کتابوں نے ہمیں کچھ نہیں دیا بچوں کے لئے

کتابوں نے ہمیں کچھ نہیں دیا‘‘
ہے دل کیلئے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
جی ہاں جناب صدر! آج کے اس بے مروت مشینی دور میں کتابیں لفظوں کے کباڑ خانے کے سوا کچھ نہیں رہیں۔ کہ آ ج چاندی کے سکوں کی طرح چھنچھناتے لفظ تو ملتے ہیں مگر موج سمندر کا ظرف سمیٹنے والے جذبے نا پید ہو چکے ۔ کہ آج جدید پریس کی طبع سے گزرے ہوئے میکانکی فقرے تو ملتے ہیں مگر دلی جذبات کی عکاسی کرتی ہوئی انسانی سوچیں نا پید ہیں۔ اوریہ حقیقت ہے کہ کتابوں نے ہمیں کچھ نہیں دیا کیونکہ آج معاشرہ جس سمت میں چل رہا ہے وہاں کچھ بھی کتابی نہیں۔ علم اٹھ چکا کہ انٹر نیٹ کی اجارہ داری ہے۔ ادب مٹ گیا کہ ڈش انٹینا کی خماری ہے۔ امانت رخصت ہوئی کہ مارکیٹنگ کے لفظی کھیل نے ہر سیاہ کو سفید کر دیا۔ دیانت نا پید ہو گئی کہ ہر کوئی مست مئے ذوقِ تن آسانی ہے۔ شرافت کے لبادوں کو مخلوط میراتھنوں نے چاک کر دیا۔ آج سکول کا استاد ورکشاپ کے استاد کے برابر آگیا۔ آج علم مکتب سے نکل کر ٹیوشن سنٹر میں جا بسا۔
اور جنابِ والا!
جب کتابوں سے علم نہ ملتا ہو! جب کتابوں سے ادب کی آبیاری نہ ہو پائے! جب کتابیں استاد کے مرتبے کو باپ کے مرتبے کے برابر نہ لا سکیں! جب کتابیں اخوت و مساوات کو بڑھا نہ پائیں تو یہی کہنا پڑتا ہے۔
کہ کتابوں نے ہمیں کچھ نہیں دیا۔