یہاں سے پاکستان کو دیکھتا ہوں تو ۔۔۔۔۔۔۔

یہاں سے پاکستان کو دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ ہر گھر میں ماتم ہے، جہاں مذہب اور عقیدے کے فرق پر لوگ ایک دوسرے کا گلا کاٹ دیتے ہیں۔۔۔شہر کے چوراستوں پر ڈاکووں کا راج ہے، ابھی کوئی ٹریفک کے اشارے پر آہستگی سے دروزہ کھول کر آپ کے برابر کی سیٹ پر بیٹھ جائے گا اور پستول کی نوک پر آپ کی گھڑی اور موبائل لے کر چلتا بنے گا۔۔۔۔پولیس کی گاڑی پر بھی اعتبار کیونکر کیا جاسکتا ہے۔۔۔سنا ہے وردی میں ڈاکو چھپے ہوتے ہیں۔۔۔یہاں سے پاکستان کو دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔۔۔وہ جو پرسوں کوئٹہ میں بے گناہ مارے گئے ، کیا وہ کسی کھیت میں اگے تھے۔۔۔کیا ان کو کسی ماں نے نہیں جنا تھا۔۔۔یا وہ کسی بہن کے بھائی نہ تھے ۔۔اور وہ جو آنکھوں کے ایک ڈاکٹر کو اس کے معصوم بچے سمیت قتل کردیا گیا ۔۔۔کیا وہ انسان نہ تھا۔۔۔۔اس کو اس مقام تک پہنچنے کے لئے کی گئی ریاضت ایک لمحے میں اجاڑ دی گئ۔۔۔۔۔
یہاں سے پاکستان کو دیکھتا ہوں تو ایک تکلیف دل میں اٹھتی ہے جو میرے لفظوں کے بیان سے باہر ہے۔۔۔۔کل سے سوچتا ہوں کہ کیا لکھوں۔۔۔یہ لوگ جن کو احساس تک نہیں کہ انسان کی قیمت کیا ہے۔۔۔کیا ایک ضد کی زد میں لا کر کسی کا بھی سر کاٹا جا سکتا ہے، وہ جو ہمارے معیار کی کسوٹی پر پورا نہ اترتا ہواس کی گردن پر شکنجہ کس دیا جاتا ہے۔۔۔۔۔کیا لشکروں کے سالار انسانیت بھول گئے ہیں۔۔۔وہ جو رسم تھی کہ ہر بچے ، بوڑھے اور عورت کو امان دی جاتی تھی۔۔۔۔وہ گھروں میں رک رہنے والے تھے ان کو پناہ دی جاتی تھی۔۔۔۔۔دعوت کا اصول کیونکر فراموش ہو گیا۔۔۔۔۔
یہاں سے دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ سب بکاو مال ہیں، بس قیمت کا فرق ہے۔۔۔۔جن روپوں کے لئے وہ اپنا ایمان بیچ رہے ہیں اس سے وہ کیا حاصل کریں گے۔۔۔۔۔۔کیا اصول ، کیا مذہب، کیا عقیدہ ہر چیز بازار میں بکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔جس کے پاس دھن ہے وہ خریدتا ہے۔۔۔اور مارا کون جاتا ہے جو قاتل نہیں بن سکتا۔۔۔۔جو مجبور ہے۔۔۔جس کے دل میں ابھی ایمان ہے جو اپنے فائدے کے لئے کسی کا خون نہیں بہاتا۔۔۔۔
یہاں سے پاکستان کو دیکھتا ہوں تو اس فرق سے دل کٹتا ہے جو مزدور اور مالک میں ہے۔۔۔۔
میرے اللہ تو ہی پاکستان پر رحم فرما۔۔۔۔ہم تو آپس میں لڑ چکے۔۔۔۔ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوئے ۔۔۔۔ان  آتش فشانوں پر اپنی رحمت برسا کر ان کو ٹھنڈا کردے۔۔۔۔