انقلاب قلم سے نہیں تلوار سے جنم لیتے ہیں

’انقلاب قلم سے نہیں تلوار سے جنم لیتے ہیں‘‘
بابل و نینوا کے قبرستانوں پر موت کی تاریکی کا راج ہے عیسیٰ کی عصمت صلیب پر جھول چکی۔ تاریخِ انسانی کے جھرو کوں سے میں نے جھا نکا تو دیکھا کہ حق و باطل دریائے نیل کے کنارے آلگے۔ فر عونیت کنار نیل پر سامان عبرت بنا دی گئی تھی ۔ حسن یوسف سے چند ھیائی آنکھیں ماضی کا حصہ بن چکی تھیں۔ ابراہیمؑ کے ایمان کی تپش سے نا ر نمرود بجھ چکی تھی۔ بابل و نینوا کی تہذیبیں کھنڈرات کا روپ دھار چکی تھیں ۔  مذہب رخصت ہو چکا تھا ۔ علم نے جاہلیت کو جنم دے دیا تھا۔ اسماعیل ؑ کے قبیلے والے زم زم کے کنوؤں پرقابض ہو چکے تھے ۔ تہذیب بے لباس ہو کر خا نہ کعبہ کے طواف میں گھومتی تھی۔ ابرہہ کے ہاتھی بھس بنا دیئے گئے کہ اتنے میں فاران کی چوٹیوں پر سر گوشیاں پھیلنے لگیں کہ ایک انقلاب عظیم بر پا ہو نے کو ہے۔ ابن آدم کا مقدم شرف انسانیت کا تاج پہننے ہی والا ہے فرشتوں کی بزرگی پر نسل آدم کی بر تری قائم ہو نے ہی والی ہے۔ پھر اس انقلاب عظیم کی نوید خود خدائے پا ک فر ماتا ہے ڈنکے کی پہلی چوٹ پر جبرائیل امین ’’سرزمین حرا‘‘ کے محمود سے یوں گو یا ہو تاہے۔
پڑھ اپنے رب کے نام سے اور سکھایا اس کو قلم کے ذریعے جو وہ نہیں جانتا ہے۔ پھر قلم کی نوک سے وہ انقلاب جنم لیتا ہے جو تلوار کی دھار کو کند کر دیتا ہے۔ جس کی چمک کے سامنے نیزوں کی انیاں ہار جاتی ہیں۔ پھر خون کے دھارے فواروں کو جنم نہیں دیتے۔ پھر گالیوں کے جواب میں سلامتی کی دعائیں دینے کا رواج پیدا ہو تا ہے۔ ایک ایسا انقلاب کہ تاریخ عالم خود پر حیران ہے کہ دو گھوڑوں اور چند تلواروں والے 313ہزاروں پر غالب آ جاتے ہیں۔ بیٹیوں کی زندگی میں ان کی قبریں کھو دنے والے ان کو ذریعہ نجات سمجھنے لگتے ہیں ۔ گھوڑوں کی لڑائی میں پشتوں کے پشتے کاٹ دینے والے بھائی بھائی کی ڈور سے بندھ جاتے ہیں۔ پھر انقلاب قلم کی بالا دستی کا اعلان کر تے ہوئے حدیبیہ کا صلح نامہ تحریر کر تا ہے۔ پھر حلف الفضول کی لکھا وٹیں لوگوں کے لئے امن کی پیامبر ہو جا تی ہیں۔ پھر جنگ کے قیدیوں کو کسی آنے والے انقلاب کیے تلوار کی نہیں قلم کی تربیت پر ما مور کر دیا جا تا ہے۔
جناب صدر! انقلاب ہمیشہ قلم سے جنم لیتے ہیں ۔ ہاں تلوار ایک گو نکے سپاہی کی طرح انقلاب کے جھنڈ ے کی حفاظت تو کر سکتی ہے مگر قلم کی روشنائی سے لکھے لفظ ہی تعین کرتے ہیں کہ آج تلوار میان میں رہے گی یا سپاہی کے ہاتھ میں ہو گی۔ تلوار قتل و غارت گری کا بازار تو گرم کر سکتی ہے۔ نسل انسانی کی عداوت کو تو ہوا دے سکتی ہے۔ مگر آنے والے وقت کے سامنے سینہ سپر ہو نے والوں کی نسل کو جنم نہیں دیتی۔
جناب صدر! تاریخ عالم گواہ ہے کہ جب کبھی انقلاب کی داغ بیل پڑی تحریک قلم کی نوک سے نمو دار ہو ا کرتی ہے۔ پانینی کی سنسکرتی گرائمر کے اصول زبان و ادب کی دنیا میں انقلاب بر پا کرتے ہیں تو قلم کے دم سے۔ کو ٹیلیا کی سیاسیات مملکتوں کے نظم و نسق میں طوفان بر پا کر تی ہے تو قلم کے دم سے۔ ابن عربی کی وحدت کا فلسفہ ، سارے فلسفوں پر غالب آ جاتا ہے۔ تو قلم کے دم سے۔ غالب بزبان بجنوری ہندوستان کی الہامی کتاب تجوید کر تا ہے تو قلم کے دم سے۔ ارسطو کے معاشرتی قوانین جینے کی نہج بدلتے ہیں تو قلم کے دم سے ۔ افلاطون کے تفکرات اندھیرے معاشرے میں ہلچل مچا تے ہیں تو قلم کے دم سے۔ رگ وید اور گیتا کی قدامت کا نظریہ بھی انقلاب کی باس سنائے تو قلم کی وجہ سے ۔تیموری شہزادے تزک کی تحریروں میں جادو جگائیں تو قلم کے دم سے آزادی ہند کا مژدہ ریشمی رومالوں میں لپیٹ کر ملک کے گلی کوچوں میں بٹے تو قلم کے دم سے سر سید کا چندہ ناچ بے اثر ہو جائے تو وہ سوئی قوم کو جگا ئے قلم کے دم سے۔ الغرض علم قلم کے دم سے، عقل قلم کے دم سے۔ آزادی قلم کے دم سے۔ اور انقلاب قلم کے دم سے ۔
جناب صدر! انقلاب قلم کا مرحون منت ہے کہ جب تک جنگ کا لائحہ عمل ہی نہ ہو میدان جنگ کے طبل نہیں بجتے اور ہر جنگ کا منصوبہ نوک قلم کا محتاج ہوا کر تا ہے۔ تلواریں میانوں سے تب نکلتی ہیں جب قلم ان کی تقدیر لکھتا ہے۔