جغرافیائی سرحدیں تاریخی سرحدوں سے زیادہ اہم ہیں(قرارداد)

جغرافیائی سرحدیں تاریخی سرحدوں سے زیادہ اہم ہیں(قرارداد)

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میرا قائد ’’محمد علی‘‘ کا نام اوڑھے پاک لوگوں کے رہنے کو ایک گھر تشکیل دینا چاہتا تھا۔اور جب علیؓ کے گھر انے کی شجاعت لئے ’’فاطمہ‘‘ خیبر سے راس کماری تک گھروں کے دروازے کھٹکھٹا تی ہے کہ بہنو! اٹھو، کہ یہ آ گ بھائیوں کے خون سے نہیں بجھے گی۔پھر گوہر اور جوہر تراشنے والی مائیں اپنے دودھ کی قسموں کو بیڑیاں بنا کر بیٹوں کی جوانیوں کو پابند کرتی ہیں۔ بیٹو ! آگے بڑھو! ماں کی قسم! دھرتی تمہاری ماں کی بھی ماں ہے!اُدھر ہر ماں نے اپنا بیٹا ہتھیلی پر رکھ دیا۔ ہر بہن نے اپنا بھائی پیش کر دیا۔ ہر سہاگن اپنے سہاگ کو تھالی میں سجا لائی کہ ’محمد علی‘‘ آگے بڑھو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ عین اسی لمحے مولو یانِ ہند کو بھی یہی شوشہ سو جھا تھا کہ جغرافیائی سرحدیں کچھ نہیں ہوتیں۔ سن 1900کے لکھے، نیل کے ساحل سے تا بخاک کاشغر کی ڈھال لیکر، کعبتہ اللہ سے سرحدِ پاکستان کا عندیہ سنا کر، عنایت اللہ مشرقی کے احراروں نے میرے قائد کے جسم پر چھرا گھونپا تھا۔ پھر عاشقِ رسولؐ کی صدا، الہ آباد کے ایوانوں سے گونجتی ہے ،کہ شمال سرحدی صوبہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور دیگرعلاقوں کو ملا کر ایک علیحدہ مملکت تشکیل دی جائے۔ پھر میری قوم کی صغرائیں، سیکرٹریٹ کی عمارتوں پر چڑھ دوڑ تی ہیں۔ میری کبرائیں، فاطمہ بنت عبد اللہ کا روپ دھار لیتی ہیں۔ میرے جیالے ویول، اور ولنگٹن وفد کو ناکام و نا مراد لوٹا دیتے ہیں۔ ارے تم ایک دلیل کی بات کر تے ہو۔6لاکھ دلیلیں اپنے لہو کا قطرہ قطرہ نا موسِ وطن پربہا کر اعلان کرتی ہیں۔ کہ جغرافیا ئی سرحدیں تاریخی سرحدوں سے زیادہ اہم ہیں۔
جنابِ صدر! جغرافیہ اسلام کی چادر اور چار دیواری کا عملی مظہر ہے، اور اپنے اور پرائے کے گھر میں ایک حد فاصل مقرر کر تا ہے۔ میرے مجاہدوں کے ایمانی جذبات کو ورغلا کر ایک بار پہلے بھی ان لوگوں نے جنگِ جمل چھیڑی تھی ،اور آج بھی نشاطِ ثانیہ کے نشے میں اپنی خواہشات کا زہر ملا کر، واہگہ بار ڈر توڑ نے کی بات کر تے ہیں۔ تاریخ کے اوراق کو پھر سے پر کھیے، میرا طارق بن زیاد جہاں بھی گیا اس نے ملکوں کے نقشے نہیں بدلے۔ بن قاسم کی تلوار نے سندھ کو حجاز نہیں کہا ،یوسف بن تاشفین نے ظلال السیوف کی پناہ میں جنت تو ڈھونڈی، مگر جغرافیہ سے منکر نہیں ہوا۔ محمود غزنوی تاریخ میں بت شکن تو کہلا یا مگر اس نے جغرافیائی سرحدوں کے نام نہیں بدلے۔
جنابِ صدر! جغرافیائی سرحدیں تو کسی قوم کا وہ آ ہنی قلعہ ہو ا کر تی ہیں، جو اس کی بقا کا آخری حصار ہوتا ہے۔ جس طرح بے نام شخص کی کوئی شناخت نہیں، اس طرح بے یارو مدد گار قوم کی کوئی عزت نہیں۔ جس طرح چار دیواری کے بغیر مکان کا تصور نہیں، اسی طرح کسی جغرافیائی حد کے بغیر کسی قوم کا تصور نہیں۔ جس طرح کسی لا وارث کا کوئی وارث نہیں، اسی طرح کسی بھٹکتی قوم کا کوئی وارث نہیں۔
ارے تم کہتے ہو، تاریخی سرحدیں بہت اہم ہیں۔ تاریخی سرحدیں اگر اہم ہوتیں تو تمھارے سامنے عراقی
بھا ئیوں کی آزادی کو یوں تاراج نہ کیا جاتا۔ تاریخی سرحدیں اگر اہم ہوتیں تو افغانستان پر اٹھنے والی ہر آنکھ نوچ لی جاتی۔ تاریخی سرحدیں اگر اہم ہوتیں تو فلسطین میں لٹتی پھٹتی انسانیت کا یوں مذاق نہ اڑایا جاتا۔ تاریخی سرحدیں اگر اتنی اہم ہوتیں تو کشمیر کی سلگتی وادی کے اٹھنے والے غبار سے بے بسی کے آنسوؤں کی بارش نہ ہوتی۔ ارے تاریخ کے دھندلکے میں الجھے آدمی:
سن اے غافل صدا میری یہ ایسی چیز ہے جس کو
وظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میں
ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے،ہو نے والا ہے
دھرا کیا ہے بھلا عہدِ کہن کی داستا نوں میں
اُجاڑا ہے تمیزِ ملت و آئین نے قوموں کو
میرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکرِ وطن بھی ہے
وطن کی فکر کر نا داں مصیبت آنے والی ہے
تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں