آج کا نوجوان اقبال کا شاہین ہے(مخالفت)

آج کا نوجوان اقبال کا شاہین ہے(مخالفت)
گلستانِ سوچ میں ایک پھول کھِلا۔ اک نئی روح نے جنم لیا ،جس نے اقبال کے شاہین کا نام پا یا۔ خودی جس کا زیور اور خوداری، جس کا پیر ہن ہو نا تھا۔ ۔۔لیکن اب وہ پیر ہن بالِ جبریل اور ضرب کلیم کے لفظوں میں ہی کہیں کھو گیا ہے۔ اک موہوم سی امید کے سہارے میں اقبال کے شاہین کے دل پہ دستک دیتا ہوں، اُس کے ضمیر کو آواز دیتا ہوں لیکن۔۔۔
جناب صدر! لاشیں کہاں بو لتی ہیں۔۔۔ مجھے ضمیر کے مقبرے سے اپنی صدا کی باز گشت سنائی دیتی ہے، کہ آج کا نوجوان، کھو یا گیا ہے جس سے جذبِ قلندرانہ ، نہ حیرتِ فارابی، نہ تب و تابِ رومی، نہ جستجو ئےِ غزالی، عقل کا ہے اندھا ،لباس کتنا عالی، کہ جس کے صوفے ہیں افرنگی، قالین ایرانی۔۔۔۔۔ ہا ئے تن آسانی ، ہائے تن آسانی، جو ساز کا ہے دیوانہ، سوز سے ہے بیگانہ، ٹو ٹا ہے ایشیا میں سحرِ فرنگیانہ، کہاں گیا وہ اس کا اندازِ دلبرا نہ ۔ ارے
یوں ہاتھ نہیں آتا ،وہ گوہرِ یک دانہ
یک رنگی و آزادی اے ہمتِ مردانہ
یا سنجر و طغرل کا آئینِ جہانگیری
یا مردِ قلندر کے انداز ملوکانہ
یا شرعِ مسلمانی یا دیر کی دربانی
یا نعرہءِ مستانہ، کعبہ ہو کہ بت خانہ
کہ میرا نوجوان تھا کبھی افسرِ شاہانہ۔ آج گلی گلی میں دیوانہ۔۔۔ دیوانہ ۔۔۔جی ہاں جناب صدر!
اقبال کا شاہین آج ناپید ہے۔کِشتِ ویراں کی نمی میں کمی نہیں آئی لیکن ابھی وہ گلِ مراد نہیں کھِلا، کہ جسے آزادی کے جوُڑے میں سجایا جاتا۔ وہ خوشحالی نہیں آئی کہ جس کا جھومر بنا کر ماتھے پہ ٹکایا جاتا، گو کہ کبھی کبھار غیرت کے تلاطم سے ابھر کر اُس نے حیدری نشان کو سینے کا ہار بھی کیا۔ آب و گِلِ ایراں تو وہی رہی، لیکن عجم کے لالہ زاروں سے کوئی رومی نہ اٹھا۔ کہ
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے
کہ جسے ستاروں پہ کمندیں ڈالنا تھیں ،آج آسماں نے اُسے ثر یا سے زمین پر دے مارا ہے۔تقدیر سے پہلے خودی کو بلند کرنے والا، آج فلم ، سٹیج، ڈراموں اور کلبوں میں اپنا مقام تلاش کرتا ہے۔ آسمانوں پر اپنی منزل رکھنے والا، آج بازارِ حسن کے سب سے اونچے چو بارے پہ ملتا ہے۔ جہاں اقبال کا یہ شاہیں ،تماش بینی کا لبادہ اوڑھے رقص و سرود کے مزے لینے میں مصروف نظر آتا ہے تو مجھے کہنا پڑتا ہے کہ:
وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسم ِ شاہبازی
جنابِ صدر! طرزِ کہن پر اڑنے اور آئین نوسے ڈرنے کی تفسیر لیکر آج وہ مشرقی روایات پر شر مندہ اور مغربی تہذیب پر شاداں و فرحاں ہے۔ آدابِ فر زندی کی شقوں پر کچھ یوں پورا اترا ہے کہ آدھی نسل ’’ممی ڈیڈی‘‘ بن کر رہ گئی ہے۔ مغربی تہذیب کے آلودہ معاشرے نے اسے وہ ذوقِ یقین بخشا ہے کہ مشرقیت کی ساری زنجیریں توڑ کر آج وہ دفعہ 44کی پرواہ کئے بغیر کسی ’’بلو اور چھنو‘‘ کی آنکھوں میں ڈوب گیا ہے۔ آج نگاہِ مسلماں کُند ہو چکی ہے۔ آج بت ہیں جماعت کی آستینوں میں۔ آج رہ گئی رسمِ اذاں ،روحِ بلالی نہ رہی۔ آج تلواروں کی چھاؤں میں سجدہ کرنے والوں کی آنکھیں جلوہءِ دانشِ فرنگ سے خیرہ ہو چکی ہیں۔آج کوئی بن قاسم، کوئی طارق نہیں۔آج اقبال کا شاہین اپنے آباء کی بہادری کی داستانیں سینے سے لگائے، ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فر دا ہے۔ کہ
شاہیں کا جہاں ممو لے کا جہاں ہے
ملتی جلتی ملاسے مجاہد کی اذاں ہے
ہر طرف پھیلی اس کی ہی فغاں ہے۔ لیکن میرانو جواں کہاں ہے۔۔۔ میرا نوجواں کہاں ہے۔۔۔ کہ وہ تو سگریٹ اور چرس کے دھو ئیں میں کہیں کھو گیا ہے۔ لارڈ میکالے کے نظامِ تعلیم نے اس کا یوں گھیراؤ کیا ہے کہ صدائے
لا ا لہ دب کے رہ گئی ہے۔اورایسے حالات میں
؂ مرہمِ اشک نہیں زخمِ طلب کا چارہ
خوں بھی روئے تو کس خاک پہ سج دھج ہو گی
کانپتے ہاتھوں سے ٹوٹی ہوئی بنیادوں پر
جو بھی دیوار اٹھاؤ گے وہی کج ہو گی