نورے سے علامہ نواز شریف تک۔۔۔۔۔کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟؟؟؟؟

یہ بات دو ہزار سات یا آٹھ کے لگ بھگ کی ہے۔ جب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے مقامی سکالرشپ جیتنے والوں کی فہرست میں میرا بھی نام تھا۔ یہ مقامی سکالرشپ کی سکیم کا چو تھا مرحلہ تھا اور میں اس وقت سرکاری جاب چھوڑ کر پرائیویٹ میں شفٹ ہونا چاہتا تھا۔
احباب کے مشوروں سے اپریل دوہزار آٹھ میں  میں نے سرکاری نوکری کو خیر آباد کہا اور ایک پرائیویٹ کمپنی کسان سپلائیز سروسز جائن کر لی، اس کمپنی میں کام کرنے کی واحد وجہ وہ سبز جھنڈی تھی کہ میں جاب کے ساتھ پی ایچ ڈی بھی کر سکتا ہوں۔ ....

مہربان دوستوں کی مدد سےجی سی یونیورسٹی لاہور کے ایک مہربان دوست حامد مختار صاحب جو اب ایسویٹ پروفیسر ہو چکے ہیں ان سے رابطہ کیا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ میری پرائیویٹ کمپنی کو کوئی اعتراز نہیں آپ مجھے سپروائیز کر سکیں۔۔۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کام سے مطلب ہے آپ کے یہاں بیٹھنے سے نہیں۔۔۔قصہ مختصر میری پی ایچ ڈی کی درخوست جمع کروادی گئی۔۔۔۔اس درخواست پر جی سی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ایک ٹیکنکل اعتراز لگایا کہ کیونکہ میری ایم ایس سی آنرز ہے۔ اور اس ایم ایس سی آنرز کی ایم فل کے برابری کا ایک سرٹیفکیٹ ساتھ منسلک نہیں ہے۔ اپنے تئیں میں نے ایک نوٹیفکیشن جو ایگری کلچر یونیورسٹی فیصل آباد اس سلسلہ میں مہیا کرتی ہے جس میں واضح طور پر لکھا ہوتا ہے کہ ہمارے ادارے سے ایم ایس سی آنرز گورنمنٹ کے فلاں فلاں قانون کی مدد سے ایم فل کے برابر ہے ۔۔۔اپنی درخواست سے منسلک کیا تھا۔۔۔میں پی ایچ ڈی کمیٹی کے اس وقت کے سربراہ سے ملا ، انہوں نے ایگری یونیورسٹی کی اس نوٹنیفکیشن کو ماننے سے انکار کردیا اور کہا آپ خود ہائیر ایجوکیشن کمیشن جائیں وہاں آپ کے نام سے ایک الگ نوٹیفکیشن بنے گا جس پر لکھا ہو گا کہ آپ کی ایم ایس سی آنرزایم فل کے برابر ہے۔۔۔۔ان بزرگوں کو میں یہ سمجھا نہ پاہا کہ ایگری یونیورسٹی میری ذاتی یونیورسٹی تو نہیں ہے۔ براہ کرم میرا داخلہ تو نہ روکیں ، میں آپ کو آنے والے ایک آدھ مہینے میں یہ نوٹیفیکیشن لا دوں گا۔۔۔۔۔مگر یہ ہو نہ سکا۔۔۔۔
اب میں لاہور میں ایک پرائیویٹ جاب کرتا تھا اور میرے لئے اسلام آباد نکلنا کافی مشکل تھا۔۔۔ایک دوست جو پنڈی یونیورسٹی میں لیکچرر تھے ان سے کہا۔۔۔انہوں نے مدد کی حامی بھری۔۔۔وہ وعدے پر وعدہ کرتے گئے کہ آج جاتا ہوں، کل جاتا ہوں۔۔۔۔۔لیکن وہ نہ گئے۔۔۔اسی اثنا میں جولائی دوہزار آٹھ میں والد صاحب دنیا سے رخصت ہو گئے۔۔۔یکدم یوں لگا کہ دنیا اندھیر سی ہوگئی ہے۔۔۔۔پی ایچ ڈی کا م ایک اضافی کام تھا۔۔۔اس میں دل چیسی بالکل ختم ہو گئی۔۔۔پی ایچ ڈی میں داخلے کا معاملہ میں نے نظر انداز کر دیا۔۔۔میرے سپروائیزر جناب حامد مختار صاحب کو میرے اس غیر ذمہ دار رویے کا دکھ بھی ہوا ہو گا لیکن میں شرمندگی کے مارے ان سے بہت دور ہو گیا۔۔۔۔۔
لیکن اب سنا ہے کہ جی سی یونیورسٹی نے اپنا دقیانوسی نظام تبدیل کر لیا ہے۔۔۔۔اب کسی ڈاکومنٹ پر اعتراض کی نوبت بھی نہیں آتی۔۔۔زمانہ طالب علمی آپ پر کس طرح گذرا اس کی بھی پرواہ نہیں۔۔۔۔اگر کسی نہ کسی طرح ملک کے وزیراعظم کے عہدے تک جا پہنچیں، آپ کی کنٹریبیویشن چاہے کچھ بھی نہ ہو ، جی سی یونیورسٹی آپ کو علامہ ہونے کے خطاب سے نواز دے گی۔۔۔۔۔اسی رنگ و نور کی بارش میں پہلے علامہ رحمان ملک بھی نہا گئے تھے ، جب کراچی والوں کی محبت سے ان کو پی ایچ ڈی کے اعزاز سے نوازہ گیا تھا۔۔۔۔
ایک  پی ایچ ڈی کرنےوالا جو اعزاز کماتا وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ توقیر کوئی صاحب حیثت پیسوں سے نہیں کما سکتا ، نہ ہی اپنے مرتبے کی مدد سے اس محنت تک پہینچ سکتا ہے جو ایک علامہ یا سکالر کے ہی شایاں ہے۔۔۔۔اگر عہدے والوں کو اس طرح یہ اعزاز بٹنے لگے تو یقین مانیئے میں پورے وثوق سے کہتا ہوں۔۔۔اگلی باری ملک کے جرنیلوں کی ہے ، اس کے بعد کاروباری افراد ہوں گے، قائد تحریک الطاف بھائی کی نظر ابھی اس اعزاز پر نہیں پڑی ، ورنہ ان کے لئے ایسا اعزاز لینا کون سا مسئلہ ہے؟؟؟؟؟