دیوارِ خستگی ہوں مجھے ہاتھ نہ لگا


اس لئے حالتِ مسمار میں رکھی ہوئی ہے
زندگی شاخ نے دیوار میں رکھی ہے۔

اکثر یہ شعر مجھے پاکستان کی صورتِ حال پہ صادق لگتا ہے۔اس حالتِ مسمار کی وضاحت کے لئے کسی مہربان نے کہا تھا کہ

دیوارِ خستگی ہوں مجھے ہاتھ نہ لگا
میں گر پڑوں گا دیکھ سہارا نہ دے مجھے۔

ہماری بنیادوں کا کھوکھلا پن لوگوں کے لئے سوالیہ علامت ہے۔گزشتہ دنوں جاوید چوہدری صاحب اس کھوج میں تھے کہ ایک ویٹرس لیڈی گاگا عروج تک جا پہنچی ہے، اور دیگر بیشمار چھوٹے چھوٹے کا موں سے وابستہ رہ کر بھی شہرت کے آسمان تک پہنچے۔ آخر ہمارے ملک میں ایسا کیوں نہیں ہوتا۔پاکستانی گریجویٹ ایسے چھوٹے چھوٹے کام کرنے میں خجالت کیونکر محسوس کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔اِس ساری بات کو سمجھنے کے لئے دیوارِخستہ کو ایک دھکے کی ضرورت ہے، کیونکہ
کانپتے ہاتھوں سے ٹوؔ ٹی ہوئی بنیادوں پہ جو بھی دیوار اٹھاو گے وہی کج ہو گی۔
پا کستان کے اکثر لکھنے والے یورپ کے متعلق بہت سی خوش گمانیوں کا شکار ہیں، سنی سنائی کہانیوں اور چند روزہ سیروتفریح میں یورپ کے بودوباش کا اندازہ تو کیا جا سکتاھے، لیکن کوئی قابلِ عمل نسخہ حاصل کر لینا ۔۔دلی دور است کی تعبیر ہوا کرتا ہے۔ میرے خیال میں یہ لمبے عرصے کی ریاضت ہے، کم از کم دو سال اور وہ بھی ایسے عملی سال جن کو آپ نے اپنے ہاتھوں سے تراشا ہو۔۔۔ نا کہ پشتنی روپیہ پیسہ اجاڑہ ہو۔ خیر آمدم برسرِمطلب۔۔۔۔۔۔احباب اس بات پر متفق ہیں کہ یورپ کی اچھائیوں میں بنیادی محرومیوں کے خاتمے کا مساواتی درس جو ہما رے دین کے نورانی قاعدے میں تھا، اس پر پوراعمل کیا جاتا ھے۔ اور ہمارے ہاں الکاسب حبیب اللہ کی سچائی ہوتے ہوئے بھی لوگ اللہ کے دوستوں کو کمی کمین جیسے القابات سے نوازتے ہیں۔ ایسے دوغلے معاشرے میں ایک پڑھے لکھے شخص سے جسمانی مشقت کی توقع کیونکر کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں جو تفر یق طبقاتی تقسیم نے پیدا کی ہے ، بڑے بڑے دانشور اس کو جمع کرنے سے قاصر ہیں۔
دوسری اہم ترین بات معاوضہ ہوا کرتا ہے، کہ آپ نے جو کام کیا ہے اس کی اجرت کیا پائی۔۔۔۔یورپ میں جن کاموں کو ماٹھا کام کہا جاتا ہے، جیسے ہوٹل میں برتن دھونا، صفائی کا کام، اخبار پہنچانا، پیزا ڈلیوری۔۔۔۔۔گھنٹوں کے حساب سے اگر آمدن کا حساب لگائیں تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک مزدور کرسی پر براجمان شخص سے زیادہ کماتا ہو۔ ہمارے پاکستانی بھائی جو یہاں علم کی دولت سمیٹنے آتے ہیں ان میں سے اکثر شام میں یا چھٹی کے دن کام کر لیں تو اپنا گزارہ کر سکتے ہیں، تھوڑی ہمت رکھنے والے پاکستان میں اپنے گھرانوں کو بھی سپورٹ کر لیتے ہیں۔۔۔لیکن اگر آپ پاکستان میں کسی کو تعلیم اور جاب ساتھ ساتھ چلانے کا مشورہ دیتے ہیں تو زمینی حقائق آپ کے سامنے ہیں کہ کام اور کام کے اوقات مقرر نہیں، اکثر احباب کہتے ہیں کہ دفتر جانے کا وقت تو طے ہے لیکن آنے کا نہیں۔۔کیونکہ جب تک صاحب اور سیٹھ دفتر میں ہیں، دفتر کھلا ہے۔۔۔چلیں یہ فرض کر لیں کہ آپ کا پالا کسی مہربان سے پڑگیا ہے تو آپ کمائیں گے کیا۔۔۔۔ایک چھوٹی موٹی جاب آپ کو کیا دے سکتی ہے۔۔۔۔کوئی کتنا ہی دم مار لے، سانسوں کی ڈور تھامتے تھامتے دم پھول جاتا ہے، ۔۔۔۔۔۔
پیارے جاوید چودھری صاحب! یہ کہانیاں جن میں ایک ویٹر نامی گرامی سنگر بن جاتی ہے اور ایک برتن دھونے والا ہوٹل کا مالک بن جاتاہے، ۔۔۔۔۔یہ سب متوازن معاشروں کی کہانیاں ہیں اور پاکستان کے لئے سیٹھ لوگوں کی
زبان کا چسکہ کہ جن کے تڑکے کے ساتھ وہ پڑھے لکھے نوجوانوں کی ہڈیوں سے گودا چوس سکیں، ان کو رات گئے تک دفتر میں بٹھا سکیں،ان کی صلاحیت کا ناجائز فائدہ اٹھا سکیں۔
اس بدنظمی کو متوازن کرنے کے لئے ہماری معاشرتی تقسیم کی بنیادوں کو از سرِنو تعمیر کرنا ہو گا۔۔۔۔انشاء اللہ آنے والے دنوں میں کوشش کروں گا کہ بساط بھر یورپی نظام سے پاکستان کے لئے قابلِ تقلید عوامل کی نشاندہی کر وں۔
والسلام