جذبے کہاں سے جنم لیتے ہیں

جذبے کہاں سے جنم لیتے ہیں

گفتگو کے اسالیب میں، جذبات کی آمیزش کا بہت زیادہ ہاتھ ہے۔ یہ جذبات ہی ہوتے ہیں، جو دل سے نکلتے ہیں۔ جو دل میں جاتے ہیں، جو سنسنی بن کر رگ و پے میں سرایت کر تے ہیں، جو کپکپی بن کر بدن پر طاری ہوتے ہیں۔ جو لمس کی وہ کیفیت پیدا کر تے ہیں کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پھر پاؤں سے لیکر سر تک ایک لہر اٹھتی ہے ،سبھی سننے والے ایک رو میں بہنے لگتے ہیں۔ پھر لوگوں کی تالیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ سانسیں تھمنے لگتیں ہیں۔ جی ہاں ’’جذبات ‘‘ میں وہ طاقت ہے ،کہ ایک مرغی اپنے نو زائیدہ بچوں کی حفاظت کیلئے ’’بلی‘‘ پر پل پڑتی ہے۔ ایک معمولی چڑیا اپنے انڈوں کی حفاظت کیلئے سانپ کے پھن پر چونچیں گاڑ نے لگتی ہے۔ اور جب مقرر، لوگوں کے دل کی بات کو الفاظ کے جامے سے سجا کر، دلیلوں کے ہار پہنا کر، سا معین کے سامنے پیش کر تا ہے، تو پھر کوئی دل ، دل نہیں رہتا۔ وہ آواز بن جاتا ہے، جو بولنے والے کی آواز ہوتی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ جذبوں کو کہاں سے ڈھونڈا جائے، کیسے تراشا جائے، کیسے پیش کیا جائے کہ سیدھے دل میں اتر جائیں۔ اس کیلئے سب سے موثر ذریعہ"Observation"ہے۔ کہ دل کو دیکھا جائے، پر کھا جائے، جانچا جائے، سنا جائے، سمجھا جائے۔ اس کو بھی دیکھا جائے جس کو سبھی دیکھتے ہیں۔ اس کو بھی سنا جائے جس کو کوئی نہیں سنتا۔ اس کو بھی سمجھا جائے جو سمجھ نہیں آتا، پھر آپ وہ سنیں گے جو لوگ سن نہیں پاتے، وہ سمجھ جائیں گے جو لوگوں کو سمجھ نہیں آتا۔ وہ دیکھ لیں گے جو کسی کو نظر نہیں آتا۔
کبھی آپ بوڑھی ماں کے معصوم چہرے کی کٹی پھٹی جھریوں میں جذب ہو تے آنسو ؤں کو دیکھئے۔ کبھی کھلونوں سے بہلتے ہو ئے بچوں کی کلکاریاں سنئیں۔ کبھی آپ ورکشاپوں کی بھٹی میں جلنے والے کم سنوں کی آنکھوں میں حسرتیں دیکھیں۔ کسی’’چھوٹے‘‘ کے ہاتھ میں تھامے پالش بر ش، پانے یا جوٹھے برتنوں کی کالک کی تہہ میں اتریں ۔ کوچوانوں کے چابک سے لیکر ان کے منہ سے ادا ہو نے والے بے سروپا فقروں تک، شفا یاب ہو نے والے مریض سے لیکر مر جانے والے چہرے کی مردنی تک، مسافر بسوں کی حالت زار سے لیکر ا ن میں کھڑے ہو کر عورتوں کیلئے جگہیں خالی کر نے والو ں تک۔محبت کر نے والی دو آنکھوں سے لیکر کسی خالی کشکول بھکاری کی آنکھوں تک۔ مل جانے کی دولت سے مالا مال دل سے لیکر کھو دینے والے دل کی مسلسل اذیت تک، صبح سکول کا بستہ اٹھانے سے لیکر اسے شام کو واپس اپنی جگہ پٹکانے تک، صبح سے لیکر شام تک اور شام سے لیکر رات تک، آپ دیکھیں اور غور کریں۔ لیکن دماغ سے زیادہ دل کا استعمال کریں۔ کیونکہ دماغ مطمئن کر تا ہے، دل خلش پیدا کر تا ہے اور جذبے اطمینان کی بجائے خلش اور خواہش کے پیدا کر دہ ہو تے ہیں۔