عمران خان کا چیچہ وطنی جلسہ اور خدشات



Umer Gujjar PTI Youth president 


 چیچہ وطنی کا عمران خان کا جلسہ تحریک انصاف کے حامیوں میں یہاں کے سیاسی بساط کے کامیاب مہروں کے اضافے کا تسلسل تھا۔۔۔۔چند اور دور اندیش لوگ اس پھل کے لئے جھولیاں پھیلائے بے تاب کھڑے تھے جو ملک کے نوجوانوں کے لہو سے سیراب شدہ نظریاتی سیاست کی نئی فصل کا پہلا ثمر ہو گا۔۔۔۔ابھی اس فصل کا جھاڑ اتنا نہیں کہ اقتدار کے ایوانوں میں کسی کرسی کا خون بہا ٹہھرے۔۔۔ابھی شخصیتوں کا سحر باقی ہے۔۔۔لوگوں کو سونامی سے امیدیں تو ہیں لیکن پھر بھی اپنے گھر کا کچھ بوسیدہ سامان نئے سفر میں ساتھ رکھنے پر مصر ہیں۔۔۔۔عوام بھی بے چارے کیا کریں۔۔۔اتنے دھوکے اپنوں اور اپنایت کے نام پر ہو چکے کہ اب کسی بھی ہمدرد پر چور، ڈاکو کا گماں ہوتا ہے۔۔۔۔کیا کریں کہ خوف ہے خان بھی اقتدار کی مسند پر اسی نشے میں بدمست نہ ہو جائے جس کے بعد اپنے تعلق کے تعویذوں پر لبیک لبیک نہ پکار اٹھے۔۔۔۔لیکن ایک امید ہے جو مجھ ایسے بہت سے لوگوں کو ہے۔۔۔اک امید ہے جس کے بہت سے تار اب خان سے جڑ چلے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
A view of Sonami in Chichawatni
چیچہ وطنی شہر اب خان کے نام سے آشنا ہو چلا ہے، کچھ پرانے سامریوں کے سحر میں گرفتار دیہاتی اب بھی واہموں میں مبتلا ہیں کہ ان کے راوی میں کوئی طغیانی نہیں ، اور سدا حکومتوں کے سائے میں پلنے ہی بہترین دوست ہوا کرتے ہیں۔۔۔۔۔ایک طبقہ تو ایسا ہے جن کے پاس دلیل ہے کہ پرانے چہرے اگر انقلاب کے علمبردار ہوں گے تو ان لوگوں کی آب و تاب تو وہ کب کی دیکھ چکے۔۔۔وہ سونامی جو اس پرانے نظام کو حرف غلط کی طرح مٹائے گا کب آئے گا۔۔۔۔۔
خان کا اعلان کہ اس شہر کا ہر شخص لیڈر بن سکتا ہے۔۔۔آپ اپنے راہنما کا خود انتخاب کر سکتے ہیں۔۔۔۔کی گونج مصلحت پسندی کی گرد میں کھوتی ہوئی محسوس ہوئی

people going to listen Imran Khan


وہ کون ہو گا جو  کم و بیش آدھی صدی پر محیط اس خاندانی نظامِ حکومت کے خلاف کھڑا ہو گا اور وہ کون کون ہو گا جو ایسے باغی کا ساتھ دے گا۔۔۔شہر کے نوجوان اہل ثروت کے ہاتھوں یرغمال ہوئے لگتے ہیں۔۔۔۔لیکن وسوسے کا سایہ اتنا سیاہ ہے کہ کسی صبح کے آنے کی کوئی نوید کہیں دور تک بھی نہیں۔۔۔۔۔لوگ سمجھوتے کے موڈ میں ہیں، عمران خان کے چکر میں وہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی انھی پٹے ہوئے سیاستانوں کی ووٹ تجوریاں بھریں گے جن کے نام بھی سننے کے رودار نہیں اور دوسرے طرف ان شاطروں کو بھی خبر ہے کہ ان کے شخصیاتی سحر میں گرفتار عوام ان کے بغیر کسی بھی انقلاب کے حامی نہ ہوں گے۔۔۔۔۔۔

پھر بھی ایک امید تھی جس کی لڑی میں پروے ہوئے بہت سے پڑھے لکے لوگ اس ہجوم میں شریک تھے، بالکل میری طرح اب جن کے لئے کوئی بھی اور جماعت کوئی آپشن نہیں رہی، اگر یہ دھوکا ہے تو پھر ایک دھوکا اپنی مرضی سے کھا کر دیکھیں گے۔۔۔۔۔اب تبدیلی مقدر ہے۔۔۔۔۔۔پرانی جماعتوں کو پتا ہونا چاہیے ان کے جھوٹے وعدوں کے جھانسے میں اب آنے والے کم از کم پڑھے لکھے لوگ نہیں ہوں گے۔۔۔۔