کون کہتا ہے کہ آہیں ہیں مصائب کا علاج

کون کہتا ہے کہ آہیں ہیں مصائب کا علاج
جناب صدر! آہ ۔۔اِک آواز ہے ،جو خانہ ءِ دِل سے اُس وقت نکلتی ہے ،جب دل غموں سے معمور ہو جائے۔ روح تڑپنے کو مجبور ہو جائے۔ آہ اِک سوچ ہے، جو کسی ہارے ہوئے فاتح کی آخری ہچکی بھی ہو سکتی ہے اور چیخ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہ اِک انداز ہے کہ انسان اپنے دکھوں پر خود ہی ہاتھ ملتا رہے۔ آہ کم ہمتی کے خواب کی تعبیر ہے، جس کے مقدر میں ازل سے ہی نالہ وشیون لکھے ہوئے ہیں۔اور۔۔۔ آہ کو تو چاہیے ،اِک عمر اثر ہو نے تک۔۔۔پھر کون کہتا ہے کہ آہیں ہیں مصائب کا علاج۔
جنابِ صدر! تاریخ گواہ ہے کہ دل والوں کی یلغاروں میں آہیں ہمیشہ دبتی چلی آئی ہیں۔ اِس کائناتِ ہست و بود نے وہ گھڑیاں بھی دیکھیں، جب 313نے آہوں کی زرہیں اتار پھینکیں، اور بدر کو اپنے خون سے لالہ زار کیا۔ جب اندلس کے ساحل پر، ہر ملک کہ’’ ملکِ خدائے ما است ‘‘کا نعرہ بلند ہوا۔ جب عرب کے تپتے ریگزاروں میں اَحد احد کی صدائیں ابھریں، جب عبدالمطلب کے مقابل ابرہہ کے ہاتھی میدان میں آئے۔ جب راڈرک نے میدان جنگ چھوڑا۔ جب احد میں 70مسلمان شہید کر دیئے گئے ۔جب چونڈا اور سیالکوٹ کے محاذوں پر ،دنیا کی سب سے بڑی ٹینکوں سے لڑی جانے والی جنگ شروع ہوئی۔ تاریخ گواہ ہے کہ کسی نازک وقت میں سور ما، آہوں کی بانہیں نہیں تھا متے بلکہ سینے پر بم باند ھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
جنابِ صدر! اگر آہیں مصائب کا علاج ہوا کرتیں، تو آج سارے کشمیری اپنی بندوقوں سے بے نیاز سر با ندھے آہ و بکا میں مشغول ہو تے۔ اگر آہیں مصائب کا علاج ہوا کر تیں ،تو آج فلسطینی بچے اپنے ہاتھوں میں غلیلوں کی بجائے اشکوں کے کشکول لئے ہوتے۔ اگر آہیں مصائب کا علاج ہو ا کرتیں تیشہءِ فر ہاد سے جوئے شیر کی نہریں نہ پھوٹتیں۔ آہیں مصائب کا علاج ہو ا کرتیں، تو کچے گھڑے چناب کی طغیانیوں کے مقابل کبھی نہ آتے۔ آہیں مصائب کا علاج ہوا کرتیں، تو ساحلوں پر کشتیاں جلانے والے کبھی ملک فتح نہ کرتے۔ اگر آہیں مصائب کا علاج ہوا کرتیں، تو ایک ہی پکار پر سمندر ٹاپنے والے گھروں میں مقید ہو کر رہ جاتے ،راتوں کو گلیوں کا گشت کر نے والے خلفاء ، انا ج کو بوریوں کی بجائے آہوں کا ایندھن بانٹتے پھرتے۔ الکا سِب حبیب اللہ کی صدائیں کبھی نہ ابھرتیں ۔اور میرا نبیؐ عادتاً مانگنے والوں کے ہاتھوں میں کلہاڑا کبھی نہ تھماتا۔ میرا خدا لیس الا نسان اِلا ما سعیٰ میں ساری دنیا کو کبھی نہ سموتا ۔ کیونکہ آہیں تو کم ہمتی کا درس دیتی ہیں۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرنے کا درس دیتی ہیں۔ روز جینے اور روز مر نے کا درس دیتی ہیں۔
اور وہ مرد نہیں جو ڈر جائے، حالات کے خونی منظر سے
اُس دور میں جینا لازم ہے، جس دور میں جینا مشکل ہو
جنابِ صدر!آہیں مصائب کا علاج نہیں ہیں ۔کیونکہ نانِ شبینہ کمانے کیلئے رات اور دن کا پسینہ لہو کر تا پڑتا ہے۔ آہیں مصائب کا علاج نہیں ہیں، کیونکہ کار زارِ ہستی کے پر پیچ راستوں میں انسان کو اپنی راہیں بلند حوصلگی سے تراشنی پڑتی ہیں۔ آہیں مصائب کا علاج نہیں ہیں ،کیونکہ مصائب کے قفل تومحنت کی کنجیوں سے کھلتے ہیں۔ آہیں مصائب کا علاج نہیں ہیں، کہ طوفانوں میں گِھر ی کشتیاں با دبانوں کے تھپیڑے کھا کر، اپنے زور بازو سے مصائب کا حل کیا کرتی ہیں۔ پھولوں سے لدی ٹہنیاں، کسی مصیبت میں منہ نہیں بسور تیں ،بلکہ کانٹے چبھو یا کرتی ہیں ۔ میدانِ جنگ میں زخم خوردہ لٹکتے بازوؤں پر آہیں نہیں بھر ی جاتیں، بلکہ پاؤں کے نیچے رکھ کر تن سے جدا کر دیئے جاتے ہیں۔ دشمن کی مکاری پر دِلِ مومن سے نالے نہیں نکلتے ،بلکہ کم سن اپنے طیارے زمین میں گھسا دیا کرتے ہیں۔ کشتیوں کے جلنے پر دل آزادی کی نہیں بلکہ نگاہِ مسلمان کی بیداری کی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ دشمن کے پرتھویوں کے مقابلے میں غوری بنا نے پڑتے ہیں۔ اگنیوں کا جواب شاہینوں سے دینا پڑتا ہے۔ ترشولوں کو حتف اور بدر ما ت کر تے ہیں۔ ایک دھماکے کے جواب میں پانچ دھماکے کر نا پڑ تے ہیں ،اور دل والے تو ہر مشکل گھڑی میں یہی یقین رکھتے ہیں۔
جب کچھ بن نہ پڑا تو ڈبو دیں گے سفینہ
ساحل کی قسم منت طو فان نہ کریں گے