یہ بھی اچھا ہے۔ قاسم لیپ ٹاپ کی ترجیحات

اچھا ہے مگر اس سے بھی اچھا ہوتا کہ لیپ ٹاپ پر خرچ ہونے والے کروڑوں سے کچھ گلیوں اور محلوں میں ذہین طلبہ کے نام سے شمسی توانائی کے پینل لگا دیئے جاتے، حکومت طے کر لیتی کہ ذہین طلبہ کے گھروں پر ایک پنیل لگا دیا جائے تا کہ لوڈشیڈنگ ان کی پڑھائی کی راہ میں حائل نہ ہو، ہندوستان کی ہزاروں سالہ پرانی تاریخ کی قبر پر لیپ ٹاپ چڑھانے والوں نے ان حکمرانوں کو سلام پیش کیا جنہوں نے اپنی کمزوریاں چھپانے کے لئے توپوں کے ذریعے اشرفیوں کی بارش برسائی تھی، یہ لیپ ٹاپ جن گھروں پر برسے ہیں وہاں یہ اپنی افادیت اور چارج ہو جانے اور چارجنگ ختم ہو جانے کی جو جنگ لڑیں گے اس لے لئے ایک علیحدہ باب کی ضرورت ہے، لیکن فی الحال یہ سوال سب سے اہم ہے کہ کیا لیپ ٹاپ ہر طالب علم کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔ایک طالب علم جو میڈیکل کالج میں پڑھتا ہے یا یو ای ٹی لاہور میں بستا ہے، یا ایگری کلچر کے سبزہ زاروں میں مقیم ہے  یا کسی بھی پروفیشنل تعلیم سے منسلک ہے ماسوائے کمپیوٹر کی تعلیم کے تو اس کی تعلیم میں کمپیوٹر کا عمل دخل کس حد تک ہے، کیا ہمارا سارا نصاب آن لاین ہو چکا ہے جو طالبِ علم لیپ ٹاپ پر پڑھیں گے۔ ماسوائے کمپیوٹر کے پروفیشن سے تعلق رکھنے والے دوستوں کے اکثر شعبہ جات کے ابتدائی سالوں میں سوائے پاور پوائنٹ کی چند سلایئڈوں کے، اور کچھ ورڈ کی اسائنمنٹس کے کچھ بھی لیپ ٹاپ سے متعلق نہیں ہے، ہاں اگر انٹرنیٹ ستیاب ہو، بیٹری مہربان ہو اور بجلی اجازت دے تو اچھا میٹریل ڈھونڈنے میں مدد لی جا سکتی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ کھانے کا چمچ ہے کھانا نہیں اور امید کرتا ہوں کہ ہمارے طالب علم دوست ہماری طرح کمپیوٹر کا استعمال ماسوائے پڑھائی کے طالب علمی فارمولے پر عمل نہیں کر یں گے۔ مجھے اچھی طرح یا د ہے جب تقریبا انیس سو ننانوے یا دو ہزار کے لگ بھگ ہمارے ہاسٹل سرسید ہال جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں ہاسٹل کا پہلا کمپیوٹر آیا تھا، الیاس  صاحب جو اس کمپیوٹر کے مالک تھے ان کی عظمت یکا یک بہت زیادہ بڑھ گئی ، پھر آہستہ آہستہ ان کا کمرہ سینما گھر میں تبدیل ہوتا چلا گیا، پھر آنے والے ایک دو سالوں کے اندر کئی کمروں میں کمپیوٹر اگ آئے اور ہمارے سینئر محترم واہلہ صاحب نے جو خدمت ہاسٹل کے دوستوں کی فرمائی سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے انہوں اپنے دروازے کے باہر مختلف اوقات اور ان پر چلنے والی فلموں کے نام بھی درج کر دیئے تا کہ احباب اور ہمسائے اپنی پسندیدہ فلم مس نہ کر دیں اور نیچے ایک دلچسپ نوٹ بھی تحریر ہوتا کہ احباب اپنی چادر ہمراہ لایں۔ اس واقعہ کا مقصد میاں صاحب کا دل کھٹا کرنا مقصود نہیں بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ شکر ہے انہوں کے طالب علموں کا سوچا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سن دوہزار کے بعد کمپیوٹر اکثر کمروں میں جگہ بناتا چلا گیا، ڈیک کمروں سے باہر چلے گئے اور کمپیوٹر کی سنگت میں دو دیدہ زیب سپیکر آ گئے، نت نئے سٹیج ڈرامے، بے بس کلیاں، مجبور بھنورے انگریزی فلموں سے لیکر کالو شاہ پوریا تک جو احباب نے دیکھنا چاہا کمپیوٹرز کی زینت بنتا آیا، کم و بیش دوہزار چھ تک جامعہ سے رابطہ مسلسل رہا تو جونئیرز کے کمپیوٹرز اس بات کی گواہی دیتے رہے کی اس مہذب مشین کا ہم نے چنگ چی بنا دیا ہے۔ لیکن بھر بھی میری امید قائم ہے کہ نوجوان بالآخر کمپیوٹر کا درست استعمال کرنا شروع کر دیں گے تبھی قوم اور ملک کو فایدہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی اچھا ہے مگر اس سے بھی اچھا ہوتا کہ حکومت صرف یونیورسٹیز کے اندر لوڈ شیڈنگ پر پابندی لگا دیتی اور شمشی توانائی کے ذریعے جامعات کی حد تک بجلی کے مسئلے پر قابو پانے کی کوشش کرتی اور یوں اس ادارے میں چند ذہین بچوں کے طفیل پورے ادارے کو روشنی مل جاتی، ان ذہین بچوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے ہر شمسی توانائی کے یونٹ کو ان ذہیں بچوں کے ناموں سے موسوم کیا جا سکتا تھا، مثلا اب اگر میرے پرانے ہاسٹل سرسید ہال کو بجلی فراہم ہو ان دو تین ہاسٹلز کے درمیان جو شمسی توانائی کا سیٹ اپ لگے اس کو یونیوسٹی میں میڈل لینے والے طا لبِ علم ارباب احمد کے نام یا اقبال محمد کر دیا جائے تو کیسا ہے۔۔
ہاں یہ بھی اچھا ہے مگر اس بھی اچھا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔