سلیکٹو سٹڈی

میری عادت ہے کہ بچوں سے ان کے تعلیمی معاملات کے بارے بات کروں، کیونکہ میرے اپنے بچے نہیں ہیں اس لئے یہ شوق بہن بھائیوں کے بچوں پر پورا کرتا ہوں اور کبھی کبھار تو محلے کے بچے بھی ان سوالوں سے محفوظ نہیں رہ پاتے، ابھی پچھلے ہفتے ہی اپنے بھتیجوں سے کہا لاو ذرا ہوم ورک دکھاو، بچے کتابیں لے آئے، انہوں نے جو مجھے بتایا وہ میرے لئے کچھ حیران کن ہے، یہ انگلش کی صرف ریڈنگ کروائی جاتی ہے اس کا مطلب نہیں بتایا جاتا، اردو کی کتاب کے کچھ اسباق پڑھائے گئے ہیں اور کچھ نہیں، میتھ کی کچھ مشقیں کروائی گئی ہیں اور کچھ نہیں، ایک بات واضح نظر آ رہی تھی کہ کتاب کے کچھ حصے نہیں پڑھائے جا رہے۔
ابھی کل اپنے بھانجوں کے پاس اوکاڑہ آیا ہوں اور میرا چھوٹا بھانجا جو آٹھویں جماعت کا طالب علم ہے لیکن سلیبس نویں جماعت کا پڑھ رہا ہے، اس سے بیالوجی کی کتاب کے چیپٹر تین چار کے بارے پوچھ رہا تھا، اس سے کنزرویشن کے بارے پوچھا تو اس نے کہا اس سوال کی صرف ہیڈنگ یاد کرنی ہے ٹیچر نے یہی کہا ہے۔
اب بھلا استاد ایسا کیوں کرنے لگے کہ کچھ پڑھاتے ہیں اور کچھ کے بارے بتاتے ہیں کہ یہ غیر اہم ہے، اور یقینا وہ ٹھیک ہی کہتے ہوں گے کہ پچھلے کئی سالوں سے کئی امتحانات دیکھ چکے ہوں گے اور ان کو پتا ہے کہ ممتحن کیا پوچھ سکتا ہے اس لئے وہ بچوں کو سبق بھی وہی یار کرواتے ہیں جو امتحان میں آنا ہے۔
حالانکہ کنزرویشن اور بائیوڈائیورسٹی دنیا کے اہم ترین تحقیاتی معاملات ہیں، جس پر بے شمار تحقیق اور پراجیکٹس ہو رہے ہیں۔
اسی طرز پر ہمارے ایک وکیل دوست بتا رہے تھے پرانے پیپرز دیکھ کر تیاری کر لی جاتی ہے اور پیپر حل ہو جاتا ہے، خیر یہ بات تو ہم پر بھی گذری ہے جب ہم سکول میں تھے تو کچھ چیپٹر اچھی طرح تیار کرتے تھے اور کچھ بس کی تیاری میں زیادہ محنت نہ کی جاتی تھی، لیکن ہماری اس روش کی سرکاری سرپرستی نہ کی جاتی تھی، اس زمانے میں گیس پیپرز کے بارے سنا جانے لگا تھا کہ فلاں ٹیچر امتحان میں آنے والے ممکنہ سوالات بتاتا ہے، اور لوگ ایسے اساتذہ کے ان اندازوں کی فوٹو کاپیاں حاصل کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے، لیکن جب ہم اپنے اساتذہ سے گیس کی بابت بات کرتے تو وہ ہمیں ایک ہی جواب دیا کرتے تھے۔۔۔۔کہ کتاب کے سارے کالے کالے لفظ یاد کرلو، اور ہم ایک مدت تک ایسے ہی گیس پیپرز کی مدد سے تیاری کرتے آئے ہیں۔
لیکن فی زمانہ سلیکٹو سٹڈی کے اس رواج میں سب سے زیادہ ہرج بچوں کا ہو رہا ہے، بچوں کو امتحان میں نمبر لینے کی تربیت دی جا رہی ہے، ان کو مضامین پڑھائے نہیں جا رہے۔ یہ انتہائی قابل تشویش ہے، مصروفیات میں الجھے والدین ایسا کہاں سوچتے ہیں کہ بچے کون سے مضامین کتنے پڑھ رہا ہے، ان تک تو امتحان کے نتائج آتے ہیں  جس میں بچے کی پوزیشن دن بدن بڑھتی نظر آتی ہے۔ شیند ہے کہ کچھ پرائیویٹ سکول بچوں کو امتحانی سوال اچھی طرح یاد کروا کے اسی کا متحان لیکر اچھے نمبرز عنایت کر دیتے ہیں، والدین اپنے بچوں کے سو میں ننانوے نمبر دیکھ کر خوش ہوتے رہتے ہیں، لیکن حقیقت میں ایسے بچوں کے پاس چند رٹے رٹائے اعدادوشمار کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔
اسی نمبر گیم کا اگلا مرحلہ بچوں کو اگلی جماعت کا سلیبس دو دفعہ پڑھا دینا ہے، جیسے آٹھویں جماعت میں نویں کا سلیبس پڑھانا، نویں میں دسویں کا سلیبس پڑھانا اور دسویں میں اسی سلیبس کو پڑھا کر بچوں کو بورڈ کے پیپر دلوا دینا، جی ہاں جس سلیبس کی تیاری آپ نے دو سال کر رکھی ہوتی ہے آپ اس میں کچھ بہتر نمبر لے سکتے ہوں گے ، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے نظام تعلیم کا مقصد صرف اور صرف امتحانات میں زیادہ سے زیادہ نمبر دلوانا ہے، اور فی زمانہ جس طرح کے پیپرز آ رہے ہیں، جیسے مختصر سوالوں کا رواج ہے اور کنسپجوئیل سوال پوچھے نہیں جاتے اور بچے دو جمع دو چار جیسے سوال و جواب رٹ کر ایک ہزار میں سے نو سو نوے نمبر لے لیتے ہیں۔کیا اس نظام کے ذریعے ہم بہتر طالب علم پیدا کر رہے ہیں، کیا سلیکٹو سٹڈی ایک تیر بہدف نسخہ ہے؟
میرے خیال میں ہم اپنے بچوں کے تخیل کے قاتل ہیں، انہیں نمبروں کی دوڑ میں شامل کرکے انہیں علم سے دور کر رہے ہیں۔ آٹھویں میں نویں جماعت کو رٹوا کر ہم بچوں پر جو زائد بوجھ لادنے کی کوشش کرتے ہیں اس سے بچوں کی علمی بنیادوں میں بہت سی کجیاں رہنے کا احتمال ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بچوں کے پاس اضافی پڑھنے کا وقت بہت کم رہ جاتا ہے۔
جبکہ جس نظام تعلیم کی خواہش میں والدین بہت زیادہ فیس برداشت کرتے ہیں، جب ان ملکوں سے چلتا ہے تو اس میں ایک توازن ہوتا ہے، جس میں نہ صرف بچے کی تعلیم بلکہ تصورات کی آبیاری کا کام بھی کیا جاتا ہے، ان بچوں سے انٹرایکشن سے مجھے پتا چلتا ہے بچے اعداو شمار میں بہت تیز نہیں ہوتے، بلکہ ان کی معاملات کو جانچنے اور تجزیہ کی صلاحیت ہمارے بچوں سے کچھ زیادہ ہوتی ہے۔ میری ایک بھانجی ناروے میں رہتی ہے جو اب ساتویں جماعت کی طالب علم ہے، مجھے یہ نہیں پتا کہ وہ سکول میں کیا پڑھ کر آتی ہے اس کے سلیبس کو آدھا پڑھاتے ہیں یا پورا، لیکن اس نے مجھے بتایا کہ وہ اب تک اپنے کورس کے علاوہ پچاس کے قریب کتابیں پڑھ چکی ہے، میں نے کہانیوں کی وہ کتابیں دیکھی ہیں جو کتابچہ کہنا زیادہ مناسب ہوں گی لیکن ہمارے بچے جو بشکل کورس ہی پڑھتے ہیں کیا وہ اضافی
کتابوں کی عیاشی کے متحمل ہو سکتے ہیں؟
اس سے پہلے اسی بھانجی نے اپنے ایک بلاگ کا آغاز بھی کیا تھا، جس میں وہ اپنے دن کی مصروفیات لکھا کرتی تھی، ابھی کچھ عرصے سے اس نے بلاگ لکھنا بند کر دیا ہے میرے پوچھنے پر کہنے لگی چاچو اب وقت نہیں ملتا کیونکہ اب سکول کے بعد مجھے ہینڈ بال کھینلے جانا ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امریکہ کے کچھ سکولوں میں چھوٹے بچوں کی تعلیم کے علاوہ غذائیت تک کا خیال رکھا جاتا ہے، ان کو سکول میں ہلکا پھلکا ناشتہ اور یا ایک وقت کے کھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے، ایسا ہی سکینڈے نیویا کے چھوٹے بچوں کے سکولوں میں بھی ہے، امتحان کے انداز میں بھی اعداو و شمار رٹوانے سے ہٹ کر بچوں کی ذہن سازی پر توجہ دی جاتی ہے، ہمارے ایک دوست جو کوپن ہیگن یونیورسٹی میں پڑھتے رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ ان کے امتحان اوپن بک سسٹم کے تحت لئے گئے، جس میں آپ کتاب کھول کر مدد لے سکتے ہیں۔
مگر کیا اوپن بک امتحان جیسا سسٹم ہمارے ہاں کامیاب ہو سکتا ہے جہاں ٹیچر اعداو شمار کی جمع تفریق سے آسانی سے طلبہ کو گریڈ کر لیتے ہوں وہاں ایک ایک طالب علم کے ایسے نظریہ کو سمجھنا جو اس کے اپنے الفاظ میں ہو خاصا مشکل ہو سکتا ہے۔

نوٹ۔ یہ بلاگ تھوڑی ترمیم کے ساتھ ڈان اردو میں چھپ چکا ہے، لنک یہ رہا۔غیر اہم سوال