غیر مہذب احتجاج کے طریقے۔۔۔۔۔فیصلہ آپ کا

حل تو یہ ہے کہ یہ ڈاکٹر حمزہ شہباز کو سروسز کے سامنے کسی کھمبے سے باندھ دیں، اس کی دونوں ٹانگیں کسی انڈین مووی کی طرح دو ڈاکٹرز نے تھام رکھی ہوں اور ایک ڈاکٹر کے ہاتھ میں قاسمی صاحب کے ناول سے لیا ہوا گنڈاسہ نہ ہو بلکہ کھانسی کا سیرپ ہو اور وہ ایک پیالے میں ڈال کر آہستہ آہستہ حمزہ کے قریب لایا جا رہا ہو ۔۔۔۔۔اور لاہور کی پولیس کا کوئی بڑا جا کر شہبازشریف کو بتائے کہ ۔۔۔۔۔ بادشاہ سلامت آپ کے  بیٹے کی جان خطرے میں ہے۔۔۔۔اور پھر شہباز شریف وہاں سے ہیلی کاپٹر پہ اڑتا ہوا، یا گھوڑا درڑاتا ہو۔۔۔آنکھوں میں آنسو لیے ۔۔۔اپنی پگڑی سر سے اتار کر فرش پر پھینک دے اور کہے کہ بتاو تو سہی تمہارامطالبہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ مرن بھرت، بھوک ہڑتال کا منطقی انجام کیا ہو گا۔۔۔۔دو چار دس بارہ ڈاکٹر مر بھی جائیں گے تو کیا ہو گا۔۔۔۔یہاں روزانہ سینکڑوں مرتے ہیں۔۔۔۔کسی کو کون پوچھتا ہے۔۔۔۔اپنی گاڑی چلانے کے لئے دوسروں کو سڑک سے اتار دینے والوں کو احساس دلانے کے لئے ایسا طریقہ بالکل فضول ہے ۔۔۔۔۔جاو واپس۔۔۔نان شان کھاو، نہاری بریانی کھاو اور کام بند کر دو۔۔۔۔۔یہ لوگوں اس تہذیب کے قابل نہیں۔۔۔ان کو درد ہو گی تو درد محسوس کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ویسے بھی کاروباری لوگ ہیں کسی کے مرنے سے ان کا کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔احساس کس کو دلانا چاہتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔گالی کس کو دے رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔سرکار یہ بے حس لوگ ہیں۔۔۔انکو کیا کسی سے سر سے درپٹہ سرکے ، کو ئی مر جائے ۔۔۔۔۔ان کو کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔ان کو احساس تب ہو گا جب ان کو تکلیف ہو گی۔۔۔۔تمہارے ہاتھ تو یہ ویسے بھی نہیں آئیں گے ۔۔۔یہ تو باہر جائیں گے وہاں سے علاج کروئیں گے نہیں تو بندہ کوئی غلط شلط دوائی دے ہی دیتا ہے ۔۔۔۔۔اس لئے ان کے لئے ایسا کوئی پلان ٹھیک نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسا بھی ہو سکتا ہے جیسا کسی ظالم نے مشورہ دے کر کچھ دن پہلے ڈاکٹرز کو مار پڑوائی تھی کہ جہاں بس کا افتتاح ہو رہا ہے وہاں جا کر احتجاج کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔

ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ جہاں جہاں شہباز شریف کوئی جلسہ کرنا چاہتا ہو وہاں وہاں فری کیمپ لگا دی اجائے تاکہ کوئی اس کے جلسے کا رخ نہ کرے ۔۔۔۔
شہباز شریف کی نئی یا پرانی بیویوں سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے کہ شاید وہ کوئی ایسا گر بتا سکیں جس سے وزیر اعلی کا دل خادم کے مقام تک آ جائے۔۔۔۔۔
کسی درباری مصنف یا لکھاری سے رابطہ کر کے کچھ ایسے الفاظ پر مشتمل تحریر لکھوائی جایے جس سے بادشاہ سلامت سمجھ سکیں کہ ان لوگوں کا مسئلہ کیا ہے ۔۔۔
میرے خیال میں یہ بھوک ہڑتال کم از کم رائے ونڈ روڑ کے پاس ہونی چاہیے ۔۔۔ڈاکٹرز کو وہاں مفت کیمپ لگا کر لوگوں کو اکھٹا کرنا چاہئے ۔۔۔۔مفت کے نام پر جتنے مریض اکھٹے ہوں گے وہ پاکستان کے پرانے سب جلسوں سے زیادہ ہوں گے۔۔۔۔ان کا راستہ رکے گا ان کو احساس ہو گا کہ یار ان کا مسئلہ حل کرواو۔۔۔۔
ٹائر جلا کر سڑک بلاک کرنا۔۔۔ڈاکٹرز کے لئے مناسب نہیں۔۔۔۔۔
کوئی تھوڑے بہت پیسے دے دلا کر شام کے بعد جتنے ڈھول والے فارغ ہو جائیں ان کو انتہائی کم نرخوں پر ہائرکر کے رات کے پچھلے پہر ۔۔۔ماہ صیام کا ماحول پیدا کیا جائے،،شاید اس طرح کے ڈھول ڈھمکے سے ہی قوم کی آنکھ کھل جائے۔
ایسا بہت کچھ ہو سکتا ہے جس سے یہ مہذب قوم ڈاکٹرز کو جاہل، ان پڑھ، ڈاکو اور دیگر بے شمار القابات سے نواز سکتی ہے۔۔۔۔لیکن اتنے لطیف پیرائے کا احتجاج میں کوئی شیشیہ ٹوٹے، نہ کسی رایگیر کا سر پھٹے۔۔۔کسی حکمران کا گھر جلے۔۔۔اس کو کوئی نہیں دیکھتا۔۔۔۔سو روٹی شوٹی کھائیں۔۔۔۔مریضوں کا غم نہ کھائیں۔۔۔۔ان کو ان کے مالک پر چھوڑ دیں۔۔۔۔ایسا احتجاج حساس لوگوں کے درمیان ہوتا ہے جہاں انسانی جان کی کوئی قیمت ہو ۔۔۔ابھی کل ہی تو اسی سے زیادہ ایک ہی بم کی زد میں آکر چلے گئے۔۔۔۔۔۔ابھی ہم اس قسم کے احتجاج کے قابل نہیں۔۔۔۔۔

نوٹ
چند دن پہلے مبین رشید صاحب کے کالم کے توسط سے پتا چلا کہ یہاں اس احتجاج میں زیادہ تعداد چائنہ اور رشیا سے آئے ڈاکٹر صاحبان کی ہے، جس کے بعد ملتان وائے ڈی کے صدر ڈاکٹر مظہر علی صاحب سے اس بات کی تصدیق چاہی تو انہوں نے بتایا کہ ایسے ڈاکٹرز کی تعداد دو تین ٖفیصد سے زیادہ نہیں ہے۔۔۔اگر کسی کے پاس کوئی ایسے ثبوت ہیں تو سامنے لائے۔۔۔