ایک سیاہ سی کہانی

جہموریت اور سیاست کے عوامی انتقام کے بعد جمہوریت اور سیاست کی سب سے بڑی خوبصورتی یہی ہے کہ ہر شخص بلا تفریق رنگ ونسل، مذہب و ملت، بلا تفریق ادارہ و درسگاہ اس پر سیر حاصل تبصرہ کر سکتا ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے جب سے ہمارے ہاں سیاسی ٹاک شوز نے میڈیا کی انڈسٹری میں پرائم ٹائم کی حیثیت حاصل کی ہے، جگہ جگہ خودرو قسم کے بے شمار تجزیہ نگار اگ آئے ہیں۔
اگر آپ کی آنکھیں شعلہ بار اور گفتگو دھوان دار ہے تو کسی میں مجال کہاں کے اس شمشیر بے نیام کے سامنے ٹھہر سکے۔۔۔آپ کی خاندانی شراقت و نجابت اپنی جگہ مگر جب آپ اس سیاہ سی حجام میں دستار اتار بیٹھے تو آپ کے کپڑے اترنے میں کچھ ہی دیر باقی ہے۔ آپ غور کیجئے کہ جتنا کوئی دھڑلے دار ہے، اور اپنی گفتگو سے پیرانہ سال سیاستدانوں کے لہو میں ایسی روح پھونک دے کہ وہ باہم دست و گریباں ہو جائیں تواسی کی پتنگ ہواوں میں ہے۔۔۔اسی لئے ہمارے سیاسی ٹاکروں میں صحافی نہیں اینکر پرسنز نظر آتے ہیں۔
چلئے چھوڑئے ان کو تو شوبھا ہے کہ وہ اسی کام کے پیسے لیتے ہیں کہ بے رنگی کہانیوں میں کچھ مرچ مسالے اور کھٹہ میٹھا ڈال کر بیچیں۔۔۔لیکن ہمارے کچھ دوستوں کو بھی ایک ایسا ہی عارضہ آشوب چشم لاحق ہے۔۔۔غالب نے کہا تھا کہ

کم نہیں نازش ہم نامی چشم خوباں
تیرا بیمار برا کیا ہے گر اچھا نہ ہوا

ممکن ہے کہ ہمارے دوست، سیاسی تجزیہ نگاروں کے رنگ میں رنگے جاناغالب کے اسی شعر کی تشریح میں کرتے ہوں۔۔۔۔بہت کچھ ممکن ہے۔۔۔۔۔۔جیسا ہے آپ کچھ ایسے دوستوں سے گفتگو میں سر پھنسا بیٹھیں تو ان نشتوں کے درج ذیل مراحل ہوں گے ۔
پہلا مرحلہ
فلاں لیڈر سے زیادہ قابل کوئی اور ہو نہیں سکتا
قائد ثانی وغیرہ وغیرہ
اس کے مخالفین ۔۔سب سب کے نا سمجھ اور گھٹیا۔۔۔
جس سے ایک بیوی نہ سنبھلی وہ ملک کیا سنبھالے
یا دو رکعت بھول گئی امت کی امامت کیونکر کرے
یا جس کا اپنا سر گنجا ہو۔۔ملک میں ہریالی کسیے لائے
یا جس کا اپنا پیٹ موٹا ہو ملک کو سمارٹ کیسے بنائے؟
جس کے بچے ملک سے باہر ہوں وہ ملک میں اچھی تعلیم کیونکر بانٹے
وغیرہ وغیرہ

دوسرے مرحلہ ۔۔۔۔۔۔۔ جب کوئی ان کے دلائل سے اختلاف کرنے کی جسارت کر ییٹھے تو اس کے پرخچے ملائشیا کے گم شدہ طیارے کی صورت بہت دیر سے کسی اجنبی مقام سے ملتے ہیں
تمہیں کیا پتا۔۔۔
مجھے سب پتہ ہے
میں نے فلاں ابن فلاں کے ساتھ وقت گذارہ ہے
میرے پاس اندر کی خبر ہے
فلاں یہودیوں کا ایجنٹ ہے
فلاں قبضہ مافیا ہے
فلاں ککڑی چور ہے
فلاں شرابی ہے

یعنی مخالف کے لیڈر کی شان میں جو کچھ موزوں ہو سکے ارشاد کیا جاتا ہے۔ اور اگر گفتگو اس مرحلہ سے آگے بڑھے تو تیسرا مرحلہ کچھ یوں ہوتا ہے

میں تمہیں جانتا ہوں
تمہاری اوقات کیا ہے
تم دوپٹا اوڑھ لو
گھنگھرو پہن لو
تم جلسوں میں ناچنے والے
تم بریانی کی پلیٹ پر بکنے والے

اور گفتگو اس مرحلہ پر بھی موخر نہ ہو تو گفتگو کی چنداں ضرورت نہیں رہتی ۔۔۔لوگ حسب استطاعت ایکدوسرے کو سبق سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

میں ایسے تبصرہ نگاروں اور تجزیہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کر کے اپنا علم بڑھانے کا مشغلہ کب کا ترک کر چکا ہوں۔ لیکن ظالموں کو پتہ ہے میری ہمدردیاں کس کی طرف تھیں اس لئے وہ اب میں میرے قبلہ کی درستگی کے بارے فکر مند رہتے ہیں۔ ۔۔میری اصلاح کے لئے ملک کے نامی گرامی صحافیوں اور سیاستدنوں کی گفتگو کے ٹکڑے اور تراشے مجھے ارسال کرتے رہتے ہیں۔
میں پچھلے کئی ماہ سے ان دانشوروں کی زد میں ہوں، کروٹیں بدلتا ہوں، کوئی صورت بن نہیں پاتی۔۔۔۔۔۔۔کہ ان کی مدلل باتوں کا کوئی جواب پیش کر سکوں۔۔۔اور کچھ دن پہلے تو حجام کے دکان پر مونچھوں پر کنگھی کرتے ایک دانشور نے یہاں تک کہہ دیا۔۔۔۔باو جی تہانو کی پتہ سیاست دا ۔۔۔سارا دن تاں کتاباں چہ وڑے رہندے او۔۔۔۔۔۔۔