ایرانی ثقافتی شو اور پاکستان ایمبیسی کوپن ہیگن



گذشتہ دنوں کوپن ہیگن کے بادشاہی آڈیٹوریم میں ایران کی ایمبیسی کے زیر اہتمام ایک ثقافتی شو تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا(جس میں فردوسی اور عمر خیام کی کام اور کلام کو مرکزیت حاصل تھی)، کچھ لوک فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور اس موسیقی، لباس ، میں بلوچی لب ولہجہ، اطوار ، رنگ اور اسلوب کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا تھا۔۔۔۔اس پروگرام میں میرے اندازے کے مطابق تین چار سوسے زائد لوگ شریک ہوئے اور تقریب کی خوبصورتی یہ تھی کہ ایشائی لوگوں کے علاوہ یورپی  باشندوں کی اچھی خاصی تعداد مو جود تھی، اپنی ثقافت کا یہ جاندار مظاہرہ خاک دلیراں کے شایان شان تھا۔۔۔۔ایران اس وقت مشکل حالات سے گذر رہا ہے، اور امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک میں ایرانی ایمبیسی ایران کے ثقافت کی ترویج کے لئے اگر کسی پروگرام کا احتمام کرتی ہے تو اس کے لئے یقیننا ایک مضبوط سوچ اور ایک سچی لگن کی ضرورت ہے۔۔۔۔نجانے کہان سے ایک سوال نے سر اٹھایا کہ ہم پاکستانی ایسے پروگرام کیوں نہیں کرواتے ۔۔۔۔اس کا جواب ڈھونڈھ رہا ہوں ۔۔۔ہماری ایمبیسی کیا موجود ہی نہیں کہ گذشتہ اڑھائی سالوں میں جس کا کبھی کچھ پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔