فی البد یہہ بات کرن

’فی البد یہہ بات کرنا؟‘‘
مباحثے کے مروجہ طریقوں میں سے مقرر کی اہلیت کو جانچنے کا ایک موثر طریقہ۔۔۔۔ کہ اسے ڈیڑھ سے دو منٹ کا وقت دیکر بولنے کیلئے کہا جاتا ہے۔ ان تقاریر میں زیادہ تر ’’مقرر‘‘ ٹوٹے پیمائی‘‘ کر تے ہیں ۔ ’’ٹوٹے پیمائی‘‘ وہ حربہ ہے جس کے ذریعے مقرر اپنی یادداشت کے بل بوتے پر یا گذشتہ ’’یادشدہ میٹریل‘‘ کو توڑ پھوڑ کر ’’تقریر‘‘ یا مباحثے میں فٹ کر دیتا ہے۔ اس کی مثال اسی لطیفے کی طرح ہے کہ سکول کا ایک طالب علم اردو کے پرچے کیلئے ایک ہی مضمون یا د کر تا ہے ’’ہوائی جہاز کا سفر‘‘ لیکن ہو تا کیا ہے کہ پرچہ امتحان میں فٹ بال میچ کا آنکھوں دیکھا حال آ جاتا ہے۔ تو پھر وہ سارا ہوائی جہاز کا سفر بیان کر نے کے بعد آخر میں کہتا ہے کہ میں نے جہاز سے نیچے دیکھا تو فٹ بال کا میچ ہو رہاتھا۔ میچ بڑا سنسنی خیز تھا۔ دونوں ٹیمیں بڑا شاندار کھیل پیش کیا اور چند باتوں اور فقروں میں پورا مضمون مکمل کر دیتا ہے۔ بعینہٖ لوگ سابقہ یاد کردہ تقاریر کے ’’پیرا گراف‘‘ استعمال کر تے ہیں۔ ان پیرا گراف کی بہت سی مثالیں ہیں۔ مثلاً ایک مشہور زمانہ پیرا کہ کارگل سے لاش آتی ہے۔ بوڑھا باپ بیٹے کی لاش وصول کرتا ہے۔ آنکھوں میں نمی ، دل میں غم کہ مرہم اشک ہیں زخم طلب کا چارہ۔۔۔بوڑھا باپ پکارتا ہے میرے بیٹے جن ہاتھوں سے تجھے کھلایا تھا اب کفن پہناؤں تو کیسے جس کان سے تیری میٹھی باتیں سنتے تھے اس سے تیرے مرنے کی خبر سنوں تو کیسے۔۔۔ تجھے نہلاؤں تو کیسے۔۔۔تجھے دفناؤں تو کیسے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ، یعنی بیٹے کی لاش اور باپ کی بے بسی کی وہ منظر کشی کی جاتی ہے کہ الفاظ کی روح کانپ اٹھتی ہے سننے والا اس اندو ہناک سانحے میں ڈوبا ہوتا ہے کہ مقرر ہوائی جہاز سے فٹ بال میچ دکھا کر چلتا بنتا ہے۔
ایک اور ’’ٹوٹا‘‘ پاکستان اور حب الوطنی کے متعلق کسی بھی تقریر اور مباحثے میں بار ہا استعمال کیا گیا۔۔۔
بازار میں لوگوں کا ہجوم ، لوگ اپنے قائد پر بننے والی فلم جناح دیکھنے جاتے ہیں ۔ سینما سکرین پر ایک دھماکہ ہوتا ہے۔ روح قائد پکارتی ہے ۔ جنون سے اور عشق سے ملتی ہے آزادی۔ پھر روح قائد سوال کر تی ہے کیا اس لئے یہ دیس حاصل کیا تھا۔ کہ یہاں رشوت ستانی کے بازار گرم کر دئے جائیں۔ کیا اس لئے لاکھوں لوگوں نے قربانی دی تھی کہ بننے والے دیس میں کسی کی عزت محفوظ نہ رہے ، وغیرہ وغیرہ۔
میں سمجھتا ہوں کہ اپنے پرانے فقروں اور پیروں کا استعمال کوئی بہت برا فعل نہیں۔ اس کی ایک اور توجیہہ اس طرح سے ہے ہماری عمر میں تجربات، دلائل، مطالعہ کی کمی ایسے بہت سارے اسباب ہیں جو ہمیں بار بار ایک ہی بات کو تروڑنے مروڑنے پر مجبور کرتے ہیں۔ مثلاً میری لکھی ہوئی تقریروں میں آپ کوئی پانچ چھ فقرے مختلف رنگوں میں استعمال ہو تے بار ہا نظر آئیں گے۔ مثلاً میدان بدر میں 313اصحاب کا لڑنا ، محمد بن قاسم کا ایک بیٹی کی آواز پر آنا، طارق بن زیاد کا کشتیاں جلانا۔ ایک بندے کا مینار پاکستان سے چھلانگ لگانا۔ وغیرہ وغیرہ۔ پہلے تو اپنی اس کم علمی پر آپ سے معذرت خواہ ہوں لیکن دوسری بات میں یہ کہتا ہوں کہ آپ ان فقروں کے دہرائے جانے سے ہٹ کر ان کو ان کی جگہ پر ملاحظہ کیجئے اگر یہ آپ کو اس جگہ پر مناسب محسوس نہ ہوں تو یہ میرے فن تقریر کا جھول ہے۔ یہ یقیناًاک کمی ہے لیکن بار بار استعمال ہونے کے باوجود اگر یہ فقرے ہر جگہ پر اپنے علیحدہ معانی دیتے ہوں تو اسے لکھاوٹ اور دلائل کا کمال کہا جا سکتا ہے۔
میں واضح کر تا چلوں کہ ملتے جلتے موضوع پر آپ ضرور ان فقروں، پیروں سے مدد لیں۔ لیکن یہ نہ ہو کہ موضوع ’’لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ ذہین ہیں‘‘ ہو، اور ادھر کارگل سے لاش آتی ہے اور گھر میں صف ماتم بچھ جاتی ہے کی تعبیرشروع ہو جائے ۔ فی البد یع بولنے میں جو سب سے اہم بات ہے وہ ہم معنی الفاظ کا خوبصورت استعمال ہے۔ فی البد یع تقریر/مباحثے میں دلائل سے زیادہ لفاظی چلتی ہے کیونکہ محدود وقت میں محدود ذہن بڑی تھوڑی دلیلیں ڈھونڈ ھ پاتا ہے۔ تو ایسے وقت میں آپ کے پاس ایک مضبوط ذخیرہ الفاظ ہو نا چاہیے۔ جو آپ کے تھوڑے سے دلائل میں وہ معنویت بھردے جو ایک مباحثے یا تقریر کے سارے وقت پر محیط ہو جائے ۔ جیسے ’’علم لازوال دولت ہے‘‘ پربات کرتے ہوئے۔۔۔۔ ۔ جی ہاں جناب صدر! علم لازوال دولت ہے اور یہ دولت اس کائنات میں یوں بکھری ہوئی ہے کہ جہاں سے اٹھائیں علم جنم لیتا ہے۔ مٹی اور ریت کے ذروں کی تلاش علم ،صحرا کی جہتوں کو چھا نیں’’علم‘‘
دریاؤں کی روانی پر غور کریں ’’علم‘‘
سمندروں میں غوطہ زن ہوں ’’علم‘‘
پھو لوں کے کھلنے پر غور کریں ’’علم‘‘
کلیوں کے چٹکنے پر غور کریں ’’علم‘‘
ستاروں پر کمندیں ڈالیں ’’علم‘‘
سیاروں کی گردش دیکھیں ’’علم‘‘
سورج کو چراغ دکھائیں ’’علم‘‘
چراغ کو چراغ در چراغ جلائیں ’’علم‘‘
کتاب کو صفحہ در صفحہ الٹیں ’’علم‘‘
ارے علم جہان کی جہتوں میں یوں پھیلا ہے کہ۔۔۔’’خورشید کا جگر نکلے گرذرے کا دل چیریں‘‘
اب اس سارے پیرے پر غور کریں تو اس میں خیالات کے حوالے سے بہت ارفع خیالات نہیں ملیں گے۔ مگر فن تقریر کے حوالے سے ان میں اتنی جان ہے کہ سامعین کو مسحور کر سکیں۔ ٹھیک اسی طرح سے فی البدیہہ تقریر اور مباحثے کے پیرے چلتے ہیں۔ آپ وقت کی مناسبت سے دلائل مرتب کر لیں اور بعد میں ان دلائل پر اپنی مضبوط لفاظی کے جادو سے وہ رنگ دکھلائیں کہ سننے والے سمجھ جائیں کہ۔۔۔۔
؂ سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں

’’اشعار کا انتخاب‘‘
اشعار کا انتخاب ،گفتگو کو مدلّل اور پر مغز بنا تا ہے جو بات ایک لمبی تمہید اور لمبی نششت کی متمنی ہو، بعض اوقات اشعار اس کو چند مصرعوں میں سمیٹ لیتے ہیں۔دوران مباحثہ اشعار کے استعمال کر نے اور نہ کر نے پر بہت سے نقطہءِ نظر ہیں ۔ کچھ کے ہاں اسے بہت مؤثر قرار دیا گیا ہے، اور کہیں انکو زبان کیلئے لاٹھی یعنی سہارے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ ہم ان دونوں سے اتفاق کر تے ہوئے کہتے ہیں، کہ اشعار استعمال ہونے چاہئیں ،اس لاٹھی کیطرح جو سامعین کی سوئی ہو ئی سماعتوں میں ’’کھٹاک‘‘ سے بجتی ہے اور جھنجھوڑ کے رکھ دیتی ہے۔
بہت سے مباحثو ں سے کشید شدہ تجربہ یہی کہتا ہے کہ "Clapping Point" کیلئے سب سے موزوں انتخاب کوئی اچھا قطعہ، کوئی رباعی اور باہم مطابقت رکھنے والے دو اشعار ہو سکتے ہیں۔ اب مناسب اور موزوں قطعات اور اشعار کا ڈھونڈنا واقعتا وہ ریاضت ہے جو مقرر میں بولنے کے علاوہ پڑھنے کا رجحان بھی اجاگر کر تاہے۔
عمو ماً ہونا تو یونہی چاہیے کہ آپ کوئی پیرا لکھتے آ رہے ہیں، رفتہ رفتہ آپ اس کو اٹھا تے ہیں اور با لآخر "Clapping point"کی طرف لے آتے ہیں۔ لیکن بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آپ کے پاس ذخیرہ اشعار ایسا ہو تا ہے کہ آپ ہلکے پھلکے الفاظ سے تمہید باندھتے ہوئے سامعین کو اس مقام تک لے آتے ہیں کہ جہاں عش عش اور واہ واہ ہی باقی بجتی ہے۔ ذخیرہءِ اشعار کی نوعیت سے بات کو موڑنا فی البدیہہ تقریر کا مؤخر ہتھیار ہے ،کیونکہ اشعار پہلے سے آپ کے ذہن میں موجود ہوتے ہیں۔ آپ چند ساعتوں کیلئے ان اشعار کا جائزہ لیتے ہیں۔ بہت سی باتیں انہی اشعار سے نکل آتی ہیں اور بہت سی ویسے ہی۔۔۔۔ لیکن جب آپ ان ویسی ہی باتوں کو اشعار کے ساتھ موڑ کر میدان میں لاتے ہیں تو وہ تا ثر جنم لیتا ہے جو فی البدیہہ گفتگو کی جان ہے۔