سروس سٹرکچر کے دکھڑے۔۔مسیحا اور عام محکمے

وقت کرتا ہے  پرور ش  برسوں
حا دثہ  ایک دم نہیں ہوتا
لوگ کہتے ہیں کہ معاملہ چند سکوں کا ہے، روپوں کا لالچ ہے، مسیحا اندھے ہو چکے ہیں، درجن لوگ مر چکے لیکن ان قصائیوں کو کسی کا درد محسوس نہیں ہوتا۔۔۔کل کے ایک ٹی وی پروگرام نامی گرامی میزبان مہمان ڈاکٹر سے کہہ رہے تھے کہ آپ کی تنخواہ بیالس ہزار ہے اور ایک سینٹر کی اڑتالیس ہزار اور اس طرح اور مزید عظیم دلائل جن سے ثابت ہوسکے کہ ڈگریوں کے بل پر انسان نہیں بنتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ان کا مطالبہ ایک سروس سٹرکچر ہے اور ہزار وعدوں کے باوجود حکومت اس کی کوئی حامی نہیں بھر رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لوگ یہ بھی نصیحت فرما رہے ہیں کہ ان آسمانی فرشتوں کا کام تو ہے ہی خدمت ۔۔جنگ ہو یا امن ان کا ان سیاسی معاملات سے کیا ۔۔۔۔۔تھوڑے جذبات ٹھنڈے رکھیں تو کچھ عرض کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گذشتہ نامعلوم سالوں سے محکمہ زراعت والوں نے بھی ایسا ہی سروس سٹرکچر کا مسئلہ اٹھایا تھا۔۔۔۔اس مسئلے کو اٹھانے والے ایک ایک کر کے اٹھتے چلے گئے لیکن سروس سٹرکچر وہیں کا وہیں رہا۔۔۔۔کئی سینئرز ساری عمر ستارویں گریڈ سے اوپر کا زمانہ دیکھ ہی نہ پائے۔۔۔بلکہ اس محمکہ میں ایک اور بدعت نازل ہوئی کہ جس کو کافی عرصہ ہو جائے اس کو سوا ستارویں  گریڈ میں ترقی دے دی جائے۔۔۔۔زراعت والوں  کا شور کسی تک نہ پہینچ پایا۔۔یہاں آخر سننے والا ہے کون جو کوئی اپنا دکھ سنایے۔۔۔۔ڈاکٹر جب تک اپنا معاملہ آہستہ آواز میں سناتے رہے کسی کے کان پر جوں نہ رینگی اور لمبی چوڑی واننگز کے بعد انھوں نے کہا کہ اس بیگار پر کسی اور کو رکھ لیں تو ہم ان سے کہتے ہیں جذبات کی تڑکے سے کام چلاو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہرگز مت سمجھیے کہ میں اس طرح مریضوں کے بے یارو و مددگار ہونے کو ٹھیک سمجھتا ہوں کیونکہ عام روش یہی کی کہ خیال عام کے خلاف کوئی ذرا سی بات ہوئی نہیں اور لوگوں نے ساری توپوں، تلواروں کا رخ آپ کی طرف کر دیا۔۔۔۔میرا خیال ہے ڈاکٹر بارش کا پہلا قطرہ ہیں تاکہ حاکم وقت جاگ جائے اور باقی حکومتی نوکروں سے پو چھے کہ ان کو کوئی مسئلہ تو درپیش نہیں وگرنہ ہر طاقتور محکمہ اپنے حقوق اسی ڈھٹائی سے حاصل کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔۔۔۔
ویسے بھی جب کرپشن کرنے والے ، نااہل، چاپلوس ہر میدان میں آگے نکلنے لگیں تو زندگی میں محنت کرنے والوں کی فرسٹڑیشن اور بڑھ جاتی ہے۔۔۔ہمارے لئے افسوس کی بات ہے کہ پہلے اساتذہ سڑکوں پر آیے تھے، پھر نرسز کو باہر نکل کر بتانا پڑا کہ ہم بھی ہیں۔۔۔۔اس لمبی لائن میں اب ڈاکٹرز کے آنے کا شور ہوا ہے۔۔۔۔۔ابھی اور بھی محکمے نکلیں گے۔۔۔کیونکہ خرابی کے اس دور میں پوری تو کسی کی بھی نہیں پڑ رہی۔۔۔۔۔۔یہ مسیحائی کا زوال نہیں بلکہ ہمارے مزید بگڑتے ہوئے حالات کی نشاندہی ہے۔۔۔۔حاکمانِ وقت کو کچھ اور بھی سوچنا ہو گا کیونکہ جس جس کو عقل آتی جائے گی وہ سٹرکوں پر نکلتا چلا جائے گا۔۔۔۔اور اچھے برے کی کہانی پھر کسی وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔۔۔۔