مقریرین متوجہ ہوں۔۔۔۔۔۔

زندگی کے سفر میں خدائے لم یزل کی نعمتوں کو شمار کرتا ہوں تو بے اختیار سر تسلیم مزید خم ہو جاتا ہے۔۔۔۔میں کبھی بھی تیس مار خان قسم کا مقرر نہیں رہا۔۔۔میرا تو گلا ہی آخری پیرا گراف پر اس مصرع کی مانند ہو جاتا ہے کہ یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا۔۔۔۔میں نے جامعہ کے دنوں میں تقاریر اور مباحث کے کافی مقابلوں میں حصہ لیا ، کوئی دو ایک مقابلوں میں تیسری تیسری پوزیشن بھی لی مگر کبھی بھی پہلی پوزیشن کا حقدار نہ ٹھہرا۔۔۔۔۔۔لیکن جس ہنر سے خداتعالی نے مجھے سرفراز کیا کہ میری لکھی ہوئی تحاریر درجنوں بار فاتح قرار پائیں۔۔۔۔وہ دوست جن کی تقاریر میں میری تحریر اور تدبیر کا عمل دخل رہا انہوں نے پورے پاکستان کے ایوانوں میں میرا سر فخر سے بلند کیا۔۔۔۔۔۔۔
میں خدا تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھ سے کام لیا۔۔۔۔میں آج جب اپنی زندگی کی  محرومیوں کو مات دینے کے لئے کسی مثبت کی تلاش میں ہوں تو اسی ہنر میں مجھے پناہ دکھائی دیتی ہے۔
اپنے بلاگ کے توسط میں ایک نئے سلسلے کا آغاز کرنے جا رہا ہوں ۔ جس میں فن تقریر کی عملی مہارت کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ آپ اپنی تقریر کی ویڈیو مجھے ارسال کریں اور میں اپنے مقرر دوستوں کی مدد سے اس کی ہر طرح کی بہتری کے حوالے سے آرا اکھٹی کرکے آپ تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔ ۔۔۔گو کہ سوائے رانا ندیم صاحب کے علاوہ کسی سے اس موضوع پر بات نہیں ہوئی ، لیکن میرا خیال ہے کہ سرگودھا کے عظیم مقرر جناب فرخ صاحب، جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں ڈبیٹنگ کے انچارج ڈاکٹر شوکت علی صاحب، میرے استاد جی ریاض صاحب، محترم مسعود عظیم صاحب، اویس ملک صاحب، رانا اکرام صاحب، فیصل امتیاز صاحب، سے رابطہ کرکے ان کو اس کام پر آمادہ کروں گا کہ بھیجی گئی ویڈیوز پر تنقید و توصیف کے حوالے سے وقت نکالیں۔

اپنے سبھی دوستوں سے جو کسی نہ کسی توسط تحریر سے تقریر تک سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان سے التماس کرتا ہوں کہ اپنی چھوٹی چھوٹی ویڈیوز جو پانچ منٹ سے زیادہ نہ ہوں۔ ارسال کریں تا کہ سیکھنے والوں کے لئے ایک پلیٹ فارم کا سامان مہیا کیا جا سکے۔