تحریک انصاف کا جنازہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے حسرت

محترم عرفان صدیقی کا تازہ کلام پڑھا تو پتہ چلا کہ تحریک انصاف کا جنازہ نکل چکا ہے۔۔کیونکہ آخری ایک ارب روپیہ تو وہ آخری جلسے میں جھونک چکے ہیں۔۔۔سارے کے سارے معتبر جائزے بھی ان کے بیانات پر دلائل ہیں اور اب تخت رائیونڈ سے سہہ بارہ قیمے کے نان، حلوہ پوری، سرے پائے وغیرہ عوام کی دسترس میں ہوں گے۔۔۔بہار کا وہ سماں مہکا ہی رہے گا اور شیر اور بکری جس گھاٹ سے پانی پیتے تھے ان کی سنگت اسی طرح سے برقرار رہے گی۔۔۔نئی سڑکوں اور خوبصورت بسوں کا خواب تعمیر ہوتا رہے گا ۔۔۔بادشاہ معظم نواز شریف، ولی عہد سلطنت اسی آب و تاب کے ساتھ جلوہ افروز رہیں گے۔۔۔۔اور لعنتی پیپلز پارٹی جس کے پانچ سال تک عوام کی رگوں سے لہو تک نچوڑ لیا اس کو تو وہ کسی صورت اب شریک اقتدار دیکھنا نہیں چاہتے اور اس کی ایک صورت جس میں تحریک اور پی پی پی کو ایک تصوراتی تصویر میں اکھٹا کرکے انہوں نے جس طرح کا بین کیا ہے اس کی مثال سیاسی صحافت کی تاریخ میں
مشکل سے ہی ملتی ہے۔۔۔۔
پتہ نہیں یہ عوام کو بالکل جھڈو سمجھتے ہیں۔۔۔کہ جس کی گود میں پانچ سال بیٹھ کر یہ حکومت کرتے رہے اور جس جس طرح سے انہوں نے پی پی کا ساتھ نبھایا ہے اور اب اسی کی مخالفت سے عوام سے ہمدردی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔
عوام کرائے کے لکھاریوں سے ہوشیار رہیں۔۔۔۔