رہ گئی رسمِ اذاں روح بلالی نہ رہی‘


جی ہاں جنابِ صدر! رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی کیونکہ اللہ اکبر کی صداؤں سے مسلمانوں کے دل کے قفل نہیں کھلتے۔ رسول عربی ؐ کی صداقت پر شہادت دیتے ہوئے مردہ دلوں میں کوئی چنگاری نہیں بھڑکتی۔ ایمان کی حرارت والے تورہ بورہ کی پہاڑیوں میں پناہیں ڈھونڈھنے پر مجبورہیں ۔ ابو غریب کی جیلوں میں دھنسی ’’امت مسلمہ‘‘ پر شکاری کتے چھوڑے جانے کے منظر دیکھ کر بھی ’’المسلم اخوالمسلم‘‘ کا نعرہ لگانے والوں میں کوئی تحریک پیدا نہیں ہوتی ۔ فلسطین کی چوکیوں پر زینب اور زیماؤں کی آہوں پر کوئی صلاح الدین نہیں ابھر تا۔ کشمیر کی سلگتی وادیوں میں حیا کی چادریں سرکیں بھی تو کوئی بن قاسم نمودار نہیں ہوتا۔ کوئی ہنری کسنجر ہماری غیرت کو للکارے بھی تو غیرت کے تلاطم میں کوئی موج نہیں ابھرتی۔ کوئی ہمارے ملک میں آکر ہمارے ایمل کانسی کو اٹھالے جائے تو اس کا راستہ کوئی نہیں روکتا۔
اب کوئی ہر ’’ہر ملک کہ ملک ما است کہ ملک خدائے ما است‘‘ کا نعرہ لگا کر ساحلوں پر اپنی کشتیاں نہیں جلاتا۔ کہ آج بت شکنوں کی جگہ بت فروشوں نے لے لی۔ کہ آج جلوہ دانش افرنگ سے ہر آنکھ خیرہ ہے۔ کہ آج ہم دین کے دشمنوں سے مل کر اپنے ہی’’ نیک محمدوں‘‘ کو مارنے پر تل گئے ہیں۔ کہ آج ہمارے ہی بموں کی زد میں آ کر ہماری مسجدیں تباہ ہو رہی ہیں کہ آج نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر کا نعرہ سب سے پہلے پاکستان کے نعروں میں گم ہو گیا ہے۔ اب چبھے کانٹا جو کابل میں تو ہندو ستان میں کوئی درر کی  لہر نہیں اٹھتی۔ کہ
آج رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی
واعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہی
جنابِ صدر! آج ہم گلی گلی میں رسوا کہ بنیاد پرستی ہمارے سینوں کا تمغہ بنا دی گئی۔ اپنے ہی بھائیوں کی بندش کیلئے ہم سے ہی افواج طلب کی گئی۔ القاعدہ کا نام لیکر ہمیں ہمارے اپنوں سے لڑوادیا گیا۔ اور ہمارے سپہ سالاروں کی قبروں پر ٹھوکریں مار گئیں۔
اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نہ ماننے والے ملکوں کو بھی سلامتی کونسل کا رکن بنا دیا گیا۔ عالمی عدالت کی آنکھوں پہ پٹیاں باندھ کر اسے امریکی افراد کے جرائم سے پردہ پوشی کا حکم سنایا گیا۔ سر اٹھا کر جینے کے جرم پر ہمارے صداموں کو عدالتی کٹہروں کی زینت بنا دیا گیا۔ دہشت گردی کی تہمت لگا کر ہمارے احمد خواجہ گھروں سے اٹھوا ئے گئے۔ اقلیتوں کو مساوی حقوق دینے کا نعرہ لگا کر میری بہنوں کے سر سے سکارف چھیننے کی جسارت کی گئی۔ معتدل اسلام کا نعرہ لگا کر جہاد کو تدریسی نصاب سے باہر کر دیا گیا۔ میرے ملکوں کی معیشت پر ڈبلیو ٹی او کے پہرے بٹھا دیئے گئے۔ اسلامی قلعوں کی ایٹمی طاقت کم کرنے کیلئے سی ٹی بی ٹی کی شقیں ایجاد کر دی گئیں۔ دہشت گردی پر قابو کر نے کاڈرامہ رچا کر ہمارے فوجی اڈے ہتھیا لئے گئے۔
جی ہاں جناب صدر! آ ج ہمارے اقوال ہمارے افعال سے متصادم ہیں کہ آج ہم واعتصمو بحبل اللہ کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر ایک پرچم کے سائے تلے متحد نہیں ہوتے۔
آج ہم ’’الجنت تحت ظلال السیوف‘‘ کی صداقت گر دانتے ضرور ہیں مگر جہاد کے ’’عملی اصولوں‘‘ پر کاربند ہونے سے نظر چراتے ہیں۔ آج ہم ایاک نعبدو ایاک نستعین کا دم تو بھرتے ہیں مگر کشکول لئے ہر فرعون کے دروازے پر دستک دیتے ہیں۔
آج ہماری خودی کا زیور پگھل کر ہمارے کانوں میں سیسہ بن چکا۔
آج ہماری تلواریں پگھل کر رباب کی تاریں بن گئیں۔
آج مسجدیں مرثیہ خواں کہ نمازی نہ رہے
آج ہر کوئی مستِ مئے ذوقِ تن آسانی ہے
آج برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر
آج کعبے کو جبینوں سے بسانے والے رخصت ہو گئے۔
آج قرآن کو سینوں سے لگانے والے رخصت ہو گئے
کہ آج تو
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے
کہ آج مسلمان خو ئے محبت سے بیگانہ ہے
اسے فرقہ واریت نے فرقوں میں پاٹ دیا ہے۔
وہ ملاوٹ کر نے والوں کو برا تو کہتا ہے مگر خود ملاوٹ کا عادی ہے۔
وہ رشوت لینے اور دینے کی وعید سے تو باخبر ہے مگر ڈنکے کی چوٹ پر رشوت وصول کر تا ہے۔ اسکا کردار اور گفتار الگ ، ظاہر اور باطن جدا کہ اسکی خودی جل چکی۔ سوچ مر چکی کہ آج ’’رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی‘‘
بھٹک کر رہ گئی نظریں خلا کی وسعت میں
مریم شاہد رعنا کا کچھ پتہ نہ چلا
کہ آج میرا مسلمان گلی گلی میں دیوانہ کہ کھویا گیا ہے جس سے جذب قلندرانہ، نہ حیرت فارابی، نہ تب و تاب رومی، نہ جستجو ئے غزالی کہ عقل کا ہے اندھا ، لباس کتنا عالی۔ جو ساز کا ہے دیوانہ سوز سے بے گانہ
اور مرہم اشک نہیں زخم طلب کا چارہ
خون بھی روئے تو کس خاک پہ سج دھج ہو گی
کانپتے ہوئے ہاتھوں سے ٹوٹی ہوئی بنیادوں پر
جو بھی دیوار اٹھاؤ کے وہی کج ہوگی