گلیوں میں ناچ کا رنڈی رونا ، ہمارا سوشل میڈیا، اور اصلاح کرنے والے۔

پچھلے چار پانچ سالوں میں انٹرنیٹ پر لکھنے والوں کو خاموشی سے پڑھتے پڑھتے میں نے اکثر باتوں پر خاموشی اختیار کرنا ہی مناسب سمجھی ہے۔ ہمارے مذہبی دوست بڑے  چھوٹی چھوٹی باتوں پر کفر اور ایمان تولنے لگ جاتے ہیں، میری تو مجال نہیں کہ ان کی دیوار پر جا کر کوئی لفظ لکھ پاوں، لیکن کیوں کہ میرا اپنا بلاگ ذرا ونچی آواز میں میرے خیالات کا مجموعہ ہی تو ہے اس لئے یہاں یہ بات کہنے میں کیا حرج ہے، جیسے آج ہی کے دن پرویز مشرف کی اپنی بیوی کے ہمراہ کسی نجی تقریب میں تھرکنے کی ویڈیو عام ہوئی تو بہت سے اہل ایمان دوست طنزو دشنام سے بڑھ کر کفر کے فتووں تک چلے گئے۔ اس سے پہلے بھی انار کلی بازار میں ناچنے والی لڑکیوں پر خوب رنگ جما، میڈیا، عورت، معاشرہ سب کو بڑی کراری گالیاں پڑیں لیکن میں ان دوستوں کی توجہ کہیں اور دلانا چاہتا ہوں۔ شاید بہت سے دوست میری طرح ٹی وی اور اس پر چلنے والا کوئی ڈرامہ نہیں دیکھتے، یا شاید جیو یا اس طرز کا کوئی بھی نیوز نامہ بھی نہیں دیکھتے۔
فلسطین سے محبت کرنے والی ایک لڑکی جو کوپن ہیگن کے احتجاج میں شریک تھی

ڈراموں میں دوپٹے وغیرہ گھروں میں کام کرنے والی ماسیوں کی سروں پر ہی ہوتا ہے۔
بہت سے ڈراموں میں دوپٹے کا نام بھی ختم ہو گیا ہے ، جو پہلے عورتیں نشانی کے طور پر کسی مفلر کی طرح اپنے گلے میں رکھتی تھیں۔
یہ جو آجکل شیمپو کی مشہوری میں ہیرو ناچتا ہے اس کے پیچھے ایکسٹراز میں ناچنے والی لڑکیاں بھی اسی ماحول کا حصہ ہیں،
خاص گلابوں کی مہک والے صابن والی عورت  سے لیکر ہر وہ عورت جو کسی نہ کسی انداز میں ہمارے میڈیا کا حصہ ہے اس کا لباس میرے بہت سے دوستوں کی تشریحات سے ہٹ کر ہے۔
شاید آپ نے کبھی کسی مورننگ شو کی شادی کا ڈرامے میں مہندی کا کوئی سین بھی ملاحظہ نہیں کیا۔

میرے خیال میں جو کچھ ہمارے اردگرد ہے لوگ بھی ویسے ہی ہیں، بس میڈیا عام معاشرے سے کچھ دس قدم آگے ہوا کرتا ہے، آپ عید شو سے لیکر کوئی عام پروگرام دیکھ لیں، مرد خواتین سے ہاتھ ملاتے اور گلے ملتے بھی نظر آتے ہیں۔
ایسے حالات میں صرف لوگوں پر آواز کس کے آپ کسی کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ جتنی محنت اور پلاننگ سے لوگوں کی سوچ بدلی ہے اس سے زیادہ محنت اور محبت سے ساتھ لوگوں کو دین کا درس دیا جانا چاہیے۔ نا کہ کفر کے ٹھپے لگا لگا کر گھر سے باہر پھینک دیا جائے۔