گھٹیا اخبار نویسی ۔؟؟؟؟

نچلے سروں میں آ کے ترنم سے جی لیا
اونچے سروں میں جا کہ نبھاتا تو میں نہ تھا
ہم تو زندگی جینے کے لئے شوکت صاحب کی اس روشنی سے کام چلانے کے چکر میں تھے۔ مگر یہاں تو سب کے سر ہی  اونچے ہیں۔ وہ جہاں سے محبت سے میٹھے جھرنوں کی امید کی جاسکتی تھی وہاں سے اب کھٹی ڈکاروں کے سوا کچھ نہیں آتا۔۔۔میرے ملک کے اخبار لکھنے والوں کو کیا ہو گیا ہے؟؟ ان کی سرخیوں کا رنگ گہرا سرخ ہوتا جا رہا ہے، ۔انتہائی احتیاط سے منتخب الفاظ کی چاشنی کی بجائے۔۔۔بازاری مصالحوں کی کھٹاس سے سارا مزا کرکرا کرنے والوں سے کوئی پوچھنے
شامی صاحب کا مردانہ دواخانہ 
والا بھی ہے کہ نہیں۔۔۔

لیں جی حیرت کے سمندر میں ڈوب جائیں۔ 
چند سرخیوں کے رنگ ملاحظہ کیجئے

گوجرانوالہ میں ہونے والے ظلم کی داستان جاننے کے لئے کلک کریں؎

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے اصل مقصد سے پردہ ہٹ گیا
بھارتی بزنس مین نے اپنے بارہ سو ملازمین کے ساتھ کیا کیا ، حیران کن خبر
اسلام جیت گیا، آسٹریلیوی حکومت کو شکست دے دی
پنجاب کے 57 رکن اسمبلی کی رکنیت معطل ، پڑھیں ایک بہترین سٹوری
پریشانیوں کی ستائی پاکستانی قوم کے لئے ایک اچھی خبر
سپیکر سراج درانی نے ہاوس کو حیران کر دیا مگر کیسے؟؟
گو نواز گو کا کرشمہ۔۔۔گورنر خیبرپختونخوا کیساتھ طالبعلم کا انتہائی شرمناک سلوک!!!
عمران خان کو بونگا خان قرار دے دیا گیا مگر ایسا کس نے کیا؟؟؟



کیا واقع پہلی مرتبہ؟؟؟

انوکھی پابندی اور شرمناک عادات 

کیا واقع ایسی خبر کوئی اور نہ بتائے گا؟

کبھی انگلی، کبھی پاوں اورآج یہ گردن سے دبوا رہے ہیں۔ 

ویسے ہو سکتا ہمارے لوگ اسی بہانے ہی اردو پڑھنے لگ پڑے ہوں،؟؟؟؟

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں