کسی طوفاں کی آمد ہے یہی آثار کہتے ہیں

کسی طوفاں کی آمد ہے یہی آثار کہتے ہیں
ْ ؂ اُڑی ہے راکھ زمانے بدلنے والے ہیں
سمے یہ سارے سہانے بدلنے والے ہیں
زمیں پہ پھر کہیں طوفاں کی سر سراہٹ ہے
پرندے اپنے ٹھکا نے بدلنے والے ہیں
جی ہاں جناب صدر!
کسی طوفاں کی آمد ہے یہی آثار کہتے ہیں،کہ آج کٹتے بھی چلو بڑھتے بھی چلو کا نعرہ لگا کر، بازو بھی بہت ہیں اور سر بھی بہت کی تلقین کر نے والی زبانیں خاموش ہو گئیں ہیں۔ آج کوئی بازو نہیں جو آگے بڑھے ، آج کوئی سر نہیں جو اُوپر اٹھے۔کہ آج
؂ کٹے پھٹے ہوئے جسموں پہ دُھول کی چادر
اُڑا رہی ہے سرِ عام زندگی کا مذاق
ہر گزرتا دن ہر جھکتی کمر کے جھکاؤ میں ایک انچ کا مزید اضافہ کر ے۔اور
؂ بجھی بجھی ہوئی آنکھوں میں کانپتے آنسو
لہو میں تیرتے چہروں کے بد نصیب گلاب
تو کسی طوفاں کی آمد ہے یہی آثار کہتے ہیں
جی ہاں جنابِ صدر!
ہیر و شیما اور ناگا سا کی کی بانجھ دھرتی سے اُگنے والے لنگڑے لُولے بچوں کی نسل وجود میں آنے کو ہے۔ویت نام کے تو پخانوں سے بچا کھچا بارود تو رہ بورہ پر گرنے والے کروز مزائلوں کی شکل اختیار کر گیا ہے۔فلسطین میں آزادی کی بانسری بجاتے بجاتے یا سر عرفات کی داڑھی میں چاندی اُتر آئی ہے۔ آبِ زم زم کے کنو ئیں کے آس پا س امریکی فوجیوں کے بوٹوں کی چاپ سنائی دیتی ہے۔بھارت کے پرتھوی پاکستان کی سرحد پر آ گئے۔پاکستان کے غوری ہندوؤں کی یلغار کے منتظر ۔افغانستان کی حکومت ہمیشہ کی طرح چل رہی ہے خدا کے سہارے ۔عراق تباہ حال ہے ایران یا لیبیا کی باری ہے۔فلسطین و کشمیر جل رہے ہیں اسرائیل کی تباہ کاری ہے۔روس مٹ چکا ہے امریکہ کی باری ہے۔ کہ آج نام نہاد ترقی یافتہ، مذہب کو بنیاد پرستی کے نعروں میں گم کرنے والے خود صلاح الدین کی قبر کو ٹھو کر یں مار مار کر غیرتِ مسلمان کو للکارتے ہیں، اور مسلمان کرے تو کیا کرے، ہاتھ پرہاتھ دھرے آسمان کی وسعتوں سے ابابیلوں کا منتظر ہے۔تو کوئی طوفاں ہی آیا کر تا ہے کہ جب ہر ملک دوسرے ملک کو یہ تلقین کر تا ہے۔
؂ کہ تُم سے ممکن ہو تو سب روشنیاں گُل کر دو
وہ اندھیر ا ہو کہ ہر رنگ پر یشاں ٹھہرے
آنکھ پلکوں کی رفاقت سے گُریزاں ٹھہرے
شاخ در شاخ اُترنے لگے وحشت کا عذاب
شورشِ موجِ ہوا، صُورِ سرافیل لگے
رقص کرتے ہوئے بے خواب بگولوں کے بدن
رہ گزاروں کی تھکن اَوڑھ کے شَل ہو جائیں
ماند پڑ جائیں ستاروں کے قبیلوں کی رسوم
جاگتے شہر تہہِ خاکِ زمیں ہو جائیں
شہ رگِ وقت میں سیاّل سیاہی بھر دو
تم سے ممکن ہو تو سب روشنیاں گُل کر دو
تو کسی طوفاں کی آمد ہے یہی آثار کہتے ہیں
جنابِ صدر!
آج اقوام عالم کا جائزہ لیکر دیکھئے۔کہیں بھوک کی حکمرانی ہے اور کہیں جنگ مسلط ہے۔ اور جہاں کہیں نام نہاد امن ہے تو موت کا سکوت طاری ہے۔پوری دنیا بُش ڈاکٹرا ئن سے لرزہ بر اندام۔۔۔جانے اب کیا ہو گا۔۔۔جی ہاں ! جب انسان اپنی بقا کی جنگ لڑتے ہیں تو انہیں اپنی فنا بھو لنا پڑتی ہے۔اور ڈر ہے کسی ایسے ہی لمحے میں، جب نیست و نابود ہو نے کا خوف کسی میں وہ انجانی قوت بھر دے کہ وہ اپنی تمام طاقتوں سمیت دنیا بھر کو اُلٹنے کا تہیہ کر لے۔تو پھر کوئی طوفاں آہی جا یا کر تا ہے۔آج پھر شہروں پر موت کے فرشتے منڈ لاتے نظر آتے ہیں کہ ایمل کانسی کو بچانے والا کوئی اُسامہ نہیں رہا۔آج پھر ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ملبے سے صدا آتی ہے کہ ٹھہرو مجھے دو بارہ تعمیر کر نے سے پہلے ذرا سو چ لو، تمھارے پا لتو ؤں کی گر دنوں کے زخم انہیں کسی لمحے بھی بغاوت پر مجبور کر سکتے ہیں۔ دھرتی کے سینے میں وہ بے چینی ہے الا ماں الاماں۔کوئی مسیحیت کا سہارا لیکر صلیب کی جے کا نعرہ بلند کر تا ہے اور کوئی لا الہ کو مقصدِ حیات کہہ کر الجہاد کا پروانہ ہو گیا ہے۔میں تو کہتا ہوں کوئی دیوار گر نے کو ہے۔۔۔کوئی نشاں ن بننے کو ہے۔۔۔کوئی مکان جلنے کو ہے۔۔۔کوئی طوفان آنے کو ہے ۔۔۔ کہ
اب تو بارُود کا اِک ڈھیر بنی ہے دنیا
اب تو باقی ہے فقط ایک دھماکہ ہو نا
اب کسی طوفاں کی آمد ہے یہی آثار کہتے ہیں