عام لوگوں کو ووٹ؟؟؟؟؟؟

پرانے بادشاہ والی گلی کے پاس سے گذر رہے کہ میرے میزبان نے کہا کہ اس دروازے کو دیکھئے ۔۔۔۔۔میں سمجھا شاید کوئی تاریخی اہمیت ہو گی۔۔۔۔آنکھیں کھول کر بھی دیکھا تو بھی لکڑی کا عام سا دروزہ تھا۔۔۔بالکل ایسا دروزہ جیسے بیس برس پہلے چھوٹے شہروں میں لوگ اپنے گھر کا داخلی دروزہ لگاتے تھے۔۔۔۔میزبان سے پھر زرو دے کر پوچھا۔۔ آپ نے دیکھا یہ دروزہ۔۔۔۔میں بس جی ہی کہہ پایا ۔۔۔۔انہوں نے ساتھ لگی ایک چھوٹی سے پٹی کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔اس پر لکھے نام کو پڑھو۔۔۔کوئی ڈینشن زبان کا عجیب سا نام تھا۔۔جس کو ذہن نے یاد رکھنا بھی مناسب نہ سمجھا۔۔۔کہنے لگےکہ حکومتی پارٹی کی ایک منسٹر کا دروزہ ہے.....
پیشتر اس کے میں اس واقعہ کو بیان کرنے کی وجہ تک پہنچوں کوئی ایک آدھ افسانوی قصہ اور ساتھ میں جوڑ لیتے ہیں۔۔۔۔
کوپن ہیگن نے جن دوستوں میں اضافہ کیا ان میں انجینئر شاہد محمود ۔۔۔رب تعالی کی ایک نعمت تھا۔۔۔میں اورانجنئر شاہد کسی کام سے کوپن ہیگن کے مین ریلوے سٹیشن پر گئے تو شاہد کو خلا کی پکار نے آ گھیرا۔۔۔۔تھوڑی دیر بعد واپس آیا تو بڑا خوش تھا اور بنا پوچھے کسی معصوم بچے کی طرح بتانا شروع کر دیا کہ جب وہ باتھ روم میں ہاتھ دھو رہا تھا تو اس کے ساتھ والے بیسن پر ملک کی اپوزیشن کا لیڈر بھی ہاتھ دھو رہا تھا۔۔۔اور میں نے اس سے کہا کہ آپ وہی ہیں جن کے پوسٹر لگے ہوئے ہیں تو وہ مسکرا دیا اور خندہ پیشانی سے جواب دیا۔۔۔اور دونوں ہنسی خوشی اپنی اپنی راہ چل دئے۔۔۔۔
تیسرا واقعہ کچھ اس طرح سے ہے کہ میں ریڈیو پاک لنک کوپن ہیگن میں پروگرام کر رہا تھا پروگرام روزگار کے حصول سے متعلق تھا جس میں میں نے اپنی تلاش رزق کی جاری کہانی کا کچھ حصہ سنایا تھا ۔۔۔۔ کہ ایک کال آئی ۔۔۔۔فون کرنے والے صاحب کہا کہ شاید وہ کچھ میری مدد کر سکتا ہے ۔۔۔بڑے اصرار کے بعد اس نے بتایا کہ اس کا بیٹا ڈینش پارلیمنٹ کا ممبر تھا۔۔۔کچھ دنوں بعد اپنے علاقے کی ایک مارکیٹ سے گذر ہوا تو ایک پاکستانی کو اشتہار تقسیم کرتے ہوئے دیکھا۔۔۔اس اشتہار پر الیکشن اور کسی امیدوار کی خوبیوں کا تذکرہ تھا اور اشتہار پر لگی تصویر سے پتا چلا کہ یہ ندیم فاروق ہے جو آنے والے الیکشن میں کھڑا ہو رہا ہے۔۔۔۔اور اب یہی ندیم فاروق موجودہ ڈینش پارلیمنٹ کا ایک منسٹر ہے ۔۔۔۔اس کو وہاں مارکیٹ کی آمد و رفت کے راستے پر کھڑا دیکھ کر میرے دیسی ذہن میں یہی بات آئی یہ
بے چارہ میری مدد کیا کرے گا۔۔۔
میرے دوستو یہ عام لوگوں کی کہانیاں ہیں۔۔۔۔جو ان ترقی یافتہ ممالک میں محسوس بھی نہیں ہوتے۔۔۔پچھلے دنوں ڈنمارک کی وزیر اعظم نے اپنی پسند کی ایک اداکارہ کوناروے میں کسی ہوٹل کے سامنے اپنی گاڑی سے اترتے دیکھا تو اس کو ہاتھ ملانے پہنچ گئیں۔۔۔۔۔۔۔ایسے منسٹر ، حکومت کے کارندے یہاں رڑکتے بھی نہیں۔۔کسی کو ان کے آنے جانے، ان کے راستے میں آنکھیں بچھانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی۔۔۔حوالے اتنے زیادہ ذہن میں آتے جا رہے کہ دل کرتا کہ آپ کو اس کا نتیجہ اخذ کرنے کا موقع بھی خود سے دیا جائے۔۔۔پچھلے دنوں امریکی صدر ایک سرکاری دفتر میں پہنچے تو وہاں بیٹھی اہلکار نے ان ان کا شناختی کارڈ مانگا، جو انہوں نے مسکراتے ہوئے پیش کردیا۔۔۔۔۔
عرض صرف اتنا ہے کہ عام لوگ ہی عام آدمی کی مشکلات کا اندازہ کر سکتے ہیں۔۔۔وہ و آپ کے ہمسائے میں بستے ہیں۔ جن کی دیواروں پر چوب داروں کا پہرہ نہیں۔۔۔جن کے گھر کے سامنے سڑک ابھی بھی اسی طرح ٹوٹی پھوٹی ہے۔۔۔۔اس دفعہ اسی فیصد تک تحریک انصاف عام لوگوں کو آپ کے سامنے لائی ہے۔۔ایسے لوگ جن کا اسمبلی کا کوئی تجربہ نہیں، جن کی مالی بےضابطگیاں بڑے مگرمچھوں سے بہر صورت کم ہیں۔ جو ابھی آپ کا حصہ ہیں، جو آپ کے ساتھ دوستوں کی طرح رہے ہیں۔۔۔۔۔اس دفعہ ان عام لوگوں کو موقع ضرور دیجئے گا