استفسار سیاسی کیلئے ربط کے لحاظ سے چھانٹی کردہ اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ تاریخ کے لحاظ سے چھانٹی کریں سبھی اشاعتیں دکھائیں
استفسار سیاسی کیلئے ربط کے لحاظ سے چھانٹی کردہ اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ تاریخ کے لحاظ سے چھانٹی کریں سبھی اشاعتیں دکھائیں

پاکستانی سیاسی جماعتوں کا کوپن ہیگن میں مستقبل


﷽
پاکستانی سیاسی جماعتوں کا کوپن ہیگن میں مستقبل

پاکستان کی تقریباً ساری بڑی جماعتو ں کے نام لیوا  آپ کو کوپن ہیگن میں بھی  ملیں گے ۔شہر کے جتنے بھی چنیدہ لوگ ہیں وہ کسی نہ کسی پارٹی کے عہدیدار ہیں اور کچھ لوگوں کی تو اپنی سیاسی پارٹیاں ہیں۔  جو لوگ کوئی پارٹی نہیں بنا پائے انہوں نے کسی چھوٹی سی انجمن یا گروپ کی بنیاد رکھ دی۔ کچھ دوستوں کا ذوقِ سیاست مسجد کے منبر تک جا پہنچا ہے ۔ اور وہ مسجد کی پر امن کمیٹیوں میں بھی مضطرب بازاری سیاست کے مزے لینے سے باز نہیں آتے۔ غرضیکہ جن لوگوں کو بھی دوست رکھنے کا دعوٰی ہے وہ کسی نہ کسی پارٹی کے عہدیدار ہو ں گے۔
پچھلے دنوں سننے میں آیا کہ مسلم لیگ ق لیگ کے نام لیواوں میں دو مختلف دھڑے بن گئے اور انہوں نے اپنا اپنا صدر علیحدہ علیحدہ منتخب کر لیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی چوہدری شجاعت کی منظوری لے آیا اور کسی کے پاس پرویز الہی کا پرمٹ ہے۔ ۔۔کسی کو کچھ نہ ملا تو  مشرف صاحب کے چاہنے والوں میں شامل ہو گیا-
کوپن ہیگن کے دوستوں کی ان سیاسی سرگرمیوں کا کوئی اور فائدہ ہو نہ ہو لیکن تعارف کروانے میں سہولت رہتی ہے- مثلاً دیکھئے  کتنا بھلا لگتا ہے جب کوئی آپ کے نام کے ساتھ کہے یہ ڈنمارک میں مسلم لیگ کے صدر ہیں یا نائب صدر ہیں یا  پیپلز پارٹی  ڈنمارک کے صدر صاحب ہم میں موجود ہیں  یا پھر آل پارٹی مسلم لیگ ڈنمارک کے روح رواں حاجی فلاں فلاں ہمارے سامنے تشریف فرما ہیں۔ واقتا ً
 یہ تصور بہت بھلا ہے –
گذشتہ دنوں ایک صاحب سے ہم پوچھ بیٹھے کے کام کیا کرتے ہیں کہنے لگ اپنی ایک "فرم" ہے۔ پوچھا کے فرم میں کوئی کام بھی ہے کہ نہیں تو کہنے لگے آجکل معیشت کے برے حالات ہیں وغیرہ  وغیرہ۔۔۔ ۔۔ایسے ہی ایک بڑی سیاسی پارٹی کے بڑے عہدیدار  سے جب میں نے پوچھا کے سچ بتائے کہ پاکستان میں اس پارٹی عہدیداروں کو پتا بھی ہے کہ نہیں کہ آپ ڈنمارک میں ان کے فرنچائز ڈیلر ہیں تو وہ صاحب  جاننے والا ہے۔ تو مسکرائے اور بولے یار میراایک ایم -پی-اے جاننے والا ہے۔ اس کے علاوہ تو ابھی کسی سے آشنائی نہیں ہے۔بہت سے گھاگ عہدیداروں  نے برس ہا برس خدمت کے بعد کچھ پاکستانی سیاسی مہروں اور عہدیداروں سے کچھ علیک سلیک کی ہے۔ اور اکژ ان کی دوستی پاکستان امریکہ جیسی ہی ہوتی ہے – فرمائشوں کے لمبی فہرست اور خدانخواستہ کوئی کام پڑ کائے تو ان کو دورہ پڑ جاتا ہے ۔
کوپن ہیگن کی ساری سیاسی جماعتیں مل کر ابھی تک کمپیوٹرائزڈ پاسپورٹ تک یہاں کے باسیوں کی رسائی ممکن نہیں کر سکیں ۔ مسائل  کی ایک طویل فہرست ہے جو ابھی حل طلب ہے ان کا ذکر کبھی اور کے لیے اٹھا  رکھتے ہیں ۔
جو بات میں کہنا چاہتا ہوں وہ صرف اتنی سی ہے کہ ڈیڑھ ڈہڑھ اینٹ کی مسجدوں  میں بٹ کر کسی کا کچھ نہیں بننے والا۔ یہ لیگیں اور پارٹیاں نام اور تذکروں کی حد تک تو بھی ہیں لیکن اس بے لذت سیاست کے نام پر نئی دیواریں کھڑی کر لینا کوئی دانش مندی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کوپن ہیگن کی کوئی گلی ایسی نہیں جہاں سیورج لگوایا جانا ہے یا پھر بجلی کے کھمبوں کی حاجت ہے۔ میں پارٹیوں اور فرقوں میں بٹے پاکستانیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ ہم غریب الدیار دوستوں کو پوری ذمہ داری اور ایمان داری سے ایک قوم کی طرح اس معاشرے کا اہم جز بنتے ہوئے اپنے وطن کے لیے صحت مند کردار ادا کرنا  ہے۔ اگر ہم یہاں چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹتے چلے گئے تو ہم اسی بھیڑ چال کا حصہ ہوں گے جو سالوں سے دیس کی گلیوں میں جا  رہی ہے-
خدارا  ! اس سرمایہ کی طرف دیکھئے جو آپ نے مہذب قوموں سے سیکھا ہے۔ ایمانداری ،  حب الوطنی، اصول پرستی سے گندھا ہوا پورا ڈنمارک ہماری آنکھوں سے اندھی عینکیں  اتارنے کے لیے کافی ہے مگر  سیکھنے اور آگے بڑھنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ ہم  اپنے گرد چھوٹی چھوٹی دیواروں کو گرا کر صرف اور صرف  پاکستانی بن کر سوچیں-

مسلم لیگ سے تحریک انصاف کا سفر

دن سال اور مہینہ یاد نہیں۔۔۔لیکن اندازہ ہے کہ میں کوئی چھٹی ساتویں جماعت کا طالب علم ہوں گا۔۔۔۔ہمارے حلقہ انتخاب سے بیگم شہناز جاوید پیپلز پارٹی کی امیدوار تھیں۔۔۔الیکشن کے دن تھے اور وہ گھر گھر ووٹ مانگنے کے لئے ہمارے گھر بھی آئیں۔۔۔۔میں نے نجانے کہاں سے مسلم لیگ کا ایک جھنڈا نکالا اور لہرانا شروع کردیا۔۔۔۔ماں جی نے روکا بھی لیکن دل بنا سوچے سمجھے مسلم لیگی تھا۔۔۔۔۔ایک غیر شعوری تقسیم کو جو دائیں، اور بائیں کو سمجھے بغیر ہماری دیہاتی روایت کا حصہ تھی اس نے نجانے کہاں سے مجھ میں ایک مسلم لیگی روح پھونک دی تھی۔۔۔۔سیاسی شعور اس وقت کہاں ہو سکتا تھا۔۔۔بس ایک ضد ، انا، اور اپنے خیالات کو ٹھیک سمجھنے کا بچپنا تھا۔۔۔۔مجھے مسلم لیگ یا پیپلز پارٹی کے منشور سے بھی کوئی غرض نہ تھی ۔۔۔۔بس یہ تھا کہ مسلم لیگ ہی پاکستان بچانے والی یا بنانے والی تنظیم ہے۔۔۔کیونکہ سارے بڑے لیڈر جنہوں نے پاکستان بنایا کسی نہ کسی طرح اسی پارٹی کے رکن تھے۔۔۔کہاں قائد اعظم ، علامہ اقبال کی پارٹی اور کہاں ذوالفقار بھٹو کی پارٹی۔۔۔۔۔۔
سال پر سال گذرتے رہے۔۔۔اور میں دل ہی دل میں مسلم لیگ کو سپورٹ کرتا رہا اور ان کو پیپلز پارٹی سے بہتر ہی سمجھتا رہا۔۔۔۔پھر کچھ نصاب سے باہر پڑھنے کا شوق ہواتو آہستہ ان بنیادوں کا اندازہ ہوا جن پر ایک پارٹی کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔۔۔کیسے لوگ اکھٹے ہوکر ایک فیصلہ کرتے ہیں اور اس پر ہم خیال لوگوں کو اکٹھا کیا جاتا ہے۔۔۔۔بھٹو کی تقاریر اور اس کے متعلق گفتگو جو ہمارے پڑھے لکھے دوست کیا کرتے تھے اس سے اندازہ ہوا کہ وہ بھی پاکستان کے خلاف تو ہرگز بھی نہ تھا ۔۔۔تو پھر یہ مخالفت کیسی؟؟؟؟
لیکن پھر بھی دل کبھی بھی کسی سیاسی جماعت کی مکمل حمایت سے گریز ہی کرتا رہا، نہ کبھی کسی سیاسی جماعت کے اجتماع میں شریک ہوئے نہ کسی سیاسی شخصیت سے ملنے کی ضرورت جانی۔۔۔وہ اپنے تیئیں اپنے آپ کو جو بھی سمجھتے ہوں لیکن میں نے کبھی بھی ان کی موجودگی کو محسوس نہ کیا۔۔۔۔
لیکن آج عمر کی جس منزل پر ہوں، دنیا کے دس بارہ ملک دیکھ چکا ہوں اور تین سالوں سے ڈنمارک میں مقیم ہوں تو سوچتا ہوں کہ وہ میرا غیر سیاسی رویہ اور بچپنا ٹھیک نہ تھا۔۔۔اسی کی وجہ سے نااہل حکمران ہمارے ایوانوں پر قابض ہو جاتے ہیں، اسی کیوجہ سے موروثی سیاست کو طول ملتا ہے کیونکہ سیاست نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے اور ہم جیسے لوگوں کی بے نیازی بھی نسل در نسل آگے چلتی جاتی ہے۔۔۔اب جب میں نے طے کیا تو میرے سامنے موجود جو جماعتیں سیاست کے افق پر اپنا وجود رکھتی ہیں، ان میں ، ایم کیو ایم، اے این پی، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ اور اس کی بچہ پارٹیاں، ۔۔۔ان سب پارٹیوں میں تحریک انصاف کو عمران خان کی جماعت ہی سمجھا جاتا رہا۔۔۔جو پچھلے سولہ سالوں میں موجود تو تھی لیکن اپنے وجود کا احساس نہ رکھتی تھی۔۔۔لیکن داد دینی چاہیے عمران خان کو جو اتنے سال ڈٹا رہا اور بالآخر تحریک انصاف کے ذکر کے بغیر پاکستان کی سیاست کا ذکر ادھورا ہے۔۔۔۔۔۔اب کتنے جلسوں کو ووٹ میں بدلا جا سکتا ہے، کس کو کتنی ٹکر ملے گی اس سے ہٹ کر تحریک انصاف نے اپنے جماعتی الیکشن کے ذریعے عوام کو جس طرح سے اپنے ساتھ جوڑا ہے تو اس ایک قدم نے پارٹی کی بنیاد کو اتنا مضبوط کر دیا ہے کہ آنے والے کئی
موسموں کی بارشوں سے اب پارٹی کا کچھ نہیں بگڑنے والا۔۔۔۔۔۔
میں اپنے دل کو قائل کرچکا ہوں کہ مسلم لیگ کو پاکستان بنانے والی جماعت سمجھ کر دوسری سیاسی جماعتوں کی مخالفت کا بچپنا اپنی طبعی عمر پوری کرچکا ہے۔۔۔۔اور آج پاکستان میں کام کرنے والی تقریبا ساری جماعتیں اپنے اپنے انداز میں بہتر پاکستان بنانے میں کوشاں ہیں، ان سبھی جماعتوں کی کتابی کاوشوں، اخباری کہانیوں اور زمینی حقائق کو منطق کی کسوٹی پر رکھ کر دیکھتا ہوں تو مجھے ان سب میں تحریک انصاف بالا نظر آتی ہے، کیونکہ میں ابھی رسک لینے کے خوف میں جیت کا پہلو دیکھ سکتا ہوں، ابھی میری عمر اور تجربہ میری خوش گمانیوں کا قاتل نہیں ہے اس لئے مجھے تحریک سے ایک امید وابستہ ہے۔۔۔ایک امید کہ تحریک انصاف پاکستان کو بدل پائے گی۔۔۔۔وہ کام کو اس سے
پہلے پاکستانی جماعتیں نہ کر پائیں۔۔۔تحریک کر پائے گی۔۔۔

تحریکِ انصاف ، غیر سیاسی لوگوں کے سیاسی بیان

تحریکِ انصاف ، غیر سیاسی لوگوں کے سیاسی بیان
سیاسی سوالوں کے اکثر جواب ہاں یا نہیں پر ختم نہیں ہوتے، لیکن اس میدان میں نووارد دوست اکثر انقلاب کا دن اور تاریخ بتانے لگتے ہیں، میرے خیال میں تحریک کے حامیوں کو خوش گمانی کا مظاہرہ ضرور کرنا چاہیے لیکن وعدوں سے حتی المقدور پرہیز بھی کرنا چاہیے، ہمت، حوصلے اور سچی لگن کے سامنے مسائل کے گلئشیر پگھلتے چلے جاتے ہیں لیکن آغاز سفر میں حقیقت پسندی کا دامن ہاتھ سے نیں جانا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس ویڈیو میں بجلی، گیس اور امن کے سوال کا جواب مدلل ہو سکتا تھا، کے ہماری حکومت سب سے پہلے ان مسائل کی طرف توجہ دے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی رائے کا اظہار کیجئے۔۔۔

اسی موضوع پر پرانے کھلاڑیوں کی قلاباریاں ملاحظہ ہوں
راز حیات پوچھ لے خضرِ خجستہ گام سے
زندہ ھے ہر اک چیز اک کوششِ نا تمام سے۔


ایک سیاہ سی کہانی

جہموریت اور سیاست کے عوامی انتقام کے بعد جمہوریت اور سیاست کی سب سے بڑی خوبصورتی یہی ہے کہ ہر شخص بلا تفریق رنگ ونسل، مذہب و ملت، بلا تفریق ادارہ و درسگاہ اس پر سیر حاصل تبصرہ کر سکتا ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے جب سے ہمارے ہاں سیاسی ٹاک شوز نے میڈیا کی انڈسٹری میں پرائم ٹائم کی حیثیت حاصل کی ہے، جگہ جگہ خودرو قسم کے بے شمار تجزیہ نگار اگ آئے ہیں۔
اگر آپ کی آنکھیں شعلہ بار اور گفتگو دھوان دار ہے تو کسی میں مجال کہاں کے اس شمشیر بے نیام کے سامنے ٹھہر سکے۔۔۔آپ کی خاندانی شراقت و نجابت اپنی جگہ مگر جب آپ اس سیاہ سی حجام میں دستار اتار بیٹھے تو آپ کے کپڑے اترنے میں کچھ ہی دیر باقی ہے۔ آپ غور کیجئے کہ جتنا کوئی دھڑلے دار ہے، اور اپنی گفتگو سے پیرانہ سال سیاستدانوں کے لہو میں ایسی روح پھونک دے کہ وہ باہم دست و گریباں ہو جائیں تواسی کی پتنگ ہواوں میں ہے۔۔۔اسی لئے ہمارے سیاسی ٹاکروں میں صحافی نہیں اینکر پرسنز نظر آتے ہیں۔
چلئے چھوڑئے ان کو تو شوبھا ہے کہ وہ اسی کام کے پیسے لیتے ہیں کہ بے رنگی کہانیوں میں کچھ مرچ مسالے اور کھٹہ میٹھا ڈال کر بیچیں۔۔۔لیکن ہمارے کچھ دوستوں کو بھی ایک ایسا ہی عارضہ آشوب چشم لاحق ہے۔۔۔غالب نے کہا تھا کہ

کم نہیں نازش ہم نامی چشم خوباں
تیرا بیمار برا کیا ہے گر اچھا نہ ہوا

ممکن ہے کہ ہمارے دوست، سیاسی تجزیہ نگاروں کے رنگ میں رنگے جاناغالب کے اسی شعر کی تشریح میں کرتے ہوں۔۔۔۔بہت کچھ ممکن ہے۔۔۔۔۔۔جیسا ہے آپ کچھ ایسے دوستوں سے گفتگو میں سر پھنسا بیٹھیں تو ان نشتوں کے درج ذیل مراحل ہوں گے ۔
پہلا مرحلہ
فلاں لیڈر سے زیادہ قابل کوئی اور ہو نہیں سکتا
قائد ثانی وغیرہ وغیرہ
اس کے مخالفین ۔۔سب سب کے نا سمجھ اور گھٹیا۔۔۔
جس سے ایک بیوی نہ سنبھلی وہ ملک کیا سنبھالے
یا دو رکعت بھول گئی امت کی امامت کیونکر کرے
یا جس کا اپنا سر گنجا ہو۔۔ملک میں ہریالی کسیے لائے
یا جس کا اپنا پیٹ موٹا ہو ملک کو سمارٹ کیسے بنائے؟
جس کے بچے ملک سے باہر ہوں وہ ملک میں اچھی تعلیم کیونکر بانٹے
وغیرہ وغیرہ

دوسرے مرحلہ ۔۔۔۔۔۔۔ جب کوئی ان کے دلائل سے اختلاف کرنے کی جسارت کر ییٹھے تو اس کے پرخچے ملائشیا کے گم شدہ طیارے کی صورت بہت دیر سے کسی اجنبی مقام سے ملتے ہیں
تمہیں کیا پتا۔۔۔
مجھے سب پتہ ہے
میں نے فلاں ابن فلاں کے ساتھ وقت گذارہ ہے
میرے پاس اندر کی خبر ہے
فلاں یہودیوں کا ایجنٹ ہے
فلاں قبضہ مافیا ہے
فلاں ککڑی چور ہے
فلاں شرابی ہے

یعنی مخالف کے لیڈر کی شان میں جو کچھ موزوں ہو سکے ارشاد کیا جاتا ہے۔ اور اگر گفتگو اس مرحلہ سے آگے بڑھے تو تیسرا مرحلہ کچھ یوں ہوتا ہے

میں تمہیں جانتا ہوں
تمہاری اوقات کیا ہے
تم دوپٹا اوڑھ لو
گھنگھرو پہن لو
تم جلسوں میں ناچنے والے
تم بریانی کی پلیٹ پر بکنے والے

اور گفتگو اس مرحلہ پر بھی موخر نہ ہو تو گفتگو کی چنداں ضرورت نہیں رہتی ۔۔۔لوگ حسب استطاعت ایکدوسرے کو سبق سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

میں ایسے تبصرہ نگاروں اور تجزیہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کر کے اپنا علم بڑھانے کا مشغلہ کب کا ترک کر چکا ہوں۔ لیکن ظالموں کو پتہ ہے میری ہمدردیاں کس کی طرف تھیں اس لئے وہ اب میں میرے قبلہ کی درستگی کے بارے فکر مند رہتے ہیں۔ ۔۔میری اصلاح کے لئے ملک کے نامی گرامی صحافیوں اور سیاستدنوں کی گفتگو کے ٹکڑے اور تراشے مجھے ارسال کرتے رہتے ہیں۔
میں پچھلے کئی ماہ سے ان دانشوروں کی زد میں ہوں، کروٹیں بدلتا ہوں، کوئی صورت بن نہیں پاتی۔۔۔۔۔۔۔کہ ان کی مدلل باتوں کا کوئی جواب پیش کر سکوں۔۔۔اور کچھ دن پہلے تو حجام کے دکان پر مونچھوں پر کنگھی کرتے ایک دانشور نے یہاں تک کہہ دیا۔۔۔۔باو جی تہانو کی پتہ سیاست دا ۔۔۔سارا دن تاں کتاباں چہ وڑے رہندے او۔۔۔۔۔۔۔



میرا،تیرا اور ھمارا پا کستان

میرا،تیرا اور ھمارا پا کستان

اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا کے مصداق دل کہیں سے کاغز ،قلم ڈھو نڈھ لایا ہے۔ کچھ باتیں جو قطرہ قطرہ اکٹھی ہو کر بد بو دار لہروں میں ڈھلنے لگی ہیں کہ میرے ملک کی سیاست پر چھاےء ہوے سیاسی سامریوں کے سحر میں الجھے ہوے بے شمار کاتب اور ان کے اپنے ہی لفظوں کی سیاہی میں غرقاب بھیانک چہرے مجھے اس خوف میں مبتلا کیے ہوے کہ کہیں سارے گلستان پر ان کی سیاہی کا رنگ نہ چڑھ جاے۔ وہ جن کے لفظو ں سے لاہوری کھابوں اور چھچھوڑی بوٹیوں کی بو آتی ھے اب وہی وقت کے دانشور ٹھرے۔ سارے باتوقیرلفظوں کی حرمت دربار جاہ و حشمت میں ڈھیر کر کے آقاوں کے لبوں پر بکھرتی مسکراہٹوں کے طالب اپنے لیے بھی ویسے ہی مخملی لفظوں اور تعریفوں کے خواہاں ہیں۔ لعنت ہے جھوٹوں پر، ان لوگوں پر جنہوں نے اپنے زور قلم سے صرف قصیدے تراشے ۔ جنہوں نے سب اچھا ھے کی گردانو ں میں کسی صاحب ہوش کو اقتدارکی مسند تک پہنچنے نہیں دیا۔ میں واشگاف لفظوں میں بوسیدہ نظام حکومت کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہوں۔ ان سیاسی گدھوں اور ِگدھوں کو خبردار کرتا ھوں، جنہوں نے اپنی ھر باری میں میرے پاکستان کی مشکلوں میں اضافہ کیا۔ میں اپنی 30 سالہ زندگی کی ساری بصیرت کے ساتھ سمجھتا ھوں کہ ن لیگ یور پیپلزپارٹی کا خاندانی نظام اب ختم ہونا چاہیے۔ یہ لوگ ناکام لوگ ہیں ان کا ماضی اور حال چلا چلا کر کہتا ھے کہ یہ آنے والے سو سال تک بھی تبدیلی نہیں لاءیں گے۔ اب اس کے بعد میرے پاس پاکستان کی بہتری کے لیے کوئی سوچ ہے تو وہ ایک متبادل سیاسی قوت یا نظام ہے۔ اور فی الوقت عمران خان ایک بہترین متبادل، متوازن اور متوازی امیدوار کی طور پرابھر رہا ہے۔ احباب کو خان سے شکایتں ہیں اور ان کے چاہنے والوں سے بھی۔ وہ ایسی کتابی اصطلاحات کا سہارا لیکر تحریک کو ناکام قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں جو ابھی پاکستان میں وارد ہی نہئں ہو یں۔ سوال بے شمار ہئں جن کا جواب ایک ہی ہے کہ وہ جو 62 سالوں میں نہ ہو پایا اس کی امید اس کی حکومت آنے سے پہلے تو مت لگاو۔ میں پاکستان میں خاندانی نظام سیاست کی بساط لپیٹنے کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔یہ آصفہ بنت زرداری کا نہیں عارفہ کریم کا پاکستان ہے، یہ بلاول،حمزہ،اور مونس کے غلاموں کا نہیں،یہ میرا،تمہارا اور ہمارا پاکستان ہے۔ یہاں اب تبدیلی آے گی ضرور آے گی۔انشاءاللہ۔ ............

میرا انتخاب ۔۔۔عمران خان ؟؟؟؟؟؟

میری کرکٹ سے دل چسپی اپنی باری لینے سے زیادہ کی نہیں ہے، نہ فیلڈنگ کا شوق ہے نہ باولنگ کا بس تھوڑا شوق ہے تو کبھی موج میں ہوں تو کوئی دو چار بال کروادے اور ہم یہ دیکھ سکیں کہ گلی ڈنڈے سے تربیت یافتہ آنکھیں کرکٹ کی لین اور لینگتھ کو سمجھ سکتی ہیں کہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میچ سے دل چسپی بھی اس حد تک ہے کہ پاکستان جیت جائے۔۔۔۔کوئی اور ٹیم کھیل رہی ہو، ورلڈ کپ ہو رہا ہو یا ٹی ٹونٹی بس اتنی ہی معلومات جیب میں رکھتا ہوں جس سے بات برائے بات کا پیٹ بھرا جا سکے۔ ایسے میں کھلاڑیوں کے متعلق جاننا کافی ناممکن سی بات دکھائی دیتی ہے۔۔۔۔۔سنا سے عمران خان کپتان تھا تو اس کی کپتانی میں پاکستان نے ورلڈ کپ جیتا تھا۔۔۔۔اچھی بات ہے ۔۔۔۔دل خوش ہوا ۔۔۔پاکستان کو جیتنا چاہیے۔۔۔۔۔۔لیکن بشمول عمران خان میں کسی
بھی کھلاڑی کی کھیل کی مہارت سمجھنے سے نابلد ہوں۔۔۔۔۔
رہی بات شوکت خانم کی تو اس کو بھی میں ایک اچھا کام سمجھتا ہوں،عبدالستار ایدھی ، اور اس نوعیت کے نیک کام کرنے والے انسانوں کا دل سے احترام کرتا ہوں۔۔۔ان کے باوجود میں ان کاموں کی بنیاد پر کسی کو ریاست کی ذمہ داری سونپ دینے کے فیصلے کے حق میں نہیں۔۔۔۔
میری زندگی کے بتیس سال جن حکمرانوں نے حکومت کی ان میں نواز شریف اور بے نظیر کے پہلے ادوار تک کبھی بھی سیاست، ریاست اور حکمرانوں سے دل چسپی رہی ہی نہیں۔ گھر میں آج کے دن تک سیاسی مجالس میں شرکت کو شرفاٗ کا کام نہیں سمجھا جاتا۔۔۔اس لئے وہ سیاسی وابستگی جو کسی سیاسی کارکن کو اپنی جماعت سے ہو سکتی ہے اس جو ہر سے  بھی
 محروم ہوں۔میں بہت سے لوگوں کی طرح یہ سمجھتا آیا ہوں کہ ووٹ ڈالنے سے بھی کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوتی ، اور ایک آدھ دفعہ جب ووٹ ڈالنے کا موقع آیا تو میں نے گھر میں آرام کرنا ہی مناسب سمجھا۔۔۔۔
یہ حقیقت ہے کہ آدمی کا شعور آہستہ آہستہ اندھیروں سے روشنی کی طرف مائل ہوتا ہے ، پچھلے تقریبا تین سالوں سے اپنے وطن سے باہر گذارے ہوئے ان سالوں میں اس نسخاٗ کیمیا کو کھوجتا رہا ہوں جس کے بل بوتے پر یہ دنیا کے حکمران ہیں۔۔۔۔ اور یہ بات جان کر حیرانی ہوئی کہ یہاں کا طبقہ ٗ شرفا سیاست کو ہرگز برا نہیں سمجھتا ، بلکہ سیاست اور ریاست سے متعلق تعلیم نصاب کا حصہ ہے ، انتخاب کا دن چھٹی کا دن نہیں لیکن اس کے باوجود لوگ ووٹ ڈالنا اپنا حق سمجھتے ہیں اور اس حق کو بخوبی استعمال بھی کرتے ہیں۔
اس ادراک کے بہت سے راستے میڈیا کی آزادی سے بھی منسلک ہیں جو عوام کی یاد داشت کو دہرائی کی مشقت سے دوچار کرتا رہتا ہے ، اور ہمیں باور کرواتا ہے کہ کچھ ایسا ہے جو ہماری بھی ذمہ داری ہے۔
پیپلز پارٹی کی جیالہ نوازیاں، اور نواز شریف و ہمنوا دوستوں کی کاروباری کامیابیاں   جن کتابوں، اخباروں کا حصہ ہیں ان پر تو ابھی دھول بھی نہیں جمی۔۔۔۔لیکن پھر بھی چند پیشہ ور لکھاری ان ادوار سے خوبصورتیاں تلاش کرکے مجھ جیسے بہت سوں کو مائل بہ قائل کرنے پر جتے ہیں کہ ان کو ایک ایک باری تو اور ملنی چاہئے۔۔۔
سچ پوچھیئے تو جیسے قربانی کے گوشت سے دل بھر جاتا ہے اور آدمی دال سبزی ڈھونڈتا پھرتا ہے ایسے ہی اس اعلی قیادت ۔اور ان کی بے مثال قربانیوں کی اخباری کہانیاں سے دل یوں اکتا گیا ہے کہ جیسے یہ تو کوئی آپشن اب ہے ہی نہیں۔۔۔
میں آج تک اس جذبہ خدمت کو سمجھنے سے قاصر ہوں جو بظاہر بہت سمجھدار نظر آنے والے بے شمار انسانوں کو مصلحت کے سامنے ہاتھ باندھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔۔۔۔۔کیسے سالہا سال تربیت یافتہ سیاست دان نسل در نسل غلامی کو اپنی قیادت   سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔ کیا زرداری کا بیٹا، گیلانی کی اولاد، شریفوں کے بچے، چودہریوں کی میراث پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں
حالانکہ یہ سارے بچے تقریبا میری عمر کے گروپ سے تعلق رکھتےہیں، لیکن ان کی شخصیات ان کی گفتگو اگر مجھے قائل کرنے سے قاصر ہیں تو پھر کس طرح خواجاوں کی خواجگی، کائرہ جی کی گفتار، اقبال کے احسن تک کو ان خاندانوں کو زیر نگیں کئے ہوئے ہے۔۔۔۔کیا ان لوگوں کے من میں کبھی سوچ نہیں آتی کہ اب ان کا تجربہ قابلیت کے اس درجہ پر ہے جہاں وہ کسی بھی مسند کو بخوبی نبھا سکتے ہیں لیکن کوئی ایسی مصلحت ہے جو ان غلام بنائے بیٹھی ہے۔۔۔جن پارٹیز میں قابلیت کی
معراج ان کو ترجمان لگا دیا جانا ہو وہاں قابل لوگ کس طرح سانس لیتے ہوں گے اس خوف سے الفاظ کی روح کانپتی ہے۔
لیکن خیر ان شیریں گفتار درباریوں کے پاس اپنی اپنی نوکری کا کوئی جواز تو ہو گا، اور ہاں یہ بھی خیال غالب ہے کہ کوئی ایسی سمت ہے جس میں ہم ابھی تک اندھے ہیں اور ان باکمال لوگوں کی دیدہ بینا وہاں تک دیکھتی ہے اور انہیں اب بھی نواز، زرداری کی صورت پاکستان کی بہتری نظر آتی ہے۔
ان لوگوں کی دلیل بھی کم و بیش مجھ جیسی ہی ہے کہ ان کو عمران خان میں کوئی لیڈر نظر نہیں آتا، بہت سے لوگ اس بات پر قائل کرتے ہیں کہ کہ عمران خان یو ٹرن بہت لیتا ہے، کچھ کا کہنا ہے کہ وہ بندہ بھی کیا بندہ جو اپنی شادی چلا نہ سکا ملک چلانے کا دعوی کرتا ہے، یا پھر یہ کہ یہودی لابی کا ایجنٹ ہے، یا پھر یہ اخلاقی اقدار پر پورا نہیں اترتا اور ان کے جیتے جاگتے ثبوت لوگوں کی جیبوں میں بھرے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
یعنی اخلاق کے اعلی معیار کی کسوٹی پر اس کو پرکھا جاتا ہے اور ظاہر ہے اس پر تو وہ پورا نہیں اترتا اور نہ وہ آئیڈیل قسم کا مسلمان ہے کہ عمر سوم ٹھہرے
لیکن میں جتنا اس کو سمجھا ہوں مجھے لگتا ہے وہ مجھ ایسا ہے، تھوڑا جذباتی ہے، اکھڑ ہے، خدا سے ڈرنے والا، عام سا مسلمان ہے جو توبہ پر یقین رکھتا ہے، وہ ایک عظیم مقرر بھی نہیں لیکن اس کے لہجے میں سچ بولتا ہے، اس کے پاس ایسی چالاکیاں نہیں کہ پرانے شعبدہ بازوں کی طرح سب کی آنکھوں میں دھول جھونک سکے،

 ۔۔ہاں میری عمر ابھی ناپختہ ہے ، میرا تجربہ ابھی تھوڑا ہے لیکن میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ میرا دل قائل ہے کہ وہ ایک مخلص آدمی ہے، وہ قابل اعتبار ہے، وہ سچ بولے گا اور انصاف سنے گا۔۔۔
میں نے کہا کہ میرے پاس کوئی اور آپشن ہی نہیں، بہت سے لوگ حکومت کے لئے بہت موزوں ہو سکتے ہیں لیکن اس دفعہ اب کے برس موزوں ترین آدمی عمران خان ہے، ، احباب اور رفقا جو اس زندگی میں کسی نہ کسی طرح میرے ساتھ جڑے ، ہیں، میرے سکول، کالج، یونیورسٹی کے ساتھی ہوں، سفر کے رفیق ہوں، میرے عزیر و اقارب ہوں، ان سب سے درخوست کرتا ہوں کہ اس دفعہ عمران خان کو موقع دیں، اس کو ایک موقع ملنا ہی چاہیے، اس سے پہلے کہ شکاری خاندانوں اور خانوادوں کے مقابل وہ ہمت ہار دے، ہمیں اس کا ساتھ دینا ہے۔۔۔ابھی یہ موج اٹھی ہے اور یہ موقع ہے۔۔۔۔۔۔ ایسے مواقع اور ایسا ۔۔بہاو روز روز نہیں آتا،،،،ہمیں اپنا پورا وزن خان کے پلڑے میں ڈالنا ہے۔۔۔۔۔اور آج میں اپنے پورے وزن کیساتھ عمران خان کو پاکستان کے لئے بہترین انتخاب سمجھتا ہوں۔۔۔۔۔

ایک تھپڑ۔۔۔۔۔ایک مکہ۔۔۔۔۔ایک دھکہ۔۔۔

بارہ سال پہلے میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کا طالب علم تھا۔ شام کو اپنے سائیکل پر ٹیوشن پڑھانے ڈھیڈیوال جایا کرتا تھا۔ کوئی آدھا گھنٹہ جانے میں اور آدھا گھنٹہ آنے میں لگتا تھا۔ ایک روز فیصل آباد کچہری سے آگے میں اپنی دھن میں سائیکل چلائے جا رہا تھا۔۔۔کہ پیچھے سے زوردار ہارن اور ایک غلیظ گالی کی آواز سنائی دی۔ اس گندی گالی میں اتنی نفرت اور رعونت تھی کہ آج بارہ سال بعد بھی اس زہر کو محسوس کر سکتا ہوں، یہ کسی مجسٹریٹ وغیرہ کے آگے چلنے والے پٹرول آفیسر کی آواز تھی۔  جو ملک کے کسی اعلی عہدیدار کو گھر چھوڑنے جا رہا تھا۔۔،جس کے پروٹوکول سکواڈ کے سامنے ایک بے پرواہ سائیکل سوار ابھی تک سٹرک کے کونے پر جارہا تھا۔گاڑی کے آگے کوئی سرکاری جھنڈا تھا یا نہیں، نمبر پلیٹ ہری تھی یا نیلی۔۔۔کچھ خبر نہیں ۔۔۔بس ایک شدید نفرت کا احساس دل میں جاگا کہ بس میں سائیکل پر ہوں اس لئے مجھے حق حاصل نہیں کہ سڑک پر چل سکوں؟؟
پھر چھ سال پہلے کے وہ لمحے جب میرا آفس ڈیوس روڑ لاہور پر ہوا کرتا تھا ، اور ہر دوسرے روز کسی نہ کسی طرح جی او آر کے آس پاس لگنے والے پروٹوکول قافلوں کے لئے ایک لمبی قطار کا حصہ بننا پڑتا تھا۔۔۔۔وہ اذیت اور کرب جو ایک آزاد آدمی کو طاقتور کی طاقت کے ناجائز استعمال پر ہو سکتا ہے اس کا اندازہ پاکستان کی اکثریت نے کسی نہ کسی انداز میں کر ہی رکھا ہو گا۔۔

وہ ایک تھپڑ جو بہت تازہ ہے، جو سمندری کے تحصیل ہیڈ کوارٹر میں ایک سیاسی نمائیندے نے ایک ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کے منہ پر مارہ ہے اس کی کسک ساری زندگی اس بے چارے کے ساتھ چلے گی۔۔۔وہ ڈاکٹر جس نے اٹھ کر فرعون وقت کا استقبال نہیں کیا؟ وہ جس کے سٹھیتو سکوپ کو ہنٹر بنا کر اسی پر برسایا گیا۔وہ اس تذلیل کا تمغہ سجائے ملک کے سب پڑھے لکھے غلاموں سے سوال پوچھتا ہے۔۔۔کہ کس آزاد دیس میں بستے ہو، جہاں عزت کا معیار چند غنڈوں کا ساتھ ہونا ہے، جہاں تمہاری طاقت کے رعب سے لوگ مرعوب نہ ہوں تو دلائل میں دھکے ، مکے تھپڑ رسید کئے جائیں،
میری یہ بات سیاسی ہوا کے زور پر اڑتے پرندوں کی سمجھ سے بالاتر ہوگی؟ وہ جنہوں نے ہر چڑھتے سورج کی پوجا کر رکھی ہو، وہ جو دربار سے قربت کو عزت و شرف کا معیار سمجھتے ہوں، ہر طاقتور کی اطاعت جن کا شیوہ ہو انہیں لگتا ہو گا ایک عوامی نمائیندے کی عزت کی خاطر اگر ڈاکٹر صاحب اٹھ کر کھڑے ہو جاتے تو ان کا کیا جاتا؟ لیکن ایک آزاد کہلائے جانے والے ملک میں، ملک کے قابل توقیر ترین شعبے کے ایک نمائیندے کے ساتھ ایسا گھٹیا سلوک کسی طرح بھی معافی کا مستحق نہیں ہے۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ ڈاکٹر صاحب اس ایم پی اے کے ساتھ اگر کبھی ہتھے چڑھے تو پھولن دیوی والا سلوک کریں یا اس کو سبق سکھانے کے لئے اسی کی طرح گر جائیں۔۔۔
بلکہ سب پڑھے لکھے لوگوں سے التماس کرتا ہوں کہ اس کیس کو ایک ٹیسٹ کیس سمجھ کر لیا جانا چاہیے، جیسے کافی عرصہ سے ینگ ڈاکٹرز اپنے پروفیشنل حقوق کے لئے
 کوشاں ہیں ایسے ہی اس طرح کے معاملات کو اپنے ایجنڈا پر بھی رکھیں، بڑے بھائی اور کچھ ڈاکٹر دوستوں کے توسط سے مجھے خبر ہے کہ ڈاکٹرز کے ساتھ اسطرح کے واقعات کے پیش آنا بڑ ے معمول کا واقعہ بنتا جا رہا ہے، اس دفعہ تو کیمرے کی آنکھ سے ایک شہادت موصول ہوئی ہے، وگرنہ اکثر اوقات اس بات کا کوئی ثبوت ہی نہیں ملتا اور کسی ڈاکٹرکو اپنی جہالت کے زعم میں پیٹ دیا جاتا ہے۔
اس طرح کے ڈرامے کرنے والے اکثر ایسے لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے ساری عمر اپنے عزیزو اقارب کا حال تک پوچھا نہیں ہوتا اور اچانک ہسپتال میں آکر ان کو لگتا ہے کہ یہ سب ڈاکٹر کی نااہلی کہ وجہ سے ہوا ہے ، اس معاملہ پر ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ معلومات کی کمی ہے۔ ادھ مرے مریض کو ایمرجنسی میں لاکر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اب ڈاکٹر ان کو زندہ کر دے گا، مگر ایسا نہیں ہوتا۔۔۔اور اس جذباتی لمحے میں ان کو سب سے بڑا مجرم ڈاکٹر ہی محسوس ہوتا ہے۔
اس طرح کے واقعات کسی قبائلی نظام کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں  طاقت کی لاٹھی سے سب انسانوں اور جانوروں کو ہانکا جاتا ہے
اور اگر کسی انسان میں کسی آزادی کی خو بو پائی جائے تو اس کو نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے۔ اگلہ تھپڑ، اگلا دھکہ ، اگلہ مکہ کس کو پڑے کا ۔۔۔؟؟؟؟
کیا اتنے تماشائیوں میں کوئی گواہی بھی دے گا کہ ڈاکٹر پر زیادتی ہوئی؟ کیا ارباب اختیار اس دہشتگردی کو بھی مذاکرات سے حل کریں گے؟ کیا پاکستان کے پڑھے لکھے پروفیشنلز اس زیادتی کو صرف ایک آدمی سے زیادتی ہی گردانیں گے؟؟؟

ہم پر تشدد کیوں ہیں؟

ہماری ہر دوسری دلیل لاتوں، گھونسوں کا روپ کیوں دھار لیتی ہے، ہماری بحث تشدد کی طرف کیوں چلی جاتی ہے، لوگ لڑنا نہیں چاہتے لیکن پھر بھی کسی کا ہاتھ اٹھ جاتا ہے اور بات بڑھ جاتی ہےَ؟ کیا ہمارے پاس دلائل ختم ہو جاتے ہیں یا ہمیں لگتا ہے
 ہماری موثر ترین دلیل ہمارا گھونسہ ہے؟
پاکستان میں رہتے ہوئے میں نے بھی بارہا زبانی بیانی دلائل کی بجائے ٹھوس دلائل جن کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے ان کا استعمال کیا ۔۔۔مجھے یاد ہے پرائمری سکول میں انیس اے سحرصاحب تختی لکھنے کے لئے قلم بنا کر دیا کرتے تھے ، ہم ایک قطار کا حصہ تھے کسے نے پیچھے سے دھکا دیا اور ہم نے وہ سرکنڈا جس کی ابھی قلم بننا تھی اس لڑکے کے سر میں دے مارا، میری وحشیانہ زندگی پر ایک پورا باب رقم کیا جا سکتا ہے لیکن میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ میں لڑائی جھگڑے میں زیادہ باتوں کا قائل کبھی بھی نہ تھا، لیکن پردیس کے ان پانچ سالوں نے بہت باتیں سننے کا حوصلہ پیدا کر دیا ہے، میں نے تین چار دفعہ گوروں کو لڑتے دیکھا ہے، تو ان کی عمومی لڑائی یہ ہوتی ہے کہ اونچی اونچی آواز میں تیز تیز گفتگو کرتے ہیں، چہرہ ایک دوسرے کے قریب لا کر ایک دوسرے کو غصے سے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ۔۔۔۔مینوں ہتھ لا کہ تاں دکھا۔۔۔۔۔اور کوئی کسی کو ہاتھ نہیں لگاتا۔۔۔۔اور لڑائی بغیر کسی پر ہاتھ اٹھائے ختم ہو جاتی ہے۔
لیکن ہماری لڑائی میں ہاتھ کا اٹھ جانا انتہائی معمولی بات ہے، بلکہ چھوٹی چھوٹی بات پر پستول نکل آتے ہیں اور بعد میں اپنی جھوٹی انا کی خاطر چلانے بھی پڑ جاتے ہیں۔

مجھے لگتا ہے کہ یورپی معاشرے میں مار کٹائی کا کلچر اس لئے پروان نہیں چڑھتا کہ ان کی تربیت مار کٹائی کے ذریعے نہیں ہوتی، اوائل سے ہی بچوں کو دلائل سے قائل کیا جاتا ہے، بچوں پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں ہوتی ، حتی کہ ماں باپ بھی اس غیر انسانی عیاشی سے محروم ہوتے ہیں۔ اس لئے غصے اور ناراضی کا اظہار صرف باتوں سے کیا جاتا ہے۔ سکولوں، اداروں میں بھی کسی کی مجال نہیں ہوتی کہ آپ کی تربیت کے بہانے آپ کی ٹکھائی کرے اس لئے بچوں کو اس موثر دلیل کے استعمال کا پتہ ہی نہیں چلتا ۔۔۔۔
جبکہ ہمارے ہاں
لچے کو سمجھایا پیار سے صفر نتیجہ نکلا
ہم نے یہ آزمایا سوٹا سوٹا ہوتا ہے۔
اور ہمارے ہاں وگڑیاں تگڑیاں دا ڈنڈا پیر قسم کے محاورے ایک اہم مقام رکھتے ہیں اس لئے اس قسم کے آزمودہ جوہر سے ہر کوئی استفادہ کرتا ہے۔ جہاں کوئی سمجھنا نہیں چاہتا وہاں ڈنڈوں اور سوٹوں سے مدد لینا معمولی بات ہے۔
اپنی جاہلیت کے دور میں کسی مخالف کے دلائل کو عزت اور انا کی جنگ میں دشمن کے وار سمجھنا میرا بہت عام سا وطیرہ تھا، کئی ایک مہرباں آشناوں سے بات توں توں میں میں سے گالیوں اور دھکم پیل سے بڑھ کر سر پھٹول تک بھی پہنچی، اب جب سے بالوں میں برف اتری ہے میرا لہجہ ٹھٹھر گیا ہے کے مصداق بہت سے ناگوار باتوں پر بھی دل کو بس یہ کہہ کر سمجھا لیتے ہیں کہ اب جہلا سے کیا بحث کی جائے؟
لیکن تجربے کی وہ کنگھی جو بال اجڑ جانے کے بعد ہاتھ میں آئے چہ معنی؟ عہد جوانی میں جب سبھی جھوم جھام کر چلتے ہیں تب یہ متانت کا ہنر ہاتھ کیوں نہیں آتا اور خصوصا ہمارے معاشرے میں تو لوگ ساری ساری عمر انسانی مزاج کی پہلی سیڑھی جسے کمپیٹیٹر کہا جاتا ہے اس سے آگے ہی نہیں بڑھتے ۔ اس درجہ کی وضاحت کچھ ایسے کی جاسکتی ہے کہ آپ  کسی چائے خانے میں کسی دوست سے کسی سیاسی یا سماجی  موضوع پر گفتگو کر رہے ہیں اتنے میں ایک شخص کسی ساتھ والی میز سے آپ کی دلیل کی مخالفت شروع کردیتا ہے ، کہتا ہے اجی چھوڑیئے آپ کوکیا پتہ ، مجھے سب پتا ہے وغیرہ، ایسے لوگ بدلہ لینے، دل میں کینہ رکھنے وغیرہ کی صلاحتیوں سے بھی مالا مال ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ کمال کے اچھے ورکر ہوتے ہیں، آپ ان کی تعریف کر کے جس کام پر لگانا چاہے لگا سکتے ہیں، جب تک ان کی انا کا مساج ہوتا رہے ان سے چوبیس گھنٹے کام لیا جاسکتا ہے۔ ہماری سیاسی جماعتوں کے اکثر کارکن اس زمرے میں آتے ہیں۔ ان کی مخالفت کا مطلب کھلا دشمنی کا پیغام ہے۔
اس مقابلہ باز قسم کے انسانوں کی بستی میں کسی کا خون کھول جانا، بڑی عام سی بات ہے، گھور کر دیکھ رہا تھا، کسی گلی سے گذر رہا تھا، کھانس کر گذرا، پیٹھ پھیر لی اور اس کماش کے دیگر دلائل سے کبھی بھی کہیں بھی کسی کا گریبان پکڑا جاسکتا ہے۔ تھوڑے طاقتور ہوں تو مار پیٹ بھی کی جاسکتی ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ یہ سب رویے ہمارے معاشرے میں کیونکر آ گئے، محبت صرف لڑکیوں سے ہی کیوں کرنا چاہتے ہیں اور وہ بھی صرف شادی سے پہلے۔ جب وہی لڑکی بیوی بن جائے تو اس میں سرانڈ پڑ جاتی ہے، اس سے بچے بھی ہو جائیں تو اس کو چٹیا سے پکڑ کر ہلانے جلانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ مذہب کی بحثوں میں ایک دوسرے کو کافر بنا کر گردن مار دینے کے فتوے دینا بھی ہمارا ہی محبوب مشغلہ کیوں ہے؟ تھپٹروں کے بغیر ہم بچوں کو کیوں کر سمجھا نہیں پاتے؟ ہمارے سکول میں حکم منوانے کا اوزار ڈنڈا کیوں ہے؟ اور مخالفین کودھونس ، دھمکیوں اور گھونسوں سے متاثر کیوں کرنا چاہتے ہیں؟
یہ بلاگ ڈان نیوز میں پہلے چھپ چکا ہے ، اس کا لنک یہ رہالنک

کو آپریٹو فارمنگ ، پاکستانی زراعت کے مسائل کا حل ؟

ابھی سیکنڈے نیویا اور یورپ میں موجود دودھ اور متعلقہ مصنوعات کی کمپنی آرلا کے متلق پڑھ رہا تھا، جس کے مالک 12700 زمیندار ہیں، ان زمینداروں کا تعلق ڈنمارک، سویڈن، یوکے، جرمنی، بیلجئیم، لگزمبرگ اور نیدرلینڈ سے ہے۔ اس طرح کی فارمنگ کمپنیاں جس میں لوگ مل کر کام کرتے ہیں کوآپریٹو فارمنگ کہلاتی ہے۔ ایک ہی صنف یا سمت میں کام کرنے والے متحد ہو کر اپنے مسائل کا حل نکالتے ہیں اور زیادہ نفع حاصل کرتے ہیں۔ سیکنڈے نیویا میں ہی کوآپ کے نام گروسری سٹورز کا ایک سلسلہ بھی ہے، جو کہ کوآپریٹو سسٹم کے تحت کام کرتا ہے۔
پاکستان میں بھی کوآپریٹو سوسائٹیز کا نام کچھ نیا نہیں، پرانے شہروں میں کوآپریٹو سکول اور اداروں کا ایک دھندلا سا خاکہ ملتا ہے اور ان میں سے کچھ ادارے ایسے ہیں جن کی  افتتاحی تاریخ انگریزوں کے دور حکومت کی ہے۔ لیکن پاکستان میں کوآپریٹو ادارے عملی طور پر بہت کار گر ثابت نہیں ہوئے۔ ھلہ دودھ کو آپریٹو کی طرز پر پاکستان میں کام کر رہا تھا لیکن جب پنجاب کے بڑے کاروباری دودھ کے کاروبار میں اترے تو کوآپریٹو اداروں کے کاموں میں رکاوٹیں ڈالی جانے لگیں۔
میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ پاکستانی زراعت کی بہتری کے لئے ہمارے کسانوں کو مل بیٹھ کر اپنے مسائل کا حل نکالنا ہوگا۔ ہمارے زمیندار کے بڑے مسائل کچھ یوں ہیں۔
کسان ان پڑھ ہے۔
زمین کا رقبہ فی کس کے حساب سے کم ہے
معاشرتی طور پر طبقات میں تقسیم ہے۔
سیاسی طور پر کمزور ہے

ایسے میں لوگوں کو کیسے جوڑا جا سکتا ہے، کیسے ان کو سمجھایا جا سکتا ہے، دنیا تجارت کی بڑی ویب علی بابا کے مالک کا کہنا ہے کہ جب آپ غریب آدمی کے حالات بدلنے کی بات کرتے ہیں تو وہ صرف یہ سوچتا ہے کہ اس میں کسی کا مطلب پوشیدہ ہے ، وہ پڑھے لکھوں سے زیادہ سوچتا ہے لیکن اندھوں کی طرح عمل کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے کی تصویر بھی اس سے ملتی جلتی ہے۔
اگر کسی نہ کسی طرح ہمارے کسان متحد ہو جائیں، کاشت کاری کو ایک مشترکہ کام کے طور پر کرنے کی کوشش کریں، اس میں استعمال ہونے والی مصنوعات کی خریداری مل کر کریں، اور جب فصل تیار ہو تو اس کو بیچنے کے حوالے سے باہمی کوشش کریں تو ہمارے کسانوں کی حالت زار کچھ بدل سکتی ہے۔

لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا، برادریوں میں بٹے ہوئے زمینداروں کو ایک دوسرے پر اعتبار کیونکر آئے گا؟؟؟

اقتدار کا بھوکا عمران خان ؟


کیا یہ عہد خلافت میں امارت کے حصول پر مجلس شوری کی تقریب کا احوال ہے، جہاں دنیا کی طمع سے بے نیاز اصحاب با صفا سر جھکائے بیٹھے ہیں ، مسئلہ در پیش ہے کہ نیا خلیفہ کون ہو گا، کس کے کندھوں پر امارت اور خلافت کا بوجھ لاد دیا جائے گا، اور کون ہو گا جو اس سے انصاف کر پائے گا؟۔ اس لئے ہر کوئی ہچکچا رہا ہے۔ ۔۔۔ہر شخص اقتدار اور اختیار سے کنارہ کش رہنا ہی پسند کرتا ہے اور ایسے میں لوگوں کی نگاہ انتخاب کسی مرد قلندر پر پڑتی ہے۔ وہ مرد قلندر جو آج کے اس اجلاس میں بھی شریک نہیں اور باہر کسی بیاباں میں بکریوں کی گلہ بانی میں مصروف ہے۔ ایک آواز بلند ہوتی ہے۔ میرے خیال میں فلاں ابن فلاں کو بلا لیجئے ان سے موزوں شخص اس عہد میں کوئی ہو نہیں سکتا۔ اسی خیال کی تقلید میں کچھ اور آوازیں بلند ہوتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے مجلس شوری کسی گلہ بان کو امارت کے لئے چن لیتی ہے۔ اور وہ مرد درویش پھر بھی انکاری ہے کہ وہ اس بھاری بوجھ سے عہدہ برا ہونے کی استطاعت نہیں رکھتا۔۔۔اور بالآخر لوگوں کی آرا  کے سامنے سر جھکا دیتا ہے۔۔۔۔اور یوں مسلمانوں کا کوئی امیر چن لیا جاتا ہے۔

جب کبھی  پاکستان کے جغادری صحافی عمران خان کو اقتدار کے حصول کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔ تو کسی خلافت و امارت کے انتخاب کے پرانے اجتہاد کہ مانگنے والے کو اختیار و امارت نہ دی جائے۔۔۔کہ برابر کے پلڑے میں رکھ دیتے ہیں اور فورا فرماتے ہیں چھوڑئے صاحب یہ تو اقتدار کا بھوکا ہے؟ سچ پوچھئے تو یہ ایسی ظالم دلیل ہے جس کے سامنے ہمارے مذہب پرست ذہن پر مارنے کی جا بھی نہیں رکھتے۔ کیا دیوانہ وار پچھلے دو عشروں سے پاکستان کے طول و عرض میں تلاطم برپا کر دینے والا عمران خان اختیار و امارت کا بھوکا ہے؟ وہ جو خود کو وزیراعظم کی کرسی پر دیکھنا چاہتا ہے۔ ۔۔۔اور اس کے اسی لالچ کیوجہ سے امیر وقت کو کتنی پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کے بچوں، بہووں بیٹیوں تک کے خواب بادشاہی میں خلل پڑتا ہے۔
یہ طعنہ اور بھی شدت اختیار کر جاتا ہے جب دینے والا بھی ایسا ہو جس نے بیس پچیس سال حکومت کا مزہ چکھ رکھا ہو۔ وہ بڑے طمطراق سے کہے۔۔۔تمہارے لہجے میں کڑواہٹ کیوں ہے، تم اختیار کے لالچی شخص، تم اقتدار کے بھوکے وغیرہ۔ اور ابھی جو تازہ ہوا چلی ہے کہ عمران خان ناکامی کا دوسرا نام بنتا جا رہا ہے۔۔۔۔
جیسے دھرنا ناکام
الیکشن میں دھاندلی ثابت کرنے میں ناکام
چوہدری افتخار کے خلاف دلائل دینے میں ناکام
ایک سو بائیس کے الیکشن میں ناکام
خیبر پختون خواہ کو ماڈل صوبہ بنانے میں ناکام

یہ اقتدار کا بھوکا شخص جو ناکام بھی ہے کیا اس ملک کا آنے والا حکمران ہو سکتا ہے؟ جو اپنے اقتدار کی بھوک کی خاطر ریڈیو پاکستان پر حملہ کرواتا ہے، جو اس خوبصورت جمہوریت کے مقابل کسی ایمپائر کی انگلی کے اشارے کا منتظر ہے، جو جلسوں کے انتظامات اس لئے اچھے نہیں کرواتا کہ لوگ بھیٹر میں مر جائیں۔۔۔ایسا اقتدار کا بھوکا شخص کیا تمہارا حکمران ہونا چاہیئے۔ بولو میری بکریو۔۔۔۔۔۔

ویسے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ موجودہ نظام سیاست میں کون ہے جو اقتدار کا بھوکا نہیں۔ اگر اس ترکیب کو تھوڑا شائستہ کر لیا جائے کہ کون ہے جو اقتدار نہیں چاہتا؟ کیا سیاسی پارٹیوں کا وجود ہی اس حصول کی طرف اشارہ نہیں کرتا کہ وہ ملک پر اپنی مرضی و منشا کے قوانین کی متمنی ہیں اور بالآخر اقتدار کی خواہشمند۔ کیا کروڑوں کے اشتہار اسی لئے چھپوائے نہیں جاتے؟ کیا جلسے جلوسوں کے ہنگامے اسی لئے برپا نہیں کئے جاتے؟اور کیا عمران خان واحد ایک شخص ہے جو ایسے کسی بھی عمل کا حصہ ہے۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ اب کوئی شخص تمہاری آنکھوں میں کھٹکتا ہے اس لئے تمہیں اس بھوکے کی آنکھوں میں وحشت نظر آتی ہے۔

سیاست کے اس حجام میں سب ننگے ہیں۔سب ہی اقتدار کے خواہش مند ہیں، چاہے وہ ہمارے خلیفہ محترم ہوں یا عمران خان۔ مگر ایسی اصطلاحات کے ساتھ کھیل کر کسی کو نیچا دکھانا کسی کے نیفے کے نیچے وار کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن اس کا مزیدار پہلو یہ ہے کہ ہم ایسی باتوں سے خوشی کشید کرتے ہیں۔۔۔جیسے جس سے بیوی نہ سنبھالی گئی وہ ملک کیا سنبھالے گا؟ جس نے یہودیوں سے چندہ لے لیا وہ مسلمان کیا ہوا؟ جس کے بچے باہر پڑھیں اسکو پاکستان کے نظام تعلیم سے کیا لینا؟ جس کا علاچ لندن میں ہو وہ پاکستان کے ہسپتالوں کو کیونکر سدھارے اور جو اقتدار کا بھوکا ہو ۔۔۔۔اب آپ ہی بتائے کہ اس بھوکے کے ساتھ اب کیا کیا جائے؟ 

کس کی شاعری اور کس کا کلام؟

بقول شخصے امام دین گجراتی کا سینہ بہ سینہ چلنے والا کلام اصل میں استاد امام دین گجراتی کا نہیں ہے بلکہ جس کے من میں جو موزوں ہوا اس نے اس شعر کو استاد کے نام منسوب کردیا۔۔یوں ایک اچھی خاصی تعداد مختلف رنگ و نسل کے اشعار کی امام دین سے منسوب ہوئی جن کو خود ان کو بھی پتا نہ ہوگا۔۔۔۔۔۔فراز کی زندگی کے آخری عرصے میں جب ایس ایم ایس نیا نیا مفت ہوا تھا لوگوں نے بےشمار اشعار کو فراز سے منسوب کے کے دوستوں کو ارسال کیا۔۔۔۔خیر اس واردات میں تو خاصی کمی آئی ہے اس کی بنیادی وجہ پاکستانی سیاست میں ہر ہفتے نیا طلاطم جنم لیتا ہے اس لیے لوگوں کو ان سیاسی مسخروں، واپڈا، اور دیگر اداروں سے ہی فرصت نہیں ملتی۔۔۔یا اس کی ایک اور بھی وجہ ہو سکتی ہے  یس ایم ایس کرنے کے لئے پیسے کچھ زیادہ لگتے ہیں اس لئے احباب بیرونِ ملک کے اس میسج کی بجائے دو چار اجنبی لوگوں کو میسج بھیجنا مناسب خیال کرتے ہوں گے۔۔۔۔۔۔

کچھ عرصے سے میں محسوس کرتا ہوں کہ کچھ ایسے اشعار لوگ فیس بک پر شیئر کرتے ہیں ، جن میں یا تو شعر کا سر دھڑ بازو کچھ بھی موجود نہیں ہوتا، اگر ہوتا ہے تو بقول انور مسعود
یوں بحر سے خارج ہے کہ خشکی پہ پڑی ہے
شعروں میں وہ سکتہ ہے کہ کچھ ہو نہیں سکتا

روزانہ بےشمار ایسی اشیاٗ ملتی ہیں کہ لگتا ہے ان میں کوئی چکر ضرور ہے۔۔۔۔۔اوپر اشفاق احمد کے اقوال نجانے کس دل جلے    کے ارمانوں کی ترجمانی ہیں ۔۔۔مجھے لگتا ہے کہ بابا جی اس قبیل کی باتیں کبھی کی ہی نہیں۔۔۔براہ مہربانی بوجوہ کم مطالعہ ایسی تحاریر میری نظر سے نہیں گذریں اور  موجود ہیں تو مجھے معاف فرمائے گا  اور میری اصلاح بھی کیجئے گا۔۔۔










ذرائع ابلاغ نے نہ کہ ہمارے رویوں نے ہماری ثقافتی اقدار چھین لی ہیں


جی ہاں جنا بِ صدر! ذرا ئع ابلاغ نے ہماری ثقافتی اقدار چھین لی ہیں کیونکہ جو کچھ ہم دیکھنے پر مجبور ہیں اس پر بات کر نے کا بھی حوصلہ نہیں رکھتے۔ راز داری کے اشتہاروں کے پردے میں صاف ستھرے الفاظ ایسی بلیغ گالیوں کی صورت اختیار کر گئے ہیں کہ پھر اپنے مکان کی چھت کو کوٹھا کہتے ہو ئے شرم آتی ہے، دوست ، ہم سفر، ہمدم کے الفاظ وہ ڈراؤنے نقاب اوڑھ لیتے ہیں کہ مشرقی معاشرے کو منہ چھپانے کیلئے چادر نہیں ملتی۔ اعتماد ایسا اعتبار کھو تا ہے کہ لفظو ں کی قطاروں میں اسے جگہ دینے کو دل نہیں چاہتا۔ جی ہاں جنابِ صدر! ذرائع ابلاغ نے ہم سے ہماری ثقافتی اقدارچھین لی ہیں۔
کیونکہ ذرائع ابلاغ کسی بھی معاشرے کی آنکھ ہو تی ہے جو پڑھ نہیں سکتا وہ سن سکتا ہے اور جو سننا نہ چاہے وہ دیکھ سکتا ہے کہ ذرائع ابلاغ ہر سطح پرلوگوں کو متاثر کر تے ہیں۔ یہ جیسا دکھانا چاہتے ہیں لوگ ویسے ہی دیکھتے ہیں۔ یہ جیسا سنا نا چاہیں لوگ ویسا ہی سنتے ہیں اب یہ کہنے کی ضرورت ہی نہیں کہ تہذیب الاخلاق کے کاغذوں پر پاپ موسیقی کا بسنتی رنگ کیسے چڑھ جاتا ہے۔ میں تو اتنا سمجھتا ہوں اسی مشرقی معاشرے کے سر سے دوپٹہ اتار کر پردے کی بجائے آنکھوں میں حیا اور پردے کا تصوراسی ذرائع ابلاغ کا مرہونِ منت ہے۔
جی ہاں جنابِ صدر! جب بلو کے گھر کی ٹکٹیں کٹیں تو مدرسوں کے راستے سے لوگ بھٹکنے لگتے ہیں۔
کانٹا لگا کی صداؤں پر بدن تھر تھر ائیں تو مشرقی تہذیب کے غبارے بے آواز اور بے دم ہو جاتے ہیں ۔جب کتابیں ثابت کر نے لگیں کہ عمر فاروق موسیقی کے دلدادہ تھے تو شخصی سوچوں کے ہیرو تلوار کی بجائے گٹار کے ساتھ جھولتے نظر آتے ہیں۔بس بھئی بس زیادہ بات نہیں چیف صاحب وہ چانٹا بن جاتی ہے کہ بڑوں کو چھوٹوں کے سامنے بات کر نے کی ہمت نہیں ہوتی۔آجا نچ لے کی صداؤں میں حی علی الفلاح کی صدائیں دب کر رہ جاتی ہیں۔ فلموں کے ہیرو،حقیقی ہیرو بننے لگتے ہیں۔ مجاہدین کی اصلیت بنیاد پرستی کی پرتو میں جا چھپتی ہے۔ بچے کم سنی کی عمر گزارے بغیر نوجوانوں کا روپ دھار لیتے ہیں۔ بچیاں محبت نام کی دیوی کی مالا جپتے گھر کی دہلیز وں سے باہر جا گرتی ہیں۔
جنابِ صدر! یہ میڈیا ہی ہے جس نے بنت حوّا کو وہ طلسماتی شعور بخش دیا ہے جو اس کو اپنی پسند کے جیون ساتھی کی خاطر چادر اورچار دیواری کے تقدس کوپامال کر نے کا درس دیتا ہے۔
یہ میڈیا ہے جو نونہالانِ وطن کو یوں اکسا تا ہے کہ کہنا پڑ تا ہے۔
جگنو کو دن میں پر کھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے



 جی ہاں جناب صدر ، ذرائع ابلاغ نے ہماری ثقافتی اقدار بدل دیں بانسری کی آواز سن کر کانوں میں انگلیاں ٹھونس لینے والوں کی اولاد اسے ایک فیشن کے طور پر اپنا نے لگی۔تلو اروں کے سایوں میں پناہ ڈھونڈنے والے گلیمرپوسٹ کے صفحات سے گلیمر سمیٹنے میں مصرو ف ہو گئے۔ سخت گرمیوں میں عبا ئیں پہننے والیوں کے ملبوسات شفون کی قباؤں سے سجنے لگے۔  علم البیان کی جگہ موسیقی نے لے لی ذکر خدا سے قلب و نظر گر ما نے والے نا چنے گانے کو روح کی غذا سمجھنے لگے۔

ہم کن معاشرتی اقدار کی بات کر تے ہیں ہماری سماجی ، سیاسی، مذہبی سبھی اقدار کبھی ڈش انٹینا کی لہروں کی نذر ہوتی رہی ہیں ۔ کبھی آغا خان فاؤنڈیشن میانہ روی کے نام پر ہماری کتابوں کی ابجد تبدیل کرتی رہتی ہیں۔
جی ہاں ہمارے ثقافتی اقدار بدل چکی ہیں کہ تلواریں بیچ کر مصلے خرید ے جانے لگے ہیں ۔
ہماری ثقافتی اقدار چھن چکی کہ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے کا نعرہ لگانے والے سب سے پہلے پاکستان کے نعروں میں گم ہو گئے ہیں ۔
ہماری ثقافتی اقدار چھن چکی کہ ہم آج بھی ڈنکے کی چوٹ پر ہندوؤں کا تہوار منانے کے بعد سویرے سویرے کے کالموں میں لکھتے ہیں کہ چند بنیاد پرستوں کو بچوں کی بے کنار ہنسی اچھی نہیں لگتی ۔ وہ لوگوں کے چہروں سے خوشیاں نوچنا چاہتے ہیں۔
جٹی کے ویر نے بھابی کی چوڑیاں چکنا چور کر دی ہیں۔ سبزی منڈی کے سارے پھل بنا اشتہار ذرائع ابلاغ مشہور کر نے پر تل گیا ہے۔

آج ہمارے حال پہ نہیں تو شہر کے عزت دارو
کل کو تمہارے حال پہ ہم کو اشک بہانے ہوں گے

دوڑپیچھے کی طرف اے گردشِ ایام ت

’’دوڑپیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو ‘‘
تیرے ہوتے ہوئے جنم لیا ہو تا
تیرے ہوتے ہوئے میں مر گیا ہوتا
لوٹ جا عہد نبی ﷺ کی سمت اے رفتار جہاں
پھر میری پسماندگی کو ارتقا ء درکار ہے
جناب صدر !
دوڑ پیچھے کی طرف اے گرد شِ ایام تو کہ آج پھر میری اذان کو روح بلالی کی تلاش ہے۔ آج پھر میری اکھیوں میں پیا ملن کی آس ہے۔ میری پلکیں اسی راہ کی گرد چننا چاہتی ہیں جس راہ کی مٹی نے میرے محسن کے قدم چومے تھے۔ میری گلی کو چوں کی راتیں ، نیندمیں چھوڑ کر رعایا کی خبر گیری کر نے والے عمر فاروقؓ کو ترس گئیں ہیں۔ اے گردشِ ایا م دوڑ اور لے چل مجھے حضرت صفیہؓ کے خیمے کے پاس کہ میں انھیں خیمے کی چوب اکھاڑ نے میں مدد دے سکوں۔ اے گرد شِ ایام دوڑ اور لے چل مجھے معرکہ حق و باطل کے بیچ کہ میں اپنی اوڑھنی سے مجاہدین اسلام کی مرہم پٹیاں کر سکوں۔ اے گر دشِ ایام دوڑ اور لے چل مجھے اس دور میں جہاں عجمی اور عربی میں کوئی تفاوت نہیں۔ جہاں گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر کوئی فوقیت نہیں۔ مجھے لے چل اس دور میں جہاں بڑائی کی بنیاد تقویٰ ہوا کر تا ہے۔
جہاں پر چوری کر نے والے کے ہاتھ کاٹ دیئے جاتے ہیں۔
جہاں پر اپنے حصے سے زائد چادر لینے کے شک میں خلیفہ وقت جوابدہ ہو ا کر تا ہے۔ مجھے لے چل اس سادگی کے دور میں جہاں امارت کی علامت سمجھ کر امراء کی ڈیوڑھیاں ڈھادی جاتی ہیں۔ مجھے لے چل اس شجاعت کے دور میں جہاں الجنت تحت ظلال السیوف کے ایمان والے ماں کے قدموں تلے جنت کو فر اموش نہیں کرتے ۔ مجھے لے چل اس ا طاعت والے دور میں جہاں نیل جوان عورتوں کا نذرانہ لینا بند کر دیتے ہیں۔ مجھے لے چل اس عنایت والے دور میں جہاں ہزاروں میل دور حضرت ماریہؓ مسجد نبوی کے ممبر پر موجود خطیب کی نظروں میں ہوتے ہیں۔ مجھے لے چل اس صداقت والے دور میں جہاں ایفائے عہد کے لئے ایک ہی جگہ تین دن قیام کیا جاتا ہے۔ اے گردشِ ایام دوڑپیچھے کیطرف جہاں فضائے بدر کی صورت ابراہیم ؑ کا ایمان زندہ ہے۔ جہاں 313ہزار کے مقابل سینہ تان چکے ہیں۔ جہاں بغیر خون بہائے شہر فتح کر لئے گئے ہیں۔ جہاں عورتیں بھی مقدم ہیں۔ جہاں مرد بھی معتبر ۔
جناب صدر! آج کے دور کی بصیرت نے میری بصارت اندھی کر چھوڑی ہے۔ میرا ہر آنے والا دن پہلے سے زیادہ ڈروانا اور بھیانک ہے۔ رشتوں کا تقدس پامال ہو چکا۔ بیٹی حقوق کی جنگ میں اپنے ہی باپ کو عدالت کے کٹہر ے میں کھینچ لائی۔ چادر زینب کے تقدس کی امین نے سارے پردوں کو چاک کر کے مرد کے شانہ بشانہ ہو نے کو اپنی عظمت گردان لیا۔ اپنی روایت اور مذہبی اخلاقیات کو پس پشت ڈال کر وہ اپنے لباس میں بے لباس گھومتی ہے۔ اسے نمائش کی وہ چاٹ لگ گئی کہ چند اخباری تصویروں کے لئے وہ کسی بھی سیاسی میراتھن میں دوڑ سکتی ہے اور حقوق انسانی کی ڈفلی پر کوئی NGOاسے بہکاکر کسی بھی طرح نچوا سکتی ہے۔ اس کا دوپٹہ اس کے سر سے اتر کر گلے کا پھندا بن چکا ہے۔ حیا کی لالی میڈورا کے غاروں تلے جا چھپی ہے۔
جنابِ صدر! ہمیں نہیں چاہیے وہ نظام جو عورت کو کاروبار کا اشتہار بنا کر رکھ دے ۔ ہمیں نہیں چاہئے وہ ترقی جو ترقی کے نام پر پردے کو کاٹتی چلی جاتی ہے۔ ہمیں نہیں چاہیے وہ انصاف جو مختار ائیں پیدا کر تا ہے۔ ہمیں نہیں چاہیے وہ حکومت جو طیارے تباہ ہو نے سے ہی اترتی ہے۔ ہمیں نہیں چاہیے وہ نصاب جو ہمیں اپنے مذہب سے بے گانہ کر دے۔ نہیں چاہیے وہ کتاب جس کے لفظ مغربی اخلاقیات کے شہر ے سے پتھرا ئے ہوتے ہیں۔ نہیں چاہیے وہ قلم جو چند پیسوں کے عوض بستی قصیدے لکھتا ہے۔ نہیں چاہیے وہ معاشرہ جس میں عدل پیسوں کا محتاج ہے۔ نہیں چاہئے وہ طریقہ امتحان کہ امتحان سے پہلے ہی جس کے سوالنامے ردی میں بک جاتے ہیں۔ نہیں چاہیے وہ شہرت جو پینے کا صاف پانی تک مہیا نہ کر سکے۔ نہیں چاہیے وہ شریعت جو مسجدوں میں بم پھٹا نے کا درس دیتی ہے۔ نہیں چاہیے وہ حمیت جو المسلم اخوالمسلم کے نعرے سن کر بھی بیدار نہیں ہوتی ۔ نہیں چاہیے وہ نصیحت جو عمل سے خالی ہے۔ نہیں چاہیے وہ علم جس کا داعی خود اندھا ہے۔
جناب صدر! آنے والے وقت کے سرابوں میں الجھا کر ہماری گزشتہ منزل بھی ہم چھین لی گئی۔ ہم کس معاشرتی ترقی کی بات کر تے ہیں ؟ کیا وہ زمانہ اچھا تھا کہ جس میں باپ کی طرف محبت کی نگاہ کر نے والوں کو حج کے ثواب کا عندیہ ملے یا پھر یہ معاشرہ اچھا ہے جس میں باپ کو کچرے کا تھیلا سمجھ کر گلی کے نکڑ کے تھڑے پر ڈال دیا جاتا ہے۔ کیا وہ زمانہ اچھا تھا جس میں ماں کے قدموں تلے جنت کی بشارت رکھی گئی تھی۔ یا پھر یہ زمانہ اچھا ہے جس میں بوڑھی ماں کو اولڈ پیپلز ہوم کی زینت بنا دیا جاتا ہے۔ ہم کس عدل و انصاف کی بات کر تے ہیں؟ کیا وہ زمانہ اچھا تھا جس میں جرم کی سزا بلا امتیاز حسب و نسب دی جاتی ہے یا پھر یہ زمانہ اچھا ہے جس میں اقربا ء کی کو تاہیوں کو مصلحتوں کی غلاف اوڑھے جاتے ہیں۔ ہم کس اخلاقیات کی بات کر تے ہیں؟ کیا وہ زمانہ اچھا تھا جس میں خریدار کو بیچنے سے پہلے مال کے نقائص بیا ن کئے جاتے تھے یا پھر یہ زمانہ اچھا کہ خراب مال پر بہت اچھا کی مہریں لگا لگا کر گاہکوں کو لوٹ لیا جا تا ہے۔ ہم کس جنگ کی بات کرتے ہیں ! کیا وہ زمانہ اچھا تھا جس میں شہر کے شہر بغیر کسی قطرہ خون بہائے فتح کر لئے جاتے ہیںیا پھر یہ زمانہ اچھا ہے کہ ایک جرنیل کے کئے کی سزا میں لاکھوں کی آبادی کو لقمہ اجل بنا دیا جائے۔ ہم کس مذہبی تعصب کی بات کر تے ہیں؟ کیا وہ وہ زمانہ اچھا تھا جہاں مسجد کے تقدس کو پامال کر نے والے بدوی کو معاف کر دیا جاتا ہے۔ یا پھریہ زمانہ اچھا ہے کہ قبروں کو ٹھو کریں مار مار کر حیوانی قوت کا اظہار کیا جا تا ہے۔
ہم کس حسن سلوک کی بات کر تے ہیں؟ کیا وہ زمانہ اچھا تھا کہ جس میں جنگی قیدیوں سے بچوں کی تعلیم کا کام لیا جاتا ہے یا پھر یہ زمانہ اچھا ہے کہ جس میں قیدیوں کو زنجیروں میں جکڑ کر شکاری کتو ں کے پنچوں میں دے دیا جائے۔ تو زی وقار مجھے کہنا پڑتا ہے ۔ دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو۔

عمران خان کا چیچہ وطنی جلسہ اور خدشات



Umer Gujjar PTI Youth president 


 چیچہ وطنی کا عمران خان کا جلسہ تحریک انصاف کے حامیوں میں یہاں کے سیاسی بساط کے کامیاب مہروں کے اضافے کا تسلسل تھا۔۔۔۔چند اور دور اندیش لوگ اس پھل کے لئے جھولیاں پھیلائے بے تاب کھڑے تھے جو ملک کے نوجوانوں کے لہو سے سیراب شدہ نظریاتی سیاست کی نئی فصل کا پہلا ثمر ہو گا۔۔۔۔ابھی اس فصل کا جھاڑ اتنا نہیں کہ اقتدار کے ایوانوں میں کسی کرسی کا خون بہا ٹہھرے۔۔۔ابھی شخصیتوں کا سحر باقی ہے۔۔۔لوگوں کو سونامی سے امیدیں تو ہیں لیکن پھر بھی اپنے گھر کا کچھ بوسیدہ سامان نئے سفر میں ساتھ رکھنے پر مصر ہیں۔۔۔۔عوام بھی بے چارے کیا کریں۔۔۔اتنے دھوکے اپنوں اور اپنایت کے نام پر ہو چکے کہ اب کسی بھی ہمدرد پر چور، ڈاکو کا گماں ہوتا ہے۔۔۔۔کیا کریں کہ خوف ہے خان بھی اقتدار کی مسند پر اسی نشے میں بدمست نہ ہو جائے جس کے بعد اپنے تعلق کے تعویذوں پر لبیک لبیک نہ پکار اٹھے۔۔۔۔لیکن ایک امید ہے جو مجھ ایسے بہت سے لوگوں کو ہے۔۔۔اک امید ہے جس کے بہت سے تار اب خان سے جڑ چلے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
A view of Sonami in Chichawatni
چیچہ وطنی شہر اب خان کے نام سے آشنا ہو چلا ہے، کچھ پرانے سامریوں کے سحر میں گرفتار دیہاتی اب بھی واہموں میں مبتلا ہیں کہ ان کے راوی میں کوئی طغیانی نہیں ، اور سدا حکومتوں کے سائے میں پلنے ہی بہترین دوست ہوا کرتے ہیں۔۔۔۔۔ایک طبقہ تو ایسا ہے جن کے پاس دلیل ہے کہ پرانے چہرے اگر انقلاب کے علمبردار ہوں گے تو ان لوگوں کی آب و تاب تو وہ کب کی دیکھ چکے۔۔۔وہ سونامی جو اس پرانے نظام کو حرف غلط کی طرح مٹائے گا کب آئے گا۔۔۔۔۔
خان کا اعلان کہ اس شہر کا ہر شخص لیڈر بن سکتا ہے۔۔۔آپ اپنے راہنما کا خود انتخاب کر سکتے ہیں۔۔۔۔کی گونج مصلحت پسندی کی گرد میں کھوتی ہوئی محسوس ہوئی

people going to listen Imran Khan


وہ کون ہو گا جو  کم و بیش آدھی صدی پر محیط اس خاندانی نظامِ حکومت کے خلاف کھڑا ہو گا اور وہ کون کون ہو گا جو ایسے باغی کا ساتھ دے گا۔۔۔شہر کے نوجوان اہل ثروت کے ہاتھوں یرغمال ہوئے لگتے ہیں۔۔۔۔لیکن وسوسے کا سایہ اتنا سیاہ ہے کہ کسی صبح کے آنے کی کوئی نوید کہیں دور تک بھی نہیں۔۔۔۔۔لوگ سمجھوتے کے موڈ میں ہیں، عمران خان کے چکر میں وہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی انھی پٹے ہوئے سیاستانوں کی ووٹ تجوریاں بھریں گے جن کے نام بھی سننے کے رودار نہیں اور دوسرے طرف ان شاطروں کو بھی خبر ہے کہ ان کے شخصیاتی سحر میں گرفتار عوام ان کے بغیر کسی بھی انقلاب کے حامی نہ ہوں گے۔۔۔۔۔۔

پھر بھی ایک امید تھی جس کی لڑی میں پروے ہوئے بہت سے پڑھے لکے لوگ اس ہجوم میں شریک تھے، بالکل میری طرح اب جن کے لئے کوئی بھی اور جماعت کوئی آپشن نہیں رہی، اگر یہ دھوکا ہے تو پھر ایک دھوکا اپنی مرضی سے کھا کر دیکھیں گے۔۔۔۔۔اب تبدیلی مقدر ہے۔۔۔۔۔۔پرانی جماعتوں کو پتا ہونا چاہیے ان کے جھوٹے وعدوں کے جھانسے میں اب آنے والے کم از کم پڑھے لکھے لوگ نہیں ہوں گے۔۔۔۔

سادگی اپنائیے صاحب

سادگی اپنائیے صاحب، وہ جو اقبال نے کہا تھا کہ
تیرے صوفے ہیں افرنگی تیرے قالین ایرانی
بس ایسے ہی رنگ برنگی عینک ، مہنگی گھڑی، چمکتی چپل، کسی ڈیزائنر کے ٹھپے والے ملبوسات ،اور ایسا ہر رنگ جو ہمارے مزاج کا حصہ صرف ذاتی دکھاوے کی تسکین کے لئے ہے، ایک جھوٹا رنگ ہے، ایک نظر کا دھوکا ہے، ایسی اشیا سے بازار بھرے پڑے ہیں جو لوگوں کی رعونت اور دکھاوے کو بڑھاوا دینے کا سامان مہیا کرتیں ہیں، اور لوگ ایک دوسرے سے ممتاز نظر آنے کی دوڑ میں اشیا بدل بدل کر خود کو منفرد کرتے نظر آتے ہیں۔
پچھلے سالوں میں ہمارے ایک منتخب وزیر اعظم کی گھڑی نے شہرت پائی تھی، جس کی قیمت لاکھوں میں بتائی جا رہی تھی، کسی خاتون اول کے پرس کے بارے میں بھی کچھ ایسا ہی سننے کو آیا تھا، ہمارے امرا کے خاندان پیرس کی شانزے لیزے ، دوبئی کے سپر مال اور برطانیہ اور امریکہ کے میگا سٹوروں پر مضحکہ خیز مہینگی اشئیا کی خریداری میں ملوث پائے گئے ہیں۔
مجھے ان کہانیوں اور کرداروں کے نام بھول گئے جو اپنے دستر خوانوں پر سینکڑوں خوان سجایا کرتے تھے، اپنے حرم میں ستائیس سو بیویاں رکھتے تھے، جو اس لئے دشمن کے مفتوح علاقے سے نہیں نکلتے تھے کہ ان کے پاپوش بردار بھاگ گئے ہوتے تھے، یا جو انسانی بدنوں سے شطرنج کی بساط سجاتے تھے، یا جو بوتلوں میں نہیں حوض بھر کر شراب پیتے تھے۔۔۔۔ان کی دولت کے اظہار کا یہ ذریعہ ان کے ساتھ رخصت ہوا اور وہ اپنے پیچھے دھندلی سی کہانیاں چھوڑ کر چلے گئے۔ کیا تاریخ نے ان عیاش لوگوں کی زندگیوں کو دوام بخشا؟ اور کتنے لوگ ہیں جو ان کے نام پر آج کورنش بجا لاتے ہیں؟
اگر آپ مذہب کے دلائل سے میدان عمل روشن کئے ہوئے ہیں تو ایک ہی بات میں سارے اخراجات کی تقسیم کو بیان کر دیا گیا ہے۔ کہ خیر الامور اوسطھا ۔۔۔کہ میانہ روی بہترین حکمت عملی ہے۔ کہ نہ بخیلی اس قدر کے لباس سے خدائے بزرگ و برتر کی نعمتوں کا کفر نظر آئے اور نہ اسراف اسقدر کہ چادریں بازاروں میں لٹکتی جائیں۔
بل گیٹس کے بچوں سے کسی نے پوچھا کہ تم دنیا کے امیر ترین شخص کے بچے ہو ، زندگی آسائشوں میں کٹتی ہو گی ، انہوں نے کہا نہیں جناب ہمیں ایک محدود سا جیب خرچ ملتا ہے، حتی کہ اپنا پسندیدہ پھل کھانے کے لئے بھی کبھی کبھی پیسے کم پڑ جاتے ہیں، ۔۔۔۔۔۔
وارن بفٹ نامی امیر آدمی کی دانش آمیز باتیں بھی آپ نے سن رکھی ہوں گی ، خرچ کرنے کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ اگر تم ایس چیزوں پر خرچ کرتے ہو جن کی تمہیں ضرورت نہیں تو تم پر ایسا وقت بھی آئے گا جب تمہیں ایسی چیزیں بیچنا ہوں گی جن کی تمہیں ضرورت ہے۔
یہ سادگی صرف اخراجات کے خرچ کی ہی سادگی نہیں بلکہ زندگی بسر کرنے کی سادگی کو بھی اس میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ یعنی رہن سہن میں ایسے اطوار کا انتخاب ہو جس میں نخوت اور غرور نہ ہو بلکہ سادگی و پرکاری ہو۔ جیسے
دو سال پہلے کی برف باری میں ڈنمارک کی وزیر اعظم اپنے گھر کے دروزے کے سامنے سے برف ہٹا رہی تھیں اور ایک ہمسائے نے ان کی تصاویر بنا ڈالیں، ناروے کے وزیر اعظم ملک کے سیاسی حالات جاننے کے لئے ٹیکسی چلاتے رہے، ڈنمارک کے موجودہ وزیر اعظم نے اس سال کی انتخابی مہم کے دوران سائیکل پر شہر کےمختلف محلوں میں تشریف لے کر گئے۔ مجھے خود پچھلے سال اپنے علاقے کے ناظم کے ساتھ ایک ملاقات کا موقع ملا اور پروگرام کےآخر میں جب سب لوگ سامان سمیٹنے لگے تو ناظم صاحب نے چائے کے برتن دھونا شروع کر دئے۔ ۔۔جاپانی ائیر لائن کا چیف اپنے ورکروں کے ساتھ کھانا لینے لی لائن میں لگتا بھی آپ نے بارہا دیکھا ہو گا، یا اوباما کا  عام جگہوں پر جا کر لائن میں لگ کر برگر خریدنا بھی سوشل میڈیا کی زینت بنا رہا ہے ۔۔۔۔
لیکن اگر ہم اپنے طرز زندگی کو اخراجات اور اطوار کی سادگی کی کسوٹی پر پرکھیں تو ہم دنیا سے ابھی بہت پیچھے ہیں۔ یہاں اسراف کا نام امارت سمجھ لیا گیا ہے، اور چند جھوٹے سٹیٹس سمبل ہماری سادگی کا جا بجا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں۔ اگر اپنے قومی راہبروں کی زندگی کو معیار سمجھ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے تقریبا سبھی لیڈر عام عوام سے ایک فاصلے پر ہیں، وہ عام اجتماعات میں جا ہی نہیں سکتے، آپ ان کو کسی عوامی مقام پر کبھی پائیں گے ہی نہیں، نہ کسی بس پر، نہ ریل پر ، نہ کسی ڈھابے پر، ہاں اگر کبھی کوئی فوٹو شوٹ وغیرہ ہو تو الگ بات ہے، وگرنہ طرز زندگی کی حد تک کسی کی زندگی بھی عوامی نہیں اور نہ ہی سادہ ہے۔ ہمارے پیارے امیر جماعت اسلامی سراج الحق صاحب ایک سادہ سے شخص ہیں اور عوامی بھی ۔۔۔خدا ان کو خوش رکھے اور ان کے چاہنے والوں کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی بھی توفیق ہو۔
عمران خان صاحب کے چاہنے والے بھی ان کو سادہ سا شخص بتاتے ہیں، لیکن مجھے وہ عام آدمیوں سے تھوڑے فاصلے پر رہنے والے شخص معلوم ہوتے ہیں۔ کیونکہ ایک دو جلسوں میں جب لوگ ان پر ورافتہ ہوتے ہوئے بہت پاس پہنچ جاتے ہیں تو خان صاحب اس عوامی محبت پر جو رد عمل دیتے ہیں وہ تھوڑا سا غیر عوامی ہے۔
اس ترتیب سے اگر ملک کے باقی لیڈران کو دیکھا جائے تو زیادہ تر لوگ عوامی کہلواتے ضرور ہیں لیکن ان کا رابطہ عوام میں سے خواص لوگوں سے ہی ہے۔ اور سادگی ان خواص سے بہت دور ہے۔
اپنے پروٹوکول کے لئے ہزاروں کو سڑکوں پر ذلیل کرنا، اپنے میزبانوں کو اپنے فرمائشی کھانوں کا پابند کرنا، اپنے لباس و اطوار سے خود کو دوسروں سے ممتاز بتانا ان میں سے اکثریت کا عام رویہ ہے۔
کس کے بچوں نے سادگی کا درس پڑھا، کون کسی عام سے سکول کا طالب علم ہوا، کس نے استاد کے جوتے سیدھے کئے، کس نے عوامی سواری میں سفر کیا، کس نے تپتی دوپہروں کی دھوپ جھیلی، کون مون سون کی بارش میں بہا۔۔۔۔۔ہمارے لیڈران اور ان کے بچوں کی زندگیاں ہمارے عمومی عوامی مزاج سے ہٹ کر پروان چڑھتی ہیں۔
اس لئے کسی بھی عام آدمی میں خاص بننے کی آرزو میں لباس و اطوار بدل لینے کا عارضہ لاحق ہونے کا خطرہ بدرجہ اتم موجود ہے۔ یہ چھوت کی بیماری نگاہوں کو یوں خیرہ کرتی ہے کہ نام نہاد سٹیس کی خاطر آدمی اپنی سادہ سی گردن میں لوہے کا سریہ لگوانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
کسی کے ایرانی قالینوں  کےسے قالین لانے کے لئے لوگ کسی شاٹ کٹ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ اور اس دوڑ کا حصہ بن جاتے ہیں ۔۔۔جو دوڑ لکھنو کے نواب دوڑ چکے۔۔۔۔
ان لوگوں نے کیا پایا، جنہوں نے من چاہی زندگی حآصل کرلی، چمکتی ہوئی زندگی، دھوپ سے بچانے والی عینک کے خوشنما شیشے کی سی زندگی، بڑی گاڑی، نوکر چاکر، اور سب کچھ جس کی تمنا کی جا سکتی ہے۔
دوستو ۔۔۔۔زندگی کے رنگوں کا فیصلہ ہم نے خود کرنا ہے، ایک ایسی زندگی جو خود کو خوبصورت لگے نا کہ دوسروں کو محرومیاں بانٹے اور کمتر ہونے کا احساس دلائے۔
یا ایسی زندگی جو ندی کے پانی کے ایسی ہو ، آہستہ آہستہ چلتی ہوئی، سردیوں کی دھوپ ایسی ۔۔۔۔۔جو آہستہ آہستہ کسی سرور کی صورت بدن میں اترتی رہے اور کسی دوسرے کی زندگی میں باعث خلل نہ ہو ۔۔۔فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔۔۔۔۔
انسان سادہ اور صاف ستھرے کپڑے پہن کر بھی خوبصورت لگ سکتا ہے، اس کے جوتوں کی قیمت سے اس کی شخصیت کی قیمت میں اضافہ ہرگز نہیں ہوتا۔۔۔۔سٹیٹس کی اس دوڑ سے خود کو باہر کرکے ایک پرسکون زندگی کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ 

یاد وطن


بسم اللہ الرحمن الرحیم 

"یاد وطن" 


بہت دفعہ قلم اٹھاتا ہوں اور بھول جاتا ہوں کے کہانی کا آغاز کیا تھا۔ وہ سارا ماجرا کیا تھا جولکھنا تھا اور وہ کون لوگ تھے جو میرے مخاطپ تھے ۔ دیس سے باہر ہوں لیکن دیس اپنے دل میں بسا ہےکبھی لگتا ہی نہیں کہ وطن سے باہرہوں- -ـ--------- لگتا ہے کہ اس چوک کے بعد جو پہلا اشارہ ہے اس سے دائیں ہاتھہ جو پہلی گلی ہے وہیں اپنا گھر ہے- گھرکا ٹی وی، انٹرنیٹ، اخبار، اور ریڈیو سب پاکستان کی گلیوں سے جڑے ہوئے ہیں- وہی سارے سیاسی مزاکرے جو لاہور کی بیھٹکوں میں سنا کرتے تھے اسی ذائقے کے ساتھہ جلوہ گرہیں وہی مزدوری کے جھنجھٹ، کہ صبح گھر سے نکلو اور شام گھر کو لوٹو ، گھر کے مسائل، اچھی ذندگی کے آنے کے خواب، سارا کچھہ اسی تابانی سے جلوہ گر ہے کہ لگتا ہی نہیں کہ پاکستان سے اتنی دور نکل آتے ہیں- ہاں جب ٹیلیفون کے بل پرپاکستان کی کالز کی رقم پڑھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ یہ جگہ اس جگہ سے ذرا دور ہے جہاں من بسا ہے- کبھی کبھی "بے وفا" دوستوں کی یاد احساس دیلاتی ہے-اب تو اکژ ایسا ہوتا ہے کہ ٹیلیفون کی گھنٹیاں دوستوں کے دلوں پر دیتی ہیں اور چپ چاپ پلٹ آتی ہیں پھر وہاں سے کوئی سندیسہ، کوئی ای میل، کوئی میسج یا "مس کال"بھی نہیں آتی- جب کبھی یاد کی چبھن سے بے قرار ہم فون کر لیں تو کر لیں اعلی عہدوں اور مصروف زندگی کی دوڑ جتیتے احباب ہمارے خطوں(ای میل)کا جواب بھی نہیں دیتے- ان کی مصروف زندگیوں میں تارکینِ وطن دوستوں کیلئے اب کوئی وقت نہیں رہا –شاید انہوں نے یہ طے کر لیا کہ یہ لوگ ہماری زندگی سے چلے گئے - ہماری زندگی کے بوجھ کو ائیر پورٹ کی دیوار پیچھے پھینک کر وہ اپنے فرض سے ادا ہو گئے اور اب جس ------------- دن دوبارہ ان کے دروازوں پر دستک دیں گے تو جدائی میں بیتے ایک ایک لمحے کی داستان کہہ سنائیں گے اور اگر کبھی ملاقات نہیں ہو 
گی تو وہ اپنی خاموش یک طرفہ محبت کی آگ میں جلتے جلتے اپنی اپنی زندگی گذارتے رہیں گے

کبھی کبھار تو "یاد وطن" کا سارا چہرہ پرانے دوستوں کی"دشمنیاں" کِر کرا کر دیتی ہیں اور دل بے اختیار چاہتا ہے کہ کا ہے کو جائیں وہاں لوٹ کر کیا پڑا ہے وہاں ----------- بے رحم حکمران، بے حس عوام ، بے بس نظام ------بے وفا دوست ، یہاں ایک آسرا تو یے کہ "مارا دیا رغیر میں اپنے وطن سے دور"------------------------ !

مگر حالات کی تلخی میں اگر کچھ سیکھا ہے تو عاجزی سیکھی ہے – برداشت کی حد ہے کہ اب ظبط کرنا چاہتے ہیں – ہمارے غرور اور گھمنڈ میں اب "مان" کی طاقت بھی نہیں رہی – ایک اچھی یاد کی طرح کسی خوبصورت خواب کیطرح وطن کی یادیں گدگداتی ہیں- ایک مسکراہٹ لبوں پہ کھیل جاتی ہے- ایک آنسو پلکوں کے کناروں تک آتا ہے اور پلٹ جاتا ہے- سوچتا ہوں وہ کیا خواب تھے جنہیں ڈھونڈنے نکلا ہوں وہ کیا لوگ تھے جنہیں گنوایا ہے-

وطن کے خوش قسمت لوگو! غریب الدیار لوگوں تمہیں یاد کرتے ہیں – ان کی گفتگو کی ہر تان میں تم ہو! ان کی پریشانی کا ہر تار تم سے جڑا ہے- ان کی خوشی کی ساری کرنیں تمہاری خوش بختی سے پھوٹتی ہیں محمد رمضان رفیق

سروس سٹرکچر کے دکھڑے۔۔مسیحا اور عام محکمے

وقت کرتا ہے  پرور ش  برسوں
حا دثہ  ایک دم نہیں ہوتا
لوگ کہتے ہیں کہ معاملہ چند سکوں کا ہے، روپوں کا لالچ ہے، مسیحا اندھے ہو چکے ہیں، درجن لوگ مر چکے لیکن ان قصائیوں کو کسی کا درد محسوس نہیں ہوتا۔۔۔کل کے ایک ٹی وی پروگرام نامی گرامی میزبان مہمان ڈاکٹر سے کہہ رہے تھے کہ آپ کی تنخواہ بیالس ہزار ہے اور ایک سینٹر کی اڑتالیس ہزار اور اس طرح اور مزید عظیم دلائل جن سے ثابت ہوسکے کہ ڈگریوں کے بل پر انسان نہیں بنتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ان کا مطالبہ ایک سروس سٹرکچر ہے اور ہزار وعدوں کے باوجود حکومت اس کی کوئی حامی نہیں بھر رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لوگ یہ بھی نصیحت فرما رہے ہیں کہ ان آسمانی فرشتوں کا کام تو ہے ہی خدمت ۔۔جنگ ہو یا امن ان کا ان سیاسی معاملات سے کیا ۔۔۔۔۔تھوڑے جذبات ٹھنڈے رکھیں تو کچھ عرض کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گذشتہ نامعلوم سالوں سے محکمہ زراعت والوں نے بھی ایسا ہی سروس سٹرکچر کا مسئلہ اٹھایا تھا۔۔۔۔اس مسئلے کو اٹھانے والے ایک ایک کر کے اٹھتے چلے گئے لیکن سروس سٹرکچر وہیں کا وہیں رہا۔۔۔۔کئی سینئرز ساری عمر ستارویں گریڈ سے اوپر کا زمانہ دیکھ ہی نہ پائے۔۔۔بلکہ اس محمکہ میں ایک اور بدعت نازل ہوئی کہ جس کو کافی عرصہ ہو جائے اس کو سوا ستارویں  گریڈ میں ترقی دے دی جائے۔۔۔۔زراعت والوں  کا شور کسی تک نہ پہینچ پایا۔۔یہاں آخر سننے والا ہے کون جو کوئی اپنا دکھ سنایے۔۔۔۔ڈاکٹر جب تک اپنا معاملہ آہستہ آواز میں سناتے رہے کسی کے کان پر جوں نہ رینگی اور لمبی چوڑی واننگز کے بعد انھوں نے کہا کہ اس بیگار پر کسی اور کو رکھ لیں تو ہم ان سے کہتے ہیں جذبات کی تڑکے سے کام چلاو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہرگز مت سمجھیے کہ میں اس طرح مریضوں کے بے یارو و مددگار ہونے کو ٹھیک سمجھتا ہوں کیونکہ عام روش یہی کی کہ خیال عام کے خلاف کوئی ذرا سی بات ہوئی نہیں اور لوگوں نے ساری توپوں، تلواروں کا رخ آپ کی طرف کر دیا۔۔۔۔میرا خیال ہے ڈاکٹر بارش کا پہلا قطرہ ہیں تاکہ حاکم وقت جاگ جائے اور باقی حکومتی نوکروں سے پو چھے کہ ان کو کوئی مسئلہ تو درپیش نہیں وگرنہ ہر طاقتور محکمہ اپنے حقوق اسی ڈھٹائی سے حاصل کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔۔۔۔
ویسے بھی جب کرپشن کرنے والے ، نااہل، چاپلوس ہر میدان میں آگے نکلنے لگیں تو زندگی میں محنت کرنے والوں کی فرسٹڑیشن اور بڑھ جاتی ہے۔۔۔ہمارے لئے افسوس کی بات ہے کہ پہلے اساتذہ سڑکوں پر آیے تھے، پھر نرسز کو باہر نکل کر بتانا پڑا کہ ہم بھی ہیں۔۔۔۔اس لمبی لائن میں اب ڈاکٹرز کے آنے کا شور ہوا ہے۔۔۔۔۔ابھی اور بھی محکمے نکلیں گے۔۔۔کیونکہ خرابی کے اس دور میں پوری تو کسی کی بھی نہیں پڑ رہی۔۔۔۔۔۔یہ مسیحائی کا زوال نہیں بلکہ ہمارے مزید بگڑتے ہوئے حالات کی نشاندہی ہے۔۔۔۔حاکمانِ وقت کو کچھ اور بھی سوچنا ہو گا کیونکہ جس جس کو عقل آتی جائے گی وہ سٹرکوں پر نکلتا چلا جائے گا۔۔۔۔اور اچھے برے کی کہانی پھر کسی وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔۔۔۔

بے چارہ طارق ملک۔۔۔۔مسل دیا جائے اور کچل دیا جائے

تشویش ہے۔۔۔۔سخت تشویش۔۔۔جو طارق ملک نامی شخص کے ساتھ ہوا۔۔۔۔۔وہ جو کچھ رازوں سے پردہ اٹھانا چاہتا تھا۔۔۔۔وہ جسے آزاد دنیا کی آزادی کی چاٹ لگی ہوئی تھی۔۔۔وہ جو غلامانہ خوبو سے نا آشنا تھا۔۔۔۔۔۔کیسے پہاڑ کے نیچے آتا چلا گیا۔۔۔۔آرام سے سمجھایا گیا۔۔۔یار ہتھ ہولا۔۔۔۔۔کمی کمینوں کی بستی میں جاگیر دار سے پنگا۔۔۔۔۔وہ سب کچھ جو گھٹیا درجہ کی فلموں میں ہوا کرتا ہے۔۔۔کہ وڈیرے کی بدمعاشی پر کسی شریف آدمی کی آواز بھی نہیں نکلتی اور ہر شریف آدمی اندر سے کنڈی لگا کر بس آسمان کی طرف آواز لگاتا ہے۔۔۔اوپر والے تو ہی کچھ کر۔۔۔اور پھر ادھ بکی ہوئی پولیس کا کوئی نمائیندہ اس بستی میں آتا ہے تو اس
کو کوئی گواہی اور گواہ بھی میسر نہیں آتا۔۔۔۔

وہ جو دنیا چلانا بہتر سمجھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ حکومتوں سے ٹکر لینا سرکاری آدمی کے کبھی بھی بس میں نہیں ہوتا۔۔۔۔یہاں تو ہر شاہیں کا سر کہیں نہ کہیں خم ہوا ہوتا ہے۔۔۔۔اور پاکستان میں جھتے بازی، گروہ بازی قسم کا نظام ہے۔۔۔جس میں اکیلا آدمی کبھی بھی گروہ کے مقابل نہیں آ پاتا۔۔۔۔۔کسی محمکہ کی انتظامیہ کا ڈھانچہ کرید کر دیکھئے ۔۔۔کوئی نہ کوئی گروہ چھایا ہوا ملے گا۔۔۔کہیں پر یہ تقسیم سیاسی ہے اور کہیں پر ذاتی۔۔۔۔۔لیکن اس نظام کی بڑی قباحت یہ ہے سچ کو سچ نہیں مانا جاتا ۔۔۔بس جو احباب کی منشاہے۔۔وہ ہی سچ ہے۔۔۔۔۔وہ جو اپنے ہم خیال لوگوں نے کہا بس وہی ٹھیک ہے۔۔۔۔ایسے میں کوئی ایک آدھ سر پھرا کہیں سے اگتا ہے۔۔۔اس کو پسند سبھی کرتے ہیں لیکن اس کا ساتھ کوئی نہیں دیتا۔۔۔۔
وہ جو ایک آدھ دن سے ڈھکے چھپے الفاظ میں طارق ملک کے استعفی کے متعلق سنا گیا ہے۔۔۔۔وہ طمانچہ ہے اس ساری مہذب دنیا کے منہ پر جس کا ہم خود کو ہمسایہ کہیتے ہیں۔ پاکستان کے کاروباروں کی منڈی میں کھلواڑ کرنے والے یہ بھیٹیرئے اب لوگوں کی دہلیزوں کو پھلانگنے کے درپے ہیں۔۔۔۔اب بھی وضع دار قسم کے درباری لکھاریوں کو حکومت سے کسی ایسے قدم کی امید ہے جس سے وہ لوگوں کی آنکھوں کا رخ کسی اور دھوئیں کی طرف کر پائیں۔۔۔۔اور ایسا ہی ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں۔۔
یہاں کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔ایک طارق ملک کے چلے جانے سے کون سے نظام درہم برہم ہوگا۔۔۔کس کے سر پر جوں رینگے گی۔۔۔۔کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔
کئی درباری اس کی کرسی سنبھالنے کے کب سے منتظر ہوں گے۔۔۔جہاں اخلاق کی بنیادی اقدار دم توڑنے لگیں اس معاشرے  میں کچھ بھی ہو جائے بے حسی رواج پکڑتی جاتی ہے۔۔۔لڑکیوں کی لاشوں سے بالیاں نوچنے والےبدنصیبوں کی آنکھیں تو کب کی پتھر ہو چکیں۔۔۔۔مسجدوں کا تقدس پامال کرنے والے کس میراث کے پالن ہار ہوں گے۔۔۔۔چھوڑیے صاحب کچھ نہیں بدلے گا۔۔۔۔۔
طارق ملک ایک ننھا سا پتھر تھا جو اس بدبودار جوہڑ میں گرا۔۔۔۔کچھ چھنٹیں اٹھیں اور کیا بس۔۔۔۔۔ایک چائے کی پیالی کا طوفان سمجھئے۔۔۔۔ایک بھنور گرداب تھا۔۔۔۔۔۔یہاں سب برابر ہو جائے گا۔۔۔دو دنوں کی بات ہے۔۔۔۔۔۔جئے میرا لیڈر۔۔۔اور اس کے بچے اور ان کے بچے۔۔۔اور ہم غلام ابن غلام۔۔۔۔ 

تحریک انصاف کا جنازہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے حسرت

محترم عرفان صدیقی کا تازہ کلام پڑھا تو پتہ چلا کہ تحریک انصاف کا جنازہ نکل چکا ہے۔۔کیونکہ آخری ایک ارب روپیہ تو وہ آخری جلسے میں جھونک چکے ہیں۔۔۔سارے کے سارے معتبر جائزے بھی ان کے بیانات پر دلائل ہیں اور اب تخت رائیونڈ سے سہہ بارہ قیمے کے نان، حلوہ پوری، سرے پائے وغیرہ عوام کی دسترس میں ہوں گے۔۔۔بہار کا وہ سماں مہکا ہی رہے گا اور شیر اور بکری جس گھاٹ سے پانی پیتے تھے ان کی سنگت اسی طرح سے برقرار رہے گی۔۔۔نئی سڑکوں اور خوبصورت بسوں کا خواب تعمیر ہوتا رہے گا ۔۔۔بادشاہ معظم نواز شریف، ولی عہد سلطنت اسی آب و تاب کے ساتھ جلوہ افروز رہیں گے۔۔۔۔اور لعنتی پیپلز پارٹی جس کے پانچ سال تک عوام کی رگوں سے لہو تک نچوڑ لیا اس کو تو وہ کسی صورت اب شریک اقتدار دیکھنا نہیں چاہتے اور اس کی ایک صورت جس میں تحریک اور پی پی پی کو ایک تصوراتی تصویر میں اکھٹا کرکے انہوں نے جس طرح کا بین کیا ہے اس کی مثال سیاسی صحافت کی تاریخ میں
مشکل سے ہی ملتی ہے۔۔۔۔
پتہ نہیں یہ عوام کو بالکل جھڈو سمجھتے ہیں۔۔۔کہ جس کی گود میں پانچ سال بیٹھ کر یہ حکومت کرتے رہے اور جس جس طرح سے انہوں نے پی پی کا ساتھ نبھایا ہے اور اب اسی کی مخالفت سے عوام سے ہمدردی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔
عوام کرائے کے لکھاریوں سے ہوشیار رہیں۔۔۔۔

اردو بلاگرز ایسوسی ایشن ایک خاکہ اور خیال

گذشتہ دنوں اردو بلاگرز کی منتخب تحاریر پر کام کرنے کا اتفاق ہوا، اس دوران  شدت سے ایک ایسوسی ایشن کی کمی محسوس کی گئی۔ افسوس بھی ہوا کہ اتنے خوبصورت لوگ کسی نظم کو قبول کرنے کے خواہشمند ہی نہیں۔ ایک ایسوسی ایشن سے اکثر کے ذہنوں میں کسی سیاسی جماعت کا سا تاثر ابھرتا ہے اس لئے اکثر دوست بات سنے بغیر ہی انکار میں سر ہلا دیتے ہیں۔ میں اپنے بلاگر دوستوں کے سامنے چند گذارشات رکھنا چاہتا ہوں۔ امید ہے ہے اس کو پیلی آنکھوں سے نہیں دیکھا جائے گا ۔

کسی سیانے نے کہا تھا کہ دور تک چلنے کی آس ہو تو اکھٹۓ چلو، تنظیم کی اہمیت میں کتابیں بھری پڑی ہیں، جدید سماجی سانئس بھی ہم خیال لوگوں کے پریشر گروپ کی شدت سے حامی ہے۔ اس لئے میں اس پر دلائل باری کرنے سے گریز کرتے ہوئے ان کاموں کی طرف آنا چاہتا ہوں جو ہم مل کر کر سکتے ہیں۔
1۔ ایک سہہ ماہی آن لائن بلاگر میگزین
2۔ انٹرنیٹ پر لکھنے والوں کے حقوق کا تحفظ
3۔ سچ لکھنے پر استحصال کا نشانہ بننے والوں کے ساتھ کھڑے ہونا
4۔ بلاگنگ کی پراڈکٹ ڈویلپمنٹ، یعنی بلاگ لکھنے والوں کو مالی فائدہ پہنچنے کی سبیل پیدا کرنا
5۔ تعمیراتی منصوبوں جیسے آن لائن اردو ڈکشنری جیسے منصوبوں پر باہمی مدد
6۔ ای بکس اور آڈیو بکس کی ترویج اور لوگوں کو ایسی مصنوعات خریدنے پر مائل کرنا
7۔ ایک دوسرے کی بلاگنگ کی حوالے سے مدد، نئے لکھنے والوں کی مدد کرنا، گائیڈ کرنا۔ ایک دوسرے کو پرموٹ کرنا


اس کے علاوہ بھی بہت سے خیالات میرے ذہن میں جن کو تصویر کیا جا سکتا ہے، یہ وقت کی ضرورت بھی ہے، ہم ایک دوسرے کی صلاحیتوں کے قاتل بننے کی بجائے ایک دوسرے کے دست وبازو بن سکتے ہیں، عمر بنگش کی رحمتہ للعالمین پراجیکٹ، علی حسان کا پرندوں جانوروں والا پراجیکٹ، اور بے شمار پراجیکٹس ہماری بے اعتنائی کا شکار ہیں، ہم انہیں ایک فقرہ اور ایک لائک دینے کے قابل بھی نہیں سمجھتے۔ ایسوسی ایشن ممبران کو پابند کرے کہ وہ کسی نہ کسی صورت بلاگنگ کے لئے حصہ دار ہوں، ہم تیس لوگ اگر ایسے اچھے پراجیکٹس کو پروموٹ کر یں تو ان لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

اب تنظیم کیسے بنائی جائے، میری رائے میں پہلے مرحلے میں ہم ایک مشاورتی کمیٹی بنا لیں جس میں سب میں ہر طرح کی بلاگنگ کرنے والے دوستوں کو شامل کیا جائے، اس کو علاقائی ٹچ بھی دیا جا سکتا ہے۔

کراچی کے دوست دو احباب کو چن لیں، لاہور کے احباب دو افراد کو چن لیں، ملتان ، اور اسی طرح ہر ڈویژن کو ایک ایک نمائندہ رکھنے کی اجازت دی جائے،

یا آپ کے ذہن میں کوئی اور منصوبہ ہو تو بتائیے۔

جیسے اگر میں ایک خاکہ بناوں تو مجلس مشاورت کچھ ایسی ہو گی ۔

کراچی اور سندھ
۔شعیب صفدر گھمن، اسد اسلم، فہد کیہر، کاشف نصیر ، عامر ملک۔۔۔۔۔۔۔۔مزید

پنجاب
ریاض شاہد، ایم بلال ایم، علی حسان، نجیب عالم ، ساجد شیخ۔۔۔۔۔۔مزید۔

کے پی کے

عمر بنگش، ،،،،،،

اسلام آباد ،
اسلم فہیم، ۔۔۔۔۔
بلوچستان
میر ی ذاتی آشنائی نہیں..راہنمائی کریں۔

خواتین نمائندگی

نسرین غوری، ثروت ع ج۔

بیرون ملک نمائندگی

سعودی عرب
کوثر بیگ
جاپان
خاور، سید یاسر
چائنہ
سلیم
اٹلی
راجہ افتخار
ڈنمارک
رمضان رفیق


ہر جگہ ناموں کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ نام فرضی ہیں، کسی قسم کی مماثلت محض اتفاقی ہو گی ۔۔۔۔۔

آپ کی آرا کا انتطار ہے،

اردو بلاگر ایسوسی ایشن کے نام سے ایک گروپ پہلے سے بھی فیس بک پر موجود ہے ، جسے محترم ریاض شاہد صاحب نے تخلیق کیا ہے، اس کو ہی وسعت دی جا سکتی ہے، بلاگر میگزین کو منظر نامہ سے ہی چلایا جا سکتا ہے۔۔۔۔جو بھی آپ سمجھتے ہوں براہ کرم کھل کر اظہار کیجئے ۔