آجکل جامعات میں کس کا سکہ چلتا ہے؟

مشال خان کیس کی کڑیاں انتظامیہ کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ دے رہی ہیں، انتظامیہ جو یونیورسٹی جیسی ریاست میں بادشاہت کی سی ہوا کرتی ہے، جس کے عمل دخل کے بغیر یونیورسٹی میں ایک پتہ بھی نہیں ہلا کرتا، ہم نے خود اپنے زمانہ طالب علمی میں بہت سے اساتذہ کو طالب علموں کے آپسی جھگڑوں سے اپنے کیرئیر کے لئے مائیلج لیتے ہوئے پایا ہے، اور کمزور طلبہ شطرنج کے پیادوں کی طرح پٹتے چلے آئے ہیں اور ایسا کم ہی ہوتا کہ کوئی پیادہ شاہ کے مقام تک جا پہنچے۔
کوئی زمانہ ہوتا تھا کہ طلبہ تنظیموں کا زور ہوا کرتا تھا، انتظامیہ اپنی من مانی کرنے سے پہلے، فیسیں بڑھانے سے پہلے سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا کرتی تھی لیکن گذشتہ دو عشروں سے سے طلبہ تنظیموں کی بجائے انتظامیہ کی من مانی چلتی ہے، پروٹوکول کے نام پر تعلیمی اداروں کے ہاسٹل خالی کروا لینا، سمر سمیسٹر کی ہاسٹل کی الگ سے فیس لینا، ایک کمرے میں گنجائش سے زیادہ لوگوں کو ٹھونسنا، اپنی مرضی اور سہولت کے قوانین بنانا، طلبہ میں تفریق پیدا کرنا، خود سے نا متفق طلبہ کو کم نمبر دینا، حتی کی کلاس میں زیادہ سوال پوچھنے پر طالب علم کے گریڈ خراب کردینا جیسے معاملات دیکھنے میں آتے رہے ہیں۔
انتظامیہ طلبہ کو اپنے معاملات میں پیادوں کی طرح کسیے استعمال کرتی ہے اس کی مثال اپنی ایک آب بیتی سے دینا چاہوں گا، اس کہانی کے سبھی کردار ابھی تک زندہ ہیں، ہم ایم ایس سی کے طالب علم تھے، اپنی ایک کلاس میں موجود تھے کہ ایک سرکاری ملازم آیا اس نے پروفیسر صاحب سے کہا کہ رمضان رفیق کو فلاں پروفیسر نے بلایا ہے، دوران کلاس انتظامیہ سے متعلق ایک بڑے عہدیدار کا مجھے بلانا مجھے کسی آنکھ نہ بھا رہا تھا، ان کے روبرو حاظر ہوا،جاتے ہی انہوں نے مجھے آڑے ہاتھوں لیا، یہ کیا اودھم مچا رکھا ہے تم لوگوں نے، میں ابھی معاملہ سمجھ ہی نہیں پایا تھا کہ ہوا کیا ہے، ایک اشتہار سا میرے سامنے رکھا، جس پر تلاش گمشدہ کا ایک اشتہار بنا ہوا تھا، میری تصویر کے ساتھ چند مزاحیے فقرے لکھے ہوئے جیسےکہا گیا تھا کہ ایک شخص، منہ لسی سے دھلا ہوا، مونچھیں براڈ کاسٹ میتھڈ سے اگی ہوئیں، یہ شخص لڑکیوں کے ہاسٹل کی طرف جاتے ہوئے غائب ہوا ہے جس کو پتہ ہو فورا اطلاع کرے وغیرہ ، کہنے لگے یہ بہت سنگیں معاملہ ہے مجھے بتاو کہ ایسا کس نے کیا ہے، یہ اشتہار جس کاغذ پر چھپا ہوا تھا کہ ہماری یونیورسٹی کی ایک ابھرتی ہوئی سوسائٹی کا مونو گرام لئے ہوئے تھا، لامحالا میرا ذہن اسی سوسائٹی کی طرف گیا، اس کے چند افراد سے میر ی کچھ بنتی بھی نہ تھی، تو میں نے شک ظاہر کیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے، استاد محترم نے مجھے بڑی خوبصورتی سے قائل کر لیا کہ میں چند لوگوں کے نام انہیں لکھوا دوں اور میں نے اس سوسائٹی کے چند کرتا دھرتا لوگوں کے نام بھی لکھوا دئیے، مزید برآں اس بات پر بھی قائل ہو گیا کہ اس سوسائٹی کے بارے میں وائس چانسلر صاحب کو بھی شکایت لگائی جائے، اب اس بات کی وضاحت ضروروی ہے کہ میں خود بہت سی ادبی سوسائٹیز میں بہت ایکٹو تھا، اور نئی سوسائٹی کا پرانی سوسائٹیوں سے ایک اختلاف کا سا معاملہ چل رہا تھا، اس نئی سوسائٹی کو ہماری فیکلٹی کے ڈین صاحب کی آشیر باد حاصل تھی، جبکہ ہم جن سوسائٹیز میں تھے وہ سنئیر ٹیوٹر آفس کے ماتحت کام کرتیں تھیں۔
خیر میں نے ایک درخواست سی ترتیب دی اور ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیئرز کی طرف چل پڑا، وہاں پہنچا تو پتہ چلا کہ اس معاملہ کی انکوائری ایگری انجنئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کو بھیج دی گئی ہے اور میں ان سے رابطہ کروں، اب میں اندر ہی اندر پیچ و تاپ کھانے لگا کہ کسی نے بدنام بھی مجھے کیا، انکوائری بھی میری ہی لگا دی گئی، میرا غصہ بڑھنے لگا، متعلقہ سٹوڈنٹس مجھے سٹوڈنٹس افیئر کے دفتر باہر مل گئے ان سے تو تو میں میں بھی ہو گئی، جیسے جذباتی نوجوان ہوا کرتے ہیں ویسے ہی انہوں نے میرے الزام پر رد عمل دیا کہ تم سے جو ہوتا ہے کر لو ہم نے نہیں کیا، اب میرا غصہ کچھ اور بڑھ گیا، وہاں سے میں ٹیوٹر آفس گیا، تاکہ کچھ اخلاقی مدد حاصل کر سکوں تو جن لڑکوں کو الزام دے رہا تھا وہ وہاں سے نکل رہے تھے اور ٹیوٹر صاحب کو کہہ آئے تھے کہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا، میرے غصے میں ایک درجہ اور اضافہ ہوا کہ اگر انہوں نے کچھ نہیں کیا تو دفتر دفتر یہ اپنی صفائیاں کیوں دیتے پھر رہے ہیں، اسی جھنجلاہٹ میں تھا کہ اسی سوسائٹی کے صدر صاحب مجھے ڈھونڈتے ہوئے آ پہنچے انہوں نے کہا آپ ایک دفعہ میرا موقف سن لیں بعد میں جو آپ کا دل ہو گا کیجئے گا، میرے دل میں ان کا بے حد احترام تھا اور آج بھی ہے، میں نے ان سے کہا ٹھیک ہے کیمپس ٹائم ختم ہونے کے بعد سرسید ہال جو میرا ہاسٹل تھا اس کے باہر ملتے ہیں۔ وہاں سے میں انکوائری کمیٹی کے ہیڈ کے دفتر گیا ، ان سے ملا تو مجھے حالات بہت نارمل لگے، انہوں نے کہا کہ کسی نے تمہارے خلاف اشتہار لگایا ہے تمہیں کسی پر شک ہے تو بتاو، میں نے ان سے کہا مجھے ابھی کچھ کنفرم نہیں کل تک ادھر ادھر سے معلومات لیکر آپ کو بتاتا ہوں۔ خیر کیمپیس ٹائم کے ختم ہوتے ہی متلعقہ سوسائٹی کے لوگ اور کچھ میرے دوست میرے ہاسٹل کے سامنے اکٹھے ہو گئے، ہم ایک دائرے کی صورت بیٹھے ہوئے تھے تو دور سے انتظامیہ کے وہ بڑے آفیسر بھی ہمیں دیکھتے ہوئے گذر رہے تھے جن نے مجھے قائل کیا تھا کہ مجھے ایسی بدمعاشی کے خلاف درخواست ضرور دینی چاہیے۔ سوسائٹی کے صدر صاحب نے کہا رمضان بھائی ہماری سوسائٹی کا ایک ایک فرد قرآن پر حلف دینے کو تیار ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی ایسی شرارت نہیں کی، میں نے ان کی بات پر اعتبار کر لیا اور معاملہ رفع دفع ہو گیا، اس واقعہ کے ایک سال بعد ہم کلاس ٹور کے ساتھ مری گئے ہوئے تھے اور انتظامیہ کے وہی بڑے آفیسر ہمارے ساتھ ٹور پر تھے، ہوٹل کی لابی میں بیٹھ کر ہلکے پھلکے انداز میں گپ شپ چل رہی تھی، کہنے لگے ، چنگا کیتا تسی صلح کر لئ سی ورنہ معاملہ انتظامیہ دے کول آ جاندا تے کچھ نہ کچھ تے نکلنا ای سی۔۔۔یعنی اچھا ہو اکہ تم نے معاملہ خود ہی حل کر لیا، ورنہ انتظامیہ نے تو کچھ نہ کچھ نکال ہی لینا تھا، اس فقرے نے اس کہانی کو مکمل کردیا جو ایک سال تک میرے ذہن میں گھومتی رہی تھی کہ مجھے کیونکر ایک عام سی بات پر کلاس سے بلا کر درخواست لکھنے کی تحریک دی گئی۔  کیونکہ کہ اس سوسائٹی کا ایک بڑا پروگرام ہواتھا، جس میں فیکلٹی ڈین اور اساتذہ تو موجود تھے لیکن روایتی انتظامیہ کو اتنا پروٹوکول نہیں ملا تھا، جس کا اظہار برملا کیا جا رہا تھا، اور انتظامیہ یہ چاہتی تھی کہ کوئی شخص اس سوسائٹی کے خلاف درخواست دے، اور درخواست بھی وائس چانسلر تک لگائی جائے، اور کسی نہ کسی انداز میں مجھے اس کے لئے ٹریپ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
یہ ایک مثال ہے اس طرح کی درجنوں مثالیں موجود میں جن میں طلبہ کے کندھوں پر رکھ کر بندوقیں  چلائی جاتی رہی ہیں، موجود وائس چانسلر کو اتروانے کے لئے لیچکر شارٹیج کے نام پر سٹوڈنٹس کو احتجاج پر مجبور کرنا اور اس احتجاج میں انتظامیہ کی طرف سے بلوائی گئی کسی فورس سے گولی چل جانا، طلبہ کا زخمی ہونا ، طلبہ سے کسی انتظامی سربراہ کے دروازے پر فائرنگ کروانا، یا اس کے خلاف نعرہ بازی کروانا، اس طرح کے حربے جامعات میں کسی نہ کسی انداز میں ہوتے آئے ہیں۔
اب جب مشعال خان کیس میں ایک ملزم نے یہ بات کہی ہے کہ مجھے انتظامیہ کی طرف سے توہین مذہب کا الزام لگانے کا کہا گیا تھا تو میرے نزدیک ایسا ہونا قرین قیاس لگتا ہے۔ ہمارے کلچر میں خود پر اٹھنے والی ہر انگلی کاٹ دینے کی روش پرورش پائی جاتی ہے، اور ایک نمانے طالب علم کی کیا مجال جو انتظامیہ کی کوتاہیوں پر کچھ بات بھی کر سکے، اور ویسے بھی بعض لوگوں میں ڈگری کر لینے سے ان کے علم میں نہیں بلکہ ان کے زہر میں اضافہ ہوتا ہے۔ مجھے یونیورسٹی انتظامیہ سے کوئی حسن ظن نہیں میرے خیال میں تو سب سے پہلے ایسی انتظامیہ کو ہی کٹہرے میں کھڑے ہونا چاہیے کہ جس کی ناک کہ نیچے یہ سب کچھ ہوا ہے۔ اور اے کاش اس کیس کا فیصلہ کئی لوگوں کے مثال عبرت بنے تو مجھے یقین ہے کہ انتظامی جادوگروں کو بھی یقین آئے کہ جس آگ سے وہ کھیلتے آئے ہیں کبھی ان کے دامن تک بھی آ سکتی ہے۔

جوانی اور جذبات میں دوست نہیں سمجھتے کہ ہمارے معاشرے میں سچ کسی سے برداشت نہیں ہوتا، یونیورسٹی ایک چھوٹی سی ریاست کی طرح ہوتی ہے جہاں یونیورسٹی کے خلاف بات کرنا دریا میں مگرمچھ سے بیر کے مترادف ہوا کرتا ہے، بڑے بڑے سورما ان نمک کی کانوں میں جا کر جی حضورئیے ہوتے ہوئے دیکھے اور بہت سے خوش خلق لوگوں کو استاد بن کر بد تمیز اور بے لحاظ ہوتے دیکھا کیونکہ یہاں گریڈ بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں جس نے تعلیم دی تھی، اس کا فیصلہ حرف آخر ہے، وہ چاہے تو بنا امتحان لئے سب کو اے گریڈ دے دے اور ضد پر اتر آئے تو لوگوں کے سینوں سے گولڈ میڈل چھین لے۔ اسی طاقت کے غرور میں استاد اپنے مقام سے گرتے ہیں اور طالب علموں کے سینے پر پاوں رکھ کر پکارتے ہیں ۔۔۔تو کر کے دکھا مجھے ڈگری۔ ایسے ماحول میں مشال خان  فیل ہوتے رہتے ہیں اور اگر ان کو فیل کرنا ممکن نہ تو ان کو مارنے کی تدبیر کی جاتی ہے۔

 خداوند یہ گلہ ہے خداوندان مکتب سے مجھے سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا

سفر چین کی چند یادیں

پاکستان اور چین کی دوستی کو پہاڑوں کی طرح بلند اور سمندروں کی طرح گہری سمجھا جاتا ہے،دو ہزار سولہ کے اوائل میں مجھے چائنا میں دو ہفتے گذارنے کا اتفاق ہوا، میرے اس سفر کا مقصد چائنا سے برآمدات کے مواقع کی تلاش ، اور چائنہ کی سیر تھا، گذشتہ چھ سال یورپ میں گذارنے کی بنا پر مجھے کسی بھی نئے ملک میں جاتے ہوئے کچھ گھبراہٹ نہیں ہوتی، لیکن چائنا کے بارے سن رکھا تھا کہ وہاں گوگل پر پابندی عائد ہے اس لئے جی میل، فیس بک، یوٹیوب، گوگل کے نقشہ جات، گوگل ٹرانسلیٹ اور درجنوں ایسی ایپلیکشنز جن کی ہمیں روزمرہ میں عادت ہو چکی ہوتی ہے، چائنا میں دستیاب نہیں، چائنا میں کال کرنے کے لئے ووی چیٹ نامی ایک ایپلیکشن بہت مقبول ہے۔ اس کو انسٹال کر لیا گیا، اور جن جن منزلوں پر جانا تھا ان کے چائینیز زبان میں پرنٹ نکال کر رکھ لئے، تا کہ وہاں اگر کسی سے راستہ پوچھنا پڑے تو با آسانی پوچھا جا سکے، ہاں چائنا کے بارے یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے لوگوں کی انگریزی زبان بھی کافی ماٹھی ہے۔ پھر ہر پاکستانی کی طرح یہ سوچا گیا کہ ائیر پورٹ پر کون استقبال کرے گا، ایسے میں اچھے دوست اور یونیورسٹی کے کلاس فیلوز ہی ساتھ نبھاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، حسب خواہش چائنا میں بھی ہمارے کافی سارے دوست موجود تھے، خصوصی طور پر بیجنگ جہاں مجھے جانا تھا، وہاں پر تین قریبی دوستوں کی موجودگی مجھے بہت سے پریشانیوں سے آزاد کئے ہوئے تھی، ائیر پورٹ پر یونیورسٹی کے دوست اور جونئیر محسن چیمہ جو یہاں چائینز اکیڈمی اور ایگری کلچرل سائینسز میں ماسٹرز کی تعلیم میں مصروف ہیں مجھے لینے کے لئے موجود تھے، ان کے ساتھ ایک چائینز حلال ریسٹورنٹ پر دوپہر کا کھانا کھایا، میرے خیال کے برعکس بیجنگ میں جابجا حلال ریسٹورنٹ نظر آتے ہیں، ان ریسٹورنٹس کے باہر الطعام السلامیہ کے الفاظ باآسانی پڑھے جا سکتے ہیں، ہوٹل کے ویٹر کی وردی میں سر پر تبلیغی جماعت طرز کی نماز پڑھنے والی ٹوپیوں سے بھی اسلامی ریسٹورنٹس کو پہچانا جا سکتا ہے۔ کھانے کے معاملہ پر اتنی تفصیلات صرف کرنے کا وجہ یہ بھی ہے چائنا میں کسی بھی سیاح کو سب سے بڑا مسئلہ زبان کا ہی درپیش ہوتا ہے، ہماری انگریزی تو وہاں بے کار ہوتی ہی ہے، ہمارے ہاتھوں کے اشارے بھی کسی کی سمجھ نہیں آتے۔ ایک حلال ریسٹورنٹ پر گیا، اس سے پوچھا کہ بھائی جی کیا یہ حلال ہے، حالانکہ حلال کے لفظ سے انہیں کچھ پتہ تو چلنا چاہیے تھا، لیکن اس نے جو جواب مجھے دیا اس سے یہی سمجھا کہ اسے انگریزی نہیں آتی۔ میں نے چائنا کا ویزہ ڈنمارک سے حاصل کیا تھا، اس ویزے کے ساتھ ٹکٹ کی کاپی اور ہوٹل کی بکنگ کے کاغذات لف کئے گئے تھے، مراد یہ کہ ان دنوں کے لئے مجھے کہاں ٹھہرنا ہے اس کا اہتمام ویزہ کی درخواست دیتے ہوئے ہی ہو گیا تھا۔ میرا ہوٹل شہر ممنوع کے علاقے کے پاس تھا۔ عمومی طور پر سستے ہوٹلز سیاحوں کو آفر نہیں کئے جاتے ، ایک خاص حد سے زیادہ قمیت والے ہوٹل میں ہی سیاحوں کو رہائش کا حق حاصل ہوتا ہے، اس کیوجہ سیکورٹی کے معاملات ہیں، چائنا میں سیکورٹی کا سارا نظام ہی نقل کرنے کا قابل ہے۔ اتنی بڑی آبادی کے سیکورٹی مسائل کو نمٹانا اور امن و امان کی صورت حال کو قابو میں رکھنا بلاشبہ چائنہ کے متعلقہ شعبوں کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ہر ٹرین اور میٹرو کے اسٹیشن پر بنا چیکنگ کے آپ کا سامان اندر نہیں جانے دیا جاتا، ہر جگہ پر سیکورٹی سکینر لگے ہوئے ہیں، اور اتنی بڑی آبادی کو سیکورٹی سکینرز سے مسلسل گذارنا اور اس انداز میں گذارنا کہ لوگوں کا وقت ضائع نہ ہو، اور لمبی لائنیں بھی نہ لگیں یہ عمل واقعتا قابل داد ہے۔
بیجنگ اور شنڈونگ کے شہروں میں ان دو ہفتوں کے قیام سے جتنے چاہنیز لوگوں سے ملاقات ہوئی ان کو پاکستان کے حوالے مثبت پایا، لوگ پاکستانیوں کو دوست سمجھتے ہیں، بات کرنے میں نہیں ہچکچاتے، حتی کے بیجنگ کا کافی گروپ جو سیاحوں کو چائے کافی پلانے کے بہانے لوٹتا ہے، وہ بھی پاکستانیوں سے ملتے ہی پہلا فقرہ یہی کہتا ہے اوہو ، ہم تو دوست ہیں۔ کیونکہ چائنہ میں کمیونیکشن ایک بڑا مسئلہ ہے، اگر آپ کسی سے راستہ بھی پوچھیں تو نوے فیصد لوگ آپ کو راستہ نہیں سمجھا پاتے، ایسے ماحول میں کچھ نو سرباز خصوصی طور پر نوجوان عورتیں سیاحوں کو بے وقوف بنا کر کسی چائے، یا کافی والے ہوٹل پر لے جاتی ہیں، ہم ایسے دیسیوں کے چائے کافی اور گوروں کو بئیر یا شراب کی دعوت دیتی ہیں۔ ایسی جگہوں پر ان کا پہلے سے ہی رابطہ ہوتا ہے، اور وہاں کوئی بھی مشروب عام مارکیٹ سے سو گنا زیادہ تک مہنگا ہو سکتا ہے۔ سیاحتی علاقوں کے آس پاس اگر کوئی نوجوان خاتون آپ کو چائے کی دعوت دے تو بنا سوچے سمجھے اس سے اجتناب کیجئے گا، ورنہ جان لیجئےکہ ہم نے یہ سبق فیس ادا کے کے حاصل کیا ہے۔
بیجنگ میں سیر کرنے والی جگہوں کی اگر بات کی جائے تو دیوار چین دیکھے بغیر چلے آنا چین نہ آنے کے مترادف ہی ہے۔ دیوار چین کے محفوظ ترین حصوں میں ایک حصہ بیجنگ کے نواح میں واقع ہے، جہاں جانے کے خصوصی ٹرین سروس بنائی گئی ہے۔ دیوار چین دیکھنے والوں میں صرف غیر ملکی سیاح ہی نہیں بلکہ اسی فیصد لوگ چائنا کے دیگر شہروں سے اس دیوار کے درشن کرنے کے لئے آتے ہیں، یہاں پر ٹکٹ خریدنے کے بعد جونہی ٹرین  پر چڑھنے کے لئے پلیٹ فارم کے دروازے کھلتے ہیں بالکل دیسی انداز میں لوگوں کی دوڑیں لگ جاتی ہیں، اور ہماری لوکل بسوں کی طرح دوست اپنے دوستوں کے لئے سیٹوں پر پیر پسار کر بیٹھ جاتے ہیں کہ یہ سیٹھ تو میرے پپو یار کی ہے۔ ہم نے اس طرح کی دوڑ دھوپ والے سارے کام نوجوان محسن چیمہ کو دے رکھے تھے جو دوڑ دوڑ کر ہمارے لئے سیٹ کی جگہ رکھ رہے تھے۔ اگر آپ دیوار چین دیکھنے جانے کا منصوبہ رکھتے ہوں تو علی الصبح اس کام پر روانہ ہو جائیے تا کہ آپ اطمینان سے دیوار کی برجیوں پر چڑھ سکیں۔ دیوار چین کے اس حصے کے پاس ایک سنگ مرمر کی کنندہ تختی نصب ہے جس پر اردو اور چائینز زبان میں ایک عبارت لکھی گئی ہے کہ اس دیوار کا ایک حصہ بنانے کے لئے پاکستانی حکومت کی طرف سے ہدیہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس تختی کو دیکھ ایک دفعہ سر فخر سے بلند ہوتا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا ملک بھی دوستوں کی مدد میں کبھی پیچھے نہیں رہا۔
دیوار چین کے علاوفاربڈن سٹی جس کا ترجمہ شہر ممنوع کیا جاسکتا ہے قابل دید ہے۔ چائنا پر پانچ سو سال سے زیادہ حکومت کرنے والی منگ بادشاہت کے بادشاہوں کی رہائش گاہیں، جہاں کبھی پرندہ پر نہ مار سکتا تھا، طاقت کے ایوان، حسب و نسب کی جاہ و حشمت سے لدے دربار، بہترین کاریگروں کے ہاتھوں سے تراشے ہوئے شہہ پارے، اس شہر کا ایک ایک نقش اپنے اندر کہانی لئے ہوئے ہے۔ بادشاہوں کا طرز زندگی اپنے خدوخال کے ساتھ یہاں آ کر مجسم ہو جاتا ہے۔  اس سے ملتی جلتی تفریحی کشش سمر پیلس بھی ہے، جہاں موسم گرما میں بادشاہ سیر کرنے کو نکلتے تھے۔ بیجنگ کی جدید تعمیرات میں اس کا اولمپک سٹیڈیم اور اس کا زیر زمین میٹرو کا نظام قابل تعریف ہیں۔ اولمپک کے اس سٹیڈیم کو برڈ نیسٹ یعنی پرندے کا گھونسلہ بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کی ساخت کچھ اس انداز میں بنائی گئی ہے کہ دور سے دیکھنے سے تنکوں سے بنا ہوا ایک آشیانہ لگتا ہے۔ جبکہ زیر زمین میٹرو کا نظام باوجود اپنی وسعت کے انتہائی مستعدی سے کام کرتا ہے۔ بہت کم وقت میں تیار ہونے والا یہ میٹرو سسٹم ابھی شہر میں آمدورفت کا بہترین ذریعہ ہے۔ اور سستا اتنا ہے کہ مفت ہونے کا گماں ہوتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں اوسلو کے سفر میں اوسلو شہر سے اوسلو ائیرپورٹ کی ٹکٹ خریدی جو ایک سو اسی کرون کے برابر تھی، اور یہاں اس جتنا طویل سفر آپ شاید بیس سے تیس نارویجئن کرون یا چار پانچ سو روپوں میں کر لیں۔
چین کی سب سے بڑی پہچان اس کی صنعت ہے۔ کہتے ہیں کہ چین ہر طرح کی مارکیٹ کے لئے مصنوعات بناتا ہے، غریب ایشائی ملکوں سے لیکر امیر یورپی ممالک تک ہر جگہ چائینا کی مصنوعات دیکھنے کو ملتی ہیں، جن میں قیمت اور کوالٹی کا فرق بھی اسی حساب سے ہوتا ہے۔ یہاں آکر مجھے گارمنٹس اور لیدر بیگز کی ہول سیل مارکیٹس دیکھنے کا اتفاق ہوا، اس سفر میں دو مقامی چائینز دوست بھی میرے ساتھ تھے۔ وہ بیگ جو یورپ میں آکر دس پندرہ ہزار روپے قیمت پاتا ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ چائنا سے دو تین ہزار روپے میں تیار ہو سکے۔ لیکن آپ جوں جوں کوالٹی کی طرف جائیں گے آپ کو اشئیا کی قیمت برابر ہی لگتی ہیں۔ ہمارے ہاں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ چائنا میں صرف ہلکی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں، لیکن میرے خیال میں آپ جس کوالٹی کی چاہیں چائینزمصنوعات تیار کرواسکتے ہیں۔

سفر میں جن پریشانیوں کی توقع تھی وہ سبھی پیش آئیں، سب سے بڑا مسئلہ زبان کا لگا، بیجنگ ویسٹ ریلوے سٹیشن پر دس پنردہ مختلف لوگوں سے کہا کہ میرے موبائل کو وائی فائی سے کنکٹ کر دو کیونکہ ہال میں فری وائی فائی تھا، لیکن اس کو جوڑنا کیسے ہی سمجھ نہیں آ رہا تھا، وہاں ایک جگہ ہدایات نامہ بھی لکھا تھا، لوگوں کو اشارے سے سمجھایا بھی کہ میں فقط اتنا چاہتا ہوں جو ہدایت نامے میں لکھا ہوا ہے، لیکن کسی سے میری مدد نہ ہوسکی۔ گوگل کی کمی بڑی شدت سے محسوس ہوئی، فیس بک بھی اپنی یاد دلاتی رہی، لیکن خوش آئیند یہ تھا جہاں جہاں گیا عمومی طور پر لوگ اچھے طریقے سے ملا، حلال کھانے کی جگہیں ملتی رہیں، نظام آمدورفت اور خصوصی طور پر تیز رفتار ٹرین جو تین سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے اس نے بہت متاثر کیا۔ چائینر لوگ جلدی گھل مل جانے والے سیدھے سادھے لوگ محسوس ہوئے۔ لیکن یہاں بھی غریب اور امیر کے درمیان کھنچی ہوئی لکیر کو باآسانی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ بڑی بڑی گاڑیوں کے ساتھ ہاتھ سے کھنیچی جانے والی ریڑھیاں بھی سڑکوں پر دکھائی دیتی ہیں، ، اپنی خواہشات سے بندھے ترقی اور جلد ترقی کی خواہش رکھنے والے چائینز سے چائنہ لبریز دکھائی دیا۔ لیکن پاکستان سے بڑی آبادی کو احسن انداز میں ترقی کے سفر پر گامزن دیکھ کر دل میں موہوم سی امید جاگتی ہے کہ شاید ترقی کا یہ گھومتا ہوا پہیہ ہمارے دیس کی گلیوں کا رخ بھی کرے۔ گراں خواب چینیوں کی طرح گراں خواب پاکستانی بھی اپنے ملک کی تقدیر بدلنے کی کوشش میں جت جائیں۔

میرا دو ہزار سولہ -چند یادداشتیں

First sun 2016 Beijing China 
میرے لئے دوہزار سولہ کا پہلا سورج بیجنگ انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے ہوائی اڈے پر طلوع ہوا تھا، اس ہوائی اڈے پر کچھ بھی ایسا نہ تھا کہ جس سے لگے کہ یہاں نیا سال آیا ہے، شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چائنہ والے اپنے نئے سال کا آغاز چاند کے حساب سے جشن منا کر کرتے ہیں، چائنا میں گذرے دو ہفتے بالکل خواب جیسے تھے، ایسا دیس جہاں انگریزی سے عوامی آشنائی نہ ہونے کے برابر ہے مگر پھر بھی دنیا کی بڑی طاقت ہے، جہاں گوگل اور اس کی مصنوعات پر پابندی ہے اور لوگ اس پابندی کا احترام بھی کرتے ہیں،

چائنہ کے اس سفر کے بعد پاکستان میں اپنی سیڈ کمپنی کی تیاریوں میں لگا رہا ، وہ کمپنی ابھی تک کاغذوں میں بھی نامکمل ہے، ایک دوست نے کہا پچاس ہزار دو ایس ای سی پی میں کمپنی رجسٹر کروادیتا ہوں، لیکن مجھے دھن تھی کہ میں خود بنا رشوت دیے یہ کام کروں گا، اور نتیجہ یہ ہوا کہ تین ماہ کی مسلسل محنت کے باوجود بھی اس کمپنی کا کام مکمل نہ ہو سکا، ظالموں نے اسکا آن لائن سیٹ اپ ہی ایسا بنا رکھا ہے کہ آپ چکرا کر رہ جائیں، جیسے ان کی ویب سائٹ کھلے کی تو صرف سیف موڈ میں، پھر اسکا لاگ ان حاصل کرنا اور فیس ادا کرنا، جو ادا ہو گی تو کسی خاص بنک کی ایک خاص برانچ میں ، اس ماڈرن دور میں اس سے ماٹھا آن لائن نظام پورا سال گذرنے کے بعد بھی نہیں دیکھا۔ خیر ہماری کمپنی کی رجسٹریشن ادھوری رہ گئی اور کام بھی، کچھ بیرون ملک سے سیڈز کے سمپل پاکستان بھیجے تھے کہ ان کے ٹرائل لگائے جائیں مگر تاحال ان کی خبر نہیں، جس دوست سے کہا تھا وہ ہر بار ایک نئی خوبصورت کہانی بتاتے ہیں اور ہم مطمئن ہو جاتے ہیں، 
اسی سال کے اوائل میں سوشل میڈیا پر اردو لکھنے والے بلاگرز کی تحاریر کو اکٹھا کر کے ایک کتابی صورت میں شائع کرنے کی کوشش کی جو کامیاب رہی، پہلی دفعہ بہت سے فیس بک کے دوستوں کو لائیو دیکھا، کتاب کی تقریب رونمائی الحمرا آرٹ کونسل لاہور میں رکھی گئی تھی، جس میں دور دراز سے آئے دوستوں کی شرکت ابھی تک دل میں خوشی کے پھول کھلاتی ہے۔

واپس ڈنمارک آنے کے بعد کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر ایک آئی ٹی سروسزکمپنی کھولنے کے منصوبوں پر بات چلتی رہی، الفا برینز اس طرز کا ایک نام بھی سوچا گیا، جو کافی مہینوں کی محنت کے بعد ڈیجیٹل نارڈکس میں تبدیل ہو گیا، اور اس سال کے آخر تک یہ منصوبہ بھی باقی منصوبوں کی طرح بنا تعمیر کے منہدم ہو گیا۔ 
مئی کے مہینے میں پرتگال کی سیر کا ایک موقع ہاتھ آیا ، لزبن اور فاطمہ شہر کی سیر کی، واسکوڈے گاما جس کا نام بہت سن رکھا اس جنم بھومی تک جاپہنچے، یورپ کی ایک ایسی جفاکش قوم جنہیں یورپ کا درویش بھی کہا جا سکتا ہے، آہستہ آہستہ دنیا سے بے نیاز اپنی دھن میں مست چلے جا رہے ہیں، شہر فاطمہ نے ذہن کی کھڑکی پر نئے دروازے کھولے کہ عیسائیت میں بھی عقیدت مندی اور پیری مریدی طرز کی کچھ اشئیا موجود ہیں۔ 
اس کے بعد جولائی میں برسلز سے لیکر وینس تک بائی روڑ سفر بھی اس سال کی بہترین یادگاروں میں سے ایک ہے، لگزمبرک، زیوچ، انٹرلاکن، میلان، ویرونہ اور وینس شہر دیکھے، سوئیٹرزلینڈ کو بہت مہنگا پایا، اٹلی یورپ کا جوشیلا نوجوان محسوس ہوا، 
اس کے بعد ایک دفعہ پھر ایک پرانے خواب کی طرف رجوع کیا کہ پی ایچ ڈی اب کر ہی لی جائے، ایک محسن کے توسط چیک ری پبلک کی ایک یونیورسٹی میں کچھ بات چلائی اور پراگ دیکھنے کا موقع ہاتھ آیا۔ پراگ جنگ عظیم سے سالم بچ جانے والا شہر ہے اس لئے وہاں تاریخی عمارتیں جوں کی توں موجود ہیں، چارلس برج سے بادشاہ کے محل کی طرف دیکھیں تو انسان خود کو کسی فلم کا حصہ محسوس کرتا ہے۔ 
اسی مہینے میں چار ہفتوں کے لئے پاکستان کا چکر لگا، بہت بھاگ دوڑ میں کچھ دوستوں سے ملاقات ہوئی اور کچھ سے نہ ہو سکی، پاکستان میں سمارٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے کسانوں تک پہنچنے کے ایک سلسلے کا کچھ حصہ بنا، اور اپنی ایک تجویز جس پر ابھی کام کرنا باقی ہے، اس کی منظوری کا منتظر ہوں۔ 
اسی سال کے آخری دنوں میں جاپان میں مقیم ایک دوست کے توسط پاکستان میں چاول کی پنیری لگانے والی مشین پاکستان میں ترویج دینے کا ایک اور خواب آغاز ہوا، جو آنے والے سال کے درمیان تک ذہن پر سوار رہنے کا امکان ہے۔ 
اسی سال کے آخری مہینے میں بلاگ سے ویڈیو بلاگ کی طرف دل مائل ہوا ہے، ابھی کچھ دن پہلے اپنے یوٹیوب چینل کا آغاز کیا ہے، اتنےخوابوں میں یہ سال گذرا کہ ہانپ ہانپ کر برا حال ہو گیا ، وہ منصوبے جو اس سال سے بھی پہلے کے چلے آ رہے تھے جیسے ایگری ہنٹ اس میں کچھ بہتری آئی، فروٹ فار لائف کے پلیٹ فارم سے فیصل آباد کی ایک رہائشی کالونی میں کچھ پودے لگائے گئے، اور ہمارا سائنفیک جرنل لائف سائنسز انٹرنیشل جرنل اس سال بھی پٹری پر چڑھ نہ پایا۔ 
دیکھوں تو لگتا ہے، اس سال میں جو حاصل ہوا، بے لاگ-اردو بلاگرز کی منتخب تحاریر پر مشتمل کتاب، بیسکس آف ایگریکلچر کا ساتواں ایڈیشن، پاکستان میں چند سو پھلدار پودوں کا اضافہ، ایگری ہنٹ اور ریز فاونڈیشن کے تحت چلنے والا فری سکول جو 83 بچوں تک جا پہنچا اور چار پانچ سفر اس سال کی خوبصورتیاں تھیں، اور اگر ناکامیوں کا تذکرہ کروں ایک لمبی فہرست ہے، اتنے خواب ٹوٹے کہ کرچیاں اکھٹی کرنے میں نیا سال لگ جائے، اسی لئے ان ناکامیوں کا تذکرہ ہی کیا۔۔۔۔آئیے ایک نئے ولولے کے ساتھ نیا سال گذارنے کا عہد کریں۔وہ جو عہد میرا خود سے بہت سے پرانے برسوں سے ہے۔اس کو ہی  دہرائے لیتے ہیں کہ 

شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے 

شہر فاطمہ پرتگال کی سیر

کچھ



























 بارے شہر فاطمہ کے
لزبن پرتگال کے سفرنے مجھے جس ناقابل فراموش جگہ کو دیکھنے کا موقع دیا شہر فاطمہ ان میں سے ایک ہے، میرے میزبان اور گائیڈ اسلم بھائی اور ان کے دوست مجھے لیکر لزبن سے ڈیڑھ گھنٹہ ڈرائیو پر واقع اس شہر میں لیکر آئے۔ مجھے یہ بتایا گیا تھا کہ اس شہر کو عیسائیت کے حوالے سے ایک مقدس مقام کی اہمیت حاصل ہے، یہاں دور دور سے لوگ زیارات کے لئے حاظر ہوتے ہیں، اور اپنی منتوں ، مرادوں کی باریابی کے لئےدعا کرتے ہیں۔ فاطمہ نامی یہ شہر نام سے ہی میرے لئے بہت کشش کا باعث تھا، کہ اس شہر کا نام اسلامی کیوں ہے؟ اگر نام اسلامی ہے تو عیسائیت کے لئے اس کی اہمیت کیونکر؟ یہ شہر   اوورم میونسپلٹی کا حصہ ہے اور کتھولک عیسائیوں کے لئے مذہبی اہمیت کا حامل ہے۔  اس شہر میں موجود ایک میوزیم میں سیاحوں کو گائیڈ کرنے والے نوجوان کے بقول اس شہر کا نام اسلام کے پرتگال میں اثرات کا شاخسانہ ہے، یہ سارے علاقے فاطمہ نامی شہزادی کے تھے ، لیکن اس شہر کو عیسائیت کے حوالے سے مقبولیت کا آغاز انیس سو سترہ کے بعد ہوا، جب روایات کے مطابق تین  نوخیز گڈریوں نے مریم علیہ السلام کی زیارت کی ، انہی روایات کے مطابق ان بچوں کو تین راز دئیے گئے ،
پہلا راز ایک جہنم کا تصور، دوسرا راز  پہلی جنگ عظیم کا خاتمہ اور کمیونیزم کا پھیلاو پھر کمیونزم کا خاتمہ اور چرچ کی فتح کی صورت ہو گا، تیسرا راز بہت عرصہ بہت عرصہ راز رکھا گیا لیکن اس کو جون 2ہزار میں افشا کیا گیا،
اس کہانی کے مرکزی کردار گڈریوں میں سے لوسیا نامی بچی ہی بڑھاپے کی عمر تک پہنچے اور دوسرے دو بچے نوجوانی سے پہلے ہی وفات پا گئے۔ کہانیاں یہ بھی کہتی ہیں کہ شروع میں جب ان بچوں نے مریم علیہ السلام سے ملاقات کا واقعہ سنایا توہر کسی نے ان بچوں کی بات کو ماننے سے انکار کردیا لیکن بعد میں سورج کے معجزہ کے بعد ان بچوں کی باتوں کو سیریس لیا جانے لگا، مختلف لکھنے والوں کے بقول سورج کے معجزہ کو تیس ہزار سے ایک لاکھ لوگوں نے دیکھا، جس میں اخبارات کے رپورٹر بھی شامل تھے، اس واقعہ کے مطابق سورج جیسے اپنے ہالے سے باہر نکل آیا ہو اور اپنی جگہ ہلنے لگا ۔



سیر شہر فاطمہ

شہر فاطمہ اپنی وضع قطع سے ایک چھوٹا سا شہر ہے، لیکن اس چھوٹے سے شہر میں کے لئے اجنبی لوگوں کے لئے تنگ  
 دلی اور تنگ نظری نہ تھی ، بلکہ ایک خاص قسم کی قبولیت اور اپنائیت کی فضا تھی، ہمیں ایک سائیڈ گلی میں باآسانی مفت کی پارکنگ مل گئی۔ موسم بہت مناسب تھا ۔ فاطمہ کا چرچ ہماری پہلی منزل تھا، ابھی پہلی گلی میں ہی داخل ہوئے تو جس چیز پر سب سے پہلے نگاہ پڑی وہ شوپیس طرز کی چیزیں بیچنے والے بے شمار دکانیں تھیں، یہ چھوٹی دکانیں گفٹ شاپس بالکل ایسی تھی جیسے آپ انارکلی لاہور کی جیولیری یا تحفے تحائف بیچنے والی دکانوں پر جا نکلیں۔ ان دکانوں پر سوائے دکانداروں کے زیادہ لوگوں کا رش نہ تھا، ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے آج کوئی چھٹی کا دن ہو۔  ان دکانوں پر سب سے نمایاں چیز مقدس مریم کے خوبصورت مجسمے، موتیوں کی مالائیں، دیواروں پر لگائے جانے والے سونئیرز، ٹیبل پر رکھے جانے والے شوپیس اور درجنوں طرح کی موم بتیاں وغیرہ شامل تھیں۔ مجھے ایسا لگا کہ یہاں سال کے کسی وقت میں کچھ تقاریب کا مذہبی اجتماعات ہوتے ہوں گے جن میں سینکڑوں لوگ شریک ہوتے ہوں گے، شہر کی بہت سی دکانی ، ہوٹل ، ریسٹورنٹ فاطمہ کے نام سے منسوب تھے،اور تو اور میں نے ایک دروازے کے باہر پڑے قالین پر بھی آئی لو فاطمہ لکھا ہوا بھی دیکھا۔ 


دیکھنے والی جگہیں

۔ شہر کی بڑی اٹریکشن شہر کا گرجا گھر، لوسیا کا گھر، زیتون کا وہ باغ جہاں کہانی کے بقول بی بی مریم تشریف لائیں تھیں۔ ۔ گرجا گھر کے پاس پہنچے تو ایک بوڑھی عورت اپنے گھٹنوں پر کچھ پیڈ نما چیز چڑھا رہی تھیں، انہوں نے وہ پیڈ گھٹنوں پر چڑھائے اور گھٹنوں کے بل عبادت گاہ کی طرف جانا شروع کردیا، اس کے بعد میں نے تین مختلف لوگوں کو دیکھا جو گھٹنوں کے بل عبادت گاہ کی طرف گئے، ان میں سے کچھ لوگوں نے گھٹنوں کے بل اس عمارت کے گرد چکر بھی کاٹے، پتہ کرنے پر پتا چلا کہ گھٹنوں کے بل چل کر روزری یا تسبیح کرنے سے خداوند کو راضی کیا جا سکتا ہے اور مشکلات کو دور بھگایا جا سکتا ہے۔  اس سے اگلہ مرحلہ عبادت گاہ پر موم بتیاں روشن کرنے کا تھا، عبادت گاہ کے ایک طرفہ ایک خاص حصہ بنا کر موم بتیاں روشن کرنے کی جگہ بنائی گئی تھی، لوگ موٹی موٹی، لمبی لمبی موم بتیاں جلا کر اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے تھے، پانچ فٹ لمبی موم بتی بھی ہم نے پہلی بار یہیں پر دیکھی۔ اس سیکشن کے ساتھ ہی ڈیجٹل موم بتیاں جلانے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا، یعنی اگر آپ کو موم کی موم بتی جلانے پر اعتراض ہے تو آپ ایک یورو کا سکہ ڈالیں تو بجلی سے جلنے والی موم بتیاں بھی جلا سکتے ہیں، اسی سیکشن کے ساتھ کچھ لوگ موم سے بنے ہوئے جسمانی اعضا جیسے بازو، ٹانگیں، پیر ، پورے پورے جسم کے مجسمے رکھ رہے تھے اور دعا کر رہے تھے، اس حصہ کے بارے میں استفسار کرنے پر پتہ چلا کہ جس کے جسم کے جس حصہ میں تکلیف ہو وہ یہاں پر وہ حصہ رکھتا ہے تو اس کی تکلیف رفع ہو جاتی ہے۔

لوسیا کا گھر اور میوزیم
 لوسیا ان تین گدڑیوں میں سے ایک تھی جو زندہ رہی ، اس کے گھر کو ایک میوزیم کا درجہ دے دیا گیا ہے،یہ گھر چار پانچ کمروں پر بنا ہوا ایک متوسط طبقے کے کسی فرد کا گھر دکھائی دیتا ہے۔ اندر جانے کی ٹکٹ ایک یورو تھی، جو ہم نے بخوشی ادا کردی اور آپ کے لئے تصاویر بنا لی ہیں تا کہ آپ کا خرچہ نہ ہو، اس گھر کو اسی انداز میں رکھنے کی کوشش کی گئی ہے جیسا کہ کوئی عام گھر انیس سو سترہ میں ہو سکتا ہے، مجسموں یا بھس بھرے اجسام سے اس دور کو تصویر کرنے کی کوشش کی گئی ہے، کھانے کا کمرہ، سونے کا اہتمام، عبادت کی جگہ، مہمانوں کا کمرہ، اس زمانے کی استری، سلائی مشین ، جگ، مگ ، برتن اس طرز کی ساری چیزیں تقریبا اسی انداز میں سجائی گئی ہیں جیسے گھر والے بس گھر سے باہر ہی گئے ہوں، گھر کی دیوار پر لگی ہوئی لوسیا اور اس کی فیملی کی تصویر دیکھ کر لگتا ہے کہ اس زمانے میں برقع طرز کے پردے کا رواج موجود تھا، یا کم از کم مذہبی خاندان اس طرز کی پردہ داری کا اہتمام کرتے تھے۔اس گھر کے ساتھ ہی سیاحوں کے لئے ایک معلوماتی دفتر بھی بنایا گیا ہے، جہاں پر مختلف زبانوں میں اس شہر کے متعلق معلومات لی جا سکتی تھیں۔ اسی معلوماتی سنٹر پر ہی میں نے شہر فاطمہ کے نام کے بارے معلومات لی تھیں۔


زیتون کا باغ اور فرشتے کا آنا
روایات کے مطابق لوسیا اور دوسرے دو بچے گھر سے کچھ فاصلے پر موجود ایک جگہ پر روزری کی عبادت میں مصروف تھے جب ان کی مریم علیہالسلام  سے ملاقات ہوئی، یہ روزری کی عبادت ایک تسبیح کی مانند ہوتی ہے، جیسی تسبیحات ہم موتیوں کی لڑی پر پڑھتے ہیں، بالکل اس سے ملتی جلتی لڑی پر مقدس کلمات پڑھے جاتے ہیں، اور جیسے ہم مسلمان ان کو گنتے ہیں بالکل ایسے ہی گنا جاتا ہے، اب بھی اس جگہ پر مذہبی لباسوں میں ملبوس لوگ تسبیحات پڑھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ سر جھکائے ہوئے، مذہب سے لگاو رکھنے والی روایتی متانت سے مخمور لوگ اسی جگہ پر کسی عبادت گاہ کی طرح خلوص چھڑکتے نظر آئے۔ تیس چالیس لوگوں کا ایک گروہ بھی اس باغ کی زیارت کے لئے آیا ہوا تھا، یہ گروپ مختلف مقامات پر رکتا اور ان کا پادری شاید پرتگیزی زبان میں ان کو کچھ بات کہتا بالکل جیسے ہمارے ہاں امام یا مولانا تقریر کرتے ہیں، اور اس کے بعد گروہ اونچی آواز میں ملتے جلتے کلمات دہرانے لگتا، جیسے ہمارے ہاں لوگ حج کے موقع پر تلبہات پڑھتے ہیں۔
ہر طرف ایک عقیدت کا دریا بہہ رہا تھا جیسے مریدین کسی پیر کے آستانے پر جاتے ہیں، بالکل ایسا ہی ماحول تھا،

ایک جگہ پر سنگ مرمر کے مجسموں کی مدد دے ان بچوں کا مقدس مریم کے روبرو ہونے کا واقعہ تصویر کیا گیا تھا۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں مقدس مریم تشریف لائیں اور بچوں پر تین راز افشا کئے۔ یورپ کے ایک کونے میں مذہب کے رنگوں میں رنگے ہوئے ان عیسائیوں کو دیکھ کر بڑا اپنا اپنا سا لگا،مذہب اور روایت سے جڑے ہوئے یہ لوگ ایک ان دیکھی ڈور سے بندھے ہوئے ان جگہوں پر ابدی سچ کی تلاش میں سرگرداں نظر آئے، اور شہر فاطمہ کی دکانوں اور سٹالز کو دیکھ کر اپنے گاوں کا ایک میلہ یاد آ گیا جیسے میاں خیرے کے میلے پر کھلونوں کی دکانیں سجا کرتی تھیں ایسے ہی ہر دکان سجی ہوئی تھی، بس چہل پہل ابھی کچھ کم تھی ، ہو سکتا کہ سال کے کسی حصے میں بہت زیادہ ہوتی ہو،
اس شہر کی فضا یورپ کے عام شہروں سے بہت ہٹ کر ہے، شاید اس لئے بھی کہ ایک چھوٹا سا قصبہ نما شہر ہے، لیکن اس کی انفرادیت اس کا عیسائیت کے شیرے میں لتھڑا ہوا ماحول ہے، جس میں ایک امن، اور اپنائیت کی مہک ہے۔ جیسے بھاگتی دوڑتی دنیا سے باہر نکل کر انسان پرسکون جنگل میں آ نکلے، جیسے جھرنا کسی وادی کے دامن میں پہنچ کر چپ سادھ لے۔ ایسی خاموشی جو اپنے اندر جہان معنی رکھتی ہے۔
لوسیا کے متعلق سامان ،اس کی سادگی سے گذری ہوئی زندگی، اس کا تصوراتی تاج، اس کے متعلق لکھی ہوئی مختلف زبانوں کی کتابیں، اس کے مجسمے ، تسبیح کی لڑیاں، عبادت گاہ، گھٹنوں پر طواف کرتے ہوئے لوگ اس شہر کو بہت پر اسرار بنا رہے تھے۔

اوورم کا قلعہ
اصل میں شہر فاطمہ اوورم مونسپلٹی کا ہی حصہ ہے، شہر فاطمہ کی اٹریکشنز سے کچھ پندرہ بیس کلومیٹر پر واقع پندرہویں صدی عیسوی کا یہ قلعہ پرتگال کے قومی ورثے کا حصہ ہے، اس کے کھنڈرات اس دور کی شان و شوکت کی کہانی کہتے ہیں، جونہی ہم قلعے کے قریب پہنچے ہلکی ہلکی بوندہ باندی کا آغاز ہو گیا، لیکن یہ بوندہ باندی کچھ زیادہ دیر جاری نہ رہی، یہاں سے اوررم شہر کا نظارہ کیا جا سکتا ہے، اردگرد پائن کے جنگلات آنکھوں کو نہائت بھلے محسوس ہوتے ہیں، اور اس سبزے کے درمیان میں سینہ تانے پتھروں سے سینچا ہوا یہ پرشکوہ قلعہ دیکھنے والے پر سحر طاری کر دیتا ہے۔
 قلعے کی تعمیر اس کے اندر بنے ہوئے فوارے، سرنگیں، گلیاں گذرے وقت کی بے شمار کہانیاں کہہ رہے تھے۔ اگر وقت کبھی فاطمہ کی زمین تک لے جائے تو اس اوورم کے قلعہ کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونا نہ بھولئے گا۔



نوٹ یہ بلاگ ڈان اردو میں چھپ چکا ہے 

بلھے شاہ ان ڈنمارک

بلھےشاہ اسی مرنا ناہی گور پیا کوئی ہور، سٹیج کے نیم تاریک حصے سے ایک بھرپور آواز نے آن کی آن میں سارے ماحول کو اپنے قابو میں کر لیا، پاکستان کے سٹیجوں کے لئے یہ آواز اور لب و لہجہ شاید سنا سنا ہو گا مگر ڈنمارک اور اور اس کے دارلخلافہ کوپن ہیگن کے کچھ پچاس کلو میٹر دور ہیلسنگور نامی اس شہر کے اس تھیٹر کے یہ آواز بالکل نئی تھی، یہ تھیٹر کرونبرگ کے قلعہ کے بالکل سامنے سمندر کے کنارے واقع ہے، یہ وہی قلعہ ہے جس کا تذکرہ شیکسپئر کے مشہورڈرامہ ہیملٹ میں کیا گیا ہے، ایسی تاریخی جگہ کے پہلو میں ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی تھی، پاکستان کا اجوکہ تھیٹر اپنا مشہور ڈرامہ  بلھا  پیش کرنے کے لئے ڈنمارک میں آیا ہوا تھا۔ اس ڈرامے کے انعقاد کی کچھ بھی ایڈورٹائزنگ نہیں کی گئی تھی، جس کی کوئی وجہ میں میری سمجھ سے بالاتر ہے، مجھےاس ڈرامے کے حوالے سے آج شام ہی پتہ چلا اور میں ڈرامہ دیکھنے کے لئے تیار ہو گیا، ڈرامہ دیکھنے والے مجمع میں پاکستانی کم اور ڈینش زیادہ تھے، ڈرامہ شروع ہونے سے پہلے پاکستان میں ڈنمارک کے سفیر مسٹر اولے نے تمام حاظرین کو خوش آمدید کہا، اس کے بعد ڈنمارک میں پاکستانی سفیر محترم مسرور احمد جونیجو نے حاظرین سے ڈرامے اور پاکستان اور ڈنمارک کے مابین ثقافتی تعلقات کے حوالے سے مختصر باتیں کی۔ اور پھر ڈرامے کا آغاز کر دیا گیا۔
اجوکا ٹیم سفیران گرامی کی ساتھ 

پاکستانی سفیر محترم مسرور احمد جونیجو، ڈینش سفیر پاکستان مسٹر اولے کے ساتھ بھلا دیکھنے کے بعد 

بھلے شاہ کی زندگی ، شاعری اور پیغام پر مبنی اس ڈرامے نے ایک اداس رخ سے آغاز لیا، بھلے شاہ کا جنازہ مفتی شہر کے پاس لایا جاتا ہے کہ وہ بھلے شاہ کا جنازہ پڑھا دیں، لیکن مفتی شہر کہتا ہے کہ پہلےاس بات کا پتہ کرنا ہو گا کہ بھلا حالت ایمان میں بھی مرا کہ نہیں، پھر اس کے بعد بھلے شاہ کے زندگی کے مختلف اداور کو تمثیلی انداز میں پیش کیا گیا، بھلے شاہ کا شاہ عنایت کا مرید ہو جانا، شاہ عنایت کا روٹھ جانا، بھلے شاہ کا مرادی بیگم سے جا کر ناچ سیکھنا، ناچ کر مرشد کو منانا، بھلے شاہ کر سردار بندہ سنگھ بہادر سے حسن سلوک، اور اس کو امن قائم رکھنے کا درس دینا، بھلے شاہ کی قصور سے بے دخلی اور شہر سے باہر ٹھکانا بنانا، اور وفات ، اور پھر مفتی شہر سے بھلے کا جنازہ نہ پڑھائے جانے کا اعلان ، اور بھلے شاہ کے مزار پر ماننے والوں کی حاظری، ان سب حصوں کو انتہائی خوبصورتی سے جوڑا گیا تھا۔ اتنی خوبصورتی سے کہ کوئی ماہر سے ماہر کاری گر بھی متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکے۔

اپنی جاندار کہانی اور خوبصورت مکالموں کے علاوہ ادائیگی کے حوالے اتنی خوبصورتیاں اکٹھی کی گئی تھیں کہ ایک ایک منظر پر واہ واہ کی صدا آتی تھی، فنکاروں، صدا کاروں، اور قوالوں کی محنت سے ایک ایک منظر یوں تصویر ہو رہا تھا کہ بس ۔۔۔۔کہانی میں اتنی جذباتیت اور دلکشی تھی کہ آنکھیں بار بار نم ہوتی تھیں۔ بلاشبہ کہانی کی ڈائریکٹر مدیحہ گوہر اور کہانی کار شاہد ندیم لائق تحسین ہیں جنہوں نے ایسے پیچیدہ موضوع کو اس مختصر وقت میں ناظرین کے سامنے لانے کی سعی کی تھی۔

ان آنسووں میں ان فنکاروں کی محنت اور کہانی سے جڑے تاثرات کے علاوہ بھی کچھ آنسو جمع ہو گئے تھے، کہ اس بڑے پلیٹ فورم پر پاکستان کی ثقافت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ صوفی اسلام کا تصور جسے بیرون ملک لوگوں کے دل  نرم کرنے کے لئے ایک موثر اوزار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، نہائت احسن طریقے سے ڈنمارک کے رہنے والوں میں اپنا گھر کر رہا تھا۔
فنکاروں نے اپنے اپنے کردار کو بخوبی نبھایا، بلھے شاہ کا کردار کرنے والے فنکار سے لیکر مفتی شہر کے چوبدار تک ہر شخص اپنے کردار میں رچا بسا تھا، اور اس نے اپنے فنکار ہونے کا حق ادا کیا، ان سب دوستوں پر قوال کی محنت کی داد نہ دینا بہت زیادتی ہو گی، جس نے سارے ڈرامے کی تسبیح میں ایک ڈوری کا کام کیا۔
سچ پوچھئے تو اس ڈرامے کی ہر ہر چیز خوبصورت تھی، مجھے اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نظر نہیں آیا، سب سے خوش آئیند اور خوبصورت بات یہ تھی کہ پاکستانیوں سے زیادہ ڈینش لوگوں کی تعداد اس ڈرامے کو دیکھنے کے لئے آئی تھی۔ اور جب فنکاروں کو داد دینے کی باری آئی تو ہال اپنی جگہوں پر اٹھ کھڑا ہوا، ایک کے بعد ایک ایک فنکار سٹیج پر جلوہ افروز ہوتا لیکن حاظرین کی تالیوں میں ایک لمحے کا توقف بھی نہیں آیا، لوگ مسلسل تالیاں بجاتے رہے حتی کے بھلے شاہ کا کردار نبھانے والے فنکار بھی سٹیج پر آ گیا۔
آج کی یہ شام اور رات ڈنمارک پاکستان کی تقافت میں تبادلے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، دونوں ممالک کے سفیران محترم نے ایسی تقاریب کو بڑھانے اور مزید فنکاروں کا تبادلہ کرنے پر زور دیا۔ اور عام لوگوں کے چہروں پر ایک طمانیت تھی، محبت کے آفاقی پیغام کو پاکر ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرانے کی قوت ہال میں موجود ہر شخص نے محسوس کی۔
اجوکہ تھیٹر کی ڈنمارک آمد بارش کا پہلا قطرہ تھی، جس پر بلاشبہ دونوں ممالک کے سفارت کار خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ امید کرتا ہوں کہ آنے والے دنوں میں پاکستان سے ایسے ہی خوب رنگ ہوا کے جھونکے ڈنمارک پہنچیں اور یہاں کے لوگوں اس دیس کی خوبصورتیوں سے روشناس کروائیں۔ پاکستان سے باہر بیٹھے پاکستانی اپنی پہچان کے لئے ہمیشہ پاکستانی کی طرف ہی دیکھتے رہیں گے، وہ ممالک جہاں نان شبینہ کمانے کی فکر لوگوں کے سر کی تلوار نہیں وہاں طبیعت کا ادب و ثقافت میں آسودگی تلاش کرنا عام سی بات ہے، اور ایسے لوگوں کے دل میں گھر کرنے کے لئے ادب، آرٹ اور ثقافت کے تبادلہ سے زیادہ موثر ہتھیار کوئی نہیں۔ ویلڈن اجوکا ٹیم، اور ویلڈن سفارت خانہ پاکستان۔ 

بڑے بھائی کے جوتے

بڑے بھائی کے جوتے 
کافی عرصہ ہو گیا ہے کہ بڑے بھائیوں سے جوتے نہیں کھائے، اب تو ان کا ذائقہ رنگ اور خوشبو بھی بھول گئی، بہت سال پہلے گھر کے اندر ابا جی اور گھر کے باہر بڑے بھائی کا جوتا چلتا تھا، میں نے ایسے چھوٹے بھائیوں کو دیکھا ہے جو اپنے بڑوں بھائیوں کے سامنے سیگریٹ تک نہیں پیتے تھے، خیرہم تو بڑے مقدر والے چھوٹے تھے، بڑے بھائیوں اور والد صاحب سے خوب خدمت کروائی، سکول جاتے ہوئے اگر کسی بڑے بھائی نے کپڑے استری کر دئیے تو پہن لئے، ورنہ بنا استری ہی سکول چلے گئے، بڑے بھائیوں سے میری محبت بہت خاموش رہی ہے، اتنی خاموش کہ اب بھی ایک دوسرے کا حال بیماری کے علاوہ پتا نہیں کرتے، آج دکان پر بڑے بھائی کے جوتوں جیسے جوتے دیکھے تو فورا پسند آ گئے، ان میں کچھ ایسی خاص بات نہیں بس یہ کہ ان سے ملتے جلتے جوتے میرے بڑے بھائی کے پاس بھی ہیں۔
ہم ایسے چھوٹوں کو بڑے بھائیوں کے جوتوں کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے، اس لئے ان کی غیر موجودگی میں محبت کی نشانی کے طور پر یہ جوتے لے آیا ہوں۔۔۔۔خداوند کریم مجھے اپنے بھائیوں کی محبت سے یونہی مال مال رکھے،


ڈیجیٹل زندگی

اب یہ ممکن ہی کہاں ہے سب فیس بک کے دوستوں کو ان کی سالگرہ کی مبارکباد دی جائے، قریبا 5000 فیس بک رابطوں کے علاوہ، درجنوں واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کا نقصان یہ ہے کہ بہت سے دوستوں سے رابطہ کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ کئی ایک سوال جن کے جواب گوگل سے لئے جا سکتے ہیں وہ بھی دوست جب ہمیں سے پوچھتے ہیں تو کچھ نہ کچھ کوتاہی ہو ہی جاتی ہے، درجنوں سوالوں کے جواب مجھ پر ادھار ہیں، کیا کریں کہ وقت ہی نہیں ملتا، کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ سوچتا ہوں کہ سوچ کہ جواب دوں گا اور پھر وہ سوال کہیں بھیڑ بھاڑ میں گم ہوجاتا ہے، اس ڈیجیٹل زندگی کی اپنی خرابیاں ہیں، کچھ بھی ایکسکلوسو نہیں رہتا، کچھ عرصے سے کچھ بوجھ کم کرنے کے لئے دوستوں کو سالگرہ کی مبارکباد دینے کا سلسلہ موقوف کیا تھا، لیکن اب میرے دوستوں میں لکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے، جن کے بلاگ، کالم پر اگر تبصرہ کرنے بیٹھے تو دن میں کچھ اور نہ کیا جائے، اس لئے بس عجیب سا سلسلہ چلتا ہے، جو کوئی پوسٹ سامنے آئی اس کو پسند کر لیا، کمنٹ کر دئیے ورنہ چپ چاپ دیکھا اور اپنی راہ لی۔۔۔۔۔۔۔۔اب ایسی ڈیجیٹل زندگی میں دوستوں سے رابطہ کیونکر رکھا جائے، سوائے نان ڈیجیٹل زندگی کے دوستوں کے کہ جن سے سالوں بھی بات نہ ہو رابطہ کم نہیں ہوتا، آجکل سب نئے تعلقات وقت چاہتے ہیں۔۔۔۔اب اتنا وقت کہاں سے لایا جائے، پچھلے کچھ عرصے میں کچھ لوگوں کے معصوم سوالوں کے جواب نہ دینے پر ان کی ناراضگی کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے، ایسے میں کیا جائے؟
کوئی تعویز دو رد بلا کا
محبت میری پیچھے پڑ گئی ہے، ایک کیفیت تو یہ ہے اور دوسری
بندہ کلا رہ جاندہ ہے بوہتے یار بناون نال
اتنے دوستوں کی موجودگی میں تنہائی والی کیفیت ہے کہ مٹتی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
لو جی کرو گل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




خواب گاہ میں ریت اور مبشر سعید

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ میں نے لکھنے کا آغاز شعر کہنے سے کیا، گوکہ میری تحریر اب بھی اتنی معتبر تو نہیں کہ میں اس کو حوالے میں پیش کروں لیکن بتانے کا واحد مقصد یہ تھیسز ڈویلپ کرنا ہے کہ میں شاعر پر گذرنے والی کیفیات خود پر طاری کرتا آیا ہوں، جامعہ زرعیہ فیصل آباد کی سوسائٹی آف ایگریکلچرل رائٹرز اور حلقہ ارباب ذوق فیصل آباد کے توسط  مجھے اس بات کا تعین کرنے میں آسانی رہی کہ مجھے شاعری اپنے بس کی بات نہیں پتہ، میری غزل پر ہی انور مسعود صاحب کا یہ قطعہ صادق آتا ہے کہ
یوں بحر سے خارج ہے کہ خشکی پہ پڑی ہے
شعروں میں وہ سکتہ ہے کہ کچھ ہو نہیں سکتا

لیکن ایک بات کا مجھے یقین ہے کہ میں لاکھ برا شعر کہنے والا سہی مگراچھا شعر مجھے ہمیشہ سے متاثر کرتا آیا ہے، اورخصوصا جب آپ کسی ملتی جلتی مشقت سے گذرے ہوں تب آپ کسی بھی کاریگری کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے جو بہت سے کرم مجھ پر کئے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لکھنے والے بہت سے دوستوں سے روشناس کروایا، ڈاکٹر شوکت علی، محمد اویس ، فخرالدین رازی، انعام اللہ، وقار سانول، نعیم بھائی، احمد رضا، اور فیصل آباد حلقہ ارباب ذوق کے توسط ثنااللہ ظہیر، مقصود وفا، ڈاکٹر ریاض مجید، عماد اظہر عماد، علی زریون سے ملنے کا موقع میسر آیا۔
ان بہت سارے سالوں میں بہت لوگوں سے ملاقات ہوئی، بہت سے دوست زندگی سے جڑ گئے اور اکثر بچھڑ گئے، ان دوستوں میں ایک بہت پیارا سا جونئیر مبشر سعید بھی ہے، ہمارے ایک مشترکہ دوست کے پاس ہمارے ہاسٹل آتے جاتے ان سے ملاقات رہتی لیکن یہ کبھی نہ کھلا کہ موصوف شاعر بھی ہیں، پھر یونیورسٹی ختم ہوئے تو بہت سے آشنا چہروں سے ملاقات کا سلسلہ ختم ہو گیا، بھلا ہو فیس بک کا کہ جس کے طفیل کئی دھندلے چہروں کے خط و خال واضح ہونے لگا، اسی فیس بک کی پوسٹوں کے طفیل مجھے پتہ چلا کہ مبشر سعید تو بہت اچھے شعر کہتے ہیں، ان کی فیس بک پوسٹوں کے بعد ان کی کتاب خواب گاہ میں ریت میرے سرہانے دھری ہے، پچھلے ایک دو ماہ سے اپنے پسندیدہ اشعار پر نشان لگائے آپ سے شئیر کرنے کے انتظار میں ہوں۔

لیجئے ان کی مصوری ملاحظہ ہو


بنچ پر پھیلی خاموشی
پہنچی پیڑ کے کانوں تک
عشق عبادت کرتے لوگ
جاگیں روز اذانوں تک

اور خیالات کو مجسم کچھ اس انداز سے کرتے ہیں

ہاتھ میں ہاتھ لئے پھرتے ہیں
ہم تجھے ساتھ لئے پھرتے ہیں
مرنے والوں کو کہاں دفن کیا
ہم انہیں ساتھ لئے پھرتے ہیں

ان کے ہاں محبت تعلق کے جو معنی اوڑھتی ہے وہ کچھ یوں ہے

دشت ہجراں سے محبت کو نبھاتے ہوئے ہم
خاک ہوتے ہیں میاں، خاک اڑاتے ہوئے ہم
موسم سبز میں بے حال ہوئے جاتے ہیں
اپنی آنکھوں سے تیرے اشک بہاتے ہوئے ہم

ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ

اے مری وحشتوں کے باعث شخص
تو مجھے ہر طرح گوارا ہے

شاعری نئے دور میں داخل ہو کر محبوب کے علاوہ دوستی سے بھی آشنا ہوئی ہے، نئے دور میں نئے تعلقات میں محبت کے رنگ دیکھتے ہوئے مبشر یوں گویا ہوتے ہیں

روز دیتی ہے وہ جینے کی دعائیں مجھ کو
وہ جو ایک دوست ہے، وہ دوست، پرانے والی
اپنی توقیر بڑھانی ہے، بڑھا لے، لیکن
کوئی تہمت تو لگا، مجھ پہ لگانے والی

محبت کی شاعری اور روایتی موضوعات پر موتی پروتے پروتے، وہ خوابوں، پرندوں، اور چمن کے استعاروں کو لئے نئی سمتوں اور لافانی محبتوں کے سفر پر گامزن ہو جاتے ہیں

ہجر کی رت کا طرف دار بھی ہو سکتا ہے
دل، خسارے سے ثمر بار بھی ہوسکتا ہے
دکھ، پرندوں کی طرح شور مچا سکتے ہیں
ہجر، پیڑوں سے نمودار بھی ہو سکتا ہے

شاعری جہاں دکھ کے معنی اوڑھتی ہے تو محسوس میں ہر اس تکلیف کا احساس رکھتی ہے جو انسان سے اقوام تک کسی نہ کسی صورت ان پر گذرتا ہے، کربلا کے دکھ سے ہر آنکھ میں آنسو رہے، اس ایسے موضوع پر اچھوتا خیال تراشنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں، مبشر اس موضوع پر یوں رقمطراز ہیں

خیمہ صبر میں پہنچا نہ بوقت مشکل
پانی تب سے ہوا پھرتا ہے، پانی پانی

مبشر مشکل خیالات کو بڑی آسانی سے شعروں میں ڈھالتے نظر آتے ہیں، جیسے
عشق وہ کار مسلسل ہے کہ جتنا بھی کرو
کوئی نقصان نہیں ہوتا فراوانی کا

ایک دیوار مجھ سے پوچھتی ہے
کون اندر سے ڈھا رہا ہے مجھے؟

تمہیں یہ کس نے کہا کہ مصلحت میں رہو
جہاں پہ جبر ہو، پاگل کلام کرتے ہیں

مبشر سعید میرا دوست ہے اس لئے آپ مجھ سے اس کے لئے محبت کی خوش گمانی رکھ سکتے ہیں، لیکن مبشر کی اس کاوش کوگرامی قدر اساتذہ بھی سراہتے نظر آتے ہیں۔

مبشر سعید نئی نسل کا وہ خوش بیان شاعر ہے، جس کی شاعری میرے دل کے بہت قریب ہے۔ عباس تابش
مبشر سعید کی شاعری روایت اور جدت کے امتزاج کا متوازن نمونہ ہے، وہ شعر نہیں کہتا بلکہ پینٹنگ سی لا کر سامنے رکھ دیتا ہے۔ محمد علوی -انڈیا
مبشر سعید کی غزلیں پڑھ کر یہ مسرت بخش احساس ہوا کہ ایوان غزل پر ایک تازہ کار فکر اور منفرد لب و لہجہ دستک دے رہا ہے۔ ڈاکٹر معین نظامی۔

مبشر سعید کی شاعری میں بے شمار شعر ایسے ہیں جنہیں میں اپنی یادداشت کا حصہ بنانا چاہتا ہوں، جنہیں دہرانا چاہتا ہوں اور دوستوں کو سنانا چاہتا ہوں، مگران کا ایک شعر جو اہل سخن کو تادیر ان کے ہونے کا احساس دلاتا رہے گا کہ
تو نہیں مانتا مٹی کا دھواں ہو جانا
تو ابھی رقص کروں، ہو کے دکھاوں تجھ کو

کلام شاعر بزبان شاعر کا ایک نمونہ بھی ملاحظہ ہو۔



سنہری ایک ہزار دن اور ایک صحت مند پاکستان کا خواب

ہمارے ایک دوست پہلی بار اسکینڈے نیویا آئے تو مجھے روز کہتے کہ یہاں کے بچوں کی صحت دیکھتا ہوں تو رشک آتا ہے۔
یہاں کے پندرہ سال کے بچوں کے قد کاٹھ، اور جسامت پاکستانی بچوں سے کافی بہتر ہے اور ان کے چہروں پر شگفتگی اور تازگی ملاحظہ ہو، نوجوانی کیا ہوتی ہے، جوبن کسے کہتے ہیں انہی نوخیز بچوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے۔
ہم جیسے دیسی لوگوں کے لیے پردیس کی کسی بھی خوشنمائی سے متاثر ہو جانا کوئی نئی بات نہیں ہے، اس لیے میں نے ان کی باتوں کو اتنا سنجیدہ نہیں لیا۔ میرا خیال تھا کہ خیر ایسا بھی نہیں ہے پاکستان میں بھی بچوں کے چہرے گلابی ہیں، اور حالیہ دنوں کی تو بات ہے جب ایک چائے والے کی آنکھوں نے دنیا کو دیوانہ بنا کر رکھ دیا۔

لیکن کچھ دن پہلے الجزیرہ ٹی وی کی ایک دستاویزی فلم کے توسط سے پتہ چلا کہ پاکستان کے 44 فیصد بچے اپنی نشوونما کے حساب سے عام بچوں سے پیچھے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے نمائندگان نے بھی اس حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے نزدیک اس اہم مسئلے پر ہنگامی بنیادوں پر کام ہونا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 44 فیصد کا مطلب ہے کہ بچوں کی تقریباً نصف آبادی نشوونما کے معیار پر پوری ہی نہیں اترتی۔
مزید برآں، آنے والے پندرہ سالوں میں ان چھوٹے قد کے بچوں کی ایک پوری نسل جوان ہو کر ہمارے سامنے ہوگی۔ ویسے تو ہماری آنکھیں صرف کسی بڑے سانحے کے رونما ہونے پر ہی کھلتی ہیں، مگر نہ جانے ایسے مسائل پر کب ہماری آنکھیں کھلیں گی جو آہستہ آہستہ دیمک کی طرح ہماری ایک پوری نسل کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔
ہمارے ملک میں ایسا کوئی ادارہ نہیں جو ان مسائل پر سوچے اور پالیسی سازی کرے۔ اس پست قد نسل کو ذہنی حوالے سے بھی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے اور بیماریوں کے خلاف ان کا مدافعتی نظام کمزور ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی اس نئی نسل کی بہتر نمو اور بڑھوتری کے لیے ہمیں ہی کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ دو سال پہلے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے فوڈ سائنس ڈیپارٹمنٹ کی ایک ورکشاپ میں شرکت کا موقع حاصل ہوا تھا جس میں بچوں کی غذائی ضروریات، عدم توازن اور فوڈ سیکورٹی کے معاملات زیر بحث آئے۔
ورکشاپ میں ڈاکٹرز، فوڈ سانئٹسٹ، چند ہوم اکنامکس کے ستارے، طلبہ اور کچھ مجھ جیسے خواب دیکھنے والے بھی شریک تھے۔ ورکشاپ کے مقرر جناب چندرا پرکاش جوشی تھے۔ وہ نیپال سے تعلق رکھتے ہیں اور غذائی عدم توازن کے خلاف ایسے مہمات کا حصہ ہیں۔
انہوں نے متعلقہ موضوع پر سیر حاصل باتیں کیں اور کچھ ایسی باتوں کی طرف بھی اشارہ کیا جو ہمارے معاشرے میں کم علمی کی بنا پر پھیلا دی گئی ہیں، جیسے ماں بیمار ہے تو وہ بچے کو دودھ نہیں پلا سکتی۔
اس ورکشاپ سے مجھے پتہ چلا کہ لاکھوں بچے غذائی عدم توازن کی بدولت شیر خوارگی میں ہی دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ ان بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کا انحصار حمل شروع ہونے سے لے کر اگلے ایک ہزار دنوں پر ہوتا ہے، جس میں ایک بچہ آغوش مادر میں پروان چڑھنے کا آغاز کرتا ہے، اپنی سانسیں بحال کرتا ہے اور بدن اوڑھ کر اس دنیا میں چلا آتا ہے۔ پھر خوراک کی بنیادی ضرورت کے لیے اپنی ماں کا محتاج رہتا ہے۔
اگر ان ایک ہزار دنوں کو بچے کی زندگی کی بنیاد سمجھ کر مضبوط کر دیا جائے تو اس بنیاد پر تعمیر عمارت بڑے سے بڑا طوفان سہنے کی طاقت رکھے گی۔ بچوں کے عالمی ادارے یونیسیف کی طرف سے نیپال میں اسی طرز کا ایک پروگرام ترتیب دیا گیا تھا جس کا نام گولڈن تھاؤزنڈ ڈیز، یا ایک ہزار سنہری دن رکھا گیا۔
ہمارے ایک سائنس دان دوست نے ہمارے علم میں اضافہ کیا کہ بچوں کی صحت اور افزائش سے متعلقہ مراحل ماں کے پیٹ میں متعین ہو جاتے ہیں۔ اگر بچے کے ان بچوں کی زندگی کے ان ابتدائی دنوں کا بہتر انتظام کر لیا جائے تو ان دنوں کو سنہری ہزار دنوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، ہزاروں بچوں کو ان ہزار دنوں میں موت کے منہ سے کھینچ کر زندگی کی روشنی میں لایا جا سکتا ہے، ان کی ادھ موئی زندگی میں رنگ اور رونق بھری جا سکتی ہے، ان ہزار دنوں میں وہ مضبوط بنیاد فراہم کی جاسکتی ہے جو ان بچوں کو عام بچوں کے برابر کھڑا کر سکے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ غربت ایسے مسائل کی ماں ہے، مگر معلومات کی کمی کئی سفید پوش گھروں میں بھی موت بانٹنے کا سبب ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں عام گھروں میں ماؤں کی صحت کا خیال حمل کے بعد رکھا جاتا ہے، حالانکہ بچے کی غذائی ضروریات کا آغاز تو ماں کے پیٹ سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔
اس ورکشاپ کے آخر میں شرکا نے طے کیا تھا کہ وہ ان ہزار دنوں کو سنہرا کرنے کا عزم رکھتے ہیں اور اس بات کا عزم کیا گیا کہ وہ معلومات کو اتنا عام کریں گے کہ عام لوگوں تک یہ بات پہنچ جائے کہ یہ ہزار سنہرے دن موت اور زندگی کی درمیان تیاری کا مرحلہ ہے،
شرکا ورکشاپ

اس کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ ایک قوم کے لیے ایک محفوظ ترین سرمایہ کاری ہے، اس دن ہم سب نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم اس آگہی مہم کے لیے ایک فیس بک پیج کا بھی آغاز کریں گے جس کا نام Golden 1000 days رکھا جائے گا۔
یہ پیج اب بھی موجود ہے، لیکن یہ صفحہ بھی ہماری بے اعتنائی کا شکار ہو گیا۔ یہ نئی رپورٹ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ آئیے پھر سے اکٹھے ہوں، پھر سے یہ آگہی پھیلائیں تا کہ ہماری آنے والی نسلیں بے رونق نہ ہوں،
کبھی وقت ملے تو ضرور سوچیے کہ وہ پھول جو بن کھلے مرجھا جاتے ہیں اور وہ شاخیں جو شگوفوں سے ناآشنا ہو کر اجڑ جاتی ہیں، ان کا دکھ کیسے بیان کیا جا سکتا ہے؟
وہ مائیں جن کے نومولود دنیا میں آتے ہی موت سے جنگ میں جھونک دیے جائیں، وہ ننھی جانیں جن کی آنکھ بھی نہ کھلی ہو، جن کے قدم ابھی زمین پر بھی نہ پڑے ہوں، جنہوں نے زندگی کی درسگاہ سے نفرت اور لڑائی کا ایک سبق بھی نہ پڑھا ہو، وہ کیونکر اس عفریت کو مات دے سکتے ہیں؟
بچے کی پیدائش سے لے کر اس کی دوسری سالگرہ تک اگر ہم بچے کو آنے والی دنیا کے لیے تیار کر لیں تو ڈھائی لاکھ زندگیاں سالانہ بچائی جاسکتی ہیں، بس ضرورت ہے تو صرف تھوڑی بہت تیاری، توجہ اور انویسٹمنٹ کی۔
نوٹ۔ یہ بلاگ ڈان نیوز میں چھپ چکا ہے۔ 

عربی شہزادے اور پاکستانی سیاست

جب سے یہ پتہ چلا ہے کہ شریف فیملی کی مالی مدد کرنے والی قطر کی شاہی فیملی ہے ، سوشل میڈیا پر بہت ہی دل چسپ تبصرے دیکھنے کو مل رہیں ، ان فقروں کی برجستگی دیکھ کر یہاں شئیر کیا جا رہا ہے۔





شاعر نامعلوم 


شاعر نامعلوم

دھند میں لپٹا ہوا لاہور اور ایک سرسبز شہر کا خواب

ہم جو بوتے ہیں وہی کاٹتے ہیں، ہم نے دھوئیں اور زہر کی کاشت کاری کی اب ہم پر دھواں اور زہر برس رہا ہے، قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال، ماحول کو آلودہ کرنے والے کیمکلز کی بہتتات بھری زندگی، سائیکل سے موٹر سائیکل تک کا سفر ، گاڑیوں کی فراوانی، عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے کارخانے، ہمارا طرز بودو باش لاہور کی دھند کی صورت اس پکی ہوئی فصل کی غمازی کرتا ہے جو ہم نے اپنے ہاتھوں سے بوئی تھی۔
شہر سے بہت باہر مال روڈ کی سٹرک بسانے والوں نے اس پر جو درخت ایستادہ کئے تھے آج بھی شہر کی ہوا کو صاف رکھنے کی قسم نبھاتے نظر آتے ہیں، لیکن یہ مٹھی بھر درخت بھی اب کیا کریں، ہر موٹر ان پر حملہ آور ہے، اب تو ان چند درختوں کی جان بھی خطرے میں ہے وہ بے چارے، انسانوں کی جان بچانے کا اوپائے کیونکر کریں؟
دھوئیں اور دھند کا امتزاج جس نے سموگ کا نام پایا ہے، لاہور کی گلیوں پر چھائی رہی اور اس موسم میں نجانے کب کب حملہ آور رہے گی، اس سے پچھلے سالوں میں اس دھند نے ہماری زندگیوں کو عملی طور پر معطل کیا رکھا، سڑکوں پر کئی حادثات بھی ہوئے لیکن ہماری آنکھ نہ کھلی ، ہم اس کو ایک عام دھند سے تعبیر کر کے خاموش رہے، لیکن ابھی جب لوگوں کی سانس رکنے لگی ہے تو کچھ لوگ پکارے ہیں بھائی یہ دھند نہیں یہ سموگ ہے، دھوئیں اور زہر کی وہ پکی ہوئی وہ فصل جو ہم نے برسوں بڑی محنت سے کاشت کی تھی۔
لاہور پاکستان دنیا کا کوئی پہلا شہر نہیں جس پر سموگ نے حملہ کیا ہوا، دنیا کے سب صنعتی شہروں کو اس طرح کے مسائل کا سامنا رہا ہے، یہ صرف لاہور ہی کی ہی بات نہیں اگر دنیا کے دس بڑے سموگ ایفیکٹد شہروں کے نام لئے جائیں تو اس کی ترتیب کچھ یوں ہے۔
بیجنگ ، چائنا
آہویز ، ایران
الن بٹور منگولیا
لاہور، پاکستان
نئی دہلی ، انڈیا
ریاض، سعودی عرب
قاہرہ ، مصر
ڈھاکہ، بنگلہ دیش
ماسکو، روس
میکسکو سٹی ، میکسیکو
http://www.dw.com/en/top-10-worst-cities-for-smog/g-17469135


سموگ سے بچاو کی تدابیر بتانے سے پہلے اس کے پیدا ہونے کے عوامل کو سمجھنا بہت ضروری ہے، سموگ ہوائی الودگی کی ایک ایسی قسم ہے جس میں مضر صحت کیمکلز اور گییسیں زمین کے قریب مقید ہو جاتی ہیں، ان میں نائٹروجن آکسائیڈ، سلفر آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ، اوزون، دھواں، اور دیگر تابکاری عناصر شامل ہیں۔
مختلف قسم کے ایندھن، کوئلہ کا جلنا، موٹر کاروں کا دھواں، کارخانوں کی باقیات اور اخراج شدہ گیسیس، تابکاری عناصر، اور سورج کی روشنی کا مختلف عناصر سے کیمیائی عمل سموگ پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ زرعی زمینوں پر باقیات کو جلانا، فصلوں پر کیمائی عناصر کا ستعمال بھی اس میں حصہ دار ہے۔

سموگ کے مضر صحت اثرات پر کتابیں رقم کی جا سکتی ہیں، سانس اور جلد کی بے شمار بیماریوں کے علاوہ بچوں کی پیدائش پر ان کا وزن کم ہونا، بچوں کا پیدا ہونے سے پہلے ہی مر جانا، اور دوران پیدایئش مسائل کا شکار ہونا  اس کے مضمرات میں شامل ہے۔

اگر ہم سموگ پیدا کرنے کی تین بڑی وجوہات پر نظر دوڑائیں تو
کوئلہ جلانا
ٹرانسپورٹ امیشنز
روشنی اور ماحول میں موجود کیمکلز کا ملاپ
نظر آتیں ہیں۔
دنیا کے بہت سے ممالک اپنے شہروں کو گرین سٹی بنانے کے لئے کوشش کر رہے ہیں، جس میں شہروں کی اندر کم سے کم کاربن پیدا کرنا، اور ایسے ٹرانسپورٹ کے ذرائع استعمال کرنا ہے جو ماحول دوست ہوں، ڈنمارک، سویڈن میں چلنے والی بہت سی بسوں پر کاربن ڈائی آکسائیڈ نیوٹرل کا نشان واضح نظر آتا ہے، شہروں کے مرکزی علاقوں میں موٹر کاروں کا داخلہ کم سے کم کرنے کے مختلف حربے استعمال کئے جاتے ہیں، لوگوں کو متبادل ذرائع آمدورفت جیسے موٹر سائیکل کی بجائے سائیکل پر آنے کی ترغیب دی جاتی ہے، شہریوں کو گرین لائف سٹائل سے زندگی رہنا سکھائی جاتی ہے، پچھلے کچھ عرصہ میں فرانس کی بہت سی عمارتوں پر سولر پینل یا گرین روفنگ دونوں میں سے ایک کو لازم قرار دیا گیا ہے۔
پچھلے دنوں سویڈن کے شہر مالمو میں ایک کورس کے دوران ایک رہائشی کالونی کو دیکھنے کا اتفاق ہوا، جہاں ماحول دوست لائف سٹائل کے اپارٹمنٹ بنائے گئے تھے، یہاں رہائشی اپنی ضرورت کی آرگینگ سبزیاں خود اپنے اپارٹمنٹ میں اگا سکتے ہیں، گھر کی چھتوں پر سبزیاں اور پودے لگانے کی جگہ بنائی گئی ہے، بجلی اور حرارت کے لئے سورج کی روشنی کی مدد سے سسٹم تیار کیا گیا ہے، گھروں سے باہر پرندوں اور چھوٹے جانوروں کے بسنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔
Green area infront of apartments in Malmo Sweden 

Swedish Bus

ہمارے سیکھنے کے لئے ایسی سب بدیسی کہانیوں میں ایک ہی سبق ہے کہ ہم کچھ دیر کے زندگی کی تیز دوڑ سے ایک وقفہ لیکر یہ سوچیں کہ ہم بحثیت قوم کس سمت جا رہے ہیں، آپ کا وہ کارخانہ جو آپ نے محلے کے دل میں بنا رکھا کیا مناسب بھی ہے کہ نہیں، وہ بڑی گاڑی جس سے ناصرف نخوت جھلکتی ہے بلکہ وہ ماحول کو زیادہ آلودہ کرتی ہے کیا آپ کو واقع اس کی ضرورت ہے؟ کیا آپ کے ایک کینال گھر میں چند مرلے پر آپ کی سبزی اگائی جا سکتی ہے؟ کیا اپنی بجلی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے جنریٹر کی بجائے سولر پینل کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔
ہمیں پاکستانیوں کا لائف سٹائل بدلنا ہو گا، موٹر سائیکل کلچر کا خاتمہ کرنا ہوگا، سائیکل والوں کو سٹرکوں پر جگہ دینا ہو گی، پیدل چلنے والے کو عزت دینا ہو گی، پبلک ٹرانسپورٹ کو پرموٹ کرنا ہوگا، گاڑی رکھنے کو مہنگا بنانا ہو گا ، درختوں کر بڑھانا ہوگا، سبز خطے بنانا ہوں گے، ، جب ہم سبزہ بوئیں گے تو آکسیجن کی فصل تیار ہو گی، جب ہم دھواں بوئیں گے تو دھواں ہی اگے گا ناں۔۔۔۔

ڈاکٹر سٹرینج فلم اور ہمارا تبصرہ

انوکھا ڈاکٹر نامی اس فلم کا ذایقہ ابھی تک آنکھیں محسوس کر سکتی ہیں، وہ لمحے جب کمال فن کی معراج پر پہنچا ہوا سرجن تقریبا مرے ہوئے شخص کے سر سے گولی کھینچ لاتا ہے، وہ لمحہ جب وہ اپنی دراز سے درجن بھر گھڑیوں میں سے انتخاب کرتا ہے کہ آج کونسی گھڑی پہنے گا، اور وہ لمحہ جب حادثے کا شکار ہو کر اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کے ہاتھوںکے پٹھے اب کام نہیں کرتے ، وہ لمحہ جب کھٹمنڈو کے ایک بوسیدہ گھر میں اس پر حیرتوں کے نئے جہان کھلتے ہیں، وہ لمحہ جب اسے اپنے عمل پر یقین رکھتے ہوئے ماونٹ ایورسٹ سے گھر تک پہنچنا تھا،

وہ لمحہ جب جب نئے سیکھے
ہوئے عمل سے ڈاکٹر سٹرینج لائیبریری سے کتابیں چراتا ہے، اور وہ منظر جس میں گمشدہ اوراق کو واپس لانے کا عمل دہراتا ہے۔۔۔فلم بے شمار خوبصورت لمحوں سے بھری ہوئی ہے، اس کو فلمانے کا انداز، پیشکش بے حد دلدریب ہے۔ ہو سکتا ہے اس میں کچھ کمال آئی میکس سینما اور تھری ڈی کا بھی ہو ، کیونکہ آئی میکس سینما اب تک بہترین سینما گردانا جاتا ہے، اور ان کا یہ دعوی کہ فلم مت دیکھئے بلکہ فلم کا حصہ بن جائیے بالکل حقیقت کی قریب ہے۔ آپ خود  کو بھی ان غلام گردشوں کے پیچھے کھڑا محسوس کرتے ہیں جہاں سے آفاقی علم کے سر چشمے پھوٹتے ہیں۔

فلم کا پلاٹ۔
ڈاکٹر سٹیفن سٹرینج امریکہ کا مشہور نیورو سرجن ہے، جو مشکل کیسیز کا با آسانی حل کر سکتا ہے۔ ایک حادثے کا شکار ہو کر اپنے ہاتھوں کے  پٹھوں کو ہلانے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ کیونکہ وہ ایک ماہر سرجن ہے اس لئے اس کی سب سے قیمتی دولت بھی اس کے ہاتھ ہیں وہ کسی بھی قیمت پر ان کو واپس لانا چاہتا ہے۔ کئی ایک آپریشنز کے بعد ڈاکٹر مایوسی کا شکار ہے ، اس کا فزیو تھراپسٹ اس کو تسلی دیتا ہے اور ایک شخص کا تذکرہ کرتا ہے جو اس سے ملتے جلتے کسی معاملے میں بالکل ٹھیک ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر سٹرینج اس کو ڈھونڈ نکالتا ہے۔ وہ اس وقت باسکٹ بال کھیل رہا ہوتا ہے حالانکہ یہ وہی شخص تھا جو بقول ڈاکٹر سٹرینج کبھی ٹھیک نہ ہو پائے گا۔ وہ شخص ڈاکٹر کو نیپال میں موجود جگہ کمار تاج نامی معبد گاہ کا پتہ بتاتا ہے۔ ڈاکٹر نیپال کا سفر کرتا ہے ہے تو اس پر ایک نئی دنیا کے دروازے کھلتے ہیں۔ ایک ایسی دنیا جس میں نیکی اور بدی کی طاقیتں آپس میں سینگ پھنسائے ہوئے ہیں۔ کمار تاج کے کچھ راز چرائے جا چکے ہیں، اور نیکی کا طاقتیں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔
ڈاکٹر اس نئی دنیا کے علوم سیکھنے کا آغاز کرتا ہے اور بالاخر ان علوم پر  عبور حاصل کر لیتا ہے۔ بدی کی طاقتیں بہت طاقتور ہیں لیکن ڈاکٹر سٹرینج ان کو اپنے علم اور حکمت عملی سے سمجھوتے پر مجبور کر دیتا ہے۔

فلم کی کاسٹ پروڈکش وغیرہ
فلم کا مرکزی کردار بینی ڈکٹ نے ادا کیا ہے، باقی  معلومات اس صفحہ پر دستیاب ہیں۔

ہمارا تبصرہ

فلم کو جانچنے کا ہمارا ایک ہی معیار ہے کہ فلم آپ کو کچھ وقت کے لئے روزمرہ سے باہر لے جائے، ہمارے اس معیار پر فلم پوری اترتی ہے۔ فلم کی کہانی اور طرز پیشکش میں وہ دلفریبی ہے کہ ناظر کو ہلنے کا موقع نہیں دیتی، اگر اس فلم کو تھری ڈی اور آئی میکس کا تڑکا لگ جائے تو کیا کہنے۔ وقت ملے تو دیکھئے گا ۔ 

میں اور میری ماں جی ۔۔۔۔

میں اس عظیم عورت کے پہلو میں بیٹھا ہوں جس نے مجھے جنم دیا ہے، مجھے سمجھاتے سمجھاتے وہ کافی دیر پہلے سو گئی تھی، ابھی تھوڑی دیر میں پھر اٹھے گی اور کہے گی، سوتا کیوں نہیں، اس کمپیوٹر میں تیرا کیا دھرا ہے، میں اندر ہی اندر اس کے بارے بڑا پریشان ہوں، ماں اب پگھلی ہوئی موم بتی کی طرح اپنی خوبصورتی کھونے لگی ہے، وہ عورت جو پانچ بچوں کی ناز برداریوں میں لمحہ بھر نہ تھکتی تھی اب دس منٹ ایک جگہ بیٹھنے سے تھکنے لگی ہے۔ وہ کیا آرام ہو سکتا ہے جو میری ذات سے اسے ملے گا، میں جو پچھلے چھ سات سالوں سے پردیس میں بھٹکتا پھرتا ہوں، میں تو کسی روز بھی اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک نہ ہوا، وہ مجھے بارہا کہتی ہے پترا کھانی تے روٹی ای آ، تونے کس لئے پردیس کو اپنا مقدر بنا لیا۔


سچ پوچھیئے مجھے خود بھی اس بات کی سمجھ نہیں، ایسا نہیں کہ میں پردیس میں روپے پیسے میں کھیلتا ہوں، بس اتنا ہے کہ میری ذاتی زندگی آسانی میں ہے ، اپنی زندگی کے آرام کا نام ہی خود غرضی ہے۔ اس خود غرضی کی زندگی میں محبت کے وہ لمحے کم ہی آتے ہیں جب میں اپنی ماں کا چھوٹا سا بیٹا بن کر سوچوں۔ وہ پگھلتی ہوئی موم بتی ہماری زندگیوں میں روشنیاں بھر کر کمزور اور کمزور ہوئی جاتی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ اب مجھ سے تو نظر بھر کر دیکھی بھی نہیں جاتی، میں اس کے پچکے گالوں پر ایک بوسہ ثبت کروں تو کتنے آنسووں میری آنکھیں بھگونے آ جاتے ہیں۔
میں کچھ اور سوچنے لگتا ہوں، شوگر میں گھری ہوئی ماں کو سب میٹھے پسند ہیں، وہ انسولین اور گولیاں ملا کر لیتی ہے مگر پھر بھی اس کی شوگر قابو سے باہر ہے۔ پہلے پہل میں نے اسے میٹھی چائے پینے سے روکا تو اسے اچھا نہیں لگا، پھر میں بھی نظریں چرانے لگا۔ شاید وہ ایسے ہی خوش ہے۔ لیکن اندر ہی اندر مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ میری ذمہ داری ہے کہ اس کو سمجھاوں۔
لیکن وہ اب میری کوئی بات نہیں سمجھتی، اس کا خیال ہے کہ میں اب وہابی ہو گیا ہوں، جو اب پیروں فقیروں کو برا کہتا ہے، جسے اپنی دو جماعتوں کا زعم ہے، وہ مجھے کسی اللہ والے کا مرید کر دینا چاہتی ہے اور میں ہوں کہ کسی سرکش جانور کی طرح کسی کھونٹے سے بندھنے کو تیار نہیں۔ ہم ہر ملاقات پر ایک دو لمبی بحثیں کرتے ہیں وہ مجھے پیار سے ، غصے سے اور ناراضگی سے ہر طرح سمجھاتی ہے کہ میں اس کی بات مان جاوں، کسی اللہ والے سے لو لگاوں، لیکن مجھے کوئی اللہ والا ملتا ہی نہیں۔ میں لوگوں کو دنیا کی میلی آنکھ سے دیکھتا ہوں، مجھے ہر طرف طمع زدہ، بھوکی نظروں کی سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا اور میر ی سادہ لوح ماں کو ہر بھکاری میں کسی قلندر کا پرتو نظر آتا ہے۔
ماں جس بات پر اکثر ناراض ہوتی ہے وہ یہ کہ میں اسے فون نہیں کرتا، اور میں جب بھی فون کرتا ہوں تو اکثر وہ فون نہیں اٹھاتی، اپنے فون کو کہیں نہ کہیں رکھ کے بھول جاتی ہے، پھر جب کبھی اسے مل جاتا ہے اور بات ہو جاتی ہے تو یہی بات دہراتی ہے کہ تم فون نہیں کرتے، ہاں شاید مجھ سے باتیں سننا چاہتی ہے، جو میں کرتا ہی نہیں، میرے بڑے بھائی ان سے خوب باتیں کرتے ہیں، مجھے سمجھ نہیں کہ اس سے کیا پوچھوں، ایک فون پر دو چار دفعہ مختلف انداز میں اس کی خیریت دریافت کر کے الوداع کہہ دیتا ہوں، کبھی کبھی تو میری اوٹ پٹانگ باتوں سے بور ہو کہ کہتی ہے، چنگا فیر میں نماز پڑھ لواں۔۔۔

میری فوج، میرا فخر

میرا بچپن فوج اور فوجیوں سے عشق میں گزرا ہے، میں وہی بچہ ہوں جسے تصاویر میں آپ نے سڑک کنارے فوجیوں کی گزرتی گاڑیوں کو سیلوٹ کرتے ہوئے دیکھا ہوگا، یہ عشق اس لئے بھی ہے کہ میرے والد صاحب آنریری نائب صوبیدار ریٹائرڈ ہوئے، شاید اس فطری محبت کی وجہ سے بھی فوج میرے دل کے بہت قریب رہی ہے، میں وطن کی ناموس کے لئے مرنے والے ہر سپاہی کو اپنا بھائی سمجھتا ہوں۔ اپنے جسموں سے بم باندھ کر ٹینکوں کی باڑوں کے آگے لیٹ جانے والے ہر محب وطن کو اپنا محسن گردانتا ہوں۔ آپ وطن کی محبت کا کوئی ترانہ سنا کر مجھے کبھی بھی آنکھیں نم کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔

جوان ہونے کا مفہوم میرے باپ کے نزدیک فقظ فوج کا سپاہی ہونا تھا، وہ بڑے فخر کے ساتھ ان جوانوں کا تذکرہ کرتے جنہوں نے کسی بھی جنگ کو بڑے پاس سے دیکھا تھا۔ ایک خاص قسم کی مضبوطی اور ڈسپلن ان کے اندر تھا، قہقہہ لگانے والی بات پر بھی بس مسکراتے تھے، مشکل میں بس خاموشی اختیار کرتے تھے اور سوچتے رہتے تھے۔ کبھی کسی کے سامنے دست سوال دراز نہ کرتے تھے، اور چپ چاپ سارا دن کسی نہ کسی کام میں لگے رہتے۔ ہمارے ہاں لوہے کے فوجی طرز کے بیڈ ہوا کرتے تھے، جن میں ایک سفید چوڑی پٹی استعمال ہوتی تھی، اور کچھ نہیں تو ان ہی پٹیوں کو کسنے لگ جاتے۔ گھر میں کوئی کام نہ رہتا تو کھانا پکانے میں مشغول ہوجاتے۔ میں نے ان کو خود کلامی کے انداز میں کبھی کبھار گنگناتے بھی سنا ہے۔ فوج کا تذکرہ ان کی زندگی تھا۔ وہ فوجی تربیت کی ایسی تصویر کشی کرتے کہ مجھے لگتا کہ میں پریڈ گراؤنڈ کی چپ راست کا حصہ رہا ہوں۔ ملٹری پولیس کی ڈیوٹیاں، جنگی مشقوں کی کارستانیاں، جونئیر افسروں کے میس کے قصے، سینئر فوجی افسروں کے قصے وہ سب کچھ کسی کمنٹری کی طرح بیان کرتے اور خود کو ہمیشہ تازہ دم اور جوان رکھا کرتے۔
میں خود کو بھی عام زندگی میں اپنے والد کی فوج کا ایک بانکا سپاہی ہی سمجھتا آیا ہوں، جو جانثار تو تھا لیکن کہیں کہیں فرمانبرداری سے چوک جاتا تھا، وہ میری کج ادائیوں پر گہری نظر رکھتے اور بڑی سنجیدگی سے سمجھاتے۔ ایسا سمجھاتے کہ متانت کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیتے، میں کبھی پرانی غلطی کو نہ دہرانے کا عزم کرتا۔ والد صاحب کو ہم سے جدا ہوئے 8 سال بیت گئے، مگر ایک جوان اور سپاہی کی سوچ آج بھی مجھ پر طاری رہتی ہے، ایک ایسا شخص جو مسلسل کام کرنے پر یقین رکھتا ہو، حکم کا معنی اور اطاعت کی تفہیم سے آشنا ہو، اور سب سے بڑھ کر وطن کے لئے جان نثار کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔
لیکن آجکل مجھے شدت سے احساس ہوتا ہے کہ پاکستانی میڈیا کی بساط پر جو چالیں چلی جارہی ہیں، ان میں پاکستانی افواج کے خلاف بڑی ہوشیاری سے گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے، ہر واقعہ کے بعد میڈیا پر فوج کے کردار کو مشکوک بنانے کی مذموم سازش محسوس کرنے کے افلاطون ہونے کی بھی ضرورت نہیں۔ وہ آزادی جس کی قیمت میرے ملک کے سپاہیوں کی خون سے ادا کی گئی ہے۔ اسی چھت کے نیچے بیٹھ کر کچھ لوگ ہر بُری بات کا چرچا کرنے میں یوں مصروف ہیں کہ چند لوگوں کی غلطیوں کی کالک سے پورے ادارے کے ماتھے پر کلنک لگانے پر تلے ہوئے ہیں۔
پچھلے چھ سات ماہ سوشل میڈیا پر کچھ دوستوں کا محبوب مشغلہ افواج پاکستان پر سنگ دشنام اور تیر الزام برسانا ٹھہرا۔ مجھے خبر نہیں ڈیفینس سوسائٹیوں میں لگی لفٹوں میں تفریق پر واویلا مچانے والے اپنے دفتر کا ٹائلٹ بھی کسی کو استعمال کرنے دیتے ہیں یا نہیں، جہاں مسجدوں میں امام صاحب نے اپنے غسل خانے کو اپنا تالا لگا رکھا ہو، وہاں مساوات نہ ہونے کی شکایت عام آدمی سے کیونکر؟
کیپٹن بلال کی نئی گاڑی کی مبارکباد کا ڈرامہ بھی سنا ہے ڈراپ سین ہوگیا، موٹر وے پولیس سے ہوئی مڈبھیڑ پر جو لوگوں نے واویلا مچایا کاش ایسا ہر توجہ طلب معاملے پر ہماری قوم کا وطیرہ ٹھہرے، ہر روز پاکستان میں اتنے مسائل جنم لیتے ہیں کہ الامان،ملتان میں ٹرینیں ٹکرائیں، بچوں کے پارک میں جھولا گرا، نندی پور کا ریکارڈ جلا، لاہور میں امراء کے ہاتھوں غریب کا بچہ مرا، اسی خبر میں نام اور علاقہ بدل لیجئے اور دو درجن فقرے ان بے گناہ مقتولوں کے نام داغے جا سکتے ہیں، ان بر مزار ما غریباں نے چراغ نے گلے، کوئی ان کو رونے والا نہیں کامران فیصل کے بوڑھے باپ سے جو بیتی وہ بھی تو کسی فورس کا نمائندہ ہی تھا ناں؟
لیکن پاک فوج کی ہر بات پر خبر بنانے والے نجانے کس ایجنڈا پرکام کر رہے ہیں، ان کا شور اور واویلا اس سارے ہجوم میں سب سے سوا ہے، میں ہرگز بھی کسی برائی کی حمایت نہیں کرتا۔ دو اغلاط سے ایک درست بنانے کی تاویل بھی مناسب نہیں، جو پاک فوج میں خراب ہے اس کی بلاشبہ نشاندہی ہونی چائیے، اور ان لوگوں کو عام لوگوں سے بڑھ کر سزا ملنی چائیے جنہوں نے ناصرف نافرمانی کی بلکہ اعتماد کے مقدس رشتے کا خون بھی کیا۔ لیکن ایک ایسی فضا پیدا کردینا، جس میں ہر شخص کی بندوق کا رخ صرف اک ہی سمت ہو تو ایسی جانبداری کسی صورت بھی گوارہ نہیں۔ شاید ایسے لوگ مجھ ایسے خاموش محبت کرنے والوں کو بھولے بیٹھے ہیں، جن کی نظر چند کرپٹ فوجیوں پر نہیں بلکہ ہر اس جوان پر ہیں، جس کی مشقت اور عزم کی دنیا گواہ ہے، جس نے مشکل کی کسی بھی گھڑی میں پیچھے ہٹنا نہیں سیکھا، بلکہ وطن کی حفاظت کو ہی اپنا نصب العین جانا ہے۔
ہم خود ٹاٹ کے اسکولوں میں پڑھے ہیں اور ہمیں وہ کھاٹ کبھی میسر نہیں آئی جن کے نوحے سوشل میڈیا کی زینت بنے ہیں، نہ ہی ہماری ڈبل روٹیوں کو جیم کی عادت رہی ہے، میرے والد صاحب تو سن ترانوے میں ریٹائرڈ ہوگئے تھے ہوسکتا ہے اب آرمی والوں کے بچوں کے حالات سدھر گئے ہوں، جس کیوجہ سے بہت لوگوں کو احساس محرومی ہو رہا ہو۔
پاکستانی فوج  پر تنقید کرنے والوں کو خبر ہونی چاہیئے کہ وہ جو ساڑھے چھ، سات لوگ سروس میں ہیں ان کے علاوہ بھی لگ بھگ پانچ لاکھ بس ایک چٹھی کے منتظر رہتے ہیں کہ کب بلاوا آئے اور وہ ہتھیار سجا کر میدان میں نکلیں۔ ان گیارہ لاکھ لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہوسکتے ہیں جن کی ذاتی زندگی ان کے پیشے پر حاوی ہوگئی ہو، لیکن مجھے یقین ہے کہ پاک فوج ہی پاکستان کی سالمیت کی علامت ہے، اس کے خلاف بولنے والوں کو زبان کھولنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچنا چاہیے کہ،
شہر کو فکر تباہی کی ہوا کرتی ہے
جنگ تو صرف سپاہی کی ہوا کرتی ہے
نوٹ۔ یہ تحریر ایکپریس بلاگ میں چھپ چکی ہے۔ http://www.express.pk/story/608396/