آزادی کے پچپن بر س

زادی کے پچپن برس
آزادی کے پچپن بر س کی داستان جو ٹکڑے ٹکڑے ہو تے جسموں سے نچڑتے لہو سے شروع ہو تی ہے، اور آنکھوں سے قطرہ قطرہ ٹپکتے لہو پہ ختم ہو تی ہے۔ سنگِ دشنام اور تیرِالزام کی بوچھاڑ میں صبحِ نا شاد اور روزِ ناکام کو شکست دینے والے آہنی ہاتھوں سے لیکر UNOاور UNICEFکے آگے جھولیاں پھیلا ئے ہوئے، کوڑھ زدہ مردہ دست وپا پر ختم ہو تی ہے۔ وہ داستان جس کو لکھنے کیلئے سیاہی ہندو ستان کے ہر مسلمان کے دل سے لی گئی۔ وہ داستان جس کا حرف حرف خونِ مسلمان سے تحریر ہے۔ جس کی سطر سطر حمیتِ ایماں کی تصویر ہے۔
چلئے اس داستا ن کو ہجرت کی ٹرین سے شروع کرتے ہیں۔اس باپ کی شجاعت سے شروع کرتے ہیں ، جس کے بیٹوں کو بٹوارے کی آڑ میں بانٹ دیا گیا۔ اس ماں کی برداشت سے شروع کرتے ہیں ، جس کی مامتا اس کی آنکھوں کے سا منے مسل دی گئی۔اس بہن کی پاکیزگی سے کرتے ہیں ، جس کو کسی اندھے کنویں میں چھلانگ لگانا پڑی۔ مگر یہ کیا ،
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
صبح آزادی کے متوالے، شمعِ آزادی لیکرآگے بڑھے، پہلے قائد بچھڑے ،پھر لیاقت کی باری آئی۔ جمہوریت اور آمریت کی وہ گرد اڑی کہ قائد کے پاکستان کا چہرہ دھند لا گیا۔پھرآپ کے رفقاءِ کا ر ایک ایک کر کے داعیِ اجل کو لبیک کہتے چلے گئے۔اور پھر تاریخِ پاکستان نے وہ ادوار بھی دیکھے۔ جب ایوان صدر میں کف بہتے منہ کے ساتھ گالیاں بر سائی گئی۔ جب امریکی اشاروں پر کھیم کرن اور رن کچھ سے فوجوں کی واپس بلا لیا گیا۔ ادھر ہم اور ادھر تم کے نعروں میں اپنی عزت رہن رکھ کر ایک لاکھ فو ج کو جنگی قیدی بنوا دیا گیا۔روٹی ،کپڑا ،مکان کا نعرہ لگانے والوں کو سولیوں پر لٹکا دیا گیا۔عشر زکوٰۃ کے نام پر اکٹھا ہو نے والا مال ھذا من فضل ربی کی صدا ؤں میں گم ہو گیا۔ملک سنوارو قرض اتارو کی مہموں میں کروڑوں سوئیٹرز لینڈ پہنچ گئے ۔غریبوں کو فاقہ کشی ملتی رہی اور زر داریوں کے گھوڑے مربے کھاتے رہے۔ یہاں
جھو نپڑیاں گرتی رہیں اور وہاں سرے محل تعمیر ہو تے رہے۔ خوش اخلاقی قومی سمبل ٹھہرا ،اور ملک کی قومی اسمبلی میں غلیظ گالیاں اور کرسیاں چلتی رہیں۔ ایک مل سے دس ملیں کرکے لوگ ملک سے باہر جا تے رہے اور غریب کے گھر کے دروازے اسی پہ بند ہو تے رہے۔آزادیءِ نسواں کے نام پر عا صمہ جہانگیرائیں قوم کی بیٹیوں کے منہ کالے کرتی رہیں۔جس خطہ کو خانہء خدا سمجھا گیا، اسی ارضِ پاک پر خانہءِ خدا غیر محفوظ ہو تے گئے۔حکمران ترقی کے نعرے لگاتے رہے لوگ بھوک سے بلبلاتے مینار پاکستان سے کودتے رہے۔عدالتیں انصاف بانٹتی رہیں اور جر گوں کے فیصلوں نے جتوئی کی عزتیں بانٹ ڈالیں۔ادارے تعلیم بانٹتے رہے اور پڑھے لکھے روٹی کیلئے اپنی ڈگریاں گروی رکھنے لگے۔حکومتیں خوشحالی کے گیت الاپتی رہیں اور جہیز کی قلت نے جوان بیٹیوں کو بڑھاپے تک پہنچا دیا۔ادھر بچوں کے حقوق پر عالمی دن منا ئے جاتے رہے اور ادھر ہر موٹر پر تیزاب کے ڈرم لئے جاوید اقبال آبیٹھا۔ملک میں زرعی انقلاب کے دعوے ہوتے رہے اور گندم کو باہر سے منگوایا جاتا رہا۔لیڈروں نے لیڈریاں چمکاتے ہوئے نو کروڑ باشندوں کو غربت کی لکیر سے بھی نیچے دھکیل دیا۔ پاکستان دنیا کے 174غریب ملکوں میں 38ویں نمبر پر آگیا اور حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہ رینگی،
جہانِ کہنہ کے مفلوج فلسفہ دانو
نظامِ نو کے تقاضے سوال کرتے ہیں
یہ شاہرا ہیں اسی واسطے بنی تھیں کیا
کہ ان پہ دیس کی جنتا سسک سسک کے مرے
زمیں نے کیا اسی کارن اناج اگلا تھا
کہ نسلِ آدم و حوا بلک بلک کے مرے