طفلانِ انقلاب اور مگرمچھانِ صحافت

طفلانِ انقلاب اور مگرمچھانِ صحافت
واصف علی واصف نے فرمایا تھا کہ کسی کو چھوٹا سمجھنے کے لئے ضروری کہ اسے غرور سے دیکھا جاے یا دور سے دیکھا جائے۔ عرفان صدیقی صاحب نے تحریک کے حامیوں کے لئے کیا خوبصورت اختراح نکالی ہے، یقین مانئے کہ مزا آ گیا، ہمارے دوست میر افضل ڈوگر کو کہیں مل جایئں تو ان کے ماتھے پر ایک بوسا دیں لیکن افسوس ان کا پتا تو قسمت والوں کو ہی ملتا ہے، نجانے کس مقدر والے کا فون انہوں نے سن لیا ہمیں تو آج تک یہی پتہ تھا کی لکھنئو میں بستے ہیں اور قدامت پسند ایسے کہ آج تک اپنے نامہ بر کی لائی ہوئی چھٹیوں پر ہی یقین رکھتے ہیں یہ وہی نامہ بر ہے جو پہلے رازداں اور پھر رقیب بن جایا کرتا ہے کیونکہ ان کا اندازِ بیان ہی ایسا ہے کہ


ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب جو تھا رازداں اپنا
ناک ایسی تیز پائی ہے کہ فون کی ٹلی سے سمجھ جاتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے خلاف بولے گا یا حق میں۔ اور لفظوں کی ایسی گرد اڑاتے ہیں کی مفہوم بھاگ اٹھتے ہیں۔
حاکمِ وقت کے قصیدے کہنے والے ہر دور میں موجود رہے ہیں اور نوازشییں بھی سمیٹتے آئے ہیں، اب ہمارے کہنے سے یہ آنکھوں کی پیلی پتلیاں تو بدلوانے سے رہے، خدا ان کو ہدایت دے اور یہ سمجھیں کہ اپنے بڑھاپے کے زعم میں باشعور نوجوانوں کو طفلِ انقلاب سمجھ کر کہ درباری کا حق تو ادا کیا جا سکتا ہے لیکن صحافی کا نہیں۔ اگر کسی دوست کو محترم صدیقی صاحب کا وہ فون دستیاب ہو جو ہر وقت بجتا رہتا ہے تو ہمارا پیغامِ محبت اور ڈوگر صآحب کا بوسہ ان کو بھیج دیں۔
یہ تبصرہ محترم کے جس کالم پر ہے اس کو آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں