تقریر اور مضمون میں فرق

ہمارے ہاں تقاریر کی بے شمار کتابیں مضامین سے بھری پڑی ہیں، کیونکہ ہمارے ہاں اپنی تقاریر خود سے لکھنے کا رواج کم ہے ، اس لئے لوگ انہی مضامین کو رٹا لگا کر تقریر کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ اس لئے تقریر لکھنے سے پہلے تقریر اور مضمون کے فرق کو سمجھ لینا ضروری ہے۔ ۔ 
مضامین ایک خاص بہاو کے ساتھ بہتے ہیں، جن میں عمومی طور پر اتار چڑھاو کا بہت خیال نہیں رکھا جاتا، لفظوں کا چناو، اور ترتیب بھی اسی حوالے سے مخصوص بیانیہ لئے ہوئے ہوتی ہے۔ جبکہ تقاریر میں عبارت کے اتار چڑھاو کو محسوس کیا جا سکتا ہے، اور لکھنے کے لئے ایسے الفاظ اور جملوں کا استعمال کیا جاتا ہے جو بولنے کے حوالے سے بھلے معلوم ہوتے ہیں۔ ۔۔۔جیسے ہم کہیں کہ 

پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس کی زیادہ تر آبادی کا انحصار بالواسطا یا بلا واسطہ زراعت سے ہے۔ اور یہ ہمارے نظام مملکت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ مگر پھر بھی ہمارے کسانوں کی زندگی خوشحال نہیں ۔۔۔۔

اگر یہی خیال تقریر کے لئے لکھا جائے گا تو کچھ ایسے ہو سکتا ہے۔ 


زراعت پر چلنے والا پاکستان، جہاں اکثریت کا روزگار اسی کاروبار سے جڑا ہوا ہے،زراعت جو ہمارے نظام معیشت کا سہارا ہے۔ مگر یہ کیا کہ اسی زرعی ملک میں میرا کسان پھر بھی بدحال ہے۔ 

آپ مختلف تقاریر کے فقرے اٹھا کر دیکھئے، آپ کو ان کی بناوٹ مضامین کے فقروں سے مختلف نظر آئے گی۔ وضاحت کے لئے چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔ 


گلستانِ سوچ میں ایک پھول کھِلا۔ اک نئی روح نے جنم لیا ،جس نے اقبال کے شاہین کا نام پا یا۔ خودی جس کا زیور اور خوداری، جس کا پیر ہن ہو نا تھا۔ ۔۔لیکن اب وہ پیر ہن بالِ جبریل اور ضرب کلیم کے لفظوں میں ہی کہیں کھو گیا ہے۔ اک موہوم سی امید کے سہارے میں اقبال کے شاہین کے دل پہ دستک دیتا ہوں، اُس کے ضمیر کو آواز دیتا ہوں لیکن۔۔۔
جناب صدر! لاشیں کہاں بو لتی ہیں


یا اس پیرا گراف کو ملاحظہ کیجئے۔ 
آج کا نوجوان اقبال کا شاہین ہے کہ اسکے پاس مشامِ تیز بھی ہے، گفتارِ دلبرانہ بھی اور کردارِ قاہرانہ بھی۔۔۔۔، کیونکہ میرا اور اقبال کا ایمان یہی کہتا ہے کہ’’کم کوش ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی‘‘ اور وہ لوگ جن کو آہِ سحر بھی نصیب ہو، اور سوزِ جگر بھی، وہ زندگی کے میدان میں کبھی نہیں ہارتے۔ مانا کہ مصائب کڑے ہیں ،مانا کہ اسباب تھوڑے ہیں۔ مانا کہ آج دھرتی ماں مقروض ٹھہری۔ ارے مانا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک یہاں چھا گئے۔ ارے ما نا کہ ترقی کی رفتار کم ہے ۔ ارے ما نا کہ یہاں بھوک بھی ہے اور افلاس بھی۔ ارے مانا کہ یہاں بم بھی پھٹتے ہیں ۔ ارے مانا کہ شمشیر و سناں آخر ہو گئی اور طاؤس و رباب اوّل ٹھہرے ۔ ارے سب مانا۔ لیکن میرے غازی علم دین نے ایسے ہی حالات میں جنم لیا تھا۔ میرا جناح پونجا پھولوں کی سیج سے نہیں اگا تھا۔ ’’اب یا کبھی نہیں‘‘ کا نعرہ لگانے والے آسائشوں کے پالے ہوئے نہیں تھے۔ 

یا یہاں پر ملاحظہ ہو کہ لفظوں کا بار بار دہرا کر جو تاثر پیدا کیا جا رہا ہے وہ تقریر کا ہی خاصہ ہے۔ 
یہ مملکت تو سب کی ہے خواب سب کا ہے! یہ خواب ہے اس بہن کا جس کے بھائیوں کو نیزوں کی انیوں پر اچھالا گیا۔ یہ خواب ہے اس باپ کا، جس کے بڑھاپے کے سہارے کو کِر پانوں نے چیر ڈالا۔ یہ خواب ہے اس ماں کا، جس کی مامتا کو بٹوارے کی آڑ میں بانٹ دیا گیا۔ یہ خواب ہے میرے اقبال کا جو نیل کے ساحل سے 
تا بخاکِ کاشغر، مسلمانوں کو جسدِ واحد بنانا چاہتا تھا۔


ایک اور مثال ملاحظہ ہو۔ 
میں مان لیتا کہ جمہوریت ناکام طرزِ حکومت ہے ۔ اگر میں نے 1973کے جمہوری آئین میں اسلامی دفعات کو مجتمع ہو تے ہوئے نہ دیکھا ہوتا۔ میں مان لیتا کہ جمہوریت ناکام طرزِ حکومت ہے اگر اس نے زکوٰۃ کے نظام کو لاگو نہ کیا ہوتا۔میں مان لیتا کہ جمہوریت ناکام طرزِ حکومت ہے ، اگر اس کے آرٹیکل 31نے ملک میں لا گو ہو نے والے ہر قانون کو قر آن و سنت کے تابع نہ کیا ہوتا۔ میں مان لیتا کہ جمہوریت ناکام طرزِ حکومت ہے اگر اس وطنِ عزیز کے صدر اور وزیرِ اعظم کے لئے مسلمان ہو نے کی شرط کو لاگو نہ کیا ہوتا۔میں مان لیتا کہ جمہوریت ناکام طرزِ حکومت ہے اگر میں نے پاکستانی پارلیمنٹ کو
قادیا نیوں کو کافر قرار دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا۔