چودہ اگست پندرہ اور کوپن ہیگن



پاکستان ایمبیسی ڈنمارک میں ہمیشہ کی طرح چودہ اگست کو منانے کے نشان کے طور پر پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی۔

ایک دعوت عام کے ذریعے پاکستانیوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ اور قومی دن منانے کی غرض سے ہم وطنوں کی ایک بڑی تعداد ایمبیسی کے لان میں موجود تھی۔ تقریب کا آغاز خدائے بزرگ و برتر کے نام سے ہوا۔
اس کے بعد سفیر پاکستان محترم مسرور احمد جونیجو نے پاکستانی پرچم کو سربلند کیا۔ قومی ترانے کی دھنوں میں سبز پرچم لہلہایا تو وطن سے بچھڑوں ہووں کی آنکھوں میں وطن کی محبت

کے دیپ ٹمٹمانے لگے۔ اسی سحر میں ڈوب کر لوگوں نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے اور ساری محفل تصویر پاکستان بن گئی۔

اس کے بعد سفیر محترم نے صدر و وزیراعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے۔ بعد میں انہی پیغامات کا اردو ترجمہ بھی پیش کیا گیا۔ وطن کی محبت سے سرشار جناح پبلک سکول کے بچوں نے مختلف ملی نغمے گا کر حاظرین کے
کے دل موہ لئے۔ ایسے میں میوزک کے ساتھ ایک مقامی فنکار نے ایے وطن پیارے وطن کی صداوں سے خوبصورت سماں باندھ دیا۔

پاکستانی پرچم کے رنگوں کے لباس پہنے خواتین بھی کسی سے پیچھے نہ تھی۔ ایک بڑی تعداد میں بچے اور فیملیز بھی اس پروگرام کا حصہ تھیں۔ وطن سے دور چند لمحے وطن کی یاد میں گذار کر
ہر کوئی شادماں تھا۔ ایک دوسرے کے گلے ملتے اجنبی پاکستانی یوم پاکستان پر یوم عید کی طرح بغلگیر ہو رہے تھے۔ پاکستان کے قومی دن کی یہ تقریب اس خوبصورت دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو