ہم نے دیکھا ان کو ۔۔۔۔۔۔۔۔انور مسعود صاحب کے نام

دور بیٹھا غبار میر اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا
بس ایسے ہی دور بیٹھا رہا، کرسیوں کی آخری قطار میں، ایک کونے میں، اور ان سے ملا تک نہیں، لوگ ان کے پہلو میں بیٹھ کر یادگاری تصویریں بنوا رہے تھے، ان کی کتابوں پر ان کے دستخط لے رہےتھے اور میں بس اسی محسوس کے ساتھ خوش تھا کہ یہاں جناب انور مسعود تشریف فرما ہیں۔
میری ان سے کوئی واقفیت نہیں، نہ کبھی اس کالج میں گیا جہاں انہوں نے پڑھایا، نہ اس شہر میں بسا جہاں وہ رہے مگر پھر بھی میں ان کے لئے اپنائیت کا ایسا احساس رکھتا ہوں جیسے کسی بہت ہی دیکھے بھالے شخص سے کوئی مانوسیت محسوس کرے۔
اعزاز کے معنی مجھ پر تب کھلے کہ انور صاحب اپنا کلام سنا رہے تو میں بس سن رہا تھا۔۔۔۔مجھے اندازہ ہے کہ اب وہ بوڑھے ہو چلے۔۔۔مگر پھر بھی جب وہ اپنے شعر کہنے پر آتے ہیں تو ان کے لب و لہجہ کا توانا انور مسعود کھل کر اظہار ہونے لگتا ہے۔

کوپن ہیگن کے لوگوں نے انور مسعود صاحب سے کچھ محبتیں سمیٹیں اور میں ان لمحوں کا گواہ تھا۔۔۔۔بس یہ چند سطور اسی احساس کی یاد میں کہ ہم سن رہے تھے اور انور صاحب اپنا کلام سنا رہے تھے۔۔۔
انور مسعود صاحب تین سال پرانی تصویر