میرا،تیرا اور ھمارا پا کستان

میرا،تیرا اور ھمارا پا کستان

اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا کے مصداق دل کہیں سے کاغز ،قلم ڈھو نڈھ لایا ہے۔ کچھ باتیں جو قطرہ قطرہ اکٹھی ہو کر بد بو دار لہروں میں ڈھلنے لگی ہیں کہ میرے ملک کی سیاست پر چھاےء ہوے سیاسی سامریوں کے سحر میں الجھے ہوے بے شمار کاتب اور ان کے اپنے ہی لفظوں کی سیاہی میں غرقاب بھیانک چہرے مجھے اس خوف میں مبتلا کیے ہوے کہ کہیں سارے گلستان پر ان کی سیاہی کا رنگ نہ چڑھ جاے۔ وہ جن کے لفظو ں سے لاہوری کھابوں اور چھچھوڑی بوٹیوں کی بو آتی ھے اب وہی وقت کے دانشور ٹھرے۔ سارے باتوقیرلفظوں کی حرمت دربار جاہ و حشمت میں ڈھیر کر کے آقاوں کے لبوں پر بکھرتی مسکراہٹوں کے طالب اپنے لیے بھی ویسے ہی مخملی لفظوں اور تعریفوں کے خواہاں ہیں۔ لعنت ہے جھوٹوں پر، ان لوگوں پر جنہوں نے اپنے زور قلم سے صرف قصیدے تراشے ۔ جنہوں نے سب اچھا ھے کی گردانو ں میں کسی صاحب ہوش کو اقتدارکی مسند تک پہنچنے نہیں دیا۔ میں واشگاف لفظوں میں بوسیدہ نظام حکومت کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہوں۔ ان سیاسی گدھوں اور ِگدھوں کو خبردار کرتا ھوں، جنہوں نے اپنی ھر باری میں میرے پاکستان کی مشکلوں میں اضافہ کیا۔ میں اپنی 30 سالہ زندگی کی ساری بصیرت کے ساتھ سمجھتا ھوں کہ ن لیگ یور پیپلزپارٹی کا خاندانی نظام اب ختم ہونا چاہیے۔ یہ لوگ ناکام لوگ ہیں ان کا ماضی اور حال چلا چلا کر کہتا ھے کہ یہ آنے والے سو سال تک بھی تبدیلی نہیں لاءیں گے۔ اب اس کے بعد میرے پاس پاکستان کی بہتری کے لیے کوئی سوچ ہے تو وہ ایک متبادل سیاسی قوت یا نظام ہے۔ اور فی الوقت عمران خان ایک بہترین متبادل، متوازن اور متوازی امیدوار کی طور پرابھر رہا ہے۔ احباب کو خان سے شکایتں ہیں اور ان کے چاہنے والوں سے بھی۔ وہ ایسی کتابی اصطلاحات کا سہارا لیکر تحریک کو ناکام قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں جو ابھی پاکستان میں وارد ہی نہئں ہو یں۔ سوال بے شمار ہئں جن کا جواب ایک ہی ہے کہ وہ جو 62 سالوں میں نہ ہو پایا اس کی امید اس کی حکومت آنے سے پہلے تو مت لگاو۔ میں پاکستان میں خاندانی نظام سیاست کی بساط لپیٹنے کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔یہ آصفہ بنت زرداری کا نہیں عارفہ کریم کا پاکستان ہے، یہ بلاول،حمزہ،اور مونس کے غلاموں کا نہیں،یہ میرا،تمہارا اور ہمارا پاکستان ہے۔ یہاں اب تبدیلی آے گی ضرور آے گی۔انشاءاللہ۔ ............