اگر انٹرنیٹ پر روپے کمانے ہیں تو ان لوگوں کو فالو کریں


اگر آپ انٹرنیٹ پر روپے کمانے کے خواب دیکھتے ہیں تو میری دانست میں ان گروپس اور لوگوں کو فالو کریں،

ریحان اللہ والا

۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے اس خوبصورت انسان کو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ملین سے زیادہ لوگ فالو کرتے ہیں، ان کا خواب پاکستان سے غربت کا خاتمہ ہے جس کے لئے وہ انٹرنیٹ کی تعلیم اور اس سے جڑے کاموں کو ایک نسخہ کیمیا سمجھتے ہیں، آجکل ورچوئل اسسٹنٹ بنئیے اور گھر بیٹھے سترہ ہزار روپے کمائیے کے نعرے کے پیچھے سر گرم ہیں، ان کے درجنوں منصوبے اس منصوبے کے علاوہ ہیں۔ ان کے کاموں کو ایک الگ سے کتاب درکار ہے، ان کو سوشل میڈیا پر یہاں فالو کیا جا سکتا ہے ۔
https://www.facebook.com/rehan33


حشام سرور
فری لانسنگ کے بے تاج گرو ہیں، ابھی پچھلے دنوں ان سے بات ہو رہی تھی اور ان کے صرف ایک سیشن میں ساڑھے آٹھ لاکھ سٹوڈنٹ ہیں، پاکستان میں ڈی جی سکلز کے ادارے سے وابستہ ہیں، اور انٹرنیٹ پر ہنر بانٹتے نظر آتے ہیں، فری لانسنگ کیا ہے، انٹرنیٹ سے پیسے کیسے کمائیں، اور اس طرز کے درجنوں سوالوں کے عملی جواب ان کے یوٹیوب چینل سے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ https://www.youtube.com/channel/UCw3jwyEmeiRdkS22sOjMsSA?sub_confirmation=1&fbclid=IwAR0zhA2ztJmhZofJfPn_JyrYicTGwZYj7n589uxRDm7YyK8z7g5Vc7B0Tbk



سنی علی۔
بلاشبہ جس شخص نے ای کامرس میں ہزاروں لوگوں کو متاثر کیا وہ سنی علی ہیں، میں نےا ن کی درجنوں ویڈیوز سنی ہیں، اور ان کے گروپ میں پڑے رہنے سے ہی مجھے اس ای کامرس کے کاموں کی کچھ سوجھ بوجھ پیدا ہوئی، ایمزون پر ایف بی اے ، یا پرائیویٹ لیبل اس حوالے ان کا کام قابل تحسین ہے ، جو بات مجھے ان کی سب سے متاثر کن لگتی ہے وہ پاکستان کے لئے ایک اعشاریہ آٹھ بلین یو ایس ڈالر سالانہ لانے کا خواب رکھتے ہیں۔ ان کا گروپ اب ایک لاکھ سے زائد لوگوں پر مشتمل ہے ۔
https://www.facebook.com/groups/extremecommerce/



ثاقب اظہر اور انیبلرز گروپ
ای کامرس پر کام کرنے والے گروپ کو میں نے کچھ عرصہ پہلے ہی جوائن کیا ہے، ان کی مشن سٹیٹمنٹ بھی دل لبھا دینے والی ہے کہ آنے والے تین سالوں میں  دو لاکھ ای کامرس کے نئے بزنس ، دو ملین نوکریاں، میرے رائے میں یہ گروپ بھی پیروی کئے جانے کے قابل ہے۔ https://www.facebook.com/groups/1811354392264821/


حذیفہ علی اور ای کامرس سکسس پاکستان
 مجھے حذیفہ علی بہت پیارے لگتے ہیں جب وہ کہتے ہیں کہ ہر پاکستانی کے ہزار ڈالر ماہانہ کم سے کم، ان کا گروپ بھی میں نے کچھ عرصہ پہلے جوائن کیا ہے، سکلز ڈویلپ کرنے کے لئے اور ان کو دنیا میں بیچنے کے وہ اپنی خاص نظر رکھتے ہیں، میرے ای کامرس کے مینٹر کے مطابق ڈارپ شپنگ ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا ، ان کے گروپ میں یہاں شامل ہوا جا سکتا ہے۔ https://www.facebook.com/groups/pakistanecommerce


آزاد چائے والا ۔
آزاد بھائی کا اپنا ہی سٹائل ہے ، لوگوں میں کاروبار کرنے کا شوق ڈالنا ان کا جنون ہے، اس کی وکالت میں وہ اس قدر آگے تک چلے جاتے ہیں کہ ڈگری کو بھی کوئی وقعت نہیں دیتے، سکلز سیکھنے اور کاروبار کرنے پر ان کا زور ہے اور ان کا ایک سٹائل تو مجھے بہت ہی اچھا لگتا ہے کہتے ہیں انشااللہ ایک ایک کو بازو سے پکڑ کر اوپر اٹھاوں گا اور ڈالر ملنیر بناوں گا، اگر آپ کروبار کرنے پر ایمان لانا چاہتے ہیں تو آزاد بھائی کو ضرور فالو کریں۔ https://www.facebook.com/AzadChaiwala/


شاہد جوئیہ

میں ان کو بہت عرصے سے فالو کر رہا ہوں، جب وہ ابتدائے زمانہ میں تھوڑے پیسوں سے شروع ہونے والے کاروبار سکھانے کے تگ وہ دو کر رہے تھے، اب ان کے فالوورز کی تعداد بھی لاکھوں میں ہو چکی ہے، ویسے تو وہ فزیکل بزنس سائیڈ پر زیادہ گائیڈ کرتے ہیں، لیکن یوٹیوب پر ویڈیوز اور یوٹیوب کی مدد سے پیسے کیسے کمائے جائیں اس حوالے سے ان کی ٹپس بہت پریکٹیکل اور ؑعام فہم ہیں، ان کو یہاں فالو کیا جا سکتا ہے۔
https://www.youtube.com/channel/UC0PJYr_yjH0yuYw3vTUsTgw


  1. میری ذاتی ملاقات صرف ریحان اللہ والا سے ہوئی ہے، حشام سرور اور حذیفہ علی صاحب سے فیس بک کے توسط بات چیت ہوئی ہے، باقی دوستوں کو صرف فیس بک پر فالو کر رہا ہوں، میں نے کچھ عرصے سے ایمزون کنڈل پر کتابیں لکھنے کے ایک سلسلے کا آغاز کیا تھا اور اس پر چند ایک بنیادی ویڈویوز بھی بنائی ہیں، اس لئے ای کامرس اور فری لانسنگ کے کام سے روز کا واسطہ پڑنے لگا ہے۔
یہ چند لوگ جو پاکستان کے عام سے لوگ ہیں، لیکن اپنے سر میں بڑے بڑے خوابوں کا سودا سمائے ہوئے ہیں، ان سب میں ایک بات مشترک ہے کہ یہ عام لوگوں کو ساتھ چلا رہے ہیں، اور ان کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کررہے ہیں، پاکستان میں ای کامرس کا کروبار کرنے کے حوالے سے کئی ایسی مشکلات ہیں جن کا فوری ازالہ کرنا بہت ضروری ہے، جیسے پے منٹ گیٹ وے کا مسئلہ اتنا سنگین ہے کہ بہت سے لوگوں کو ایکسپلائیٹ ہونا پڑتا ہے، اگر گورنمنٹ کچھ نہ کرے کسی طرح انٹرنیٹ پر کام کرنے والوں کا بس ایک مسئلہ حل کروا دے تو مجھے یقین ہے کہ یہ خواب دیکھنے والے دیوانے سچ کر دکھائیں گے۔

سفیر ڈنمارک ، سید ذوالفقار گردیزی ، خدا حافظ

ابھی کل کی بات ہے کہ مسرور جونیجو صاحب دھیمے لہجے اور سنجیدہ انداز تکلم کے ساتھ پاکستان ایمبیسی ڈنمارک کا چہرہ ہوا کرتے تھے، اور ابھی آج کی بات ہے کہ سید ذوالفقار گردیزی اسی عہدہ پر اپنی مدت گذار کر جا رہے ہیں، تین سال کا کا عرصہ درجنوں ملاقاتیں، بس چند لمحوں کی بات لگتے ہیں، جونیجو صاحب کے دور میں بیلی ابھی بیلی بندھن سے آزاد تھے ، شاید اس لئے انہیں اس چھوٹے سے گروپ کی موجودگی کا احساس نہ ہوا ہوگا، لیکن گردیزی صاحب کے دور کی سبھی محفلوں میں بیلیوں کی موجودگی اور بیلیوں کی سبھی تقاریب میں سفیر محترم کی موجودگی ان کی نوازشوں کے ایک سلسلے کا پتہ دیتی ہے۔ 

دو روز قبل فلیمز پاکستانی ریسٹورنٹ پر ایک محفل میں ان کی الوادعیہ تقریب رکھی گئی تھی، ایک ایسی تقریب جس میں کسی تقریر کا اہتمام نہ تھا بس ایک الوداعی کھانا کہ بس اکٹھے بیٹھ رہنے کا احساس رہے اور گذرے وقت کو ایک بار پھر سے تازہ کیا جاسکے،

عدیل آسی صاحب کی دونوں کتابوں میں بھرپور وقت انہوں نے نکالا، بیلی مینگو مشاعرہ کے تصور میں جان انہوں نے ڈالی اور بیلیوں کی توسط آنے والے مہمانوں کے لئے دستر خوان انہوں نے وسیع کیا،  یقینا ایک نوزائیدہ سی تنظیم کے لئے اس طرح کی شفقت ہاتھ آنا ایک ایسی حوصلہ افزا تھپکی ہے جس کے لئے بیلی تادیر ان کی محبتوں کے قرض دار رہیں گے۔

وہ مرتبے کے حساب سے پہلے بھی منتخب تھ


ے، لیکن اپنے اس قیام کے دوران انہوں نے ہمارے دلوں میں بے پناہ جگہ سمیٹی، اس شام وہ جا رہے تھے تو دل ایک لمحہ اداس سا ہو گیا، جیسے کسی عزیز سے دوری کے رشتے کا آغاز ہونے والا ہو، ایسا بارہا ہوتا ہے بچھڑنے والے ملنے کا وعدہ کر کے ہی بچھڑتے ہیں ، کسی نے کہا تھا کہ

جانتے تھے دونوں ہی ہم اسے نبھا سکتے نہیں
اس نے بھی وعدہ کر لیا، میں نے وعدہ کر لیا۔

بس ایسے ہی بچھڑتے وقت سب نے کہا کہ پھر ملیں گے، بچھڑنے کی خوبصورتی بھی اسی خواہش میں ہے کہ پھر ملنے کی آرزو باقی رہے،  بیلیوں کی بے شمار محبتیں اور پھر اس تعلق کی یاد میں ملنے کی آرزو کے ساتھ سفیر محترم سید ذوالفقار گردیزی صاحب کے لئے خدا حافظ۔ 

زمانہ بدل گیا ہے جی۔



زمانہ بدل گیا ہے جی۔ 
ایک دوست کی پاکستان شادی ہوئی، نئی بیوی نے کہا جب آپ یورپ واپس جائیں گے تب ہم شادی شدہ زندگی اختیار کریں گے، پھر بھابی جی تشریف لے آئیں، دوسرے دن میاں بیوی کی لڑائی ہوئی ، بات تو تو ، میں میں تک پہنچی ، بھابھی جی نے اتنا شور مچایا کہ پولیس آ گئی اور انہیں اپنی پناہ میں لے لیا گیا، اور دولہا میاں پر الزام لگ گیا کہ انہوں نے بیوی کو مارنے کی کوشش کی ہے، بے چارہ ایسی سچوئشن میں پھس گیا ہے کہ جس کا کبھی سوچا نہ ہو، مدد کا طلبگار ہے کیا کیا جائے؟
ایک دوست کا فون آیا کہ ان کے دوست کی بیوی نے دوست کو بہانے سے پاکستان بھیجا ، دوست صاحب کسی اور ملک میں سٹوڈنٹ تھے ان کا وہاں کا ویزہ ختم ہوا تو اس نئے ملک میں لڑکی کے ڈپنڈنٹ ہو گئے تھے، لڑکی کو کسی اور سے پیار ہو گیا، اور اس نے پہلے پیار کو چپکے سے خلع وغیرہ کے کاغذ پاکستان سے تیار بھی کروالئے، لڑکے والوں نے لڑکی کے سامان پر قبضہ کر لیا، اور اس لڑکی کی نئی زندگی میں مشکلات پیدا کرنے کے درپے تھے، مدد کے طلبگار ہیں؟
لیجئے ایک اور سنئیے۔ ان دونوں کی پسند کی شادی یہیں یورپ میں ہوئی، دونوں اعلی تعلیم یافتہ تھے، ان کا ایک بیٹا بھی ہوا، خاتون اپنی فیملی کو یورپ سیٹ کروانے کے شوہر کی مدد چاہتی تھی، کچھ اختلاف ہوا، علیحدگی ہو گئی، خاتون نے شوہر پر شدت پسند، ظالم اور مارپیٹ کے الزمات لگائے، اتنا کہ وہ اپنے بیٹے سے بھی نہ مل پائے، ۔۔۔۔ایک دو سال گذر گئے کیسز ابھی تک چل رہے ہیں، اور شوہر کی آمدنی وکیلوں کی نذر ہو رہی ہے، مدد کا طلبگار ہے ۔ 
ایک اور سنئیے ۔ لڑکا بڑی شان و شوکت سے سے اسے بیاہ کر لایا تھا، یورپ میں آنے کے ایک ہفتہ بعد ان کی لڑائی ہوئی، لڑکی کسی گورے کے گھر شفٹ ہو چکی اور طلاق کی طلبگار ہے۔
پچھلے چار پانچ مہنیوں کے اندر سنی ہوئی کہانیوں میں ایک کہانی دوسری طرف کی بھی سنئیے، لڑکی کو پاکستان سے بیاہ کر لایا گیا، اس کے سونے پر قبضہ کر لیا گیا، چند مہنیوں بعد اس کے سفری کاغذات چھین کر پاکستان چھوڑ دیا گیا ، لڑکی والے اپنی بچی کے لئے انصاف کے طلبگار ہیں۔
نوٹ۔ یہ سب کہانیاں یک طرفہ ہیں۔
ایک کہانی جو کتاب کے برابر ہے ابھی باقی ہے، مرد کے ظلم کرنے کی کہانی بہت جلدی شہرت پاتی ہے، یہاں پر بھی ہاتھوں ہاتھ لی جاتی ہے، اور سکینڈے نیویا کے قوانین عورتوں کے حق میں اتنے اچھے ہیں کہ عورت کے آنسو زمین پر گرنے سے پہلے مرد شکنجے میں چلا آتا ہے۔ ان کہانیوں سے آپ اپنی مرضی کے نتائج اخذ کر سکتے ہیں، لیکن بس ایک یہی بات کہنا تھی کہ دوستو ، زمانہ بدل چکا ہے #ramzanblog

خود کلامی

میری توقعات سے پر
میری خواہشیں ہی اصل محبت ہیں
ہاں مجھے ملے جو میں نے چاہا تھا
جس کو چاہا تھا
اس ترتیب سے
سب کچھ ملے
جیسے چاہا تھا
اور وہ کون
میری آرزو میں الجھا ہوا شخص
کیا جانے کہ میری محبت کیا ہے
وہ چاہتا ہے
میں اس کو چاہوں
اس کی طرح سوچوں
اس کی ہو لوں
بھلا یہ بھی کوئی محبت ہے
کہ آدمی کسی اور کی آنکھ سے دنیا کو دیکھے
اس کے بتائے رنگوں پر اعتبار کرے
اس کی انگلی تھام کر چلے
اسے بھی کوئی محبت کہے گا
ہاں یہ محبت تو غلامی سے بدتر ہے
میں کیوں اپنے ہی جیسے کسی شخص کی زندگی جیوں
میں کیوں اسی کی بن کر رہوں
اس کے بتائے ہوئے رنگوں پر اعتبار کروں
میں تو میں ہوں
میری نگاہیں کچھ سوا دیکھتی ہیں
اس سے کہیں زیادہ دیکھتی ہیں،
ہاں وہ میرا نہیں تو کیا
کوئی بات نہیں
میں اپنی نگاہوں میں ہوں معتبر
اپنی زندگی میں مگن
ہاں مجھے مجھ سے محبت ہے


زین العابدین فرسٹ سیکرٹری سفارت خانہ پاکستان ڈنمارک کے لئے ایک الوداعیہ

تعلقات کے حوالے سے یہ بات بہت عام سی ہے کہ لوگ لوگوں سے نہیں ان کے مراتب سے تعلقات استوار کرتے ہیں، حد تو یہ ہے کہ ان کے نام تک بھول جاتے ہیں اور اور ان کے عہدوں کے نام سے مخاطب ہوتے ہیں۔ ایسے مشکل دور میں کوئی عہدیدار اچھا لگے اور اس کا نام بھی یاد آ جائے تو میرے خیال میں یہ اس عہدے کی نہیں، اس عہدے دار کی کامیابی ہے۔
کوپن ہیگن میں گذارے سات آٹھ سالوں میں ، میں نے یہ دیکھا ہے یہاں اکثریت مشکل لوگوں کی ہے، جنہیں لبھانا، مائل کرنا، راغب کرنا اور متاثر کرنا مشکل ہے۔ شاید ایسا مزاج مسلسل محنت کے بعد آسودگی سے ملتا ہے یا جسے دیسی زبان میں مٹی کی تاثیر کہتے ہیں شاید کچھ ایسا ہو۔
یہاں بلاوجہ مخالفت کا فیشن بھی عام ہے، آپ کسی سے سروکار رکھیں نہ رکھیں وہ آپ کے بارے رائے ضرور رکھے گا، ایک چھوٹی سی صحافتی کمیونٹی جس میں اکثریت صحافت کے ہجے بھی ٹھیک سے نہیں لکھ سکتی، ایسے ظالم لوگ بھی کم نہیں جن کا کام آپ کو انڈین ایجنٹ ثابت کرنا، اور چاہے خود کبھی مسجد کے دروازے تک بھی نہ جائیں ، آپ کو مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہے۔
سچ کہوں تو ایسے تقسیم شدہ لوگوں کا میرا پہلا تجربہ ہے۔ لیکن پھر بھی کچھ لوگ اس کمیونٹی میں ایسے ہیں جو ان مشکل لوگوں، اور نامساعد حالات میں پھول کھلائے جا رہے ہیں۔
جب سے میں ڈنمارک آیا ہوں، ایک سفیر محترم کا تذکرہ سنا دیکھا نہیں، جن کے بارے اکثریت کی یہی رائے ہے کہ انہوں نے ان کو نہیں دیکھا، کوئی خاتون تھیں، شاید مجھے نام بھی یاد نہیں۔ اس کے بعد مسرور احمد جونیجو صاحب، دھیمے سروں میں زندگی گذارنے والے ، نپی تلی بات کرنے والے جیسے جہان نوردی کے بعد، ہر گرم و سرد دیکھنے کے بعد ایک دانا کا لہجہ ہو جاتا ہے، ان سے کئی ایک ملاقاتیں ہوئیں اور وہ ہر ملاقات میں ہی اچھے لگے۔ اسی دور میں نعیم صابر صاحب فسٹ سیکرٹری صاحب کے طور پر  تشریف لائے لیکن آتے ہی کچھ مسائل کا شکار ہوگئے، پیشتر اس سے کہ ان سے کچھ ملاقاتیں ہوتیں وہ یہاں سے چلے گئے۔ ان کی جگہ پر محترم زین العابدین صاحب آئے۔

پہلی ملاقات میں ہی اچھے لگے، پھر ایک دو ملاقاتوں میں وہ بیوروکریٹ کم اور دوست زیادہ محسوس ہونے لگے، اور انہوں نے بھی اس بھرم کی خوبصورتی میں گہرا رنگ بھرا، فراز کا ایک شعر بڑا بر محل ہے

تیری قربت کے لمحے پھول جیسے
مگر پھولوں کی عمریں مختصر ہیں۔

 ابھی کچھ دن پہلے پتہ چلا کہ ان کا کوپن ہیگن میں رہنے کا وقت پورا ہو چکا ہے، ان کے اعزاز میں الوداعی تقریب میں بیٹھ کر یہ یقین سا ہو گیا کہ وہ اب رکنے والے نہیں۔۔۔۔
اس دن وہ گلے سے ملے تو مجھے ان پر بڑا پیار آیا، سچ میں ایسا لگا کہ ایک دوست جدا ہونے والا ہے، گو کہ مجھے یقین ہے کہ اب ان سے تعلق مزید مضبوط ہونے جا رہا ہے۔ کیونکہ وہ یہاں عہدے دار تھے تو ایک باریک سا پردہ حائل رہتا تھا کہ دل میں یہ گماں نہ آ جائے کہ کسی عہدیدار کی رفاقت کے لئے دل مائل بہ کرم ہے۔ اب دل دنیا دار کو یقین ہو گا ایک خوبصورت انسان سے تعلق استوار ہے۔

کوپن ہیگن میں زین العابدین صاحب نے بے شمار محبتیں وصول کیں، ان کے اعزاز میں ہونے والی تقریبات اس بات کی گواہ ہیں کہ انہوں نے بہت دلوں میں گھر کیا ہے۔
ہم ایسے دل والے، ایک اچھے دوست اور مخلص آفیسر سے جدا ہونے پر رنجیدہ ہیں، لیکن دل میں ایک خوشی بھی ہے کہ سفارت کاری کے اس بحر بیکراں میں چلتے رہنا ہی کامیابی ہے، وہ ملکوں ملکوں پاکستان کا پرچم لیکر جائیں گے اور ہمارے ملک کے لئے نیک نامی کمائیں گے، اور ہمیں خوشی کی خوشبو آتی رہے گی، اور ہم بھی کہیں گے جی ہاں ہمارے ہاں ہوتے تھے، یہاں کوپن ہیگن میں، ہمارے تو دوست تھے جی۔

زین العابدین صاحب، اللہ تعالی آپ کو دونوں جہان کی کامیابیوں سے سرفراز کرے، اور آپ پاکستان کے لئے مزید نیک نامی کا باعث ہوں،  

بھنگ کے پودے، چرس سے پہلے

اس مضمون کو پڑھ کر آپ مجھے مذہب بیزار یا پاگل سمجھنا شروع کردیں تو آپ اسے کسی دیوانے کی بڑبڑاہٹ سمجھ کر معاف کردیجئے گا جو اپنے وطن کی ترقی کے خوابوں میں کھو کر دماغ کھو بیٹھا ہے۔

پچھلے دنوں ایمسٹرڈم جانے کا اتفاق ہوا، وہاں پر بھنگ کے پودے پر ہونے والا کام اور تحقیق دیکھ کر اس پودے کے جادوئی اثرات کا قائل ہو گیا، وہاں دکانوں پر اس سے بنی ہوئی مصنوعات دیکھ کر میں دنگ رہ گیا کہ یار لوگوں نے اس پودے سے کیا کیا کچھ بنا چھوڑا ہے۔

آئس کریم
لولی پاپ
چاکلیٹ مکس
انرجی ڈرنک
چائے
بسکٹ
کیک
اور کھانے والی دیگر درجنوں اشئیا جن میں اس کو شامل کر کے کھانے کی تاثیر بڑھائی گئی تھی، یہاں پر کئی ایک کیفے اپنے مینو میں  بھرے ہوئے سیگریٹ بھی دیتے ہیں، کچھ دکانوں پر بھنگ کے ہرے بھرے پودے، اس کے بیج اور گھریلو سطح پر اس کو اگانے کی پوری تربیت فراہم کرنے کا سامان بھی موجود تھا۔

پچھلے دنوں زراعت میں نوکری کی تلاش کر رہا تھا تو یہاں ڈنمارک میں ایک بھنگ فارم پر کام کرنے والے ملازم کا اشتہار دیا ہوا تھا، ابھی کچھ دن پہلے الجزیرہ پلس کی ایک ویڈیو نظر سے گذری تو پتہ چلا کہ امریکہ میں بھی لوگوں کو روزگار مہیا کرنے کے لئے اس پودے کے کرشموں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

https://www.facebook.com/ajplusenglish/videos/1575741955873827/


آپ سے بہت سے لوگ شاید نہ جانتے ہوں کہ پاکستان میں یہ فصل جسے عرف عام میں ویڈ بھی کہا جاتا ہے سچ میں ایک ویڈ یعنی جڑی بوٹی کی طرح اگتی ہے، یعنی اس پودے سے ہمارے پہاڑی علاقوں کے دامن اٹے پڑے ہیں، اور دنیا کے مہنگے نشوں میں سے ایک نشہ چرس بھی ہے لیکن پاکستان میں اس کو غریب آدمی کا نشہ سمجھا جاتا ہے۔ اور ہر کس و ناکس کی پہنچ میں ہے کہ وہ بھی دو جوڑے افورڈ کر سکتا ہے۔

میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ مملکت پاکستان اصلی چرس کی سپلائی شروع کردے، لیکن اگر اس کی پراڈکٹ ڈویلپمنٹ پر کام کیا جائے تو ملک کے لئے قیمتی زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔

لیکن ایسا کوئی بھی کاروبار کرنا شرعی حوالے سے کیسا ہو گا مجھے اس پر شک ہے، میرے خیال میں یہ نامناسب کاموں میں شمار ہو گا، لیکن کبھی کبھی سوچتا ہوں جب ہم باہر کے ملکوں سے امداد مانگتے ہیں تو وہ کون سا حلال کے پیسوں سے ہماری مدد کرتے ہیں؟ جیسے پاکستان میں کچھ خاص اقلیتوں کو شراب کے پرمٹ دئیے گئے ہیں ایسے ہی کچھ اقلیتوں کو اس کی پراڈکٹ ڈویلپمنٹ کا کام بھی دیا جا سکتا ہے، اور ہو سکتا ہے پراڈکٹ ڈویلپمنٹ، اور ادویات کے بننے کے بعد اس پر شرعی نقطہ نظر سے بھی کوئی گنجائش نکلتی ہو؟


ظالم لوگ

گروہوں، قبیلوں، ذاتوں، فرقوں میں بٹے ہوئے ہم دھرتی کے ظالم ترین لوگ ہیں شاید جن کی نظر میں کوئی بھی متفقہ معتبر نہیں، ہمارے لئے محترم ہمارے نشان اور ٹھپوں والے لوگ ہیں اور باقی کے سب کیڑے مکوڑے، کم ذات اور کمینے۔ ارے لوگو کیا ہو گیا ہے تم کو، ہر بات میں سازش کیوں ڈھونڈنے بیٹھے ہو، ہر کسی کو پیلی آنکھوں سے کیوں دیکھتے ہو؟ ہر کوئی تہماری نظر میں برا کیوں ہے؟ خود کو کب سے اتنا مستند سمجھ لیا کہ اپنی رائے سے متصادم کسی رائے کو سننا ہی نہیں چاہتے، اپنے نظریے کے علاوہ کچھ سننا بھی گوارہ نہیں۔ ہر کسی کے بارے بات کرتے ہوئے لفظ یوں چباتے ہو کہ معنی کو پسینہ آ جائے، اور گفتار کا غازی وہی ٹھہرے جو اس سے بہتر منہ توڑ فقرہ اختراع کرے۔
کچھ ہوش کے ناخن لو اہل وطن، ان نوکیلے ناخنوں سے ایک دوسرے کے چہروں پر خراشیں ڈالتے ڈالتے تم نے اپنا کیا حال کر لیا ہے، آج وطن عزیز میں کسی شعبہ کی بات کر لی جائے ہر عہدہ تمسخر کا نشانہ بنا ہوا ہے،

، صحافی لفافہ ، جج بکاو، آفیسر راشی، ملا بے ایمان، سائنسدان کافر،سیاستدان نااہل، استاد بے ادب، شاگرد بھگوڑا، عوام تماش بین، راہگیر نوسرباز، ہمسائے بے شرم، معاشرہ بے رحم۔۔۔۔۔۔اور کل کسی نے لکھا کہ فکری کھسرے۔۔۔۔۔۔اللہ والو کس راہ چل پڑے ہو؟  اچھا استاد کدھر گیا جس کے جوتوں کو سیدھا کرنے والے مقدر کے سکندر ٹھہرتے تھے، لکھنے والے کا منہ بند کرنے کے لئے پھانسی گھاٹ سجائے جاتے تھے، اور لوگ دوسروں کے احترام میں اپنی نماز کی ترتیب بدل دیتے تھے۔

ایک مسلسل تکلیف ہے ہے مجھ ایسے بنا قبیلے والے ایک شخص کو، میں کسی پارٹی میں ہوتا تو میری بے سروپا بات پر بھی دف بجائے جاتے، اور اب شور میں اپنی بات کسی تک پہنچانا کتنا مشکل ہو گیا ہے، سب سے پہلے لوگ رابطہ تلاش کرتے ہیں کہ جو بات میں کررہا ہوں اس کا مخرج کون سا قبیلہ ہے، اگر اس کا تعلق ان کے اپنے گروہ سے ہے تو واہ واہ وگرنہ اس سچ کی گواہی کون بنے۔

ہر کسی موت پر مسلمان اور کافر کے فتوے کیوں بٹنے لگ جاتے ہیں، میری پسند کے سب لوگ مسلمان اور میرے سب مخالف کافر ، مردود، خدا بھی میرا اور اس کے سبھی فیصلے بھی میرے حق میں، ایسا بے دریغ مذہب کا استعمال تو کبھی نہیں دیکھا ہے، اور ظلم کی حد تو یہ کہ فتوے بانٹنے والے ایسے ہیں جن کو کوئی چیز بھی سلامتی بانٹنے والے اسلام سے نہیں ملتی،

باتوں کا شور اسقدر بڑھ گیا ہے کہ لوگ کردار بھول چکے ہیں، وہ سچا مسلمان ہے کہاں جس کی ہیبت سے پہاڑ رائی ہوا کرتے تھے، جس کا قول صادق تھا، جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ تھے، لیکن اب گلے کے زور پر پرکھ لیجئے تو سب مسلمان ہیں اور کردار کے کھوٹے اور قول کے جھوٹے لوگوں سے دنیا بھری پڑی ہے۔

حد تو یہ ہے لوگ اس بات پر بھی ناراض ہوئے جاتے ہیں کہ ہم ایسے لکھنے والوں کے قلم ان کی خواہشوں کی ترجمانی کیوں نہیں کرتے، اگر ایسا کچھ سرزد ہو جائے تو ان کی سوچ سے مطابق نہیں رکھتا تو ہمارا لکھا ہوا سطحی اور بے معنی،

اور انتقام لینے کی عادت ایسی در آئی ہے کہ دشمن کا کلیجہ چبائے بغیر چین نہیں پڑتا، یہاں یہ سروکار نہیں کہ خود کس مشکل میں گرفتار ہوں گے، بس یہی سوچ یہ ہے دوسرے کو تکلیف پہنچائی جائے،

اور ہر شخص جو ہمارے قبیلے سے باہر ہے گٹھ مٹھیا اور منحنی ہے، اس کا دنیا سے گذر جانا مر جانا ہے، اور ہاں اس مرجانے کے بعد اس کو جنت ملے گی یا عذاب کا حق دار ٹھہرے گا یہ فیصلہ بھی ہم کریں گے، ایدھی کی موت پر بھی فتوے بٹنے لگے تھے، اس کی آخرت کا فیصلہ کئی لوگ خود سے کئے بیٹھے تھے، ایسے ہی ڈاکٹر رتھ کی موت پر اشکبار پاکستانیوں کو کئی لوگ بتانے آئے تھے کہ تمہارے مذہب پر نہ مرنے والا تمہاری دعا کا بھی حق دار نہیں، ابھی کل ہی سٹیفن ہاکنگ کی موت پر بھی اسی طرح کی عجیب و غریب باتیں فضا کا حصہ ہیں۔ اگر ہم کچھ دیر کو خاموشی اختیار کریں اور اپنے مخالفین کی موت پر احترام اور رواداری کو شیوہ کریں تو کیا امر مانع ہے؟

ہمیں ایک بات شدت سے سمجھنا ہے کہ ہمارے عقیدے کے علاوہ بھی کوئی عقیدہ دنیا میں ہو سکتا ہے،ہمارے سوچ سے الگ سوچ والے لوگ بھی دنیا میں بستے ہیں، اور ہر چیز کو طے کرنے کا پیمانہ ایک نہیں ہو سکتا، ہاں دین کی اہمیت سے انکار کس کو ہے لیکن دین کی اساس کو سمجھے بنا ہی دنیا کی سائنس کو کیونکر سمجھا جا سکتا ہے۔

کسی کی سائنسی عظمت کو ، کسی کی فکری محنت کو، کسی خیال رعنا کو، روایت سے ہٹی ہوئی سوچ کو ، سمجھنے کے لئے اپنی سوچ  میں وسعت اور فکر میں محنت کی ضرورت ہے، جس نے خود سے کسی ایجاد کی دریافت کا سامان نہیں کیا، وہ اس ریاضت سے بے خبر ہے جو ایک نیا جہان بنانے کے لئے درکار ہوا کرتی ہے۔ ایدھی پر تنقید کرنے کے لئے ایدھی کی محنت کے برابر کام کیجئے پھر کہیے ہاں اس کا کام کم تھا، اپنی زندگی کا سکھ آرام تج کر لوگوں کے نام اپنی سانس سانس کر کے کہیے ہاں میری قربانی فلاں کی محنت سے زیادہ ہے؟ ہر کسی کی عظمت کو یک جنبش قلم رد کر دینے سے، کسی کی عمر بھر کی ریاضت سے ایک لمحے میں انکاری ہو جانے سے بھلا کس کے قد کاٹھ میں کمی آتی ہے؟

اے کاش ہم اپنے مخالف کی عظمت کو تسلیم کرنے کی خو اپنا لیں تو شاید اپنی سمت بھی طے ہو پائے، شاید ہم خود بھی کوشش کرنے والے بن جائیں۔ کسی خود سے برتر کی عظمت مان کر دیکھئے آپ خود کو کتنا بڑا محسوس کریں گے۔ ہم سب کچھ نہیں جانتے ابھی ہمیں بہت کچھ جاننا ہے، ۔



ہمارے ہاں لوگ مر کر ہی معتبر کیوں ٹھہرتے ہیں؟

ابھی فیس بک کی ساری دیوار سوگوار ہوئی پڑی ہے ، عاصمہ جہانگیر  آہ عاصمہ جہانگیر بھی چلی گئیں، کسی نے کہا کہ مظلوم کی آواز رخصت ہوئی، کسی نے کہا کہ آمریت کے خلاف ایک آواز خاموش ہو گئی، کسی نے کہا کہ جدو جہد کا ایک باب تھا بند ہوا، کسی نے کہا کہ اکثریت مردوں سے زیادہ مرد تھی وہ عورت۔۔۔۔۔اب احباب کیا کیا نہ کہیں گے، اور حد تو یہ ہے کہ کچھ روز پہلے ہی اس کی ذات ہر طرح کے حملوں کی زد میں تھی۔ مجھے یاد ہے کہ بہت سال پہلے مختاراں مائی کے قصے میں ہم پہلی بار عاصمہ جہانگیر سے روشناس ہوئے تھے، اس نے روایت پسندی کے خلاف ایک آواز بلند کی اور ہم ابھی یونیورسٹی کے پہلے پہلے سال میں تھے، ایک عورت کا مردانہ وار بولنا ہمیں کہاں اچھا لگ سکتا ہے، ہمیں اسی دن سے یہ خاتون ناپسند ہو گئی تھی، پھر ہم اس کو اسی نظر سے دیکھتے آئے، ۔۔۔۔۔۔لیکن آہستہ آہستہ ہم نے لوگوں کو روایت سے ہٹ کر جاننا سیکھا، یہ سیکھا کہ ہماری سوچ سے ہٹ کر بھی کسی کی سوچ ہو سکتی ہے، ہماری جذباتی زندگی سے ہٹ کر بھی کسی کے جذبات ہو سکتے ہیں، سچ وہی نہیں جو ہم سمجھتے ہیں، سچ اس کے علاوہ بھی ہو سکتا ہے۔ آہستہ آہستہ میں نے اس بات کو برداشت کرنا سیکھا، سچ کہیے تو فوج کے خلاف عاصمہ جہانگیر جس طرح بات کرتی آئی ہیں مجھے ان کا انداز کبھی بھی پسند نہیں آیا۔
 خاموش لوگوں کا یہ المیہ ہے کہ انہیں ہر اونچی آواز اور زیادہ بولنے والا پسند نہیں آتا، اس گونگی سوسائٹی میں کتنے تھے جو عاصمہ جہانگیر کو پسند کرتے تھے، جیتے جی اس کی خامیوں کو شہتیر بنائے رکھا، اور آج وہ گذر گئی تو اس کی ہر خوبی نگاہ میں ہے۔۔۔۔اللہ تعالی مرحومہ کے ساتھ رحم کا معاملہ فرمائے، لیکن احباب سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ زندہ لوگوں کی قدر کرنا سیکھیں، ہمارے ہاں لوگ مر کر ہی معتبر کیوں ٹھہرتے ہیں، زندہ لوگوں کی یہاں قدر کیوں نہیں کی جاتی، ان کی خوبیوں پر روشنی کیوں نہیں ڈالی جاتی۔۔۔۔
احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا کہ
عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ

کاش کہ ہم لوگوں کی زندگیوں میں بھی ان سے رحم کا معاملہ کرنا سیکھ جائیں۔ اور ان کو زندگی میں بھی عزت و اعزاز سے نوازنا سیکھ جائیں۔ 

کیا وہ سردیوں کی دھوپ تھی؟

وہ گرمیوں کی چھاوں تھی
وہ سردیوں کی دھوپ تھی

احمد فراز کی ایک نظم کے مصرعے کسی سانولی سلونی حسینہ کی یاد میں ہیں، جن کی یاد انہیں ہر دم نہیں کبھی کبھار آیا کرتی ہے ، ہماری دیسی شاعری میں سردیوں کی دھوپ اپنے اندر ایسی گرمی رکھتی ہے کہ آدمی کو موسم سرما بھی لطف دینے لگتا ہے۔۔۔۔لیکن ہمارے ہاں آجکل سکینڈے نیویا میں جیس سردی پڑ رہی ہے وہ دیکھنے میں بہت پرلطف دکھائی دیتی ہے، کھڑکی سے دیکھیں تو لگتا ہے کہ کیا مزیدار دھوپ نکلی ہوئی ہے، لیکن باہر دھوپ میں نکلو تو عملی طور پر قلفی جم جائے، کل شام باہر نکلا تو مائنس چھ تک درجہ حرارت تھا، لیکن دھوپ کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ باہر نکلوں تو جسم کو دیسی سردیوں کی دھوپ کا سا مزہ آئے گا۔
کچھ دن پہلے ایک دوست کہہ رہے تھے کہ ہمارے ادب میں دوزخ کا تصور ایک ایسی جگہ کا جو بہت گرم ہے، جو آگ سے بھری ہوئی ہے جبکہ یورپ کے ادب میں دوزخ کا تصور ایک ایسی جگہ کا بھی ہے جو بہت زیادہ سرد ہے۔

کیا فیس بک آپ کو بھی استعمال کر رہی ہے؟

فیس بک کی پہنچ مر چکی، آپ ہزاروں دوست رکھتے ہیں، لیکن آپ کی بات درجنوں تک پہنچ رہی ہے، میری ایک تصویر جس کو سب سے زیادہ لائک ملے ہوں گے وہ نو سو کے قریب ہوں گے، پانچ ہزار دوستوں میں نو سو لائک کچھ اتنے زیادہ بھی نہیں ہوتے لیکن فیس بک نے اپنی ریچ اس سے بھی بہت کم کردی ہے، میں نے پچھلے دنوں پروفائل پکچر بدلنے کے کچھ تجربات کئے، اڑھائی سو سے تین سو پروفائل پکچر لائک، پچاس ساٹھ پوسٹ لائک، پچاس ساٹھ تبصرے اور بس۔

ایک عام فیس بک استعمال کرنے والا شاید اس بات کو سمجھ ہی نہیں پاتا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، فیس بک آئے دن اپنا الگردھم بدلتی رہتی ہے۔ جیسے آجکل اگر آپ اپنی پوسٹ میں کوئی لنک یا ویڈیو پوسٹ کردیں گے تو وہ پوسٹ زیادہ لوگون تک پہنچے گی ہی نہیں۔

اگر آپ نے زیادہ لوگ ایڈ کرنے کے لئے فیس بک کا ذاتی یا کاروباری صفحہ بنا رکھا تھا تو اس کی ریچ تو اور بھی کم کردی گئی ہے۔ میرے بلاگ کے صفحے پر چوالیس ہزار لوگ ہیں لیکن یہاں پر ایک تصویر کبھی سو لائک تک بھی نہیں جاتی، تبصرے دس سے نہیں بڑھتے۔ یعنی کبھی کبھی تو گلہ ہونے لگتا ہے کہ اتنے لوگوں کا پیچ ہے تو اور کوئی بھی آپ کی پوسٹ کر رسپونڈ نہیں کر رہا۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم فیس بک استعمال نہیں کر رہے، فیس بک ہمیں استعمال کر رہی ہے۔