جلسہ رپورٹنگ۔۔۔اے آر وائی بمقابلہ جیو ٹی وی

فرحان چغتائی۔۔تصویر
آج تحریک انصاف کا لاہور کا جلسہ نظروں کے سامنے تھا، بس ایسے ہی دل چاہا کہ دو ٹی وی سٹیشنز پر اس کو براہ راست دیکھنے کی کوشش کی جائے ، تاکہ کوئی درمیانے اعداد وشمار سے اندازہ لگایا جاسکے کہ لوگوں کی تعداد کیا تھی، جوش و جذبہ کیا تھا؟ اور مزید برآں جو دوست احباب اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ آئے ہیں وہ کیا کہتے ہیں۔۔۔۔


جیو ٹی وی 


  • لوگوں کی کافی تعداد ہے ۔۔۔لیکن کیمرہ ایسی جگہ پر ہے جہاں خال خال لوگ موجود ہیں
  • کرسیوں کی تعداد پچیس ہزار ہے
  • پرویز رشید کے ہوتے ہوئے گونواز گو کی کوریج نظر نہیں آئی
  • عمران خان آ گئے۔۔۔لیکن کیمرہ ہجوم کی طرف 
  • عمران خان سٹیج پر لڑکھڑائے۔۔بس تو پھر خبر مل گئی۔اس ایک سین کو دس بارہ منٹ تک دکھایا گیا بلکہ گفتگو کچھ اور ہو رہی ہے اور منظر یہی دکھایا جا رہا ہے۔
  • ہجوم کے بارے میں لوگوں کے تاثرات۔۔۔کیمرہ مسلسل ایک خاتون کی جانب جو ناچ رہی ہے
  • کیمرہ مین ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر خوبرو عورتوں کو پکچرائز کرنے کے چکر میں۔۔۔

اے آر وائی 

  • لوگوں کا سمندر ۔۔اور کیمرہ خصوصی طور پر جہاں لوگوں کی اچھی تعداد ہے
  • کرسیوں کی تعداد ستر ہزار ہے
  • پرویز رشید آئے تو گو نواز گو کے نعروں کی پرجوش کوریج 
  • عمران خان کے آنے کی بھر پور کوریج۔۔ایک ایک قدم پر نظریں بچھائے
  • عمران خان لڑکھڑائے تو یہ منظر ایسے گذر گیا جیسے آیا ہی نہیں
  • ہجوم کے بارے لوگوں کے تاثرات اور کیمرہ باربار پر ہجوم جگہوں پر 
  • کیمرہ مین ڈھونڈھ کر پر ہجوم جگہوں کی نشاندہی 
ہمارے دوست فرحان چغتائی، اویس گلشن اور وقار شریف وہاں موجود تھے ان کی پوسٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کی تاریخی قسم کی تعداد موجود تھی۔۔۔اور ویسے بھی ہیلی کیم کی موجودگی میں آپ کوریج کو کیسا بھی رخ دے لیں ، آ پ لوگوں کی رائے تبدیل نہیں کر سکتے۔۔۔۔

اس تقابل کا مقصد آزادانہ رپورٹنگ کرنے والوں کو ہوش دلاانہ مقصود ہے کہ۔۔۔خدارا تعصب کی اندھی آنکھوں سے مت دیکھئے۔۔۔کچھ ہوش کے ناخن لیجئے۔۔۔کم از کم رپورٹنگ کرتے ہوئے تو اپنے علم کا لچ مت تلیں۔۔۔آپ اپنے تجزیات میں اپنے علم کے موتی خوب اچھالیں ۔۔۔لیکن خبر دیتے ہوئے تو ہتھ ہولا رکھیں۔۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں