میرا رفیق ۔۔۔میرا یار

زندگی کے بہت سال میں سادہ سا محمد رمضان تھا۔۔۔پھر مجھے اس سے محبت ہو گئی اور میں نے اپنا نام محمد رمضان رفیق کر لیا۔۔۔یہ شعوری تبدیلی اس وقت پیش آئی جن دنوں میں جامعہ زرعیہ فیصل آباد کا طالب علم ہوا۔۔۔۔کچھ وقت گھر سے باہر لوگوں میں گذارنے کا موقع ملا، ۔۔۔۔۔ایسا شخص جس نے مجھے رفاقت اور محبت کے معنی سکھائے۔۔۔آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا۔۔۔زیر لب مسکراتا۔۔۔۔اپنی محرومیوں پر بھی مطمئن، ۔۔۔بس مستقبل کے خواب بنتا رہتا تھا۔۔۔۔میں یقین سے کہتا ہوں کہ اس جیسا دوسرا شخص میں نے دنیا میں نہیں دیکھا۔۔۔۔۔اس نے اپنے باپ کی وہ خدمت کی کہ لوگ کہہ اٹھے کہ اس نے اپنے باپ کو دس سال کی زندگی دی۔۔۔۔۔مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے اس کو بڑے قریب سے دیکھا۔۔۔وہ آرمی سے نائب صوبیدار ریٹائر تھا، اور ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے محلے میں ایک چھوٹا سے جنرل سٹور چلاتا تھا۔۔۔۔محلے کے بچے، بوڑھے عورتیں اس کو بابا جی کہتے تھے۔ اپنی عمر سے تھوڑا بڑا لگتا تھا۔۔۔چہرے پر ایک خاص قسم کی سنجیدگی رہتی تھی جیسے زندگی کی مشکلات دیکھتے دیکھتے انسان پتھریلا سا ہو جاتا ہے۔۔۔۔اس کی وجہ شاید کچھ امراض بھی تھے جن میں وہ گھرا ہوا تھا۔۔۔۔ہرنیا کے دو آپریشن، مثانے کی تکلیف، اور سب سے نمایاں مسئلہ ایکرومگیلی کا تھا۔۔۔۔ایکرومگیلی ایک ایسی بیماری ہے جس میں جسم کے اعضا بڑے بڑے لگتے ہیں، یہ ہارمونز میں کمی زیادتی کا نتیجہ ہے، جسم کی ہڈیاں بڑھتی رہتی ہیں۔۔۔۔نجانے اسے یہ مسئلہ کب سے تھا۔۔۔میں نے جب سے دیکھا تو اس کے چہرے پر ناک اور کان کو نمایاں پایا۔۔۔۔۔۔شاید ظاہری صورت کی اس تبدیلی نے بھی اس کو تھوڑا سنجیدہ کر دیا تھا۔۔۔۔۔
حاجی محمد رفیق۔ میرے والد محترم 

اپنے کام سے کام رکھتا تھا، بالکل جیسے صلح کل قسم کے لوگ ہوتے ہیں، گلی میں سر جھکا کر گذرتا اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا جیسے ایک ایک قدم گن کے رکھتا ہو،میں اس کے ساتھ چلنے کی کوشش کرتا تو کہتا ۔۔۔تو چل میں آتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہ مناظر جن میں وہ اپنے بوڑھے باپ کو سہارا دیکر اٹھاتا اس کو باتھ روم تک لیکر جاتا، اس کو کھانا کھلاتا، ، ایک کولہے کی ٹوٹی ہوئی ہڈی والے بوڑھے باپ کی ہر ہر ضرورت کی نگہبانی ایک عبادت کی طرح کرتا ۔۔۔۔کاش میرے پاس کچھ کیمرا ہوتا اورباپ بیٹے کی محبت کے وہ مناظر آپ کو دکھا سکتا ۔۔۔۔۔
اس کی بیماریاں زور پکڑنے لگیں تھیں، ، ایکرو مگیلی اپنی آخری خرابیوں کی طرف مائل تھی، ، دونوں ووکل کارڈ پیرالائز ہو گئے تھے۔۔۔سانس لیتا تھا تو جیسے ہانپنے جیسی آواز آنے لگی تھی۔۔۔۔شوگر بھی ہو گئی تھی، ٹانگوں کی بڑھتی ہڈیاں چلنے میں دشواری پیدا کرنے لگی تھیں۔۔۔۔۔مجھے کہنا لگا۔۔۔۔۔۔۔یار لگتا ہے اب میری باری آنے والی ہے۔۔۔۔۔۔۔وہ مجھے پیار سے جانو یار کہا کرتا ۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس جانو یار کے لئے وہ کیا کیا نہیں کرتا تھا۔۔۔۔۔اس کو پتا تھا کہ مجھے کپڑے استری کرنے اچھے نہیں لگتے۔۔۔۔چپکے سے کپڑے استری کرکے دروازے کے ساتھ لٹکا دیتا۔۔۔۔جوتا کب پالش کر کے رکھ دیتا تھا میں نے نہیں دیکھا۔۔۔یار کی پسند کے چاول تو بنا کہے بنا رکھتا۔۔۔۔۔۔پیسوں کا اس نہ کبھی حساب ہی نہیں رکھا۔۔۔۔۔مجھے کبھی بھی پیسوں کی ضرورت ہوتی ۔۔۔۔کہتا ۔۔۔یار میری قمیض فلاں کھونٹی پر لٹکی ہے لے لو۔۔۔۔۔کبھی پیسے گن کر نہیں دئے۔۔۔اور دیکر حساب نہیں مانگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مجھ سے بڑی محبت کرتا تھا۔۔۔۔۔اب اتنی محبت دنیا میں مجھ سے کوئی نہیں کرتا سچ کہوں تو مجھے لگتا ہے وہ میری ماں سے بھی زیادہ محبت کرتا تھا۔۔۔۔۔
اس شام اس نے ناروے کے لئے روانہ ہونا تھا۔۔۔۔۔سب گاوں والوں سے مل آیا۔۔۔نکڑ کی دکان والے کا سارا حساب بے باک کر آیا۔۔۔۔جس کو دینا دلانا تھا سب کچھ سمیٹ کر سب کو کہہ آیا کہ میں جا رہا ہوں۔۔۔پتہ نہیں واپس آوں کہ نہ آوں۔۔۔۔۔۔اسی شام اپنے گھر سے نکلا۔۔۔۔اور دل کے درد نے ایسا وار کیا کہ سنبھلنے نہیں دیا۔۔۔۔۔۔۔۔میرا رفیق مجھ سے رخصت ہو گیا۔۔۔۔میری نظروں کے سامنے۔۔۔۔چیچہ وطنی کے سول ہسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں۔۔۔۔۔۔۔۔میں چختا رہا۔۔۔۔۔۔لیکن وہ چلا گیا۔۔۔۔۔۔مجھے تنہا چھوڑ کے ۔۔۔اپنے جانو یار کو تنہا چھوڑ کے۔۔۔۔۔
میں اسے اس دن نہیں رویا۔جس دن وہ مجھے چھوڑ کر گیا۔۔میں نے اپنے سارے آنسو سنبھال کر رکھ لئے۔۔۔۔اس کی یادوں کی پوٹلی کھول کر کبھی کبھی کچھ آنسووں کے نذرانے پیش کرتا ہوں۔۔۔اس کی بے پناہ محبتوں کو اپنے بدن پر محسوس کرتا ہوں۔۔۔۔کبھی کبھی آئینہ دیکھتے ہوئے اس کی جھلک دیکھ لیتا ہوں۔۔۔۔راستہ چلتے ہوئے اس کی آواز سن لیتا ہوں۔۔۔۔سات سال ہو گئے اس کو بچھڑے ہوئے۔۔۔۔وہ اب بھی ایسے ہی دل میں رہتا ہے جیسے کوئی ساتھ والے کمرے میں رہتا ہو۔۔۔۔