پرانی کار

زندگی نے اب تک دو دفعہ پرانی کار خریدنے اور بیچنے کا موقع دیا، اور آج دوسری کار بیچنے کے بعد خیالات کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے، جب بھی میں کار خریدتا ہوں مارکیٹ میں گاڑیوں کے دام بہت زیادہ ہوتے ہیں، اچانک گاڑیوں کی قیمیتیں بڑھ جاتی ہیں اور بالآخر ایک پرانی لیکن مہنگی کار خرید کر میں گھر آ جاتا ہوں۔ ایسی کار جس میں بیچنے والے کے بقول سب کچھ نیا ہوتا ہے، اس نے تو زیادہ چلائی ہی نہیں ہوتی بلکہ اس دفعہ تو جس کہانی گر سے کار خریدی تھی اس نے کہا کہ اس قیمتی کار کو اس نے اپنے بچوں کی طرح رکھا ہے۔ لیکن کچھ عرصے بعد جب اس کار کو بیچنے کے لئے نکلتا ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ گاڑیوں کی قیمتیں یکدم گر گئی ہیں، کیونکہ ساری دنیا میں کرائسس کا دور دورہ ہے، اور تو اور پتہ چلتا ہے کہ جس گاڑی کو بچوں کی طرح رکھا گیا تھا اس کا تو چال چلن اچھا نہیں تھا ، کسی بڑے حادثے سے گزر چکی ہے وغیرہ اور بالآخر خریدنے والا اس کی ایسے پہلووں کی نشاندہی کرتا ہے کہ یقین ہو جاتا کہ اب تو یہ لوہے کہ بھاؤ ہی بکے گی۔
خیر میں آج جس نتیجے پر پہنچا ہوں وہ یہ ہے کہاستعمال شدہ گاڑی خریدنے میں کبھی جلدی نہ کی جایے اور کبھی بھی گاڑی اپنی رائے سے مت خریدیں بلکہ کسی ماہر سے مشورہ کر کے خریدی جائے یا کسی سیانے آدمی کو ساتھ رکھا جائے۔
گاڑی خریدنے سے پہلے چلا کر ضرور دیکھیں اور کبھی دیکھے بغیر گاڑی نہ خریدیں ہو سکتا ہے کo آپ دیکھتے ہی اس گاڑی کو ریجکٹ کر دیں