پاکستان ڈیٹ کلچر۔۔۔۔معاشرتی منافقت

ہما ری نا آسودہ خواہشات کیسے کیسے بھیڑیوں کے بہروپ بھرتی ہیں، اس کی مثال سو بچوں کا قاتل بھی تھا، سیالکوٹ سے برآمد ہونے والی نیلی پیلی فلمیں بھی، وہ درجنوں دس سال سے کم عمر بچے اور بچیاں بھی جو بالآخر اذیت میں مر گئے یا گلہ گھونٹ کر مار دیئے گئے، وہ ساری گھٹن اور گرمی جو سرائیکی بیلٹ سے اٹھتی ہوئی ملتان تک آتی ہے اور میانوالی سے پشاور تک پھیلی ہے، جس پر مہذب لوگ بات صرف نجی محفلوں میں کرتے ہیں ۔۔کراچی کے قبرستان میں مردوں کی چادریں پھاڑنے والے بے روح شخص کے اقرار تک جو کچھ بھی ہے یہ ہمارے معاشرے کی ناآسودہ خواہشات کی کہانی ہے۔۔
ٹھرکی بڈھے، مچلتے نوجوان اور گوگل کی مہر تصدیق کہ ہماری تلاش کے راستوں کی منزل ایک بیماری کی غمازی کرتی ہے ۔۔۔وہ بیماری جس سے ملک کے درودیوار اٹے پڑے ہیں اور جن کے دم سے حکیموں اور سنیاسیوں کے آستانے ابھی تک آباد ہیں۔ گھٹن اتنی ہے کہ الاماں۔۔۔ہر لپٹی لپٹائی عورت میں بھی دلربائی کی جھلک دیکھی جاتی ہے۔ اور ہر خاموشی میں ناآسودگی۔۔۔۔۔۔۔۔کب ختم ہو گی بھوکوں کی بھوک اور جانے کب دلوں کو قرار آئے گا۔
ایک بات تسلیم کیوں نہیں کر لی جاتی کہ ہم ایک اسلامی معاشرہ نہیں ہیں ہاں ایک بات سوچی جا سکتی ہے کہ ہم ایک اسلامی معاشرہ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیونکہ اس طرح معاشرہ ایک منافقت سے نجات پا لے گا اور وہ ہے مسلمان نظر آنے کی منافقت، جو کچھ ہم کر رہے ہیں اس سے مطابقت نہیں رکھتا جو اسلام کی تعلیمات ہیں۔ اب ہو یوں رہا ہے کہ گھر ٹی وی اور انٹر نیٹ پر آپ جو کچھ بھی دیکھیں آپ کا ذاتی فعل ہے لیکن آپ باہر نکلیں تو آپ کو شرافت کا لبادہ اوڑھنا ہوگا اور  نہیں اوڑھیں گے تو شباب ملی کا خون کھول سکتاہے۔ شادی کے لئے سماجی شرائط اتنی کڑی ہیں کہ بنا کاروبار یا روزگار کہ کوئی بر نہیں ملتا تو سولہ سال کے بعد کی ساری عمر گھٹن، گھٹن اور ناآسودگی اور بربادی ہی بربادی۔۔
خدا کے لئے اہلِ عقل، اہلِ علم، اور اہل دین ان حدوں کا تعیں کریں، لوگوں کو مخمصے سے نکالیں، عزت اور شرافت کا معیار پھر سے پرکھیں اور حل دیں ان سبھی سوالوں کا جو نئی نسل پوچھنے سے ڈرتی ہے۔ یہ کون لوگ ہیں جو سارا دن عورت اور مرد کی محبت سے آراستہ کہانیوں کے چٹخارے بیان کرتے ہیں اور اگلے ہی دن ان کو مذہب اور دین کے نام پر ایک دوسرے سے دور رہنے کا سبق پڑھاتےہیں، یہ کیسے منتظم ہیں جنہوں نے لڑکے لڑکیوں کے لئے کلاس کا کمرہ ایک بنایا ہے لیکن اسی درس گاہ کے  لان میں وہ ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے۔آپ آج کے میڈیا کے لباس اور اطوار پر پھر سے نظر کیجئے جو مذہبی زمینی حقائق سے بلکل مختلف ہے لیکن ان کی زبانوں پر وہی اخلاقی درس ہیں جیسے ہر دین کے دعویدار کی زبان پر ہوتے ہیں۔
ہم بحیثیت قوم اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں اور حقائق سے نظریں ملانا ہی نہیں چاہتے، کوئی حل ہیے تو بتائیے ، وہ فریب خوردہ شاہیں جس کو آپ نے اسی میڈیا کی چھتر چھایا تلے پالا ہے، کل اپنے لئے ایک عدد آسمانی پری کے خواب دیکھے یا نہ دیکھے، اور پھر آپ نے کسی مذہبی جماعت کے ڈر سے کیمپس کو ممنوع علاقہ قرار دے دیا ہے تو ملاقات کے لئے پبلک پارک بھی نہیں جا سکتا، انٹرنیٹ کیفے پہلے ہی بدنام ہو چکے تو پھر  کیا وہ سیدھا مسجد میں جائے گا اور نکاح کر لے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔