میرے بے نام اور بے شکل دوستوں کے لئے۔۔۔۔۔۔

کیا بڑھتے بڑھتے بڑھوتری رک جاتی ہے؟ کیا یہ لوگ شرمندگی کی کسی اسی حالت سے دوچار ہوتے ہیں؟ کسی ایسے خوف میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ان کا نام کہیں ظاہر ہوا تو دھر لیے جائیں گے، میں احباب دانش کو دعوت دیتا ہوں کہ اس بات کی وجہ تلاش کرنے میں میری مدد کریں کہ لوگ اپنی شکلیں بے شکلی کے پیچھے اور اپنے نام بے نامی میں کیوں چھپاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔استاد کا منہ دوسری طرف ہوا نہیں اور سرگوشی شروع کر دی، مقرر اپنی بمشکل یاد کی ہوئی تقریر بمشکل پڑھ رہا ہے اور منہ نیچے کر کر ہوٹ کرنا شروع کردیا۔۔۔۔۔ہم لوگ اپنے رویوں کے ذمہ دار کیونکر نہیں بنتے۔۔۔۔۔۔اس کی آخری حد یہ ہے کہ لوگ اپنے اصل نام کو بھی سامنے لانے سے کتراتے ہیں۔۔۔۔۔۔ابھی ایک م ۔س قسم کے نام سے میری اصلاح کا ایک پیغام موصول ہوا، دلیل میں دم ہے، لیکن بے چہرہ ہے، عموما ایسے پیغامات کا جواب بھی بے شکل ہوتا ہے، آپ کو خبر نہیں کہ محترمہ ہیں کہ محترم، بڑے ہیں کہ چھوٹے، شفقت سے سمجھایا جائے یا ادب سے بات کی جائے۔۔۔۔۔۔۔

پھر جب ایسے بے منہ لوگوں کو کوئی منہ نہیں لگاتا تو آپ کے مفت کے دشمن بن جاتے ہیں۔۔۔۔۔بے نام دشمن۔۔۔۔۔مجھے ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں اکثر لوگ اختلاف رائے کی عزت کرنے کے قابل نہیں ہو پائے ہوتے اس لئے لوگ اپنا نام ظاہر نہیں کرتے۔۔۔۔جیسے میں کسی کی اصلاح کرنا چاہتا ہوں، میں اسے سمجھاتا ہوں لیکن مجھے یہ ڈر ہے کہ یہ الٹا میرا دشمن ہو جائے گا تو اس لئے میں اپنانام نہ بتاوں بلکہ اس کو سیدھا راستہ دکھا دوں؟؟؟؟
مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ یہ بے نام کی بے اعتباری ہے جو  اسے آپ پر ہے ۔لیکن دلیل یہ بھی ہے کہ اگر آپ اخلاق کی اس مقام پر ہیں جہاں آپ دوسروں کو تبلیغ کرنا فرض سمجھتے ہیں تو تھوڑا حوصلہ تو کیجئے؟ میری رائے غلط ہو سکتی ہے اور بہت زیادہ غلط بھی لیکن میں خود کو اس قابل ضرور سمجھتا ہوں کہ اپنی غلطی کو تسلیم کر لوں۔۔۔۔کیا ہمارے بے نام دوست بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں۔۔۔تمام بے نام اور بےشکل مفکرین، اور دانشوروں سے درخواست ہے کہ وہ اپنی پردہ نشینی کی وجہ تو بتا ہی دیں۔۔۔۔


نوٹ
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا