں لیکن میرے خیال میں سب سے بہترین چپس اسی دکان کے ہیں جو اس سٹرک کے اسٹیشن والی سائیڈ کے آغاز پر ہے۔ یہاں سے کچھ آگے بڑھیں تو دائیں طرف ٹاون ہال کی عمارت آتی ہے، ٹاون ہال کی عمارت سے اگر دائیں ہاتھ ہو جائیں تو یہ سڑک نہروں کے پلوں کو کراس کرتے ہوئے مسجد الفتح والے علاقے میں لے جاتی ہے، یہ ایمسٹرڈم کی پہلی مسجد ہے، جو انیس سو اسی سے پہلے ایک گرجا گھر تھی، بعد میں یہاں قالینوں کا شوروم رہا اور پھر اس کو مسجد میں تبدیل کردیا گیا، اس عمارت کو باہر سے تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہے اس لئے صرف صلیب کا نشان اتار کر ہلال کا نشان لگا دیا گیا، جب کہ اندر جایا جائے تو تو ترکش سٹائل کے منبر سے سجی ہوئی ایک انتہائی خوبصورت مسجد ہے۔
سیاحوں میں گھرے ہر شہر میں میوزیموں کی بھر مار ہوا کرتی ہے، اس لئے آپ کو یہاں جگہ جگہ میوزم ملیں گے، بھنگ کی تاریخ کا میوزیم، سیکس کے آلات کا میوزیم ، نیشل میوزیم، آرٹ میوزیم، مادام تساو میوزیم۔۔۔۔یہ میوزیم اور وہ میوزیم۔۔۔۔اگر آپ میوزیم دیکھنے کے شوقین ہوں تو پھر آپ کے پاس ایمسٹرڈم کی سیر کے لئے کچھ لمبا وقت درکار ہے، لیکن ایک دو میوزیم جن کی ریٹنگ بہت ہی اچھی ہے ان میں وین گو میوزیم کی بہت شہرت ہے، میں نے صرف اس کے باہر لگی ہوئی لمبی قطاریں ہی دیکھی ہیں، اندر جانے کا اتفاق نہیں اور خواہش بھی پیدا نہیں ہوئی۔

ایمسٹرڈم کا تذکرہ ہو اس کی پرشباب راتوں کا ذکر نہ ہو تو ایمسٹرڈم ادھورہ رہ جاتا ہے، دنیا بھر سے سیاح ایمسٹرڈم کا بازار حسن دیکھنے کے لئے آتے ہیں، سنٹرل سٹیشن کے سامنے گذرتی سٹرک کی بائیں جانب خاصے بڑے علاقے کو ریڈ لائٹ ایریا کا درجہ حاصل ہے، اس علاقے میں داخل ہوتے ہی ایک سرخ بتی پر نظر پڑی جس کے نیچے ایک چھوٹا سا بورڈ لگا ہوا تھا، جی ہاں  یہ اصل ریڈ لائٹ ہے۔ یہاں کے بازار حسن کے اطوار نرالے ہیں، ہر گھر کے کا دروزہ سی تھرو گلاس سے بنا ہوا ہے، شام ڈھلے طوائفیں چار گرہ کپڑے میں ان شیشوں کے پاس آ کھڑی ہوتی ہیں، اس پرمستزاد یہ کہ بقول غالب
غنچہ نا شگفتہ کو دور سے نہ دکھا کہ یوں
ارے بوسے کو پوچھتا ہوں، منہ سے بتا کہ یوں
طرز کی ادائیں دکھاتی ہیں، جتنا رش دن بھر شہر کی گلیوں میں رہتا ہے، اس سے زیادہ شام کے بعد یہاں، یہاں تصویر بنانا منع ہے، کچھ لوگ چوری چھپے بنا بھی لیتے ہیں، اب سنا ہے کہ بتدریج وہ اس علاقے کو ختم کرنے کا سوچ رہے ہیں کیونکہ اس سے ایمسٹرڈم کی پہچان پر حرف آنے لگا ہے، اسی علاقے میں ایک چیز جو تیزی سے پروان چڑھتی ہوئی محسوس ہوئی وہ ہیمپ اور اس کی مصنوعات ہیں، ہمارے پہاڑی علاقے اس پودے میں خود کفیل ہیں، یہاں یہ پودے گملوں میں لگا کر بیچے جاتے ہیں، حتی کہ آپ ان کو گھر میں بھی اگا سکتے ہیں اور اپنے حصے کی ہیمپ خود سے پیدا کر سکتے ہیں، لیکن کمرشل بنیادوں پر کام کرنے کے لئے آپ کو لائسنس درکار ہے، یہاں بیچ سے لیکر کھاد تک پورا انتظام آپ کو فروخت کیا جاتا ہے، اس سے بننے والی مصنوعات کی فہرست دیکھیں اور ہیمپ میوزیم سے اس پودے کی کرشماتی تاریخ اور فوائد کو دیکھیں تو دل میں افسوس پیدا ہوتا کہ ہم نے تو اس کا کفران نعمت ہی کرتے آئے ہیں؟
ہیمپ ، بھنگ اور چرس کی بنیاد بننے والا پودا ہے، پاکستان میں تو اس سے میلوں ٹھیلو ں میں پکوڑے نکالے جاتے ہیں یا سیگریٹ میں بھر کر پی جاتی ہے، لیکن یہاں ہیمپ کے لالی پاپ، بسکٹ، کیک، حتی کہ آئسکریم، اور انرجی ڈرنک تک بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہاں مختلف کیفوں میں یہ قانونی طور پر بیچی جاتی ہے اور آپ وہاں بیٹھ کر جوڑا بنا کر انجوائے بھی کر سکتے ہیں۔
وہ جو ایک لطیفہ بہت مشہور ہوا کہ دوبئی میں ایک ایمسٹرڈم کی حسینہ سے ملاقات ہوئی پوچھنے لگی کہاں سے ہو ، میں نے کہا پاکستان سے تو آنکھوں میں آنسو بھر لائی اور کہنے لگی کہ آپ کے ملک کی چرس بہت خالص ہوتی ہے۔۔۔۔لیکن ہیمپ سے بننے والی مصنوعات دیکھ کر دل میں کئی دفعہ خیال ضرور آیا کہ اس کی پراڈکٹ ڈویلپمنٹ پر پاکستان میں کام کرنے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ ہمارے ہاں یہ پودا جڑی بوٹی کی طرح اگتا ہے۔
ایمسٹرڈم کے کوکن ہاف گارڈن کے لئے ایک الگ باب درکار ، اس کی خوبصورتیوں کا ایک عالم دیوانہ ہے، ہر سال موسم بہار میں تقریبا دو ماہ کے لئے یہ باغ کھولا جاتا ہے جس میں ستر لاکھ سے زائد پھول لگائے جاتے ہیں، ایمسٹرڈیم کے گرد و نواح میں بہار کے موسم میں ٹیولپ کے کھیت دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں، یہی وہ جگہیں ہیں جہاں مشہور گیت دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے فلمایا گیا تھا۔ اگر آپ کو ایمسٹرڈم تک جانے کا موقع ملے تو اس کے بالکل پاس ہی لائیڈن نامی ایک علاقہ ہے، جسے ایک تعلیمی شہر کی اہمیت حاصل ہے، اس شہر کی ایک دیوار پر جہاں دنیا بھر کے شعرا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے وہاں ناصر کاظمی صاحب کی ایک غزل سے بھی شہر کی ایک دیوار کو رونق بخشی گئی ہے۔

ایمسٹرڈم دیکھنے کے لئے اگر وقت کم ہو تو بوٹ ٹور لیا جا سکتا ہے، جو ایک سے ڈیڑھ  گھنٹے پر مشتمل ہوتا ہے، اس دوران وہ شہر کے اندر گذرنے والوں نہروں سے گذرتے اور ساتھ ساتھ شہر کی عمارات اور گلیوں کے متعلق معلومات دیتے ہیں، اسی بوٹ ٹور پر گائیڈ نے ایک بات بتائی کے نہر کی طرف جس کا گھر جتنی زیادہ جگہ گھیرے گا اس کی قیمت اتنی ہی زیادہ ہوگی، کیونکہ اب یہاں جگہ بہت مہنگی ہوتی چلی گئی تو لوگوں نے اوپر کی جانب لمبوترے گھر بنانے شروع کر دئیے، اب اگر آپ نہر پر بنے ہوئے بہت سے گھروں پر غور کریں تو باہر سے دیکھنےپر یہ گھر بہت تنگ تنگ دکھائی دیتے ہیں۔ بوٹ ٹور میں تھوڑا ٹوسٹ ایڈ کرنے کے لئے ذاتی کشتی یعنی پرائیویٹ کشتی بھی بک کروائی جا سکتی ہے لیکن ہم نے اس عوامی کشتی پر ہی اکتفا کیا،۔
اگر آپ کو میری طرح پھولوں سے دل چسپی ہو تو دنیا کی سب سے بڑی پھولوں کی منڈی بھی ایمسٹرڈم میں ہی موجود ہے، اس کی سیر بھی لائف ٹایم تجربہ ہے، بس یہ ہے کہ اس کے لئے صبح صبح جاگ کر جانا پڑتا ہے، لاکھوں، پھولوں کی تجارت ، ان کی منتقلی کا ایک شاندار نظام دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے، گو کہ آپ پہلی منزل سے نیچے ہال میں دیکھ کر نظارہ کر رہے ہوتے لیکن آپ کے سامنے دنیا بھر کے پھولوں کی لدی ہوئی چھوٹی چھوٹی ٹرالیاں گذرتی ہیں تو آنکھوں تو بہت بھلی یادیں چھوڑ جاتی ہیں۔
آپ مجھ سے پوچھیں گے کہ ایمسٹرڈم میں کیا ہے تو میرا جواب ہو گا کہ ایمسٹرڈم میں زندگی ہے، آپ کو ایک چہل پہل کا احساس ہوتا ہے، ایک رونق اور میلے کا سا ماحول لگتا ہے، اگر آپ بھی زندگی کی روٹین سے تنگ آ ئے ہوئے ہیں اور تازہ دم ہونا چاہتے ہیں تو ایمسٹرڈم کے دامن میں آپ کے بہت کچھ ہے۔۔ 

سوشل میڈیا سے چند آوازیں گٹر والوں کے لئے

آج میں نے ایک خوفزدہ شخص کو دیکھا جس کی نگاہیں لوگوں کا سامنا کرنے سے کتراتی ہوئی لگیں، وہ بوکھلائے ہوئے لہجے میں کہہ رہا تھا کہ دنیا میں پچھتر فیصد لوگ یہ کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا گٹر ہے۔ یہاں سے منفی پراپیگنڈے پھیلائے جاتے ہیں۔ میں نےاس شخص کو پہلے کبھی نہیں دیکھا، نہ کبھی اس کی بات سنی، ہاں اس کا نام سنا ہے، جنگ گروپ کا نام کس نے نہ سن رکھا ہو گا، پاکستان کا ہر شہری اس جنگ سے واقف ہے جو روز اس کی گلیوں میں اخبار کی صورت آتی ہے۔  یہ حقیقت ہے پرنٹ میڈیا اور پھر الیکڑانک میڈیا کا کردار زبان خلق کا سا رہا، اس نے جو کہنا چاہا ، لوگوں کی زبانوں تک پہنچا دیا، اس نے جو چھاپنا چاہا وہ چھاپا، جو لوگوں سے چھپانا چاہ وہ چھپا لیا، ابھی ایک دو ماہ پہلے ہی کسی بڑے سیٹھ کی کالونی میں سٹیج گرا، لوگوں پر آفت ٹوٹی اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی گئی، پھر سوشل میڈیا کے توسط خبر کے کچھ سرے باہر آئے، عوام سرسرائی اور مین سٹریم میڈیا بھی جاگ اٹھا۔ کیا ایسا صرف پہلی بار ہوا ہے، ایسا ہوتا چلا آیا ہے۔ ان روایتی اخبارات نے جس کے ساتھ جو چاہا سلوک کیا، جس کو چاہا عوامی کردیا اور جس کو چاہا بدنام کردیا۔
اخبار لکھنے والے کتنے ہیں جو اپنے سیٹھ کے خلاف بات کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، اپنے سیٹھ کی بات تو دور کی ہے ، کتنے ہیں جو اپنے پیٹی بھائیوں کی بابت کچھ بات کرنا چاہتے ہیں۔

سوشل میڈیا دراصل ذاتی فوج کی طرح ہے، ہر شخص اسلحہ اور باردو سے لیس ہے، آپ کسی پر حملہ کریں گے تو منہ کی کھائیں گے، جتنی شدت سے حملہ کریں گے اسی شدت کا جواب ملے گا، جس میڈیم پر حملہ کریں گے اسی میڈیم پر جواب دیا جائے گا، جس وقت حملہ کریں گے اسی وقت جواب ملے گا، رات کے پچھلے پہر چھپنے والے اخبارات اگر کسی پر شب خون مارتے تھے تو مخالف کو پتہ اگلی صبح کو چلتا، اس کا ردعمل آنے کو ایک اور رات کا انتظار کرنا پڑتا۔

سوشل میڈیا کی بیان کرنے والے سمجھتے ہیں کہ ایسا میڈیم جس نے روایت کو جدت سے روشناس کروایا، ای میل، ویب سائٹ، اور سماجی راطے کی ویب سائٹس، سماجی کاروباری پلیٹ فورم سب کے سب سوشل میڈیا کی ہی صورتیں ہیں۔  ان ویب سائٹس کے آنے سے کتنے کاروبار ٹھپ ہو گئے، ڈاک کے لفافے رخصت ہوگئے، عید کارڈ ختم ہو گئے، کاروباری لین دین بدل گیا، دوستی کے انداز بدل گئے، کاروبار کے اطوار بدل گئے۔ ہر چیز آپ کی انگلی کے اشارے پر چلی آئی ، وہ جسے گلوبل ویلج کہتے ہیں دنیا وہی گاوں بن گئی۔ وہ خبر جو دیہات میں پہنچتے پہنچتے باسی ہو جاتی تھی ، یا جس کی تردید چھپنا ہوتی تھی ، اس خبر کو ایک نئی زندگی عطا ہوئی۔

اس ترقی سے سب خوش ہوئے سوائے ان کے کہ جن کے کاروبار کو نقصان پہنچا، کچھ کاروباریوں نے وقت کی اس تیزی کے ساتھ چلنے کی کوشش بھی کی، اور کچھ بس احتجاج کرتے ہوئے رہ گئے۔  ہوٹل مالکان اب بھی ائیر بی این بی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، ٹیکسی کمپنیوں کو اوبر اور کریم ایک آنکھ نہیں بھاتے، کاغذ بیچنے والوں کو ای میل کی دنیا گراں گذرتی ہے، ایسے میں روایتی اخبارات کی جان بھی نکلا چاہتی ہے۔ کئی عشرے دھومیں مچانے والے میگزین بند ہو گئے، اخبارات کی گردش کم ہونے لگی، ایسے میں خبر بیچنے والے اور اخبار کا کاروبار کرنے والے سیٹھوں کے منہ سے بھی اول فول نکلنے لگا۔ بس ایسا ہی ایک کمزور لمحہ ٹی وی پر کل دیکھا گیا۔ جب پاکستان کے سب سے بڑے اخبار کا دعوی کرنے والے اخبار کا مالک اپنے مخالف میڈیم کو ایک گٹر قرار دے رہا تھا۔

یہ حقیقت اب تسلیم کی لی جانی چاہیے کہ سوشل میڈیا روایتی میڈیا کی طرح ہی طاقتور ہے، یا شاید اس سے بھی کچھ زیادہ۔ سوشل میڈیا روایتی میڈیا سے زیادہ خطرناک ہے، اس کی پالیسیز کنٹرول کرنے والا، اس کے الفاظ کی کانٹ چھانٹ کرنے والا، کوئی نہیں۔ ہر شخص اپنی مرضی کا فیصلہ کرتا ہے، اس کی رائے کو متاثر کیا جا سکتا ہے لیکن خریدنا اتنا آسان نہیں ، کیونکہ یہاں کون سا کوئی سیٹھ بیٹھا ہے جو اپنے بیٹے کے مستقبل کے لئے کسی اور سیٹھ کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔ اور ایک عرصہ تک اپنی مرضی کی آواز عوام تک پہنچانے والے روایتی میڈیا کو اب برا تو لگے گا ہی جب اس کی رائے کے مخالف عوامی آوازوں کو بھی پذیرائی مل رہی ہے۔ ہم ایسے لکھنے والوں کو اخبار کب چھاپتا تھا، ایڈیٹر کو لکھے گئے ننانوے فیصد خظ ردی کی ٹوکری میں جایا کرتے تھے، اور اب وہی خطوط لوگوں کے فیس بک سٹیٹس بن گئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر لکھنے والے دوستوں نے روایتی میڈیا کے اس ان داتا کی اول فول پر کچھ تبصرے کئے ہیں جو پیش خدمت ہیں۔

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش لکھتے ہیں۔

پہلی آپشن تو یہ ہے کہ ہم میر شکیل الرحمن کے عدلیہ کے سامنے سوشل میڈیا کو گٹر قرار دینے کے بیان پر ایک سے ایک جارحانہ پوسٹ لگا کر یا تند و تیز زبان کے استعمال سے میر صاحب کی بات کو سچ ثابت کریں ...
دوسرا یہ کہ ہم یہ بات سمجھ لیں کہ مین اسٹریم میڈیا کے سیٹھ سوشل میڈیا سے کس قدر تنگ ہیں. ان کا یہ بیان سراسر جھنجلاہٹ کی علامت ہے، نیز اس بات کی کہ جو کام وہ کر رہے ہیں اس سے کم تر انہیں صرف گٹر ہی نظر آیا اس لیے جھٹ سے گٹر کا نام لے دیا. یعنی انہیں بھی معلوم ہے وہ خود بھی قریب قریب وہیں کھڑے ہیں.
تیسرا یہ کہ ہم سوشل میڈیا یوزر خود بھی غور کریں کہ اگر اس میڈیم کو مؤثر کے ساتھ ساتھ "ثقہ" بھی بنانا ہے تو بہت سا کام ہمارے ذمہ بھی نکلتا ہے. زبان و لہجہ میں، سوال و جواب میں، خواہش کو خبر بنانے کے رجحان کے حوالہ سے اور سب سے بڑھ کر ..... دانستہ و غیر دانستہ طور کسی بھی مذموم پروپیگنڈہ مہم سے اجتناب کر کے.
میر شکیل کو سخت سست کہنا وقت کا ضیاع ہے. چیزوں کو بین السطور دیکھیں اور مستقبل کے حوالہ سے لائحہ عمل طے کریں. اصل کام یہ ہے۔



بلاگر ثاقب ملک نے ایک طویل مضمون لکھا ہے جس کا ٹائٹل ہی فی الوقت میر صاحب کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ "صحافت کے ، ۔۔۔۔۔۔۔گٹرستان کا شہنشاہ"





اس


اس مضمون پر ان کے احباب  کے کمنٹس بھی پڑھنے لائق ہیں۔ 




ان پڑھ اسمبلیوں میں اور پی ایچ ڈی سڑکوں پر

گذشتہ روز پی ایچ ڈی  ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی نوزائیدہ تنظیم کی طرف سے فیصل آباد ضلع کونسل کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، کیونکہ ان ڈاکٹروں کے پاس کوئی ہسپتال ایمرجنسی بند کرنے کا اختیار نہ تھا، اس لئے ان کی آواز سننے والا شاید ہی کوئی ہو، ویسے بھی جو مٹھی بھر اکٹھے ہوئے تھے، ان کی آواز بھی خیر کتنی کی ہو سکتی ہے۔ اور ایسا نظام حکومت جو بندوں کو گنا کرتا ہے تولا نہیں کرتا وہاں ان باشعور اور باوزن لوگوں کو کون خاطر میں لایا ہو گا۔
کہتے تھے کسی زمانے میں کوئی قتل ہو جاتا تھا تو سرخ آندھیاں آیا کرتی تھیں، کسی ایک ظلم پر آسمان پکار اٹھتا تھا، بجلیاں گرجا کرتی تھیں اور بارشیں امڈ کر برستی تھیں، لیکن فیصل آباد کی اس گرم دوپہر میں  ملک و قوم کے وقار کو لو لگتی رہی لیکن کوئی آنکھ اشک بار نہ ہوئی، آسمان نہ گرا، زمین نہ پھٹی، کہ ملک پاکستان میں اعلی ترین تعلیم کے حامل لوگ اپنی بنیادی ضرورتوں کو پوری کرنے کے لئے روزگار کی تلاش میں سڑکوں پر نکل آئے تھے، یہ چند لوگ جنہیں سرمایہ افتخار ہونا چاہیے تھا، جنہیں تاج میں  سرخاب کے پر کی طرح سجایا جانا تھا، جنہیں عزت و افتخار کی مسند پر بٹھایا جانا تھا، وقت انہی لوگوں پر اپنے حقوق کے لئے شاہراوں پر لے آیا۔

شاید ملک کی بدقسمتی کے عروج کو یہ دن بھی دیکھنا تھا، یہ فقرہ جو ان احتجاج کرنے والوں کے بینر پر لکھا ہوا تھا ، کہ ان پڑھ اسمبلیوں میں اور پی ایچ ڈی سڑکوں پر ۔۔۔اس نوحے کا عنوان ہے جس کا حرف حرف پڑھنے لکھے لوگوں کی آرزوں کے قتل سے کشید ہوا ہے۔ پاکستان میں نظام تعلیم بدترین ہے کے بلاگ کے بعد سے درجنوں لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا، اور ہر کسی کی کہانی دل پر گھونسے برساتی ہے، سچ کہیے تو میری کئی دنوں کی نیند اجڑ چکی کہ جو ملک اپنے ملک کے قابل ترین لوگوں کو بے قیمت کرنے پر تلا ہو اس کی ترقی  کے خواب میں رنگ کیونکر بھرے گا۔

ایک طرف کئی سرکاری اہلکار یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ملک کو ابھی کئی ہزار پی ایچ ڈی درکار ہیں اور دوسری طرف جو پی ایچ ڈی پہلے سے موجود ہیں ان کو روزگار کے لئے کہیں ایڈجسٹ نہیں کیا جا رہا۔ پہلے کسی زمانے میں لوگ میٹرک کی تعلیم کے  بعد روزگار کے حصول کا خواب دیکھا کرتے تھے، پھر ایف اے کی تعلیم نوکری کی ضامن بنی، پھر لوگ بی ایس سی کو شرط روزگار قراد دینے لگے، پھر ایسا وقت آیا کہ بہت سے لوگ ماسٹرز کی تعلیم حاصل کرنے کو گارنٹی کہتے تھے، لیکن یہ کیسا وقت آ گیا ہے کہ پی ایچ ڈی کرنے کے بعد بھی بے روزگاری کے دن دیکھنے پڑیں گے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس دن سے متعلقہ شعبہ میں پی ایچ ڈی کا آغاز ہوا ہے اس دن سے اس شخص کے روزگار کی سمت متعین کردی جاتی، جیسے مہذب دنیا میں انڈسٹریل پی ایچ ڈی کا ایک نظریہ پایا جاتا ہے، کہ کوئی بھی انڈسٹری اپنے پڑھے لکھے ملازم کو یونیورسٹی کے ساتھ مل کر پی ایچ ڈی کی پیشکش کرتی ہے اور اس میں کمپنی پہلے دن سے اس ملازم کے سارے اخراجات برداشت کرتی ہے، اور اس کے بعد وہ کسی یونیورسٹی کے ساتھ مل کر کسی ایسے عملی منصوبے پر پی ایچ ڈی کرتا ہے جس کو وہ کمپنی اپنے کاروبار کے لئے ترویج دینا چاہتی ہے، اور یوں تین چار سال بعد کمپنی کے پاس ایک اعلی مہارت والا ملازم ہوتا ہے جو نئے تجربات سے لیس ہوتا ہے۔
لیکن پاکستان کا پرائیویٹ سیکٹر کتنے پی ایچ ڈی لوگوں کو سموئے ہوئے تو اس کا جواب یوں ہے کہ پی ایچ ڈی لوگ ہمارے پاکستانی پرائیویٹ سیکٹر میں نہ ہونے کے برابر ہیں، اور بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں، جب سیٹھ کو دس بیس ہزار میں ہر فن مولا قسم کے ملازم دستیاب ہوں تو ایک اعلی ترین تعلیم یافتہ شخص کو زیادہ مراعات اور زیادہ تنخواہ دینے کی ضرورت کیا ہے؟ کیا کسی طرح ان پرائیویٹ کمپنیوں کو پابند نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنے بزنس والیم کے حساب سے پی ایچ ڈی لوگوں کو ایک خاص معیار کے حساب سے مراعات دے کو ایڈجسٹ کریں گے؟ کیا پنجاب میں معیار تعلیم بہتر کرنے موٹر سائیکلسٹ فوجیوں کی جگہ بہتر مراعات والے ایجوکیشن آفیسرز کی صورت ان ہونہار لوگوں کو ایڈجسٹ نہیں کیا جا سکتا؟ ہر ضلع کی انتظامیہ پر فرض قرار دے دیا جائے کہ ان کے ضلع میں جتنے لوگ پی ایچ ڈی ہیں ان کو جب تک کوئی نوکری نہیں ملتی کسی مشاورتی کام میں ساتھ شامل کرکے ایک کم ازکم اعزازیہ مقرر کردیا جائے؟
غرضیکہ اگر کوئی سوچے تو درجنوں ذرائع ایسے نکالے جا سکتے ہیں جس طرح ان پڑھے لکھے لوگوں سے فیض حاصل کیا جا سکتا ہے، ان کی انرجی کو چینلائز کیا جا سکتا ہے، یہ لوگ جو باہر کے ملکوں سے سیکھ کر آئے ہیں اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، آجکل پاکستان میں  کارپوریٹ ٹرینگز کا اہتمام ہونے لگا ہے جس میں ابھی تک غیر معیاری ٹرینرز رٹی رٹائی باتیں لون مرچ مصالحے لگا کر لوگوں کی آتما کو شانتی بانٹتے نظر آتے ہیں ان کی جگہ وطن واپس پلٹ لوگوں سے ان کی انڈسٹری کے تجربات پر مشتمل ٹرینگز کا اہتمام کیا جا سکتا ہے، ہر متعلقہ انڈسٹری اپنے متعلقہ شعبہ میں پی ایچ ڈی کرنے والے کو جانتی ہو اور جونہی وہ واپس پلٹے ملک کی انڈسٹری اس کے تجربات سے رس کشید کرنے کی کوشش کرے، شاید پاکستان میں جو ریسرچ ہو کر ہو اس پر آپ کو اعتبار نہ ہو لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جس نے دنیا کی مانی ہوئی یونیورسٹیوں سے فیض حاصل کیا ہے، اس کے نقطہ نظر میں ایک چمک ضرور آتی ہے، کیا ملک کے سمجھ بوجھ رکھنے والے اس خزانے کو در بدر ہونے کے لئے چھوڑ دیں گے؟

سڑکوں کے کنارے اپنے حقوق کی جد و جہد کی آواز اٹھاتے ہوئے یہ لوگ اندر سے ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں کہ ان کے پاس تو سوائے تعلیم کے ہتھیار بھی کوئی نہیں، یہ تو سوائے اخلاقی دباو کے پاکستانی مزاج کے کسی اور حیلے سے بھی آشنا نہیں، ان کی اس نقار خانے میں کون سنے گا؟ ایک دل جلے نے کہا کہ ہم روزگار نہ ملا تو ہم خود کشی کر لیں گے، میں ملک کے ارباب اختیار سے سوال کرتا ہوں کہ اخر کیوں شور مچائے بغیر ، سڑکوں کو بند کئے بغیر، لوگوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑے کئے بغیر کسی کی داد رسی نہیں کی جاتی؟

آجکل جامعات میں کس کا سکہ چلتا ہے؟

مشال خان کیس کی کڑیاں انتظامیہ کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ دے رہی ہیں، انتظامیہ جو یونیورسٹی جیسی ریاست میں بادشاہت کی سی ہوا کرتی ہے، جس کے عمل دخل کے بغیر یونیورسٹی میں ایک پتہ بھی نہیں ہلا کرتا، ہم نے خود اپنے زمانہ طالب علمی میں بہت سے اساتذہ کو طالب علموں کے آپسی جھگڑوں سے اپنے کیرئیر کے لئے مائیلج لیتے ہوئے پایا ہے، اور کمزور طلبہ شطرنج کے پیادوں کی طرح پٹتے چلے آئے ہیں اور ایسا کم ہی ہوتا کہ کوئی پیادہ شاہ کے مقام تک جا پہنچے۔
کوئی زمانہ ہوتا تھا کہ طلبہ تنظیموں کا زور ہوا کرتا تھا، انتظامیہ اپنی من مانی کرنے سے پہلے، فیسیں بڑھانے سے پہلے سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا کرتی تھی لیکن گذشتہ دو عشروں سے سے طلبہ تنظیموں کی بجائے انتظامیہ کی من مانی چلتی ہے، پروٹوکول کے نام پر تعلیمی اداروں کے ہاسٹل خالی کروا لینا، سمر سمیسٹر کی ہاسٹل کی الگ سے فیس لینا، ایک کمرے میں گنجائش سے زیادہ لوگوں کو ٹھونسنا، اپنی مرضی اور سہولت کے قوانین بنانا، طلبہ میں تفریق پیدا کرنا، خود سے نا متفق طلبہ کو کم نمبر دینا، حتی کی کلاس میں زیادہ سوال پوچھنے پر طالب علم کے گریڈ خراب کردینا جیسے معاملات دیکھنے میں آتے رہے ہیں۔
انتظامیہ طلبہ کو اپنے معاملات میں پیادوں کی طرح کسیے استعمال کرتی ہے اس کی مثال اپنی ایک آب بیتی سے دینا چاہوں گا، اس کہانی کے سبھی کردار ابھی تک زندہ ہیں، ہم ایم ایس سی کے طالب علم تھے، اپنی ایک کلاس میں موجود تھے کہ ایک سرکاری ملازم آیا اس نے پروفیسر صاحب سے کہا کہ رمضان رفیق کو فلاں پروفیسر نے بلایا ہے، دوران کلاس انتظامیہ سے متعلق ایک بڑے عہدیدار کا مجھے بلانا مجھے کسی آنکھ نہ بھا رہا تھا، ان کے روبرو حاظر ہوا،جاتے ہی انہوں نے مجھے آڑے ہاتھوں لیا، یہ کیا اودھم مچا رکھا ہے تم لوگوں نے، میں ابھی معاملہ سمجھ ہی نہیں پایا تھا کہ ہوا کیا ہے، ایک اشتہار سا میرے سامنے رکھا، جس پر تلاش گمشدہ کا ایک اشتہار بنا ہوا تھا، میری تصویر کے ساتھ چند مزاحیے فقرے لکھے ہوئے جیسےکہا گیا تھا کہ ایک شخص، منہ لسی سے دھلا ہوا، مونچھیں براڈ کاسٹ میتھڈ سے اگی ہوئیں، یہ شخص لڑکیوں کے ہاسٹل کی طرف جاتے ہوئے غائب ہوا ہے جس کو پتہ ہو فورا اطلاع کرے وغیرہ ، کہنے لگے یہ بہت سنگیں معاملہ ہے مجھے بتاو کہ ایسا کس نے کیا ہے، یہ اشتہار جس کاغذ پر چھپا ہوا تھا کہ ہماری یونیورسٹی کی ایک ابھرتی ہوئی سوسائٹی کا مونو گرام لئے ہوئے تھا، لامحالا میرا ذہن اسی سوسائٹی کی طرف گیا، اس کے چند افراد سے میر ی کچھ بنتی بھی نہ تھی، تو میں نے شک ظاہر کیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے، استاد محترم نے مجھے بڑی خوبصورتی سے قائل کر لیا کہ میں چند لوگوں کے نام انہیں لکھوا دوں اور میں نے اس سوسائٹی کے چند کرتا دھرتا لوگوں کے نام بھی لکھوا دئیے، مزید برآں اس بات پر بھی قائل ہو گیا کہ اس سوسائٹی کے بارے میں وائس چانسلر صاحب کو بھی شکایت لگائی جائے، اب اس بات کی وضاحت ضروروی ہے کہ میں خود بہت سی ادبی سوسائٹیز میں بہت ایکٹو تھا، اور نئی سوسائٹی کا پرانی سوسائٹیوں سے ایک اختلاف کا سا معاملہ چل رہا تھا، اس نئی سوسائٹی کو ہماری فیکلٹی کے ڈین صاحب کی آشیر باد حاصل تھی، جبکہ ہم جن سوسائٹیز میں تھے وہ سنئیر ٹیوٹر آفس کے ماتحت کام کرتیں تھیں۔
خیر میں نے ایک درخواست سی ترتیب دی اور ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیئرز کی طرف چل پڑا، وہاں پہنچا تو پتہ چلا کہ اس معاملہ کی انکوائری ایگری انجنئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کو بھیج دی گئی ہے اور میں ان سے رابطہ کروں، اب میں اندر ہی اندر پیچ و تاپ کھانے لگا کہ کسی نے بدنام بھی مجھے کیا، انکوائری بھی میری ہی لگا دی گئی، میرا غصہ بڑھنے لگا، متعلقہ سٹوڈنٹس مجھے سٹوڈنٹس افیئر کے دفتر باہر مل گئے ان سے تو تو میں میں بھی ہو گئی، جیسے جذباتی نوجوان ہوا کرتے ہیں ویسے ہی انہوں نے میرے الزام پر رد عمل دیا کہ تم سے جو ہوتا ہے کر لو ہم نے نہیں کیا، اب میرا غصہ کچھ اور بڑھ گیا، وہاں سے میں ٹیوٹر آفس گیا، تاکہ کچھ اخلاقی مدد حاصل کر سکوں تو جن لڑکوں کو الزام دے رہا تھا وہ وہاں سے نکل رہے تھے اور ٹیوٹر صاحب کو کہہ آئے تھے کہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا، میرے غصے میں ایک درجہ اور اضافہ ہوا کہ اگر انہوں نے کچھ نہیں کیا تو دفتر دفتر یہ اپنی صفائیاں کیوں دیتے پھر رہے ہیں، اسی جھنجلاہٹ میں تھا کہ اسی سوسائٹی کے صدر صاحب مجھے ڈھونڈتے ہوئے آ پہنچے انہوں نے کہا آپ ایک دفعہ میرا موقف سن لیں بعد میں جو آپ کا دل ہو گا کیجئے گا، میرے دل میں ان کا بے حد احترام تھا اور آج بھی ہے، میں نے ان سے کہا ٹھیک ہے کیمپس ٹائم ختم ہونے کے بعد سرسید ہال جو میرا ہاسٹل تھا اس کے باہر ملتے ہیں۔ وہاں سے میں انکوائری کمیٹی کے ہیڈ کے دفتر گیا ، ان سے ملا تو مجھے حالات بہت نارمل لگے، انہوں نے کہا کہ کسی نے تمہارے خلاف اشتہار لگایا ہے تمہیں کسی پر شک ہے تو بتاو، میں نے ان سے کہا مجھے ابھی کچھ کنفرم نہیں کل تک ادھر ادھر سے معلومات لیکر آپ کو بتاتا ہوں۔ خیر کیمپیس ٹائم کے ختم ہوتے ہی متلعقہ سوسائٹی کے لوگ اور کچھ میرے دوست میرے ہاسٹل کے سامنے اکٹھے ہو گئے، ہم ایک دائرے کی صورت بیٹھے ہوئے تھے تو دور سے انتظامیہ کے وہ بڑے آفیسر بھی ہمیں دیکھتے ہوئے گذر رہے تھے جن نے مجھے قائل کیا تھا کہ مجھے ایسی بدمعاشی کے خلاف درخواست ضرور دینی چاہیے۔ سوسائٹی کے صدر صاحب نے کہا رمضان بھائی ہماری سوسائٹی کا ایک ایک فرد قرآن پر حلف دینے کو تیار ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی ایسی شرارت نہیں کی، میں نے ان کی بات پر اعتبار کر لیا اور معاملہ رفع دفع ہو گیا، اس واقعہ کے ایک سال بعد ہم کلاس ٹور کے ساتھ مری گئے ہوئے تھے اور انتظامیہ کے وہی بڑے آفیسر ہمارے ساتھ ٹور پر تھے، ہوٹل کی لابی میں بیٹھ کر ہلکے پھلکے انداز میں گپ شپ چل رہی تھی، کہنے لگے ، چنگا کیتا تسی صلح کر لئ سی ورنہ معاملہ انتظامیہ دے کول آ جاندا تے کچھ نہ کچھ تے نکلنا ای سی۔۔۔یعنی اچھا ہو اکہ تم نے معاملہ خود ہی حل کر لیا، ورنہ انتظامیہ نے تو کچھ نہ کچھ نکال ہی لینا تھا، اس فقرے نے اس کہانی کو مکمل کردیا جو ایک سال تک میرے ذہن میں گھومتی رہی تھی کہ مجھے کیونکر ایک عام سی بات پر کلاس سے بلا کر درخواست لکھنے کی تحریک دی گئی۔  کیونکہ کہ اس سوسائٹی کا ایک بڑا پروگرام ہواتھا، جس میں فیکلٹی ڈین اور اساتذہ تو موجود تھے لیکن روایتی انتظامیہ کو اتنا پروٹوکول نہیں ملا تھا، جس کا اظہار برملا کیا جا رہا تھا، اور انتظامیہ یہ چاہتی تھی کہ کوئی شخص اس سوسائٹی کے خلاف درخواست دے، اور درخواست بھی وائس چانسلر تک لگائی جائے، اور کسی نہ کسی انداز میں مجھے اس کے لئے ٹریپ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
یہ ایک مثال ہے اس طرح کی درجنوں مثالیں موجود میں جن میں طلبہ کے کندھوں پر رکھ کر بندوقیں  چلائی جاتی رہی ہیں، موجود وائس چانسلر کو اتروانے کے لئے لیچکر شارٹیج کے نام پر سٹوڈنٹس کو احتجاج پر مجبور کرنا اور اس احتجاج میں انتظامیہ کی طرف سے بلوائی گئی کسی فورس سے گولی چل جانا، طلبہ کا زخمی ہونا ، طلبہ سے کسی انتظامی سربراہ کے دروازے پر فائرنگ کروانا، یا اس کے خلاف نعرہ بازی کروانا، اس طرح کے حربے جامعات میں کسی نہ کسی انداز میں ہوتے آئے ہیں۔
اب جب مشعال خان کیس میں ایک ملزم نے یہ بات کہی ہے کہ مجھے انتظامیہ کی طرف سے توہین مذہب کا الزام لگانے کا کہا گیا تھا تو میرے نزدیک ایسا ہونا قرین قیاس لگتا ہے۔ ہمارے کلچر میں خود پر اٹھنے والی ہر انگلی کاٹ دینے کی روش پرورش پائی جاتی ہے، اور ایک نمانے طالب علم کی کیا مجال جو انتظامیہ کی کوتاہیوں پر کچھ بات بھی کر سکے، اور ویسے بھی بعض لوگوں میں ڈگری کر لینے سے ان کے علم میں نہیں بلکہ ان کے زہر میں اضافہ ہوتا ہے۔ مجھے یونیورسٹی انتظامیہ سے کوئی حسن ظن نہیں میرے خیال میں تو سب سے پہلے ایسی انتظامیہ کو ہی کٹہرے میں کھڑے ہونا چاہیے کہ جس کی ناک کہ نیچے یہ سب کچھ ہوا ہے۔ اور اے کاش اس کیس کا فیصلہ کئی لوگوں کے مثال عبرت بنے تو مجھے یقین ہے کہ انتظامی جادوگروں کو بھی یقین آئے کہ جس آگ سے وہ کھیلتے آئے ہیں کبھی ان کے دامن تک بھی آ سکتی ہے۔

جوانی اور جذبات میں دوست نہیں سمجھتے کہ ہمارے معاشرے میں سچ کسی سے برداشت نہیں ہوتا، یونیورسٹی ایک چھوٹی سی ریاست کی طرح ہوتی ہے جہاں یونیورسٹی کے خلاف بات کرنا دریا میں مگرمچھ سے بیر کے مترادف ہوا کرتا ہے، بڑے بڑے سورما ان نمک کی کانوں میں جا کر جی حضورئیے ہوتے ہوئے دیکھے اور بہت سے خوش خلق لوگوں کو استاد بن کر بد تمیز اور بے لحاظ ہوتے دیکھا کیونکہ یہاں گریڈ بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں جس نے تعلیم دی تھی، اس کا فیصلہ حرف آخر ہے، وہ چاہے تو بنا امتحان لئے سب کو اے گریڈ دے دے اور ضد پر اتر آئے تو لوگوں کے سینوں سے گولڈ میڈل چھین لے۔ اسی طاقت کے غرور میں استاد اپنے مقام سے گرتے ہیں اور طالب علموں کے سینے پر پاوں رکھ کر پکارتے ہیں ۔۔۔تو کر کے دکھا مجھے ڈگری۔ ایسے ماحول میں مشال خان  فیل ہوتے رہتے ہیں اور اگر ان کو فیل کرنا ممکن نہ تو ان کو مارنے کی تدبیر کی جاتی ہے۔

 خداوند یہ گلہ ہے خداوندان مکتب سے مجھے سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا

سفر چین کی چند یادیں

پاکستان اور چین کی دوستی کو پہاڑوں کی طرح بلند اور سمندروں کی طرح گہری سمجھا جاتا ہے،دو ہزار سولہ کے اوائل میں مجھے چائنا میں دو ہفتے گذارنے کا اتفاق ہوا، میرے اس سفر کا مقصد چائنا سے برآمدات کے مواقع کی تلاش ، اور چائنہ کی سیر تھا، گذشتہ چھ سال یورپ میں گذارنے کی بنا پر مجھے کسی بھی نئے ملک میں جاتے ہوئے کچھ گھبراہٹ نہیں ہوتی، لیکن چائنا کے بارے سن رکھا تھا کہ وہاں گوگل پر پابندی عائد ہے اس لئے جی میل، فیس بک، یوٹیوب، گوگل کے نقشہ جات، گوگل ٹرانسلیٹ اور درجنوں ایسی ایپلیکشنز جن کی ہمیں روزمرہ میں عادت ہو چکی ہوتی ہے، چائنا میں دستیاب نہیں، چائنا میں کال کرنے کے لئے ووی چیٹ نامی ایک ایپلیکشن بہت مقبول ہے۔ اس کو انسٹال کر لیا گیا، اور جن جن منزلوں پر جانا تھا ان کے چائینیز زبان میں پرنٹ نکال کر رکھ لئے، تا کہ وہاں اگر کسی سے راستہ پوچھنا پڑے تو با آسانی پوچھا جا سکے، ہاں چائنا کے بارے یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے لوگوں کی انگریزی زبان بھی کافی ماٹھی ہے۔ پھر ہر پاکستانی کی طرح یہ سوچا گیا کہ ائیر پورٹ پر کون استقبال کرے گا، ایسے میں اچھے دوست اور یونیورسٹی کے کلاس فیلوز ہی ساتھ نبھاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، حسب خواہش چائنا میں بھی ہمارے کافی سارے دوست موجود تھے، خصوصی طور پر بیجنگ جہاں مجھے جانا تھا، وہاں پر تین قریبی دوستوں کی موجودگی مجھے بہت سے پریشانیوں سے آزاد کئے ہوئے تھی، ائیر پورٹ پر یونیورسٹی کے دوست اور جونئیر محسن چیمہ جو یہاں چائینز اکیڈمی اور ایگری کلچرل سائینسز میں ماسٹرز کی تعلیم میں مصروف ہیں مجھے لینے کے لئے موجود تھے، ان کے ساتھ ایک چائینز حلال ریسٹورنٹ پر دوپہر کا کھانا کھایا، میرے خیال کے برعکس بیجنگ میں جابجا حلال ریسٹورنٹ نظر آتے ہیں، ان ریسٹورنٹس کے باہر الطعام السلامیہ کے الفاظ باآسانی پڑھے جا سکتے ہیں، ہوٹل کے ویٹر کی وردی میں سر پر تبلیغی جماعت طرز کی نماز پڑھنے والی ٹوپیوں سے بھی اسلامی ریسٹورنٹس کو پہچانا جا سکتا ہے۔ کھانے کے معاملہ پر اتنی تفصیلات صرف کرنے کا وجہ یہ بھی ہے چائنا میں کسی بھی سیاح کو سب سے بڑا مسئلہ زبان کا ہی درپیش ہوتا ہے، ہماری انگریزی تو وہاں بے کار ہوتی ہی ہے، ہمارے ہاتھوں کے اشارے بھی کسی کی سمجھ نہیں آتے۔ ایک حلال ریسٹورنٹ پر گیا، اس سے پوچھا کہ بھائی جی کیا یہ حلال ہے، حالانکہ حلال کے لفظ سے انہیں کچھ پتہ تو چلنا چاہیے تھا، لیکن اس نے جو جواب مجھے دیا اس سے یہی سمجھا کہ اسے انگریزی نہیں آتی۔ میں نے چائنا کا ویزہ ڈنمارک سے حاصل کیا تھا، اس ویزے کے ساتھ ٹکٹ کی کاپی اور ہوٹل کی بکنگ کے کاغذات لف کئے گئے تھے، مراد یہ کہ ان دنوں کے لئے مجھے کہاں ٹھہرنا ہے اس کا اہتمام ویزہ کی درخواست دیتے ہوئے ہی ہو گیا تھا۔ میرا ہوٹل شہر ممنوع کے علاقے کے پاس تھا۔ عمومی طور پر سستے ہوٹلز سیاحوں کو آفر نہیں کئے جاتے ، ایک خاص حد سے زیادہ قمیت والے ہوٹل میں ہی سیاحوں کو رہائش کا حق حاصل ہوتا ہے، اس کیوجہ سیکورٹی کے معاملات ہیں، چائنا میں سیکورٹی کا سارا نظام ہی نقل کرنے کا قابل ہے۔ اتنی بڑی آبادی کے سیکورٹی مسائل کو نمٹانا اور امن و امان کی صورت حال کو قابو میں رکھنا بلاشبہ چائنہ کے متعلقہ شعبوں کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ہر ٹرین اور میٹرو کے اسٹیشن پر بنا چیکنگ کے آپ کا سامان اندر نہیں جانے دیا جاتا، ہر جگہ پر سیکورٹی سکینر لگے ہوئے ہیں، اور اتنی بڑی آبادی کو سیکورٹی سکینرز سے مسلسل گذارنا اور اس انداز میں گذارنا کہ لوگوں کا وقت ضائع نہ ہو، اور لمبی لائنیں بھی نہ لگیں یہ عمل واقعتا قابل داد ہے۔
بیجنگ اور شنڈونگ کے شہروں میں ان دو ہفتوں کے قیام سے جتنے چاہنیز لوگوں سے ملاقات ہوئی ان کو پاکستان کے حوالے مثبت پایا، لوگ پاکستانیوں کو دوست سمجھتے ہیں، بات کرنے میں نہیں ہچکچاتے، حتی کے بیجنگ کا کافی گروپ جو سیاحوں کو چائے کافی پلانے کے بہانے لوٹتا ہے، وہ بھی پاکستانیوں سے ملتے ہی پہلا فقرہ یہی کہتا ہے اوہو ، ہم تو دوست ہیں۔ کیونکہ چائنہ میں کمیونیکشن ایک بڑا مسئلہ ہے، اگر آپ کسی سے راستہ بھی پوچھیں تو نوے فیصد لوگ آپ کو راستہ نہیں سمجھا پاتے، ایسے ماحول میں کچھ نو سرباز خصوصی طور پر نوجوان عورتیں سیاحوں کو بے وقوف بنا کر کسی چائے، یا کافی والے ہوٹل پر لے جاتی ہیں، ہم ایسے دیسیوں کے چائے کافی اور گوروں کو بئیر یا شراب کی دعوت دیتی ہیں۔ ایسی جگہوں پر ان کا پہلے سے ہی رابطہ ہوتا ہے، اور وہاں کوئی بھی مشروب عام مارکیٹ سے سو گنا زیادہ تک مہنگا ہو سکتا ہے۔ سیاحتی علاقوں کے آس پاس اگر کوئی نوجوان خاتون آپ کو چائے کی دعوت دے تو بنا سوچے سمجھے اس سے اجتناب کیجئے گا، ورنہ جان لیجئےکہ ہم نے یہ سبق فیس ادا کے کے حاصل کیا ہے۔
بیجنگ میں سیر کرنے والی جگہوں کی اگر بات کی جائے تو دیوار چین دیکھے بغیر چلے آنا چین نہ آنے کے مترادف ہی ہے۔ دیوار چین کے محفوظ ترین حصوں میں ایک حصہ بیجنگ کے نواح میں واقع ہے، جہاں جانے کے خصوصی ٹرین سروس بنائی گئی ہے۔ دیوار چین دیکھنے والوں میں صرف غیر ملکی سیاح ہی نہیں بلکہ اسی فیصد لوگ چائنا کے دیگر شہروں سے اس دیوار کے درشن کرنے کے لئے آتے ہیں، یہاں پر ٹکٹ خریدنے کے بعد جونہی ٹرین  پر چڑھنے کے لئے پلیٹ فارم کے دروازے کھلتے ہیں بالکل دیسی انداز میں لوگوں کی دوڑیں لگ جاتی ہیں، اور ہماری لوکل بسوں کی طرح دوست اپنے دوستوں کے لئے سیٹوں پر پیر پسار کر بیٹھ جاتے ہیں کہ یہ سیٹھ تو میرے پپو یار کی ہے۔ ہم نے اس طرح کی دوڑ دھوپ والے سارے کام نوجوان محسن چیمہ کو دے رکھے تھے جو دوڑ دوڑ کر ہمارے لئے سیٹ کی جگہ رکھ رہے تھے۔ اگر آپ دیوار چین دیکھنے جانے کا منصوبہ رکھتے ہوں تو علی الصبح اس کام پر روانہ ہو جائیے تا کہ آپ اطمینان سے دیوار کی برجیوں پر چڑھ سکیں۔ دیوار چین کے اس حصے کے پاس ایک سنگ مرمر کی کنندہ تختی نصب ہے جس پر اردو اور چائینز زبان میں ایک عبارت لکھی گئی ہے کہ اس دیوار کا ایک حصہ بنانے کے لئے پاکستانی حکومت کی طرف سے ہدیہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس تختی کو دیکھ ایک دفعہ سر فخر سے بلند ہوتا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا ملک بھی دوستوں کی مدد میں کبھی پیچھے نہیں رہا۔
دیوار چین کے علاوفاربڈن سٹی جس کا ترجمہ شہر ممنوع کیا جاسکتا ہے قابل دید ہے۔ چائنا پر پانچ سو سال سے زیادہ حکومت کرنے والی منگ بادشاہت کے بادشاہوں کی رہائش گاہیں، جہاں کبھی پرندہ پر نہ مار سکتا تھا، طاقت کے ایوان، حسب و نسب کی جاہ و حشمت سے لدے دربار، بہترین کاریگروں کے ہاتھوں سے تراشے ہوئے شہہ پارے، اس شہر کا ایک ایک نقش اپنے اندر کہانی لئے ہوئے ہے۔ بادشاہوں کا طرز زندگی اپنے خدوخال کے ساتھ یہاں آ کر مجسم ہو جاتا ہے۔  اس سے ملتی جلتی تفریحی کشش سمر پیلس بھی ہے، جہاں موسم گرما میں بادشاہ سیر کرنے کو نکلتے تھے۔ بیجنگ کی جدید تعمیرات میں اس کا اولمپک سٹیڈیم اور اس کا زیر زمین میٹرو کا نظام قابل تعریف ہیں۔ اولمپک کے اس سٹیڈیم کو برڈ نیسٹ یعنی پرندے کا گھونسلہ بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کی ساخت کچھ اس انداز میں بنائی گئی ہے کہ دور سے دیکھنے سے تنکوں سے بنا ہوا ایک آشیانہ لگتا ہے۔ جبکہ زیر زمین میٹرو کا نظام باوجود اپنی وسعت کے انتہائی مستعدی سے کام کرتا ہے۔ بہت کم وقت میں تیار ہونے والا یہ میٹرو سسٹم ابھی شہر میں آمدورفت کا بہترین ذریعہ ہے۔ اور سستا اتنا ہے کہ مفت ہونے کا گماں ہوتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں اوسلو کے سفر میں اوسلو شہر سے اوسلو ائیرپورٹ کی ٹکٹ خریدی جو ایک سو اسی کرون کے برابر تھی، اور یہاں اس جتنا طویل سفر آپ شاید بیس سے تیس نارویجئن کرون یا چار پانچ سو روپوں میں کر لیں۔
چین کی سب سے بڑی پہچان اس کی صنعت ہے۔ کہتے ہیں کہ چین ہر طرح کی مارکیٹ کے لئے مصنوعات بناتا ہے، غریب ایشائی ملکوں سے لیکر امیر یورپی ممالک تک ہر جگہ چائینا کی مصنوعات دیکھنے کو ملتی ہیں، جن میں قیمت اور کوالٹی کا فرق بھی اسی حساب سے ہوتا ہے۔ یہاں آکر مجھے گارمنٹس اور لیدر بیگز کی ہول سیل مارکیٹس دیکھنے کا اتفاق ہوا، اس سفر میں دو مقامی چائینز دوست بھی میرے ساتھ تھے۔ وہ بیگ جو یورپ میں آکر دس پندرہ ہزار روپے قیمت پاتا ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ چائنا سے دو تین ہزار روپے میں تیار ہو سکے۔ لیکن آپ جوں جوں کوالٹی کی طرف جائیں گے آپ کو اشئیا کی قیمت برابر ہی لگتی ہیں۔ ہمارے ہاں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ چائنا میں صرف ہلکی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں، لیکن میرے خیال میں آپ جس کوالٹی کی چاہیں چائینزمصنوعات تیار کرواسکتے ہیں۔

سفر میں جن پریشانیوں کی توقع تھی وہ سبھی پیش آئیں، سب سے بڑا مسئلہ زبان کا لگا، بیجنگ ویسٹ ریلوے سٹیشن پر دس پنردہ مختلف لوگوں سے کہا کہ میرے موبائل کو وائی فائی سے کنکٹ کر دو کیونکہ ہال میں فری وائی فائی تھا، لیکن اس کو جوڑنا کیسے ہی سمجھ نہیں آ رہا تھا، وہاں ایک جگہ ہدایات نامہ بھی لکھا تھا، لوگوں کو اشارے سے سمجھایا بھی کہ میں فقط اتنا چاہتا ہوں جو ہدایت نامے میں لکھا ہوا ہے، لیکن کسی سے میری مدد نہ ہوسکی۔ گوگل کی کمی بڑی شدت سے محسوس ہوئی، فیس بک بھی اپنی یاد دلاتی رہی، لیکن خوش آئیند یہ تھا جہاں جہاں گیا عمومی طور پر لوگ اچھے طریقے سے ملا، حلال کھانے کی جگہیں ملتی رہیں، نظام آمدورفت اور خصوصی طور پر تیز رفتار ٹرین جو تین سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے اس نے بہت متاثر کیا۔ چائینر لوگ جلدی گھل مل جانے والے سیدھے سادھے لوگ محسوس ہوئے۔ لیکن یہاں بھی غریب اور امیر کے درمیان کھنچی ہوئی لکیر کو باآسانی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ بڑی بڑی گاڑیوں کے ساتھ ہاتھ سے کھنیچی جانے والی ریڑھیاں بھی سڑکوں پر دکھائی دیتی ہیں، ، اپنی خواہشات سے بندھے ترقی اور جلد ترقی کی خواہش رکھنے والے چائینز سے چائنہ لبریز دکھائی دیا۔ لیکن پاکستان سے بڑی آبادی کو احسن انداز میں ترقی کے سفر پر گامزن دیکھ کر دل میں موہوم سی امید جاگتی ہے کہ شاید ترقی کا یہ گھومتا ہوا پہیہ ہمارے دیس کی گلیوں کا رخ بھی کرے۔ گراں خواب چینیوں کی طرح گراں خواب پاکستانی بھی اپنے ملک کی تقدیر بدلنے کی کوشش میں جت جائیں۔

میرا دو ہزار سولہ -چند یادداشتیں

First sun 2016 Beijing China 
میرے لئے دوہزار سولہ کا پہلا سورج بیجنگ انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے ہوائی اڈے پر طلوع ہوا تھا، اس ہوائی اڈے پر کچھ بھی ایسا نہ تھا کہ جس سے لگے کہ یہاں نیا سال آیا ہے، شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چائنہ والے اپنے نئے سال کا آغاز چاند کے حساب سے جشن منا کر کرتے ہیں، چائنا میں گذرے دو ہفتے بالکل خواب جیسے تھے، ایسا دیس جہاں انگریزی سے عوامی آشنائی نہ ہونے کے برابر ہے مگر پھر بھی دنیا کی بڑی طاقت ہے، جہاں گوگل اور اس کی مصنوعات پر پابندی ہے اور لوگ اس پابندی کا احترام بھی کرتے ہیں،

چائنہ کے اس سفر کے بعد پاکستان میں اپنی سیڈ کمپنی کی تیاریوں میں لگا رہا ، وہ کمپنی ابھی تک کاغذوں میں بھی نامکمل ہے، ایک دوست نے کہا پچاس ہزار دو ایس ای سی پی میں کمپنی رجسٹر کروادیتا ہوں، لیکن مجھے دھن تھی کہ میں خود بنا رشوت دیے یہ کام کروں گا، اور نتیجہ یہ ہوا کہ تین ماہ کی مسلسل محنت کے باوجود بھی اس کمپنی کا کام مکمل نہ ہو سکا، ظالموں نے اسکا آن لائن سیٹ اپ ہی ایسا بنا رکھا ہے کہ آپ چکرا کر رہ جائیں، جیسے ان کی ویب سائٹ کھلے کی تو صرف سیف موڈ میں، پھر اسکا لاگ ان حاصل کرنا اور فیس ادا کرنا، جو ادا ہو گی تو کسی خاص بنک کی ایک خاص برانچ میں ، اس ماڈرن دور میں اس سے ماٹھا آن لائن نظام پورا سال گذرنے کے بعد بھی نہیں دیکھا۔ خیر ہماری کمپنی کی رجسٹریشن ادھوری رہ گئی اور کام بھی، کچھ بیرون ملک سے سیڈز کے سمپل پاکستان بھیجے تھے کہ ان کے ٹرائل لگائے جائیں مگر تاحال ان کی خبر نہیں، جس دوست سے کہا تھا وہ ہر بار ایک نئی خوبصورت کہانی بتاتے ہیں اور ہم مطمئن ہو جاتے ہیں، 
اسی سال کے اوائل میں سوشل میڈیا پر اردو لکھنے والے بلاگرز کی تحاریر کو اکٹھا کر کے ایک کتابی صورت میں شائع کرنے کی کوشش کی جو کامیاب رہی، پہلی دفعہ بہت سے فیس بک کے دوستوں کو لائیو دیکھا، کتاب کی تقریب رونمائی الحمرا آرٹ کونسل لاہور میں رکھی گئی تھی، جس میں دور دراز سے آئے دوستوں کی شرکت ابھی تک دل میں خوشی کے پھول کھلاتی ہے۔

واپس ڈنمارک آنے کے بعد کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر ایک آئی ٹی سروسزکمپنی کھولنے کے منصوبوں پر بات چلتی رہی، الفا برینز اس طرز کا ایک نام بھی سوچا گیا، جو کافی مہینوں کی محنت کے بعد ڈیجیٹل نارڈکس میں تبدیل ہو گیا، اور اس سال کے آخر تک یہ منصوبہ بھی باقی منصوبوں کی طرح بنا تعمیر کے منہدم ہو گیا۔ 
مئی کے مہینے میں پرتگال کی سیر کا ایک موقع ہاتھ آیا ، لزبن اور فاطمہ شہر کی سیر کی، واسکوڈے گاما جس کا نام بہت سن رکھا اس جنم بھومی تک جاپہنچے، یورپ کی ایک ایسی جفاکش قوم جنہیں یورپ کا درویش بھی کہا جا سکتا ہے، آہستہ آہستہ دنیا سے بے نیاز اپنی دھن میں مست چلے جا رہے ہیں، شہر فاطمہ نے ذہن کی کھڑکی پر نئے دروازے کھولے کہ عیسائیت میں بھی عقیدت مندی اور پیری مریدی طرز کی کچھ اشئیا موجود ہیں۔ 
اس کے بعد جولائی میں برسلز سے لیکر وینس تک بائی روڑ سفر بھی اس سال کی بہترین یادگاروں میں سے ایک ہے، لگزمبرک، زیوچ، انٹرلاکن، میلان، ویرونہ اور وینس شہر دیکھے، سوئیٹرزلینڈ کو بہت مہنگا پایا، اٹلی یورپ کا جوشیلا نوجوان محسوس ہوا، 
اس کے بعد ایک دفعہ پھر ایک پرانے خواب کی طرف رجوع کیا کہ پی ایچ ڈی اب کر ہی لی جائے، ایک محسن کے توسط چیک ری پبلک کی ایک یونیورسٹی میں کچھ بات چلائی اور پراگ دیکھنے کا موقع ہاتھ آیا۔ پراگ جنگ عظیم سے سالم بچ جانے والا شہر ہے اس لئے وہاں تاریخی عمارتیں جوں کی توں موجود ہیں، چارلس برج سے بادشاہ کے محل کی طرف دیکھیں تو انسان خود کو کسی فلم کا حصہ محسوس کرتا ہے۔ 
اسی مہینے میں چار ہفتوں کے لئے پاکستان کا چکر لگا، بہت بھاگ دوڑ میں کچھ دوستوں سے ملاقات ہوئی اور کچھ سے نہ ہو سکی، پاکستان میں سمارٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے کسانوں تک پہنچنے کے ایک سلسلے کا کچھ حصہ بنا، اور اپنی ایک تجویز جس پر ابھی کام کرنا باقی ہے، اس کی منظوری کا منتظر ہوں۔ 
اسی سال کے آخری دنوں میں جاپان میں مقیم ایک دوست کے توسط پاکستان میں چاول کی پنیری لگانے والی مشین پاکستان میں ترویج دینے کا ایک اور خواب آغاز ہوا، جو آنے والے سال کے درمیان تک ذہن پر سوار رہنے کا امکان ہے۔ 
اسی سال کے آخری مہینے میں بلاگ سے ویڈیو بلاگ کی طرف دل مائل ہوا ہے، ابھی کچھ دن پہلے اپنے یوٹیوب چینل کا آغاز کیا ہے، اتنےخوابوں میں یہ سال گذرا کہ ہانپ ہانپ کر برا حال ہو گیا ، وہ منصوبے جو اس سال سے بھی پہلے کے چلے آ رہے تھے جیسے ایگری ہنٹ اس میں کچھ بہتری آئی، فروٹ فار لائف کے پلیٹ فارم سے فیصل آباد کی ایک رہائشی کالونی میں کچھ پودے لگائے گئے، اور ہمارا سائنفیک جرنل لائف سائنسز انٹرنیشل جرنل اس سال بھی پٹری پر چڑھ نہ پایا۔ 
دیکھوں تو لگتا ہے، اس سال میں جو حاصل ہوا، بے لاگ-اردو بلاگرز کی منتخب تحاریر پر مشتمل کتاب، بیسکس آف ایگریکلچر کا ساتواں ایڈیشن، پاکستان میں چند سو پھلدار پودوں کا اضافہ، ایگری ہنٹ اور ریز فاونڈیشن کے تحت چلنے والا فری سکول جو 83 بچوں تک جا پہنچا اور چار پانچ سفر اس سال کی خوبصورتیاں تھیں، اور اگر ناکامیوں کا تذکرہ کروں ایک لمبی فہرست ہے، اتنے خواب ٹوٹے کہ کرچیاں اکھٹی کرنے میں نیا سال لگ جائے، اسی لئے ان ناکامیوں کا تذکرہ ہی کیا۔۔۔۔آئیے ایک نئے ولولے کے ساتھ نیا سال گذارنے کا عہد کریں۔وہ جو عہد میرا خود سے بہت سے پرانے برسوں سے ہے۔اس کو ہی  دہرائے لیتے ہیں کہ 

شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے