ذرائع ابلاغ نے نہ کہ ہمارے رویوں نے ہماری ثقافتی اقدار چھین لی ہیں


جی ہاں جنا بِ صدر! ذرا ئع ابلاغ نے ہماری ثقافتی اقدار چھین لی ہیں کیونکہ جو کچھ ہم دیکھنے پر مجبور ہیں اس پر بات کر نے کا بھی حوصلہ نہیں رکھتے۔ راز داری کے اشتہاروں کے پردے میں صاف ستھرے الفاظ ایسی بلیغ گالیوں کی صورت اختیار کر گئے ہیں کہ پھر اپنے مکان کی چھت کو کوٹھا کہتے ہو ئے شرم آتی ہے، دوست ، ہم سفر، ہمدم کے الفاظ وہ ڈراؤنے نقاب اوڑھ لیتے ہیں کہ مشرقی معاشرے کو منہ چھپانے کیلئے چادر نہیں ملتی۔ اعتماد ایسا اعتبار کھو تا ہے کہ لفظو ں کی قطاروں میں اسے جگہ دینے کو دل نہیں چاہتا۔ جی ہاں جنابِ صدر! ذرائع ابلاغ نے ہم سے ہماری ثقافتی اقدارچھین لی ہیں۔
کیونکہ ذرائع ابلاغ کسی بھی معاشرے کی آنکھ ہو تی ہے جو پڑھ نہیں سکتا وہ سن سکتا ہے اور جو سننا نہ چاہے وہ دیکھ سکتا ہے کہ ذرائع ابلاغ ہر سطح پرلوگوں کو متاثر کر تے ہیں۔ یہ جیسا دکھانا چاہتے ہیں لوگ ویسے ہی دیکھتے ہیں۔ یہ جیسا سنا نا چاہیں لوگ ویسا ہی سنتے ہیں اب یہ کہنے کی ضرورت ہی نہیں کہ تہذیب الاخلاق کے کاغذوں پر پاپ موسیقی کا بسنتی رنگ کیسے چڑھ جاتا ہے۔ میں تو اتنا سمجھتا ہوں اسی مشرقی معاشرے کے سر سے دوپٹہ اتار کر پردے کی بجائے آنکھوں میں حیا اور پردے کا تصوراسی ذرائع ابلاغ کا مرہونِ منت ہے۔
جی ہاں جنابِ صدر! جب بلو کے گھر کی ٹکٹیں کٹیں تو مدرسوں کے راستے سے لوگ بھٹکنے لگتے ہیں۔
کانٹا لگا کی صداؤں پر بدن تھر تھر ائیں تو مشرقی تہذیب کے غبارے بے آواز اور بے دم ہو جاتے ہیں ۔جب کتابیں ثابت کر نے لگیں کہ عمر فاروق موسیقی کے دلدادہ تھے تو شخصی سوچوں کے ہیرو تلوار کی بجائے گٹار کے ساتھ جھولتے نظر آتے ہیں۔بس بھئی بس زیادہ بات نہیں چیف صاحب وہ چانٹا بن جاتی ہے کہ بڑوں کو چھوٹوں کے سامنے بات کر نے کی ہمت نہیں ہوتی۔آجا نچ لے کی صداؤں میں حی علی الفلاح کی صدائیں دب کر رہ جاتی ہیں۔ فلموں کے ہیرو،حقیقی ہیرو بننے لگتے ہیں۔ مجاہدین کی اصلیت بنیاد پرستی کی پرتو میں جا چھپتی ہے۔ بچے کم سنی کی عمر گزارے بغیر نوجوانوں کا روپ دھار لیتے ہیں۔ بچیاں محبت نام کی دیوی کی مالا جپتے گھر کی دہلیز وں سے باہر جا گرتی ہیں۔
جنابِ صدر! یہ میڈیا ہی ہے جس نے بنت حوّا کو وہ طلسماتی شعور بخش دیا ہے جو اس کو اپنی پسند کے جیون ساتھی کی خاطر چادر اورچار دیواری کے تقدس کوپامال کر نے کا درس دیتا ہے۔
یہ میڈیا ہے جو نونہالانِ وطن کو یوں اکسا تا ہے کہ کہنا پڑ تا ہے۔
جگنو کو دن میں پر کھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے



 جی ہاں جناب صدر ، ذرائع ابلاغ نے ہماری ثقافتی اقدار بدل دیں بانسری کی آواز سن کر کانوں میں انگلیاں ٹھونس لینے والوں کی اولاد اسے ایک فیشن کے طور پر اپنا نے لگی۔تلو اروں کے سایوں میں پناہ ڈھونڈنے والے گلیمرپوسٹ کے صفحات سے گلیمر سمیٹنے میں مصرو ف ہو گئے۔ سخت گرمیوں میں عبا ئیں پہننے والیوں کے ملبوسات شفون کی قباؤں سے سجنے لگے۔  علم البیان کی جگہ موسیقی نے لے لی ذکر خدا سے قلب و نظر گر ما نے والے نا چنے گانے کو روح کی غذا سمجھنے لگے۔

ہم کن معاشرتی اقدار کی بات کر تے ہیں ہماری سماجی ، سیاسی، مذہبی سبھی اقدار کبھی ڈش انٹینا کی لہروں کی نذر ہوتی رہی ہیں ۔ کبھی آغا خان فاؤنڈیشن میانہ روی کے نام پر ہماری کتابوں کی ابجد تبدیل کرتی رہتی ہیں۔
جی ہاں ہمارے ثقافتی اقدار بدل چکی ہیں کہ تلواریں بیچ کر مصلے خرید ے جانے لگے ہیں ۔
ہماری ثقافتی اقدار چھن چکی کہ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے کا نعرہ لگانے والے سب سے پہلے پاکستان کے نعروں میں گم ہو گئے ہیں ۔
ہماری ثقافتی اقدار چھن چکی کہ ہم آج بھی ڈنکے کی چوٹ پر ہندوؤں کا تہوار منانے کے بعد سویرے سویرے کے کالموں میں لکھتے ہیں کہ چند بنیاد پرستوں کو بچوں کی بے کنار ہنسی اچھی نہیں لگتی ۔ وہ لوگوں کے چہروں سے خوشیاں نوچنا چاہتے ہیں۔
جٹی کے ویر نے بھابی کی چوڑیاں چکنا چور کر دی ہیں۔ سبزی منڈی کے سارے پھل بنا اشتہار ذرائع ابلاغ مشہور کر نے پر تل گیا ہے۔

آج ہمارے حال پہ نہیں تو شہر کے عزت دارو
کل کو تمہارے حال پہ ہم کو اشک بہانے ہوں گے