چل پڑھا۔۔۔۔۔اور کہاں چل پڑا

وہ جن کی آواز لوگوں تک پہنچتی ہے، وہ جنہیں لوگ دیکھنا چاہتے ہیں، اگر وہ اس بے بس معاشرے کی مدد کرنے کی ٹھان ، لیں تو تبدیلی کے امکان اور بڑھ جاتے ہیں، ابرارالحق کا سہارا فار لایف، عمران خان کا شوکت خانم ہسپتال۔۔۔۔۔اور اب شہزاد رائے کا چل پڑھا۔۔۔۔۔یہ فہرست ابھی اور بہت ناموں کی طالب ہے، ہمارے ہر شعبہ ہاے زندگی سے ممتاز لوگوں کو آگے آکر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،زراعت کے موضوع پر بے شمار ویڈیوز کے خالق ڈاکڑ اشرف صاحبزادہ، یا ہمارے دوست حدی لغاری نے زرعی علم کی ترویج کے جس سلسلہ کا  ٓاغاز کیا ہے ، یہ یقینا قابل تعریف ہے۔۔۔۔
بہت سے دوست اپنے اپنے مدار میں اپنی بساط کے مطابق کوشش کر رہے ہیں اور بے شمار ایسے ہیں جن کو کاوش کسی کو نظر ہی نہیں آرہی۔۔۔لیکن جادو وہ جو سر چڑھ کر   بولے۔۔۔۔۔ایسے میں اگر ایسے لوگ تبدیلی کے اس سفر میں ہم سفر ہو جائیں جن سے لوگ آشنا ہیں تو بہت سے کام آسان ہوتے چلے جائیں گے۔۔۔۔۔کل میں نے شہزاد رائے کا پروگرام چل پڑھا دیکھا تو مجھے اندھیرے میں روشنی کی ایک اور کرن نظر آئی ۔۔۔۔خدا کرے کہ کچھ اور ایسے لوگ آگے نکل کر ہمارے معاشرے میں تعلیم، صحت، اور دیگر بنیادی ضرورت کے مسائل ہاتھ بٹانا شروع کر دیں تو پاکستان کے بے شمار مسائل حل ہو سکتے ہیں۔۔۔۔

بہت سی نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمات جن کاکام صرف کاغذوں میں ہوتا ہے اور جو صرف بیرونِ ملک امداد لینے کے , لئے ہی بنتی ہیں، وہ کچھ اس لئے بھی بن جاتی ہیں کہ ہم جیسے بہت سے لوگ ایسا کچھ کرنا ہی نہیں چاہتے ، اور پھر نتیجتا ہماری آواز بھیڑ میں گم ہو کر رہ جاتی ہے، سوشل میڈیا کے توسط سے بہت سی آوازیں ابھر کر سامنے آنے لگیں ہیں۔۔۔۔ایسے میں حافظ وصی خان صاحب، محمد بوٹا سرور، مٹھل جسکانی صاحب، اور ہمارے محترم شہزاد بسرہ صاحب کی علمی کوششیں قابل ستائش ہیں۔۔۔۔میں امید کرتا ہوں ہمارے اور سینیرز بھی علم بانٹنے میں کنجوسی نہیں کریں گے۔۔۔۔
نجانے کہاں سے چلا تھا اور کہاں چل پڑا، ۔۔۔کہنا یہی ہے کہ جہاں آپ ہیں وہاں اپنا حصہ ضرور ڈالئے، شہزاد رائے کے گانوں کا سننے والا تو میں نہیں لیکن اس کے ا س پروگرام کا چاہنے والا ضرور ہو گیا ہوں۔۔۔خدا تعالی اور لوگوں بھی ہمت اور استقامت دیں تاکہ دیس تعمیر کرنے والے ہاتھوں میں مزید اضافہ ہو ۔