یادگارِ شہرِ ستمگر-مغربی نظامِ ٹریفک اور پاکستان

کچھ یادگارِ شہرِ ستمگر ہی لے چلیں
آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں
آجکل میرے ذہن پر وطن واپسی سوار ہے، دو سال کے شب و روز لیلائے وطن سے وصال کے آرزو مند رہے، مگر غمِ روز گار کی دلفریبیوں میں دھول ہو کر یہ پتہ ہی نہ چلا کہ سونے جیسا وقت گہنا گیا یا جِلا پا گیا، ۔۔۔ہاتھ تو ویسے کے ویسے ہی خالی ہیں، کبھی کبھار تو واپس پلٹتے بھی ڈر لگتا ہے کہ پردیس پلٹ سمجھ کر کوئی غریب ڈاکو روک بیٹھے تو باہر کی نشانی کیا پیش کروں گا، یہ ایک رواج ہی سہی کہ بیرونِ ملک سے لوٹنے والے کوئی قیمتی تحفہ لایا کرتے ہیں، ایسے ہی میں ریت و رواج میں مقید شخص سوچتا ہوں کہ افرنگ کے کرشمہ خانے سے کیا چرایا جائے کہ دیس کی مٹی کے ذرے بھی جگمگا اٹھیں۔
بارہا ایک بات من میں آتی ہے کہ پچھلے دو سال تین مہینے کسی گھر کی دیوار پر چھپکلی نہیں دیکھی، مکھیاں نہیں بھنبنائی، ہاں مچھروں کی محبت سے نہیں بھاگ پائے کیونکہ باغبانی پیشہ ٹھہرا تو مچھروں سے مد بھیڑ نا گزیر ہے، اڑتی دھول ہوتی گردو غبار نے چہرے پہ اپنا رنگ نہیں جمایا تو دل نے کہا کہ یہاں موسم ٹھنڈا ہے اور مکھیاں، چھپکلیاں گرمی سے رغبت رکھتی ہیں۔۔۔اور دھول مٹی کا پہاڑی علاقوں، سبزہ زاروں میں کیا کام۔۔۔۔ہم تو میدانی علاقے کے باسی ہیں جہاں دیوارو در کی ترکیب میں مٹی کے وجود کو باہر نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔خیر یہ ماحول چرانا تو مشکل ہو گا۔۔۔۔۔بجلی، صاف پانی، سہولیات بھی غیر منقولہ قسم کی چیزیں ہیں۔ہاں اگر کچھ چرایا جا سکتا ہے تو کچھ اچھے خیال چوری کیے جا سکتے ہیں اور ویسے بھی علم ہماری میراث ہے تو گم گشتہ مال کا حصول سراسر جائز ٹھہرتا ہے۔
میری نگاہِ انتخاب کچھ نظاموں پر ٹکی ہے، میری خواہش ہے کہ ان کو من و عن نہ سہی۔۔تھوڑی تراش خراش کر کے وطن کے گلی کوچوں میں بچھا دوں۔ میں یورپ کا نظام تعلیم اور ان کا پیشوں سے سنبدھ کے سارے سلسلے کو سلام پیش کرتا ہوں۔ تعلیم پیشوں سے یوں جڑی ہے کہ آپ جو پڑھتے ہیں آپ کا جزوِبدن بنتا چلا جاتاہے۔خیر تعلیم کے نظام پر میری معلومات ابھی ادوھوری ہیں لیکن میں یہاں کے نظام ٹریفک میں کچھ ترامیم کیساتھ وطن کو تحفہ کرنے کا خواہشمند ہوں۔ اس نظام ٹریفک کی ایک خوبی ہزاروں پر بھاری ہے اور وہ یہ کہ بقول شخصے ڈنمارک میں انیس سو بیس کے عشرے میں جو ٹریفک حادثات ہوئے وہ انیس سو نوے کے عشرے کے تقریبا برابر ہیں۔یہ چھوٹی سی بات  دراصل ایک دعوتِ فکر ہے کیونکر گھوڑوں، سائیکلوں اور ریل گاڑی کے دور کی ٹریفک آج سے ایک عشرہ پہلے کی ٹریفک کے مقابل ہو سکتی ہے۔
یقین مانیے کہ ہماری سڑکوں پہ بکھرے کانچ کے ٹکڑے گاڑیوں کے شیشے نہیں کئی ماوں کے جگر کے ٹکڑے ہوتے ہیں، اور سہاگنوں کے ارمانوں کا لہو ٹوٹی ہوئی سڑکوں کی پیاس بجھاتا ہے اور چلاتا ہے کہ
پھیلی ہوئی ہر چشمِ تماشا ہے سڑک پر
یہ کس پھول کا بکھرہ ہوا ملبہ ہے سڑک پر
چند دن پہلے حکومتی پارٹی کے ایک وزیر ایک ٹریفک حادثے کی نظر ہو گئے، اس سے پہلے ہماری یونیورسٹی کے ایک سینئر، موٹر وے پر فیصل آباد کے ننھے بچوں کی بے قابو بس۔۔۔جس دروازے کو بھی کھٹکھٹائیں، ٹریفک حادثات میں گھائل ہونے والی کہانیوں کی راکھ ضرور ملے گی۔
اس بدیسی نظام ٹریفک سے اگر پاکستان کے لئے کسی ٹریفک سسٹم کا قابل عمل نسخہ حاصل کرنا ہو تو اس کے ہمارے مروجہ نظآم میں کافی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
سب سے پہلے ٹریفک سسٹم اور ڈرایئونگ لائسنس کا ایک مکمل نصاب بنایا جائے، میں امید کرتا ہوں کہ اس نصاب کے نام پر کچھ نہ کچھ موجود ضرور ہو گا لیکن اس کو از سرِ نو ترتیب دیا جائے۔ ہر ڈرائیور کے لئے اس نصاب کا پڑھنا یا سمجھنا ضروری قرار دیا جاے۔
اس نصاب کا باقاعدہ امتحان لیا جائے اور تصاویری مثآلوں کے ذریعے جانا جاے کہ امیدوار گاڑی ڈرایئونگ کے متعلق کتنا جانتا ہے، اس کے بعد ان سے عملی امتحان کے ذریعے جانچا جائے کہ ان کو گاڑی چلانے پر کتنا عبور ہے۔
ڈرایئونگ لائسنس کو ایک مستند سرٹیفیکیٹ کا درجہ دیا جائے اور اس کو ایک مکمل شناختی دستاویز سمجھا جائے۔ لیکن اس کے حصول کو باضابطہ اور سخت بنایا جائے۔
ٹریفک کے آگاہی مراکز قایم کیے جایئں اور جہاں ڈرائیونگ کے خواہشمند حضرات کو اس کے متعلق تعلیم دی جائے۔
پرائیوئٹ سکول کھولنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے لیکن ڈرائیونگ کی تربیت دینے والوں کے خود تربیت یافتہ ہونا ضروری قرار دیا جائے۔
ہر ڈریئور کے لئے ضروری ہو کہ اس نے کم سے کم دس گھنٹے کسی مستند سکول یا ڈرائیور کے ساتھ گاڑی چلائی ہو۔
ہر ڈرائیور کے بنیادی طبی امداد کا کورس لازمی قرار دیا جائے۔
امتحانی طریقہ کار کو شفاف بنایا جائے اور اس سارے سسٹم کو کمپیوٹرائزڈ کیا جائے۔
سڑکوں پر زیادہ سے زیادہ معلوماتی اشارے  لگاے جائیں اور ان کی دیکھ بھال مقامی لوگوں کی ذمہ داری قرار دی جائے۔
نئی عمارات بنانے والوں کو پابند کیا جائے کہ عمارت کی حدود میں سارے معلوماتی بورڈ لگانا اس کی ذمہ داری ہے۔
بغیر لائسنس گاڑی چلانے پر سخت سزائیں رکھی جائیں اور کم عمر بچوں کے والدین کو بھی سزا کا مستحق ٹھہرایا جائے۔
یہ پورا نظامِ ٹریفک ہے جس کی بے شمار جزیئات ہیں اور ان پر عمل کر کے ہمارے نظآم کی کوتاہیوں کو دور کیا جا سکتا ہے، لیکن ایک بات پر میرا اصرار شدید تر ہےکہ ڈرئیونگ لایسنس کو کم از کم ایک امتحان کا درجہ دیا جایے۔
تھیوری کا باقاعدہ امتحان لیا جائے اور اس کا ریکارڈ مرتب کیا جائےاور پریکٹیکل سڑک پر ٹریفک میں گاڑی چلوا کر لیا جائے۔ اور صرف اور صرف قابل لوگوں کو ڈرائیونگ لائیسنس دیا جاے۔ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں صرف اس قسم کے امتحانی نظام کے اجرا سے حادثات بیس سے تیس فیصد کم کیے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ میرا مشاہدہ ہے کہ ہمارے اکثر دوست ڈرائیونگ کی ابجد سے بھی ناواقف ہیں، وہ نہیں جانتے کہ اشارہ خراب ہو تو ٹریفک چلنے کی ترتیب کیا ہوگی، آبادی کے اندر اور باہر ڈرئیور کے فرائض کیا ہوتےہیں، رہائشی آبادی میں کن باتوں کا خیال کرنا ہو گا، کتنے فاصلے پر بریک لگانی چاہیے، محفوظ فاصلہ کیا ہوتا ہے، غرضیکہ ڈرائیونگ کو باقاعدہ ایک مضمون کے طور پر پڑھایا جائے تاکہ صرف سمجھدار ڈرائیور سڑک پر آئیں۔ وگرنہ ہمارے ہاں جو چابی گھما کے گاڑی سٹارٹ کر لے اور سڑک پر لیکر نکل کھڑا ہو وہ ڈرائیور سمجھ لیا جاتا ہے۔
خدارا اس روش سے باز آئیے، میں بھی جانتا ہوں اور آپ بھی کہ ہمارے ہاں لائیسنس کس طرح سے بنتے آئے ہیں، اب کچھ طریقہ کار میں تبدیلی آئی تو ہے جس میں امیدواران سے ٹریفک کے مختلف اشاروں کے متعلق پوچھا جاتا ہے، لیکن میری دانست میں یہ کافی نہیں، اور امتحان کے نام پر گاڑی ریورس کروا کر دیکھی جاتی ہے جو انتہائی ناکافی ہے۔
اگر ارباب اختیار مغربی نظامِ ڈرائیونگ کو پاکستان کے لئے تراشنے کے خواہش مند ہوں تو میں بلامعاوضہ اپنی خدمات پیش کرتا ہوں، ایک نصاب کی تیاری سے لیکر عملی امتحان کی جزیئات تیار کرنے تک سبھی معلومات کو ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ اور شاید یہی میرے دو سالہ یورپ نوردی کا حاصل ہو کہ میرے ملک میں شاید کوئی ایک حادثہ ہی کم ہو سکے ، کوئی ایک گھر ہی برباد ہو نے سے بچ سکے۔کوئی اور گود اجڑنے سے بچ سکے کوئی اور پھول نہ مرجھائے۔