بن بلائے مہمان ۔۔۔

میں ایک ایسی شادی کی تقریب میں مہمان تھا، جہاں میں کسی میزبان سے آشنا نہ تھا، مجھے بلانے والے بھی میری طرح سے مہمان ہی تھے، پنڈال کے دروازے پر کھڑے نامعلوم افراد سے بڑے تپاک سے ملا بھی ، انہوں بھی مسکرا کر جواب دیا، بھلے لوگ تھے نجانے کون تھے، ۔۔۔جس شخص کی شادی تھی وہ ہماری صحافی برادری کی تنظیم فیڈرل یونین آف کالمسٹ کے ممبر تھے، جناب چیرمین شہزاد چوہدری صاحب نے مجھے بھی مدعو کردیا، خود نہیں آئے، مجھے لگا جیسے میری جگہ بنانے کے لئے نہیں آئے۔
دولہا سے آشنائی تھی نہ تعارف، دولہا کے والد کو البتہ اخبارات اور میڈیا کے توسط کئی بار دیکھ رکھا تھا۔۔۔مجال ہے جو ان
کو یا دولہا کو ایک بار بھی مبارکباد دی ہو۔۔۔مجھے ڈر تھا کہیں پوچھ ہی نہ لیں بھائی کدھر سے؟؟؟؟
مجھے دو شاعروں کے پہلو میں بٹھا کر مجھے ساتھ  لانے والےفرخ شہباز وڑائچ کہیں پرواز کر گئے۔۔۔۔تھوڑی گھبراہٹ سی ہوئی، تھوڑا اجنبت کا احساس تھا۔۔۔دل چاہا کہ کیمرے سے دو چار تصاویر ہی بنا لوں۔۔۔کیمرہ نکالا۔۔۔شہباز کی پرواز کا پیچھا کیا۔۔۔ایک آدھ تصویر بنائی تو اس خیال نے جکڑ لیا کہ لوگ کہیں گے یہ کوئی کیمرہ والاہے۔۔۔اور سچ پوچھئے بعد میں ہونے والے پہ در پہ واقعات نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کردیا۔۔۔کہ جیسے میں اور میرے ساتھی تصویر بازی میں مصروف ہیں۔۔ہم اس ہجوم کا حصہ ہرگز نہ تھے، کافی سیاستدان بھی اس شادی میں شریک تھے ، گورنر پنجاب ،حکومتی و اپوزیشن ارکان دھرنا و اسمبلی غرضیکہ ہر طبقہ سیاستدان کی نمائیندگی یہاں موجود تھے، اور سب سے بڑھ کر ہر طرح کے صحافیوں کی بھرمار تھی، اخبار لکھنے والے، چھاپنے والے، کہانی گو، کالم نویس، ، ٹی وی میں نظر آنے والے، اور خبروں کے پیچھے چھپے ہوئے، یعنی ہر رنگ کے صحافی اپنے اپنے انداز میں براجمان تھے۔۔۔۔شخصیات زیادہ تھیں اور لوگ کم۔۔۔۔۔اس لئے کسی ایک کے گرد بھی میلہ نہ لگ سکا۔۔۔۔
ارشاد عارف  صاحب کو دیکھا توشہباز وڑائچ صاحب سے درخواست کی کہ ایک تصویر بنادیں تاکہ سند رہے۔۔۔۔ان کے پہلو میں جا بیٹھے اور کہا۔۔۔آپ سے آشنائی بہت پرانی ہے۔۔۔لیکن آپ مجھے جانتے نہیں۔۔۔بس ایک چاہنے والا ہوں۔۔۔ایک تصویر والا پوز عنایت ہو۔۔۔۔مجھے لگا کہ ٹھیک اخبار لکھتے ہیں کیونکہ تصویر کھنچوانے کے تجربہ سے نا آشنا سے لگے۔۔۔۔حافظ زاہد صاحب سے ملاقات ہوئی جو روشنی کی ایک کرن ہوا کرتے ہیں۔۔۔۔کہنے لگے چلئے سہیل وڑائچ کے ساتھ ایک تصویر ہو جائے۔۔۔کہا چلئے حضور۔۔۔۔وہ اپنی حاضری لگوا کر چلے جانے کے چکر میں تھے، حاٖفظ صاحب  کہنے لگے جناب ہمارے دوست ڈنمارک سے آئے ہیں ایک تصویر بنوانا چاہتے ہیں۔۔۔سچ پوچھئے تو عجیب سا لگا۔۔۔۔کیا ڈنمارک سے تصویر بنوانے آئے ہیں۔۔۔خیر ہم نے ایک تصویر بنوائی ، پھر انہوں نے کہا میری بھی، جب ان کی تصویر بنا رہے تھے تو در چار لوگ اور اکھٹے ہو گئے۔۔۔اور اپنی تصویر کا شوق پورا فرمانے لگے۔۔۔انہیں وہی لگا جو مجھے شروع میں لگا تھا کہ کوئی فوٹو گرافر ٹائپ آدمی ہوں۔۔۔

اتنے میں ہماری تنظیم کے اور ساتھی سید بدر سعید ، اور ساجد خان صاحب تشریف لے آئے۔۔۔۔پھر تو جیسے تصاویر کا ایک سلسلہ چل نکلا۔۔۔۔گورنر صاحب سے تصویر بنوانے کے چکر میں دوست بے چارے فوٹو گرافر کو بھول گئے۔۔۔اور اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جو کسی فوٹو گرافر کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔۔۔اور وہی تصاویر جب دوستوں نے اپنی دیواروں پر سجائیں اور فوٹو گرافر کو خراج تحسن تک پیش نہ کیا تھا۔۔۔تو فوٹو گرافر کو اپنے ابتدائی گمان پر یقین آ گیا۔۔۔۔
سب بزرگ صحافیوں میں محترم ڈاکٹر اجمل نیازی صاحب بہت محبت سے ملے، دل کو اچھا لگا۔۔احترام اور بڑھ گیا۔۔۔۔
اس شادی کے توسط کالمسٹ یونین کے دوستوں سے ملاقات بہت پر لطف رہی، ۔۔شاید ان کو پتہ نہ ہو ساجد خان صاحب کے   خیالات کی پختگی سے متاثر ہوا، بدر سعید صاحب دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ بند کتاب ہی رہے،

اس شادی کو گذرے کافی دن گذر گئے۔۔۔اب تو شہباز آسی یعنی دولہا میاں ہمارے فیس بک دوست بھی ہو چکے، ان کے والد گرامی سے یہ نسبت تو ایک دو سال پرانی ہے۔۔۔ان کو شادی کی ڈھیروں مبارکباد ۔۔۔شہزاد چوہدری صاحب کا شکریہ جنہوں نے اس آپشن کو استعمال کرنے کا جواز بخشا، ۔۔۔۔
اور فرخ شہباز اور حافظ زاہد صاحب سے فوٹو گرافی کا ادھار کسی اور روز چکایا جائے گا۔۔۔