ویلینٹائن ز ڈے ، اور یومِ حیا وغیرہ۔۔۔۔۔

افسوس کہ ہم اس قدر تہی داماں کہ ہمارے پاس منانے کے لئے اپنے تہوار بھی نہیں، بخدا ہم محبت کے دشمن نہیں مگر یہ سیلابی ریلہ ہماری بچی کھچی ثقافت اور تہذیب کو پگھلانے پر مائل ہے وہی ریلہ جو یورپ میں بسنے والوں میں سے بے شمار کی جمع پونجی بہا لے گیا اور اسی تہذیب کا منبع بھی خس و خاشاک کی طرح بہہ گیا تو آنے والی نسلوں کو اپنی تہذیب اور ثقافت کے متعلق بتانے کے لئے ہمارے پاس کھوکھلی تشبیہات کے سوا کچھ نہ ہو گا۔
ابھی یورپ میں بسنے والے پاکستانی اپنے بچوں کو یہاں کی بودوباش اور تہذیب کے فرق کو سمجھانے کے لئے پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کی مثال دیتے ہیں تو انہیں سوچنا پڑتا ہے کہ ان کی دی ہوئی مثال ان کے گلے تو نہ پڑ جائے گی۔ کچھ عرصہ پہلے ہمارے دوست کی ننھی بیٹی نے اپنے باپ سے کہا جیسے کپڑے آپ ہمیں پہننے سے منع کرتے ہیں پاکستان کی ٹی وی میں تو سبھی ویسے ہی کپڑے پہنتے ہیں۔۔طاقتور تہذیب کے سمندر میں ڈبکیاں کھاتا ایک غریب الدیار شخص کس دلیل کو جواب کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کرسمس عیسائت کا سب سے بڑا تہوار ہے۔ دسمبر کے مہینوں میں دکانیں سا نتا کلاز اور کرسمس کے درختوں سے سجتی ہیں اور تحائف کا موسم شروع ہو جاتا ہے۔ سبھی بچے امید کرتے ہیں کہ سانتا ان کے تحائف لائے گا، ننھے مسلمان بچے بھی اپنے والدین سے تحائف کے طلبگار ہوتے ہیں اور کچھ والدین بچوں کی ضد اور روشن خیالی کی روشنی میں اپنے بچوں کی خواہش کا احترام بھی کرتے ہیں۔ ایسے موسم میں بہت سے دوست اپنے بچوں کو سمجھانے میں کامیاب بھی رہتے ہیں کہ یہ ہمارا تہوار نہیں ہے، مسلمان عیدین پر تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں وغیرہ
ایسے ہی بہت سے تہوار سارا سال مختلف دنوں کا طواف کرتے ہیں، سال کا ہر مہینہ اور ہر دن مختلف لوگوں کے لئے مختلف اہمیت اور معنی رکھتا ہے۔ پاکستانی مسلمانو ں کے لئے عیدین، چودہ اگست، چھ ستمبر، تیئیس مارچ، نو نومبر وغیرہ عام دنوں سے تھوڑے مختلف ہیں ایسے ہی ایک عام شخص کے لئے اس کی سالگرہ، احباب کی سالگرہ، شادی کا دن، نوکری کا پہلا دن  عام دنوں سے ذرا مختلف ہو سکتے ہیں۔ ایسے ہی بے شمار دن دنیا میں ہر روز گزرتے ہیں، جیسے سب سے بڑا دن ، سب سے چھوٹا دن، سگریٹ نوشی کا دن، سورج کا دن ، کینسر کا دن، مرگی کا دن، ہمارے ہاں ڈینگی کا دن اور جعلی دوائیوں کا دن۔۔لیکن یہ دن ایسے گزر جاتے ہیں جیسے کبھی آئے ہی نہ ہوں۔۔۔۔لیکن یہ چودہ فروری کا دن کچھ ایسا ظالم ہے کے آنے سے پہلے ہی لوگوں نے شور مچا دیا ، کچھ نے کہا کہ ہم منائیں گے اور کچھ نے اس کو اسلام اور تہذیب سے متصآدم قرار دے دیا اور نا سمجھ میڈیا کو تو خبر درکار ہے اسے کیا معاشرہ بگڑے یا سنورے اس کو تو مرچ مصالحہ درکار ہے ایسی خبر جو سب سے ہٹ کر ہو۔۔ایسی خبر جو لوگوں کو تقسیم کر دے ، جو لوگوں کے حواس پر سوار ہو جائے
جیسا کہ ویلنٹاین ڈے کی میڈیائی پذیرائی سے ہوا ہے ، من کی لو پر تھرکتے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مقصد ہی سب کچھ ہے اور مقصد تو محبت کا فروغ ہے اور یہ محبت تو ماں سے بھی ہو سکتی ہے اور باپ سے بھی ۔۔۔۔اور کچھ لوگ اس کو اپنی تہذیب پر مغربی یلغار قرار دیتے ہیں اور وہ اس میں حق بجانب بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ویلنٹائین نامی عیسائی پادری کے متعلق جتنی بھی روایات ملتی ہیں اس میں اگر پہلی بات کو عین حق سمجھا جائے تو یہ شخص شادی پر پابندی کے خلاف تھا اور اس پابندی کے دور میں اس نے بہت سے لوگوں کی شادیاں کروائیں۔ دوسری روایت میں وہ قید خانے میں جیلر کی بیٹی پر دل ہارا اور اس نے اس بات کا اقرار جس خط میں کیا اس کے آخر میں لکھا تمہارا ویلنٹائین۔۔۔۔۔۔جہاں سے اس دن کا آغاز ہوا ۔۔۔۔۔۔http://www.history.com/topics/valentines-day اور http://en.wikipedia.org/wiki/Valentine%27s_Day#Conflict_with_Islamic_countries_and_political_parties
پر اس دن کے متعلق مزید تفصیل سے پڑھا جا سکتا ہے
خیر قصہ جو بھی ہو دنیا کے مختلف ممالک میں یہ دن ان ہزاروں دنوں کی طرح گذر جاتا ہے جیسے مختلف ناموں سے منسوب دن گذر جاتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں ردِعمل کی قوت نے اس دن کو اہمیت بخشی ہے بلکہ کچھ دوست اس دن کے مقابل یومِ حیا کا تصور لے کر آئے ہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ اسلامی تہوار نہیں ، حیا کے منافی ہے اور ہماری تہذیب، ثقافت، روایت اور مذہب کے خلاف ہے اس لئے اس کو منا نا  غیرمناسب ہے۔
میرے خیال میں اس دن کو گذرنے دینا چاہیے، بنا چھیڑے چھاڑے، جیسا دنیا میں گذرتا ہے، کہ جس کو منانا ہے منا لے جس کو پسند نہیں وہ اس کو درخورِ اعتنا نہ سمجھے۔۔۔۔لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ ہمیں اپنے قومی رنگ کو پکا کرنا ہو گا تا کہ کوئی اور تہذیبی رنگ اس پر نہ چڑھ سکے، دانشورانِ قوم کو سوچنا چاہیے کہ ہمارے قومی تہوار کیا ہوں گے۔۔۔۔ہمارے ہاں بسنت تو غیر اسلامی تھی ہی عید میلاد النیﷺ پر بھی لوگوں کو اعتراض ہے۔۔۔یہی وہ رویہ ہے جس کی وجہ سے لوگ اکثر اہل دین سے خائف ہیں، میرا مشورہ یہ ہے کہ قومی سطح پر ہمیں اپنے دنوں کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ ہماری نسلیں ہماری تہذیب سے آشنا ہو سکیں اگر ہماری تہذیب ہماری ثقافتی بھوک نہیں مٹاتی تو پھرہمیں اغیار کو دوش نہیں دینا چاہیے۔
کیوں نہ حکومتی سطح پر بھائی چارے کے دن کا آغاز کیا جائے، جس دن شہر کا امیر شخص غریب شہر کو بھائی بنانے کا اعلان کرے، مساوات کا دن جب وزیرآعظم عام لوگوں کے ساتھ بس میں سفر کریں، بھلائی کا دن، ہاں محبت کا دن بھی ہو سکتا ہے لیکن اس کا رنگ ہماری تہذیب کے رنگ سے مختلف نہ ہو۔۔۔۔لیکن اگر ہم دیں کچھ نہ اور لوگوں سے کہو یہ بھی نا کرو، وہ بھی نا کرو اور صرف ردعمل کی قوت بن کر رہ جائیں تو ہمارے مسائل میں اضافہ ہو گا۔
احباب کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ ریلے کو بند باندھنے سے روکا نہیں جا سکتا مگر ہاں اس کی سمت کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔
اسی موضوع پر نیا بلاگ ملاحظہ ہو محبت میرے پیچھے پڑ گئی ہے۔۔۔