کچی گلیوں میں بکھرے ہوئے تعلیم کے خواب۔۔۔۔۔

السلام علیکم

پیارے دوستو۔
ہم سب جانتے ہیں اور قائل ہیں کہ تعلیم اور صرف تعلیم ہی انسانی زندگی میں تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔
ہم میں سے بہت سارے دوست زیور تعلیم سے آراستہ ہوئے اور علم کی پیاس بجھانے کے لئے دور دیسوں کا سفر بھی کیا۔ مگر ہمارے اپنے دیس کی گلیوں میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو تعلیم حاصل کرنے کے خواب دیکھنے کے بھی متحمل نہیں۔ اور خصوصی طور پر ہمارے دور دراز کے دیہات جہاں تک پہنچتے پہنچتے پکی سڑکیں بھی کچی ہو جاتی ہیں ، جہاں چھپی ہوئی غربت بس نان شبنہ کا  ہی انتظام کرتی ہے مگر باقی کی ضروریات زندگی کبھی پوری نہیں ہو پاتیں۔ اگر ہم نے اپنے ملک سے ظلم، نا انصافی، غربت، جہالت، اور بے روزگاری کا خاتمہ کرنا ہے تو ہمیں سب سے پہلے تعلیم کا بیج بونا ہو گا۔



 

 

آپ دوستوں میں سے کئی دوست اس بات سے باخبر ہیں کہ میں نے اپنے گاوں کے گھر سے ایک سکول کا آغاز کیا تھا۔ اس سکول کا نام کلثوم پبلک سکول تھا جس کا مقصد کم آمدنی والے لوگوں کو مفت تعلیم کی فراہمی تھا۔ اس سکول کا واحد مقصد فلاح انسانیت و فراہمی تعلیم ہے۔ آپ حیران ہوں گے ہمارے گاوں میں شرح تعلیم ایک فیصد سے بھی کم پر ہے۔ ہمارے گاوں میں گو کہ پرائمری درجہ کے دو سکول موجود ہیں ۔ جن میں ایک لڑکوں اور دوسرا لڑکیوں کے لئے ہے۔ بچیوں کے سکول میں کوئی خاتون استاد آنے کو تیار نہیں۔ اور گاوں میں کوئی ایسی خاتون موجود نہیں جو سکول کے استاد کے معیار پر پورا اتر سکے۔ جبکہ بچوں کے سکول میں دو اساتذہ موجود ہیں۔ جن کے آنے سے بھی سکول کے طلبہ کی تعداد پچاس سے نہیں بڑھ پائی۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ ہمارے گاوں میں ساڑھے تین سو سے زائد خاندان آباد ہیں اور سکول جانے والے بچوں کی تعداد کسی طور پر بھی دو تین سو سے کم نہ ہوگی۔

ایسے حالات میں جب والدین سرکاری سکول سے بھی مطمئن نہ ہوں تو بچوں کو سکول کون بھیجتا ہے۔ ایسے حالات میں  اپنے گھر کو مرکز بنا کر تعلیم کی شمع روشن کرنے کی جو کوشش کی گئی ہے اس کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

ہم نے اکتوبر دو ہزار چودہ میں ایک استاد اور چند بچوں سے سکول کا آغاز کیا تھا۔ ایک استاد کی تنخواہ فقط پانچ ہزار مقرر کی گئی تھی جس میں سالانہ بیس فیصد اضافہ رکھا گیا تھا۔ اور آج ہمارے سکول میں تین اساتذہ ہیں اور بچوں کی تعداد باون ہے۔ ہمارا مقصد اس سکول کو ایک معیاری ہائی سکول بنانا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آنے والے تین سالوں میں ہمارے پاس تین سو تک طالب علم آ سکتے ہیں اور اساتذہ کی تعداد بھی دس سے پندرہ تک ہو سکتی ہے۔ اس مرحلہ پر ہم اس بات کے خواہشمند ہیں کہ اس سکول کو حکومت پنجاب کی ایک سکیم پنجاب ایجوکشن فنڈ کے ساتھ ملحق کر لیں ، جس کی وجہ سے سکول کو فی طالب علم چار سو روپیہ ماہوار ملتا ہے جس سے سکول کے اساتذہ کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات پورے کئے جا سکتے ہیں۔ اور اس منزل تک پہنچنے کے لئے مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آپ کی مدد سے ان لوگوں کی زندگیوں کو ایک نئی منزل ملے گی۔
دوستو ۔ گاوں میں بسنے والے ان لوگوں کی آنکھوں میں نہ آنسو ہیں نہ خواب۔۔۔۔اپنے آنگن میں چہکتے ان بچوں اور بچیوں  کے لئے بہتر لباس، کچھ بیٹھنے کی مناسب جگہ ، کچھ بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی بھی میرے خواب تعلیم کا تسلسل ہے۔
جو ساری محنت سے بس اناج ہی کما پاتے ہوں۔ وہاں تعلیم کے خواب کی آبیاری کے لئے ضروری اشیا کی فراہمی کسی عیاشی سے کم نہیں۔ آپ کی مدد سے ہم اس بوجھ کو بانٹ سکتے ہیں۔ ہم سکول کے لئے کچھ فرنیچر اور دوسری اشئیا خریدے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
اس مشن میں ہمارے ہمسفر بنیں۔

نوٹ۔ یہ تحریر ڈاکٹر بنیامین صاحب کے منصوبہ تعلیم کے خیالات کا ترجمہ ہے۔ ان کا رابطہ ان کے فیس بک صفحہ سے حاصل کیا جا سکتا ہے https://www.facebook.com/Free-School-Project-of-Rays-Foundation-Agri-Hunt-334267290115938/?fref=ts

صبح امید