شیخ چلی نہ بنیں۔۔۔۔

کل ایک یونیورسٹی جونیئر سے بات ہوئی، جو تین چار ماہ پہلے کسی پیسٹی سائیڈ کمپنی میں ملازم ہوئے تھے، اب نوکری چھوڑ کر کسی سرکاری نوکری اور پھر اپنا کام کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے، یونیورسٹی سے فارغ التحصل دوستوں کی زندگی میں ایسے بے شمار لمحے آتے ہیں جن میں وہ اپنی صلاحتیوں کو معمولی نوکریوں سے بہت بڑا پاتے ہیں، بہت جلدی ترقی کرنے کی دوڑ میں کسی شارٹ کٹ کے متلاشی ہوتے ہیں، ۔۔۔۔وہ کام جو کسی اور کے پیسوں سے کر نہیں پاتے ، اپنے پیسوں سے کیونکر ہو پائے گا، کام تو سیکھا نہیں، مارکیٹ بھی یہی ہو گی، کسی سی تعلق بھی بنایا نہیں، تمہاری پراڈکٹ کوئی کیونکر خریدے گا، ہمارے وہ احباب جنہوں نے اس انڈسٹری میں ڈٹ کر جاب کی اور ڈٹ کر کام کرتے رہے، وہ آج اپنی پہچان رکھتے ہیں، اور کامیاب بھی ہیں۔۔۔۔اور ہم ایسے جنہوں نے بار بار فیصلے تبدیل کیے، وہ اتنی ترقی نہیں کر پائے، اپنے جونیئرز سے درخواست ہے، اپنے ذاتی کاروبار کے آغاز سے پہلے اس مارکیٹ میں زندہ رہنا تو سیکھ لیں، کچھ تھوڑا بہت ریکوری کا فن، کچھ ڈیلرز سے تعلقات کی تعلیم، کچھ مارکیٹ کے اتار چڑھاو۔۔۔ارے کچھ تو۔۔۔خواب دیکھیں حضور۔۔۔مگر شیخ چلی نہ بنیں۔۔۔۔