بھکاری فنکاری سے سینہ زوری تک


کوئی وقت تھا جب بھکاری صرف صدا پر اکتفا کرتے تھے، ہم جیسے مڈ ل کلاس لوگ جن کے گھروں کے باہر دربان کا پہرہ نہیں ہوتا، وہ آجکل کےفنکار بھکاریوں کے لئے نہایت آسان ٹارگٹ ہیں، گرمیوں کا آغاز ہوا چاہتا ہے، اور ان بادشاہ لوگوں کے آنے کا کونسا کوئی وقت متعین ہے جب چاہیں آپ کے دروازے پر دستک دیں گے اور ایسی دکھ بھری کہانی   سنائیں گے کہ ذہن کچھ کہے نہ کہے دل کا ہاتھ جیب کی طرف بڑھ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر آدمی جس نے پاکستان میں دس بارہ سال بتائے ہیں اس کی جیب میں بھکاریوں کے عجب دکھ کی گجب کہانیاں ضرور ہوں گی، ایسی ہی ایک گجب کہانی ہمارے عہد ایف ایس سی کی یادگار ہے جب ہم کیمسٹری کے عظیم استاد جناب عزیز ایرحمن صاحب کی ٹیوشن پر موجود تھے اور ایک شکل و صورت سے مناسب سا آدمی اندر داخل ہوا، مناسب اس لئے کہ وہ بہت منجھا ہوا بھکاری محسوس نہ ہوتا تھا۔۔۔۔۔اس نے اپنی بپتا جو سنائی کہ اس کا گھر ایک آدھ گلی چھوڑ کر ہے اور اس کی بیوی درد زہ سے بے قرار ہے اور گھر میں کچھ سامان ایسا نہیں جس کو بیچ کر وہ آنے والے مہمان کا استقبال کر سکے۔۔۔ذکر اس پری وش کا اور بیاں اپنا جیسا ماحول بن گیا۔۔۔دکھ بھری کہانی، ضرورت کا اشد ہونا اور ہمارا عہد جوانی جہاں بہک جانے کے لئے دل خود ہی بہانے ڈھونڈتا ہے۔۔۔۔۔سب دوستوں نے دل کھول کر مدد کی اور جو کچھ جیب میں تھا اس کی نذر کر دیا۔۔۔ایسے فراخ دلوں میں عزیز از جان دوست ڈاکٹر جواد بھی موجود تھے۔۔۔۔خیر ابھی خالی جیب اور سخاوت کا یہ گھاوٗ بھرا نہیں تھا کہ ہم ایک دن ملتان کچہری چوک سے گذر رہے تھے کہ وہی سوالی تھا اور وہی سوال۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب اس فنکار کو بس اتنا کہہ پائے کہ اب تو تمہارا بچہ چھ ماہ کا ہو گیا ہو گا۔۔۔۔۔اس بھکاری نے شاید تھوڑی شرمندگی محسوس کی اور وہاں سے غائب ہونے میں ہی عافیت سمجھی۔۔۔۔لیکن آج بارہ سال بعد بھوک اتنی بڑھ چکی ہے یا یوں کہیے کہ پروفیشنلزم اس قدر بڑھ چکا ہے بھکاری حقیقتا جیب سے پیسے نکالنے کی حد تک چلے جاتے ہیں۔۔۔کچھ دن پہلے گورمے ٹھوکر لاہور کےباہر ایک دھان پان قسم کے بھکاری نے گاڑی کا دروازہ تھام لیا اور اپنی ضرورت کے پورا ہونے تک اس دروازے کو نہ چھوڑنے کا عزم دکھایا۔۔۔۔اس کی خواہش تھی اس کو پورے ایک وقت کے کھانے کے پیسے دیئے جائیں،۔۔۔۔اس سے ذرا چند روز پہلے ایک شخص سے اپنے گاوں میں واسطہ پڑا ۔۔۔اس نے کہا کہ اس کی بہن کے گردے خراب ہیں دوائی لینی ہے۔۔۔۔خوش قسمتی سے اپنی ڈسپنسری کے کیمپ کے لئے کافی ساری ادویات ہم نے مفت بانٹنے کے لیے خریدی ہوئی تھیں اس لئے ہم نے اس سے کہا دوائی کی پرچی دے دو دوائی تمہیں کل مل جایے گی۔۔۔۔دو سیکنڈ بعد اس نے کہا  اصل میں میرے آٹا نہیں آپ وہ دلوا دیں۔۔۔کل ایک خاتون بھکارن دروازے پر ائیں ان کی خواہش تھی کہ ان کو پچاس یا سو روپے زکوت دی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک بات جو بھکاریوں کے مزاج میں بہت تبدیل ہوئی ہے وہ یہ کہ اب وہ صدا پر اکتفا نہیں کرتے۔۔۔ڈور بیل زور زور سے بجانا۔۔۔۔درازہ بے ہنگم انداز میں کھٹکھٹانا تا کہ گھر والے فوری رسپونس دیں یا یہ اگنور ہی نہ کر سکیں کہ دروازے پر کوئی آیا ہے۔۔۔۔ضد، ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کہ اگر آپ معذرت کر بھی لیں تب بھی۔۔۔۔اور اگر کچھ دے دیں تو اس سے زیادہ کے لئے سیل کال۔۔۔۔۔۔۔۔اور تو اور آجکل کئی فقیر نہ دینے والوں کو بد دعا کا تڑکا لگانے سے بھی نہیں کتراتے۔۔۔۔۔مشکلات میں گھری مایوس قوم اور کہیں قابو آئے نہ آئے بد دعا کرنے والے فقیر کے بعد آنے والے فقیر کو ضرور نوازتی ہے کیونکہ ماحول گرم کرنے والا یہ فقیر فورا اپنے ساتھی کو خبردار کرتا ہے کہ بھائی لوہا گرم کر آیا ہوں۔۔۔۔خدا بھلا کرے محسن نقوی جنہوں نے آجکل کے بھکاریوں کی ساری سائینس اس ایک شعر میں رکھ چھوڑی ہے۔۔۔۔۔کہ
وہ دعا بھی زرِ تاثیر سے خالی دے گا
اور کیا تجھ کو تیرے در کا سوالی دے گا