زین العابدین فرسٹ سیکرٹری سفارت خانہ پاکستان ڈنمارک کے لئے ایک الوداعیہ

تعلقات کے حوالے سے یہ بات بہت عام سی ہے کہ لوگ لوگوں سے نہیں ان کے مراتب سے تعلقات استوار کرتے ہیں، حد تو یہ ہے کہ ان کے نام تک بھول جاتے ہیں اور اور ان کے عہدوں کے نام سے مخاطب ہوتے ہیں۔ ایسے مشکل دور میں کوئی عہدیدار اچھا لگے اور اس کا نام بھی یاد آ جائے تو میرے خیال میں یہ اس عہدے کی نہیں، اس عہدے دار کی کامیابی ہے۔
کوپن ہیگن میں گذارے سات آٹھ سالوں میں ، میں نے یہ دیکھا ہے یہاں اکثریت مشکل لوگوں کی ہے، جنہیں لبھانا، مائل کرنا، راغب کرنا اور متاثر کرنا مشکل ہے۔ شاید ایسا مزاج مسلسل محنت کے بعد آسودگی سے ملتا ہے یا جسے دیسی زبان میں مٹی کی تاثیر کہتے ہیں شاید کچھ ایسا ہو۔
یہاں بلاوجہ مخالفت کا فیشن بھی عام ہے، آپ کسی سے سروکار رکھیں نہ رکھیں وہ آپ کے بارے رائے ضرور رکھے گا، ایک چھوٹی سی صحافتی کمیونٹی جس میں اکثریت صحافت کے ہجے بھی ٹھیک سے نہیں لکھ سکتی، ایسے ظالم لوگ بھی کم نہیں جن کا کام آپ کو انڈین ایجنٹ ثابت کرنا، اور چاہے خود کبھی مسجد کے دروازے تک بھی نہ جائیں ، آپ کو مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہے۔
سچ کہوں تو ایسے تقسیم شدہ لوگوں کا میرا پہلا تجربہ ہے۔ لیکن پھر بھی کچھ لوگ اس کمیونٹی میں ایسے ہیں جو ان مشکل لوگوں، اور نامساعد حالات میں پھول کھلائے جا رہے ہیں۔
جب سے میں ڈنمارک آیا ہوں، ایک سفیر محترم کا تذکرہ سنا دیکھا نہیں، جن کے بارے اکثریت کی یہی رائے ہے کہ انہوں نے ان کو نہیں دیکھا، کوئی خاتون تھیں، شاید مجھے نام بھی یاد نہیں۔ اس کے بعد مسرور احمد جونیجو صاحب، دھیمے سروں میں زندگی گذارنے والے ، نپی تلی بات کرنے والے جیسے جہان نوردی کے بعد، ہر گرم و سرد دیکھنے کے بعد ایک دانا کا لہجہ ہو جاتا ہے، ان سے کئی ایک ملاقاتیں ہوئیں اور وہ ہر ملاقات میں ہی اچھے لگے۔ اسی دور میں نعیم صابر صاحب فسٹ سیکرٹری صاحب کے طور پر  تشریف لائے لیکن آتے ہی کچھ مسائل کا شکار ہوگئے، پیشتر اس سے کہ ان سے کچھ ملاقاتیں ہوتیں وہ یہاں سے چلے گئے۔ ان کی جگہ پر محترم زین العابدین صاحب آئے۔

پہلی ملاقات میں ہی اچھے لگے، پھر ایک دو ملاقاتوں میں وہ بیوروکریٹ کم اور دوست زیادہ محسوس ہونے لگے، اور انہوں نے بھی اس بھرم کی خوبصورتی میں گہرا رنگ بھرا، فراز کا ایک شعر بڑا بر محل ہے

تیری قربت کے لمحے پھول جیسے
مگر پھولوں کی عمریں مختصر ہیں۔

 ابھی کچھ دن پہلے پتہ چلا کہ ان کا کوپن ہیگن میں رہنے کا وقت پورا ہو چکا ہے، ان کے اعزاز میں الوداعی تقریب میں بیٹھ کر یہ یقین سا ہو گیا کہ وہ اب رکنے والے نہیں۔۔۔۔
اس دن وہ گلے سے ملے تو مجھے ان پر بڑا پیار آیا، سچ میں ایسا لگا کہ ایک دوست جدا ہونے والا ہے، گو کہ مجھے یقین ہے کہ اب ان سے تعلق مزید مضبوط ہونے جا رہا ہے۔ کیونکہ وہ یہاں عہدے دار تھے تو ایک باریک سا پردہ حائل رہتا تھا کہ دل میں یہ گماں نہ آ جائے کہ کسی عہدیدار کی رفاقت کے لئے دل مائل بہ کرم ہے۔ اب دل دنیا دار کو یقین ہو گا ایک خوبصورت انسان سے تعلق استوار ہے۔

کوپن ہیگن میں زین العابدین صاحب نے بے شمار محبتیں وصول کیں، ان کے اعزاز میں ہونے والی تقریبات اس بات کی گواہ ہیں کہ انہوں نے بہت دلوں میں گھر کیا ہے۔
ہم ایسے دل والے، ایک اچھے دوست اور مخلص آفیسر سے جدا ہونے پر رنجیدہ ہیں، لیکن دل میں ایک خوشی بھی ہے کہ سفارت کاری کے اس بحر بیکراں میں چلتے رہنا ہی کامیابی ہے، وہ ملکوں ملکوں پاکستان کا پرچم لیکر جائیں گے اور ہمارے ملک کے لئے نیک نامی کمائیں گے، اور ہمیں خوشی کی خوشبو آتی رہے گی، اور ہم بھی کہیں گے جی ہاں ہمارے ہاں ہوتے تھے، یہاں کوپن ہیگن میں، ہمارے تو دوست تھے جی۔

زین العابدین صاحب، اللہ تعالی آپ کو دونوں جہان کی کامیابیوں سے سرفراز کرے، اور آپ پاکستان کے لئے مزید نیک نامی کا باعث ہوں،